ہندوستان
بنگلہ دیش شدید عدم استحکام کے سائے میں انتخابات کی جانب گامزن
نئی دہلی، بنگلہ دیش چار اہم شعبوں سیاست، معیشت، امن و امان اور بین الاقوامی تعلقات میں غیر معمولی عدم استحکام کے دور میں انتخابات کی طرف بڑھ رہا ہے اسی دوران ملک کی سابق وزیرِاعظم بیگم خالدہ ضیا کو ان کے شوہر، سابق فوجی حکمران جنرل ضیاء الرحمٰن کے پہلو میں سپردِ خاک کردیا گیا ہے یہ منظر بذاتِ خود اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ بنگلہ دیش اپنی 54 سالہ قومی تاریخ میں بار بار جمہوریت اور فوجی اقتدار، عدم استحکام اور ترقی کے درمیان گردش کرتا رہا ہے۔ انتخابی ماحول، قانون کی حکمرانی اور سیاسی اعتماد سے متعلق سوالات ایک بار پھر پوری شدت سے ابھر آئے ہیں۔
اسی کے ساتھ یہ خدشات بھی برقرار ہیں کہ اگر ماضی کی طرح کسی بڑی سیاسی قوت کو انتخابی عمل سے باہر رکھا گیا تو کیا واقعی استحکام واپس آسکے گا؟ دریں اثنا، انتخاب میں شامل جماعتیں اپنے اپنے ووٹ بینک کو مستحکم کرکے اپنے حق میں سیاسی ماحول سازگار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
بنگلہ دیش کی بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی اہمیت کے پیش نظر عالمی توجہ اب اس کے سیاسی مستقبل پر مرکوز ہیں۔
اگست 2024 سے بنگلہ دیش مسلسل بدامنی کا شکار ہے۔ عبوری حکومت مجموعی حالات کو بہتر بنانے میں ناکام رہی ہے، بلکہ تب سے بنگلہ دیش ملکی اور غیر ملکی انتشار میں مبتلا رہا ہے۔
انتخابی ماحول پر شکوک و شبہات بدستور موجود ہیں۔ اگر حکومتی غلطیاں ووٹنگ کے حالات کو مزید نقصان پہنچاتی ہیں اور نتیجتاً غیر شمولیتی انتخابات ہوتے ہیں تو ملکی و علاقائی جغرافیائی سیاست دونوں متاثر ہوں گی اور مثبت عالمی روابط مزید کمزور پڑ سکتے ہیں۔
اختیارات رکھنے والوں کی لغزشوں نے پہلے ہی سپلائی چین اور اقتصادی تعاون پر طویل المدتی عدم استحکام کے اثرات ڈالنا شروع کر دیے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ہجوم کو متحرک کرکے کنٹرول برقرار رکھنے کی حکمتِ عملی نے قانون کی حکمرانی، میڈیا کی آزادی اور اختلافِ رائے کے احترام کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔
اس تلخ حقیقت کے دوران اختلافِ رائے رکھنے اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف منظم حملوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ مزید برآں ہجومی تشدد، میڈیا دفاتر کو نذرِ آتش کرنے، صحافیوں کی گرفتاری اور سیاسی تشدد کے واقعات نے صورتحال کو نہایت تشویشناک بنا دیا ہے۔
اسی دوران سیاسی جماعتوں کے اندر پائے جانے والے باہمی شکوک و شبہات نے سیاسی استحکام کے امکانات کو کمزور اور غیر جانبدار، شمولیتی انتخابات کے امکان پر نئے سوالات اٹھادیے ہیں۔
بیگم خالدہ ضیا کے صاحبزادے اور سیاسی وارث طارق رحمان کی جانب سے بنگلہ دیش کی سرزمین پر 17 برس بعد اپنی پہلی تقریر میں بار بار “امن” کے ذکر کو نوٹ کرتے ہوئے یہی امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اور دیگر رہنما حملوں اور ہجومیت (Mobocracy) پر قابو پانے میں کامیاب ہوں گے۔
اگرچہ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ وہ انتخابات کو زیادہ سے زیادہ غیر جانبدارانہ انداز میں کرانے کی کوشش کرے گا، تاہم اس نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ آئندہ انتخابات مکمل طور پر شمولیتی نہیں ہوں گے۔ عملی طور پر انتخابی مقابلہ بڑی حد تک بی این پی اور جماعتِ اسلامی کے درمیان محدود رہنے کی توقع ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ دونوں جماعتیں گزشتہ 16 برسوں میں شیخ حسینہ کی مخالف تحریک کے دوران ایک ہی سیاسی بلاک کا حصہ رہی ہیں، مگر آج اقتدار کی جدوجہد میں ایک دوسرے کی حریف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والا دور بنگلہ دیش کے جمہوری اور ادارہ جاتی مستقبل کے لیے فیصلہ کن ہوگا، جبکہ معیشت کو مستحکم کرنے کے حوالے سے سنگین چیلنجز بھی درپیش ہوں گے۔
سیاسی عدم استحکام نے معیشت کو کافی نقصان پہنچایا ہے اور کاروباری طبقہ مسلسل ہراسانی کا شکار ہے۔ عدم استحکام کبھی بھی کاروبار دوست نہیں ہوتا؛ یہ اقتصادی رفتار کی بحالی کو روکتا ہے۔ اسی لیے معتبر اور شمولیتی انتخابات کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انتخابی عمل سے اخراج سے متعلق ماضی کی غلطیوں کو دہرانا بحران کو کم کرنے کے بجائے مزید شدت دے سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پرتشدد سیاست دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے اور اقتدار سنبھالنے والوں کے لیے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ بنگلہ دیش گزشتہ چودہ ماہ سے پرتشدد سیاست میں پھنسا ہوا ہے۔ سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی کے بعض حلقے اب کھلے عام طرزِ حکمرانی، احتساب اور ادارہ جاتی غیر جانبداری پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
تشدد، تباہ کن سیاسی پروگراموں اور ہجومی سیاست نے عوام میں منصفانہ ووٹنگ کے امکان کے حوالے سے گہری تشویش پیدا کردی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران محض جماعتی رقابت کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل سیاسی پولرائزیشن اور جمہوری اداروں کے بتدریج کمزور ہونے کا ماحصل ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد خطرناک حد تک گر چکا ہے۔ سیاسی مکالمہ الزام تراشی اور خطیبانہ نعروں تک محدود ہو گیا ہے، جبکہ مخالفین کو غیر مؤثر بنانے کے سوا کوئی ٹھوس تبدیلی نظر نہیں آتی۔ بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ اس بحران کا حل صرف سیاسی ہے، اس کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
اس غیر یقینی صورتحال میں طارق رحمان کی واپسی نے کسی حد تک امید رمق دکھائی ہے۔ ایک بڑے سیاسی رہنما کی حیثیت سے ان کی واپسی ایک نازک موڑ پر ہوئی ہے۔ ان کی والدہ بیگم خالدہ ضیا وزیرِاعظم رہ چکی ہیں اور ان کے والد ضیاء الرحمٰن صدر اور مجاہد آزادی تھے۔
ان کی واپسی کے دن ڈھاکہ میں عوام کا سمندر امڈ آیا اور بی این پی نے اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ طارق رحمان نے 17 منٹ کی منظم تقریر کی جس میں انہوں نے مخالفین پر حملہ کرنے سے گریز کیا۔
ایسے وقت میں جب بنگلہ دیشی سیاست میں ہندوستان مخالف بیانیہ مقبول ہوچکا ہے، انہوں نے اس راستے کو اختیار نہیں کیا۔ نہ انہوں نے اختلاف کرنے والوں کو نشانہ بنایا، نہ عوامی لیگ کا ذکر کیا، نہ شیخ حسینہ کا نام لیا اور نہ ہی “فاشسٹ” کی اصطلاح استعمال کی۔ اس کے بجائے انہوں نے مستقبل کے لیے اپنے وژن اور منصوبوں پر بات کی اور مثبت سیاسی کلچر کی بحالی پر زور دیا۔
بہت سے لوگ ان کی تقریر اور واپسی دونوں کو مجموعی سیاسی ماحول کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھتے ہیں، جسے “جھلستی ریت پر ہلکی بارش” سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ یہ راحت کتنی دیر قائم رہتی ہے، یہ دیکھنا باقی ہے۔
طارق رحمان کے سامنے فوری چیلنج یہ ہے کہ آنے والے انتخابات یقینی بنائے جائیں۔ اس کے بعد کہیں بڑے چیلنجز ہیں: سیاست کو تشدد سے دور لے جانا، مخالفین کے خلاف ہجوم کے تشدد کا خاتمہ، قانون کی حکمرانی کی بحالی، معیشت کا استحکام، میڈیا پر حملوں کا خاتمہ اور صحافیوں کے خلاف جھوٹے مقدمات واپس لینا۔
فکر مند کاروباری رہنما صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور استحکام کی راہ کی امید کر رہے ہیں۔ لندن میں 17 سالہ جلاوطنی ،جہاں انہیں اور ان کی جماعت کو قانونی ہراسانی کا سامنا رہا، کے بعد طارق رحمان کے لیے آگے کا راستہ نہایت کٹھن ہے۔
یہ سوال اہم ہے کہ آیا وہ ماضی کی دشمنیوں سے آگے بڑھ کر ایک پُرامن مستقبل تعمیر کرسکتے ہیں یا نہیں۔ ان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ بدل چکے ہیں اور اب ملک کی بہتری پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، تاہم عوامی لیگ اور دیگر حلقے اس پر شدید شکوک رکھتے ہیں۔
دریں اثنا، طارق رحمان کی واپسی نے جماعتِ اسلامی کو بے چین کر دیا ہے۔ جماعت یہ سمجھ رہی تھی کہ شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹنے اور خالدہ ضیا کی علالت کے بعد انتخابی میدان اب ان کے لیےآسان ہوگا مگر یہ مفروضہ اب غلط ثابت ہورہا ہے۔
اسی دوران طلبہ کی قیادت میں بننے والی جماعت این سی پی، جس نے عوامی لیگ مخالف تحریک میں کردار ادا کیا تھا، جماعتِ اسلامی کے ساتھ جا ملی ہے، جس سے اس کے اسلام پسند جھکاؤ کے الزامات کی تصدیق ہوتی ہے۔ این سی پی کی بعض خواتین رہنماؤں نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ہے۔
ریاست کی سرپرستی میں بننے والی چھوٹی “کنگز پارٹیاں” اور تنظیمیں بھی بے چینی کا شکار ہیں، کیونکہ انہیں اس ہجوم کی سیاست کے خاتمے کا خدشہ ہے جسے پہلے سرکاری پشت پناہی حاصل تھی۔
‘پروتھم آلو’ اور ‘ڈیلی اسٹار’ نامی اخباروں پر حملوں کے بعد ریاست کو شاید یہ احساس ہوا ہے کہ ہجوم کا ‘خیالی دیو’ کسی کو نہیں بخشتا—حتیٰ کہ اپنے خالق کو بھی نہیں۔
ہجوم کے تشدد پر قابو پانے کی تاخیر سے کی گئی کوشش نے گزشتہ چودہ ماہ میں تباہ کن قیمت وصول کی ہے۔ اگر بروقت اقدام کیا جاتا تو وسیع پیمانے پر اموات، آتش زنی اور افراتفری سے بچا جا سکتا تھا۔
میمَن سنگھ میں اقلیتی نوجوان دیپو داس کا بہیمانہ قتل—جسے مذہبی اشتعال کے جھوٹے الزام میں پولیس نے ہجوم کے حوالے کر دیا—کوئی الگ واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایک خونچکاں سلسلے کی کڑی تھی جس کا آغاز پولیس اہلکاروں کی لنچنگ اور نذرِ آتش کیے جانے سے ہوا اور جو ہزاروں جرائم تک پھیل گیا۔
عام شہری اب ایسا بنگلہ دیش نہیں دیکھنا چاہتے جو ہجوم کے تشدد میں ڈوبا ہو۔ ملک ایک دوراہے پر کھڑا ہے: یا تو سیاسی مفاہمت اور ادارہ جاتی اصلاحات کی طرف بڑھے، یا طویل عدم استحکام کئ دلدل میں پھنستا چلا جائے۔ یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ سیاسی قوتیں اس عبوری مرحلے کو کس طرح سنبھالتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے صرف اقتصادی استحکام کافی نہیں، بلکہ شمولیتی اور ضابطہ جاتی سیاسی عمل کی سمت واضح پیش رفت بھی ضروری ہے۔ شفاف اور شمولیتی انتخابات جمہوری تجدید کی راہ ہموار کر سکتے ہیں؛ بصورتِ دیگر تنازع برقرار رہے گا اور پیچیدگیاں بڑھتی جائیں گی۔
مہنگائی، زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ اور سست روزگار نمو پہلے ہی حالاتِ زندگی کو خراب کر رہے ہیں، خاص طور پر شہری نوجوانوں کے لیے۔
ماہرینِ معاشیات خبردار کر رہے ہیں کہ طویل سیاسی عدم استحکام سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مجروح کرے گا اور برآمدات کو نقصان پہنچائے گا۔ نمایاں کاروباری شخصیات غیر معمولی مایوسی کا اظہار کر رہی ہیں اور کہتی ہیں کہ سیاسی معمول پر واپسی اور بحال شدہ قانونی حیثیت ہی بحالی کی کنجی ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر شہری حقوق اور اقلیتوں کے تحفظ پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ محدود ہوتی شہری آزادی اور فرقہ وارانہ کشیدگی بنگلہ دیش کی تکثیری شناخت کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ پائیدار استحکام اسی وقت ممکن ہے جب معاشرے کے تمام طبقات خود کو ریاست کا حصہ محسوس کریں۔
آنے والے قومی انتخابات حتمی امتحان ہوں گے۔ معتبر، شفاف اور شمولیتی ووٹنگ عوامی اعتماد بحال کر سکتی ہے؛ متنازع انتخابات ملک کو مزید تقسیم کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
اگرچہ کسی ایک جماعت کو باہر رکھنا وقتی طور پر سہل لگ سکتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ عوامی لیگ—جو عوامی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹی—اب بھی تقریباً 35 فیصد عوامی حمایت رکھتی ہے۔ اتنی بڑی نمائندگی کو نظر انداز کر کے پائیدار استحکام ممکن نہیں۔
بدعنوانی اور بداعمالیوں پر کنٹرول ہونا چاہیے، مگر عام حامیوں کو اپنے قائدین کے جرائم کی سزا کے طور پر ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ حل طلب سوالات بنگلہ دیش کے انتخابات کی طرف بڑھنے کے ساتھ مزید اہم ہوتے جا رہے ہیں۔
اکثر بنگلہ دیشی چاہتے ہیں کہ انتخابات ہوں اور ایسے ہوں جو شمولیتی ہوں اور دیرپا امن کی ضمانت دیں، تو فیصلہ کرنے کا حق عوام کو دیا جانا چاہیے۔
شفاف انتخابات، آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور جوابدہ ریاست کا کوئی متبادل نہیں۔ اگر بنگلہ دیش کو بدلنا ہے تو سیاست دانوں کو پہلے خود بدلنا ہو گا۔
(مصنف بنگلہ دیش کے اخبار ‘پرتِی دن’ کے سابق مدیر ہیں۔ یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں)
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
مودی کل وارانسی میں گارمنٹ فیکٹری اور بھونیشور میں ریزرو بینک کے ڈیٹا سینٹر کا افتتاح کریں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اتوار کو اتر پردیش اور اڈیشہ کے دورے پر رہیں گے۔
وزیر اعظم وارانسی میں اَروِند لمیٹڈ کی نئی گارمنٹ مینوفیکچرنگ فیکٹری کا افتتاح کریں گے۔ اس کے بعد نمو گھاٹ پر ہندوستانی فضائیہ کے 94ویں یومِ تاسیس کے موقع پر منعقد ہونے والے ‘ونگز اوور گنگا’ پروگرام میں ایئر فورس ڈے ایریل ڈسپلے-2026 کا مشاہدہ کریں گے۔ اڈیشہ کے بھونیشور میں وہ ریزرو بینک آف انڈیا کے نئے ڈیٹا سینٹر اور سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کریں گے اور اجتماع سے خطاب کریں گے۔
وارانسی میں قائم کی گئی نئی گارمنٹ فیکٹری کا مقصد ملک کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تیاری کے شعبے کو مضبوط بنانا اور علاقے میں صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ جدید مینوفیکچرنگ کے طریقوں پر توجہ مرکوز کرنے والا یہ ادارہ روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، خاص طور پر خواتین کے لیے۔ عالمی صارفین سے منسلک اس منصوبے کے ذریعے وارانسی میں تیار ہونے والی مصنوعات بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچیں گی۔ یہ منصوبہ خواتین کی قیادت میں ترقی اور اتر پردیش میں صنعتی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
وزیر اعظم دوپہر میں وارانسی کے نمو گھاٹ پر ہندوستانی فضائیہ کے ایریل ڈسپلے-2026 میں مہمانِ خصوصی ہوں گے۔ ‘ونگز اوور گنگا’ کے موضوع پر منعقد ہونے والا یہ پروگرام ہندوستانی فضائیہ کی 94ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کیا جائے گا۔ اس میں دیسی ساختہ لڑاکا طیارہ تیجس، ہلکا لڑاکا ہیلی کاپٹر پرچنڈ، سخوئی-30 اور رافیل لڑاکا طیاروں سمیت ٹرانسپورٹ طیارے حصہ لیں گے۔ ہندوستانی بحریہ اور فوج کے طیارے بھی مشترکہ آپریشنل صلاحیت کا مظاہرہ کریں گے۔
ایئر شو میں ہندوستانی فضائیہ کی اہم مظاہرہ کرنے والی ٹیمیں، سوریہ کرن ایروبیٹک ٹیم اور سارنگ ہیلی کاپٹر ڈسپلے ٹیم بھی حصہ لیں گی۔ مظاہرے کے دوران پرواز کی مہارت، باہمی تال میل اور آپریشنل کارکردگی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
اس کے بعد مسٹر مودی اڈیشہ کے بھونیشور پہنچیں گے۔ شام کو وہ ریزرو بینک آف انڈیا کے نو تعمیر شدہ ڈیٹا سینٹر اور سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کریں گے۔ ان سہولتوں کو بینک کی کمپیوٹنگ ضروریات پوری کرنے اور بینکاری و مالیاتی شعبے کو محفوظ، مضبوط اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق ڈیجیٹل ڈھانچہ فراہم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
ڈیٹا سینٹر کمپلیکس میں چار جدید ترین ڈیٹا سینٹر ہوں گے، جہاں ادائیگی اور تصفیے کے نظام سمیت اہم ڈیجیٹل خدمات چلائی جائیں گی۔ اس سہولت کو اپ ٹائم انسٹی ٹیوٹ کے ٹیئر-4 معیار کی سند حاصل ہوئی ہے، جسے ڈیٹا سینٹر کے بنیادی ڈھانچے اور آپریشنل مضبوطی کے لیے عالمی معیار سمجھا جاتا ہے۔ یہ بینکاری، مالیاتی خدمات اور بیمہ کے شعبے میں دنیا کی سب سے بڑی ٹائر-4 سند یافتہ سہولتوں میں شامل ہے۔
بھونیشور میں قائم سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا مقصد سائبر سکیورٹی اور انٹرپرائز ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت، تحقیق اور ماہرین کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔ یہ ادارہ بینکاری، مالیاتی خدمات اور بیمہ کے شعبوں سے متعلق جدید ترین ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کرے گا۔ ان میں کوانٹم کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ بینک کے مطابق، یہ دونوں سہولتیں ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کی رسائی، کارکردگی اور قابلِ اعتماد ہونے کی صلاحیت بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گی۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات میں ہی شریک حیات بننے کا احساس ہوگیا تھا: سونیا
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی نے سابق وزیر اعظم اور اپنے شوہر راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی شخصیت میں جھلکنے والی انکساری نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا تھا اور وہ اس ملاقات کو کبھی نہیں بھول سکتیں۔
محترمہ گاندھی نے اپنی آنے والی خودنوشت کتاب ‘بیلونگ: اے جرنی آف لو’ میں بیان کیے گئے واقعات سے متعلق ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے ہفتہ کو بتایا کہ ان دنوں انگلینڈ میں انہیں کھانا بہت خراب لگتا تھا۔ اس وقت آج کی طرح اتنے ریستوراں بھی نہیں ہوا کرتے تھے، اس لیے وہ مسلسل ایسی جگہ تلاش کرتی رہتی تھیں، جہاں انہیں اپنی پسند کا کھانا، خاص طور پر اطالوی کھانا مل سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی تلاش کے دوران انہیں ایک یونانی ریستوراں کے بارے میں معلوم ہوا، جہاں کئی طلبہ، خاص طور پر یورپی اور ہندوستانی طلبہ کھانا کھانے جایا کرتے تھے۔ اسی ریستوراں میں ان کی راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔
محترمہ گاندھی نے بتایا کہ پہلی ملاقات میں ہی انہیں احساس ہوگیا تھا کہ مسٹر گاندھی ایسے شخص ہیں، جن کے ساتھ وہ زندگی گزارنا چاہیں گی۔ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ راجیو گاندھی نے بھی ان کے بارے میں ایسا ہی محسوس کیا تھا۔
محترمہ گاندھی نے بتایا کہ سب سے پہلے ان دونوں کے ایک مشترکہ دوست نے ان کا ایک دوسرے سے تعارف کرایا تھا۔ اس کے بعد وہ دوست بن گئے اور اپنے دوستوں کے ساتھ پارٹیوں میں جانے اور سیاحتی مقامات کی سیر کرنے لگے۔ محترمہ گاندھی نے ویلنٹائن پارٹی کا بھی ذکر کیا، جس میں بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی تھی۔
راجیو گاندھی کو یاد کرتے ہوئے محترمہ گاندھی نے کہا کہ وہ بہت پرکشش شخصیت کے مالک تھے، لیکن ان کی شخصیت میں جھلکنے والی انکساری نے انہیں خاص طور پر متاثر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ راجیو گاندھی کی یہی سادگی ان کے دل کو چھو گئی تھی اور وہ ان سے اپنی پہلی ملاقات کو کبھی نہیں بھول سکتیں۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
ووٹر فہرست کی خامیوں کے لیئے سافٹ ویئرکوموردالزام ٹھہرانا ناقابل قبول: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کی ووٹر فہرست میں خامیوں کے تعلق سے الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی منظم سازش کا الزام سافٹ ویئرلگانے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کی ووٹر فہرست میں ایک ووٹر کا نام ‘رام نے یادو کو مارا’ اور اس کے والد کا نام ‘مورکھ چندر یادو’ درج ہے۔ اسی طرح ایک ووٹر کے والد کا نام ‘بی کام’ اور ایک دوسرے ووٹر کا نام ‘رام نے شرما کا نام’ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر فہرستوں کو درست کرنے کے اعلان کردہ مقصد سے شروع کیے گئے خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے عمل نے ان فہرستوں کی ساکھ کو مزید شکوک و شبہات کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ لوک سبھا اور ہریانہ، مہاراشٹر نیز مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں کے انتخابات میں ووٹ چوری کے حوالے سے لوگوں کے شبہات اب یقین میں بدلتے جا رہے ہیں۔ ان کی پارٹی کا واضح موقف ہے کہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن کے ساتھ ملی بھگت کرکے انتخابات جیتے ہیں۔ ووٹ چوری کے معاملے پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی مسٹر گاندھی پر ذاتی حملے کر رہی ہے۔
کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے، بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے چلائے جا رہے ایس آئی آر کے عمل پر روک لگانے، ووٹر فہرست کی غیر جانبدارانہ جانچ کرانے، مکمل مشین ریڈیبل ڈیٹا عام کرنے اور ہر اہل شہری کے حق رائے دہی کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
