تازہ ترین
وادی برفیلی چادر کی لپیٹ میں، بیرون دنیا سے زمینی و فضائی رابطہ منقطع؛ تمام پروازیں منسوخ
خبراردو:
وادی کے سبھی اضلاع میں بدھوار صبح سے جاری بھاری برف باری کے نتیجے میں کشمیر کا بیرون دنیا سے زمینی و فضائی رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔ ادھر سرینگر جموں شاہراہ کے متعدد مقامات پر بھی برف کی موٹی موٹی چادریں جمع ہوئی ہیں تاہم سہ پہر تک شاہراہ پرمعمول کے مطابق یک طرفہ ٹریفک جاری تھا۔ ادھر بھاری برف باری اور دھند کی وجہ سے سرینگر ائرپورٹ پر کسی بھی پرواز اُڑان بھرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی کوئی پرواز بیرون ریاست سے وادی وارد ہوئی۔ادھر محکمہ موسمیات نے اپنی تازہ ایڈوائزری میں 19جنوری سے میدانی و بالائی حصوں میں بھاری برف باری کی پیش گوئی کی ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بدھ کی شام تک موسم میں بہتری آنے کے قوی امکانات موجود ہیں۔اس دوران تازہ برف باری کے نتیجے میں شہر و دیہات میں سڑکوں پر پھسلن پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں لوگوں کے عبور و مرور میں مشکلات درپیش آئی جبکہ اس دوران بھاری برف باری کی وجہ سے شہر سرینگر سمیت دیگر اضلاع اور قصبہ جات میں سڑکیں زیر آب آگئیں جس کے نتیجے میں راہ گیروں کو چلنے پھرنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ادھر محکمہ ٹریفک پولیس نے ڈرائیور حضرات کے نام جاری ایڈوائزری میں گاڑیاں چلانے کے دوران احتیاط برتنے کی اپیل کی۔

وادی کشمیر کے سبھی اضلاع میں بدھوار کی صبح سے شروع ہوئی تازہ برف باری کے باعث کشمیر کا بیرونی دنیا سے زمینی و فضائی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوچکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بدھوار کو بھاری برف باری کے نتیجے میں وادی کا بیرون دنیا سے زمینی و فضائی رابطہ پوری طرح منقطع ہوگیا جس کے نتیجے میں وادی کے سبھی اضلاع میں زندگی کی رفتار مکمل طور پر تھم گئی۔وادی کے سبھی دس اضلاع بشمول کولگام، اننت ناگ، شوپیان، پلوامہ، سرینگر، بڈگام، گاندربل، کپوارہ، بارہمولہ، ہندوارہ سمیت خطہ چناب کے بالائی حصوں میں تازہ برف باری کے نتیجے میں معمول کی سرگرمیاں بری طرح سے متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں امسال وادی کے میدانی علاقوں میں یہ ریکارڈ توڑ برف باری ہوئی کیوں کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران میدانی علاقوں میں برف باری کا اثر بہت کم دیکھنے کو ملا۔محکمہ موسمیات کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ بدھوار کو جاری برف باری وادی کے سبھی اضلاع میں جاری رہی تاہم اس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ بدھ شام تک موسم میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تازہ برف باری کے نتیجے میں وادی کشمیر میں کڑاکے کی ٹھنڈ میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں عوام نے راحت کی سانس لی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق تازہ اعداد و شمار کے مطابق سیاحتی مقام پہلگام میں 3سنٹی میٹر منگل کی شام کو ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے میں جنوبی کشمیر میں کل رات کا درجہ حرارت کم سے کم 2.9ڈگری سلسیس ریکارڈ کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے کوکرناگ علاقے کا کم سے کم درجہ حرارت 3ڈگری سلسیس ریکارڈ کیا گیا۔اسی طرح سرحدی ضلع کپوارہ میں کل رات کا کم سے کم درجہ حرارت 5.6سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ کے افسر نے بتایا کہ شہرہ آفاق گلمرگ میں بھی برف باری کے نتیجے میں کل رات کا کم سے کم درجہ حرارت 6ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ادھر تازہ برف باری کے نتیجے میں وادی کشمیر کا بیرون دنیا سے زمینی و فضائی رابطہ منقطع ہوچکا ہے جس کے نتیجے میں بیرون ریاست جانے والے مسافروں کو سخت ذہنی کوفت اُٹھانی پڑرہی ہے۔ معلولم ہوا ہے کہ برفباری کے نتیجے میں زمینی و فضائی ٹریفک منقطع ہونے کے نتیجے میں مسافر ائر پورٹ سے واپس اپنے گھروں کو لوٹ آئے۔ائرپورٹ اتھارٹی کے مطابق بدھوار کو جاری تازہ برف باری سے ائرپورٹ کی رن وے پر کسی بھی پرواز کو آنے یا جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ رن پر برف کی تہہ جم جانے سے یہاں سخت پھسلن واقع ہوئی تھی جس کے بعد ائرپورٹ انتظامیہ نے کسی بھی پرواز کو اُڑان بھرنے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ ائرپورٹ پر مسافروں کی بڑی تعداد اس انتظار میں تھی تاہم موسم کی خراب صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مسافروں کو واپس گھروں کو لوٹنا پڑا۔ ادھر محکمہ موسمیات نے عوام کے نام تازہ ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے کہا کہ 19جنوری سے وادی کے میدانی و بالائی علاقوں میں بھاری برف باری کا امکان ہے جس کے نتیجے میں وادی کا بیرونی دنیا سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوسکتا ہے ۔

انہوں نے عوام کو اس دوران احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔ محکمہ کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ وادی میں بدھ کی صبح شروع ہوئی برف باری میں بدھ شام تک بہتری آنے کے امکانات موجود ہیں۔اس دوران تازہ برف باری کے نتیجے میں شہر و یہات میں اندرون و بیرون سڑکوں پر پھسلن پیدا ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عام لوگوں کے چلنے پھرنے میں سخت مشکلات درپیش آئی ہیں ۔ اس دوران تازہ برف باری کے نتیجے میں شمال و جنوب میں سڑکیں زیر آب آگئی ہیں جس کی وجہ سے سڑکیں ندی نالوں کا منظر بیان کررہی ہیں۔ ادھر محکمہ ٹریفک نے ٹرانسپورٹروں کے نام تازہ ایڈوزائزری جاری کی ہے جس میں ڈرائیور حضرات کوبرف باری کے پیش نظر گاڑیوں کی رفتار دھیمی رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمہ ٹریفک نے ڈرائیوروں کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ برف باری کی وجہ سے سڑکوں پر پھسلن واقع ہوچکی ہیں لہٰذا انسانی جانوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کی خاطر گاڑیوں کی رفتار دھیمی رکھی جائے۔ادھر شہر سرینگر سمیت دیگر اضلاع اور قصبہ جات میں انتظامیہ نے سڑکوں پر سے برف ہٹانے کے لیے مشینوں کو متحرک کردیا ہے جس دوران وادی کے کئی مقامات پر بدھ کی دوپہر کو مشینوں کو سڑکوں پر سے برف ہٹاتے ہوئے دیکھا گیا۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
