تازہ ترین
ویڈیو:امتحان میں ناکام ہونے پر طلبہ خود کشی کیوں کرتے ہیں ؟
رضوان سلطان:
حال میں کشمیر صوبے کے سالانہ بارہویں جماعت کے نتائج کا اعلان ہوا ۔ لڑکیوں نے لڑکو ں سے بازی مار ی اور ان کی کامیابی کی شرح ۵۴ فیصد رہی جبکہ لڑکوں کی ۵۰ فیصد ۔
اسی طرح آرٹس میں چوبیس طلبہ نے پہلی دس پوزیشن حاصل کیں جن میں ۲۳ لڑکیا ں ہیں ۔ اسی طرح سائینس میں پہلی دس پوزینشوں پر قبضہ جمانے والوں میں ۲۹ لڑکیاں ہیں ۔
آرٹس میں اور ساےئنس میں پہلی پوزیشن پر قبضہ بھی ہادیہ نور اور وافیکہ قاضی نے جمایا ۔لیکن دوسری طرف اس امتحان میں ناکام ہونے کی وجہ سے تین امیدواروں نے خود کشی کی کوشش کی جس میں ایک جاں بحق جبکہ دو کی جان بچائی گئی ، بڈگام ، بانڈی پورہ اور سوپور کی رہنے والی یہ تینوں بھی لڑکیا ں ہی تھیں ۔
اگر طالب علموں کے اور خاص کر لڑکیوں کے امتحان میں ناکام ہونے کے بعد خود کشی کی طرف رجحان کی وجوہات پر نظر ڈالے تو ماہرین کے مطابق امتحانات میں اچھے نمبرات کیساتھ پاس ہونا ، اپنے ہمسایہ بچوں سے اچھی کارکردگی دکھانے اور ان چیزوں کو سماج میں وقار کی حیثیت دینے سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو شدید ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
امتحانات کے دورا ن والدین کی طرف سے زیادہ سے زیادہ نمبرات لانے کے دباؤ کی وجہ سے طلبہ وطالبات میں ذہنی دباؤ اتنا زیادہ ہو جاتا ہے کہ وہ بعض اوقات خود کشی کا باعث بن جاتا ہے ۔ اور جب نتائج پھر والدین کی توقع کے مطابق نہیں آتے تو نوجوان طلبہ وطالبات اپنی زندگیوں کا خاتمہ کرنے میں ہی عافیت جانتے ہیںْ ۔ جموں کشمیر ہی نہیں بلکہ پورے بھارت میں امتحانات کے دوران زندگیوں کے خاتمے کرنے کا رجحان عام ہے ۔
نیشنل کرائم ریکارڈ بیور کے ایک ڈیٹا کے مطابق بھارت میں امتحانات کے شدید دباؤ کی وجہ سے ہر دن ایک طالب علم خود کشی کرتا ہے ۔ جو اس سے کہیں زیادہ بھی ہو سکتی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۵ میں ہی آٹھ ہزار نوسو طلبہ نے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا ۔،
۲۰۱۵ تک چالیس ہزار کے قریب طلبہ نے خود کشی کی ہے ۔ ۲۰۱۶ میں یہ تعداد مزید بڑھ گئی اور 9,474 ۔جبکہ ۲۰۰۷ سے ۲۰۱۶ سے75,000 طلبہ نے بھارت میں خود کشی کی ہے ۔
جموں کشمیر میں سال ۲۰۱۶ اور ۱۷ میں مجموعی طور ۵۴۷ خود کشیاں کی گئی جن میں زیادہ تعداد ۱۵ سے ۲۹ سال کے درمیان تھی ۔
لیکن ترقی پذید ممالک بھی اس میں شامل ہیں دوسرے نمبر پر برطانیہ ہے جہاں۱۵ ۲۰اور ۲۰۱۶ میں ۳۰۰ کے قریب طلبہ نے خود کشی کی ۔
جاپان میں ایک رپورٹ کے مطابق ۱۹۷۲ سے ۲۰۱۳ تک ۱۸ ہزار بچوں نے خودکشی کی ۔ اسی طرح ہانگ کانگ میں ۲۰۱۵ اور ۱۶ ۲۰ میں ۷۰ بچوں نے خود کشی کی ۔ ماہرین کہتے ہیں بنیادی وجہ وہاں کا تعلیمی نظام ہے ہانگ کانگ میں سیکنڈری کے امتحان کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے ۔ سال کے آخر میں کشمیر کی ہی طرح بچوں پر والدین وہاں اچھے نمبر حاصل کرنے کیلئے دباؤ ڈالتے ہیں ۔ کیوں کہ اکیڈمک ریزلٹ ہی کو دیکھ کر ان کے مستقبل کا فیصلہ کیا جاتا ہے ۔ جتنے اچھے نبمر اتنا اچھا مستقبل ۔ لیکن اگر ناکام تو خود کشی کر جاتے ہیں ۔
ماہرین مانتے ہیں کہ تعلیم اب کمانے کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے اچھے نمبرات کی دوڑ میں طلبہ تھوڑے سے نمبر کم ہو جانے سے دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں کیوں کہ وہ اپنے فریق سے پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ اور دوسری طرف دیانت داری ، امانتداری اور اخلاقیات کی تعلیم ختم ہو رہی ہے ۔
مماہر نفسیات سیتو کانت ترویدی نے طلبہ میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے حوالے سے بتایا کہ اس کا علاج یہ ہے کہ اسکوں اور کالجوں میں دماغی صحت کے بارے میں طلبہ کے اندر بیداری پیدا کی جائے دماغی صحت کو اسکلوں کے نصاب کا حصۃ بنایا جائے ،
ایک ایجوکیشنسٹ سیرس وکیل نے کہا تھا کہ کہ بھارتی سکولوں کے بورڈ امتحانات ۲۱ ویں صدی کیلئے نامناسب ہیں ۔
اگر آپ کے پاس ایسی کوئی رائے ہے کہ بچوں کے امتحانات اور نتائج کے دن ہونے والے دباؤ کو کیسے کم کیا جائے کمنٹ میں ضرور بتائیں ،۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
