تازہ ترین
جموں وکشمیرمیں اسمبلی انتخابات کامعاملہ:20جنوری بھاجپاکی اہم میٹنگ
خبراردو:
ریاست میں رواں برس منعقد ہونے والے اسمبلی و پارلیمانی انتخابات پر گرما گرم بحث کے بیچ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ اور بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے ’ایک ملک،یکساں انتخابات‘ کے فارمولے کی تجویز پیش کی ہیں تاہم تینوں لیڈران کاماننا ہے کہ انتخابات کو ایک ساتھ منعقد کرانے کے حوالے سے حتمی رائے الیکشن کمیشن آف انڈیاہی لینے کا مجاز ہے۔ ادھر معلو م ہوا ہے کہ ریاست میں منعقد ہونے والے انتخابات سے متعلق بی جے پی کی اعلیٰ قیادت 20جنوری 2019کو سرمائی دارالحکومت جموں میں اہم نشست منعقد کررہی ہے جس میں اسمبلی و پارلیمانی انتخابات سے متعلق حتمی لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔
ریاست جموں وکشمیر میں رواں برس منعقد ہونے والے اسمبلی و پارلیمانی انتخابات پر جاری گرما گرم بحث کے بیچ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے ملک بھر میں ’یکساں انتخابات ‘ کے فارمولے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں ایک ساتھ ہی اسمبلی و پارلیمانی انتخابات منعقد ہونے چاہیے۔ بی جے پی لیڈران نے تاہم واضح کیا ہے کہ الیکشن سے متعلق کوئی بھی فیصلہ چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا کے دائرے اختیار میں آتا ہے اور وہ جو بھی فیصلہ لیں گے اُسے بسر وچشم قبول کیا جائے گا۔بی جے پی لیدران نے بتایا کہ ریاست میں جنگجوئیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسمبلی و پارلیمانی الیکشن کو ایک ساتھ منعقد کرانے کے لیے حتمی فیصلہ صرف الیکشن کمیشن آف انڈیا ہی لے سکتا ہے تاکہ دونوں انتخابات پرامن اور خوشگوار ماحول میں منعقد ہوں ۔پارٹی کے ریاستی شاخ سے وابستہ سینئر لیڈران جنہوں نے حال ہی میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے ریاست میں منعقد ہونے والے اسمبلی و پارلیمانی انتخابات پر خصوصی تبادلہ خیال کیا ، کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کا مؤقف اس معاملے میں متفق علیہ ہے اور دونوں فریقین نے ریاست میں رواں سال منعقد ہونے والے اسمبلی و پارلیمانی انتخابات کو ایک ساتھ منعقد کرانے کے ،لیے تیار ہے۔انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت اور بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کا اس معاملے میں مؤقف یکساں ہے کہ ریاست میں دونوں انتخابات ایک ساتھ ہی کرائے جائیں ۔ یاد رہے ریاست جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات مئی کے مہینے میں منعقد ہونے جارہے ہیں جس دوران علاقائی و قومی سیاسی پارٹیوں نے انتخابات میں اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کی خاطر بڑے پیمانے پر سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے۔
ادھر معلوم ہو اہے کہ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت نے 20جنوری 2019کو ریاستی یونٹ سے وابستہ لیڈران کو جموں طلب کیا ہے جہاں پارٹی کی اعلیٰ قیادت مقامی لیڈران کے ساتھ اسمبلی و پارلیمانی انتخابات سے متعلق آگے کا لائحہ عمل وضع کرے گی۔ذرائع نے کشمیر نیوز سروس کو بتایا کہ پارٹی کی مرکزی و ریاستی لیڈرشپ جموں میں منعقد ہونے والی نشست میں مل بیٹھ کر دونوں انتخابات سے متعلق خصوصی سٹریٹجی ترتیب دے گی تاکہ پارٹی جموں کے ساتھ ساتھ گرمائی دارالحکومت کشمیر میں بھی اپنا کھاتہ کھول کر بیشتر نشستوں پر جیت درج کرپائے۔انہوں نے بتایا کہ نشست میں وادی کشمیر کے جنوبی صوبوں پر خصوصی توجہ مرکوز رہے گی جہاں پارٹی نے گزشتہ برس منعقد ہوئے پنچایتی انتخابات میں بیشتر نشستوں پر جیت درج کرکے علاقائی سیاسی پارٹیوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ الیکشن سے متعلق جمو ں میں منعقد ہونے والی میٹنگ میں پارٹی کے جنرل سیکرٹری شام لعل کے علاوہ پارٹی کے قومی جنرل سیکرٹری رام مادھو اور کشمیر اُمور کے ماہر اویناش رائے کھنہ 20جنوری کو جموں پہنچ رہے ہیں جہاں پارٹی کی مرکزی لیڈرشپ مقامی لیڈران کے ساتھ اسمبلی و پارلیمانی انتخابات سے متعلق انتظامات کو حتمی شکل دیں گے۔ میٹنگ کے دوران پارٹی لیڈران وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ جموں سے متعلق بھی تیاریوں کا جائزہ لیں گے۔ پارٹی کے اندرون ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی 3فروری کو سرمائی دارالحکومت جموں کا دورہ کررہے ہیں جس دوران وہ وجے پور میں کئی اہم تعمیراتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک عوامی ریلی سے بھی خطاب کریں گے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وجے پور کی ریلی جہاں وزیر اعظم نریندر مودی عوام سے خطاب کریں گے کو پارٹی کی ریاستی لیڈر شب انتخابی کارڈ کے بطوراستعمال کرے گی اور اس روز ریاست میں بی جے پی کی افرادی قوت کا بھی بھر پور اظہار ہوگا۔پارٹی لیڈران نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور پارٹی صدر امت شاہ کا یہ ابتدا سے مؤقف رہا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات ایک ساتھ منعقد ہونے چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ پارٹی مجموعی طور پر وزیر اعظم کے ’اک ملک، یکساں انتخابات‘ کے فارمولے کی مکمل حمایت کرتی ہے تاہم بی جے پی کا ماننا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اختیارات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی الیکشن کمیشن آف انڈیا کے کام میں کبھی بھی مداخلت کی مرتکب نہیں ہوگی اور کمیشن کا جو بھی فیصلہ سامنے آئے گا وہ پارٹی کو قابل قبول ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا ریاستی انتظامیہ اور اپنے ماتحت عملے کے ساتھ انتخابات سے متعلق بھر پور صلاح و مشورہ کرکے ہی کوئی فیصلہ کرے گا اور اُس فیصلے کی پارٹی دل سے تائید کرے گی۔واضح رہے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اس بات کو واضح کیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ریاست جموں وکشمیر میں اسمبلی و پارلیمانی انتخابات کو ایک ساتھ منعقد کرانے کی خاطر جو بھی درکار ہوگا ، مرکزی حکومت اس سلسلے میں کمیشن کو بھر پور تعاون فراہم کرے گی۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
