جموں و کشمیر
سری نگر کے بلبل باغ برزلہ میں خوفناک آگ، دو فیکٹریاں اور متعدد ڈھانچے تباہ، آگ بجھانے کی کارروائی جاری
سری نگر،سری نگر کے بلبل باغ بنڈ برزلہ علاقے میں منگل کی شام ایک تباہ کن آتشزدگی کے واقعے نے وسیع پیمانے پر تباہی مچادی، جس کے نتیجے میں کم از کم دو فیکٹریاں اور متعدد تجارتی ڈھانچے مکمل طور پر خاکستر ہوگئے۔ شہر بھر میں آگ کی اس بھیانک واردات نے خوف و ہراس کی لہر دوڑا دی جبکہ آسمان میں اٹھتے شعلوں اور گھنے دھوئیں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے ایک سینئر عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا کہ منگل کی شام بلبل باغ برزلہ سے آگ بھڑکنے کی اطلاع موصول ہوئی۔ اطلاع ملتے ہی فائر اینڈ ایمرجنسی کے عملے کو متعدد یونٹوں سمیت فوری طور پر جائے واردات کی جانب روانہ کیا گیا۔
عہدیدار نے بتایا کہ ابتدائی مشاہدات سے پتہ چلتا ہے کہ آتشزدگی نے ‘تھرماکول فیکٹری’ اور ‘قالین فیکٹری’ کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور دونوں عمارتیں مکمل طور پر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آگ کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ شعلے دور دور تک نظر آرہے تھے جبکہ گرمی کی تپش نے محلے کے دیگر ڈھانچوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے کا خطرہ پیدا کردیا تھا۔ فائر سروسز نے فوری طور پر بڑے پیمانے پر امدادی کارروائی شروع کرتے ہوئے پندرہ فائر ٹینڈرز جائے مقام پر تعینات کیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لگاتار گزشتہ چار گھنٹوں سے آگ بجھانے کی کارروائی میں مصروف ہیں، مگر تھرماکول اور دیگر آتش گیر اشیا موجود ہونے کے باعث آگ تیزی سے پھیل رہی ہے۔
علاقے کے مقامی لوگوں کے مطابق آگ اس قدر خوفناک تھی کہ کچھ ہی منٹوں میں شعلوں نے دونوں فیکٹریوں کو لپیٹ میں لے لیا۔ کچھ عینی شاہدین نے بتایا کہ فیکٹریوں کے اندر رکھی مشینری، خام مواد اور تیار شدہ سامان مکمل طور پر جل کر تباہ ہوگیا۔ایک مقامی شہری نے بتایا کہ ہم نے پہلی بار اتنی بڑی آگ دیکھی۔ شعلے بہت اونچے تھے اور ہمیں لگ رہا تھا کہ آس پاس کے گھروں کو بھی شدید خطرہ لاحق ہے۔
فائر اینڈ ایمرجنسی کے سینئر افسر نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ جس مقام پر آگ نمودار ہوئی، وہاں کئی دیگر ڈھانچے بھی موجود ہیں، جنہیں بچانے کے لیے اہلکاروں نے بھرپور کوششیں کیں۔ فائر ٹینڈرز کے عملے نے شعلوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قریبی عمارتوں پر مسلسل پانی کا چھڑکاؤ کیا تاکہ آگ مزید گھروں تک نہ پہنچ پائے۔
اسی دوران پولیس بھی موقع پر پہنچی اور علاقے کو مکمل طور پر سیل کردیا۔ ٹریفک کو مختلف راستوں کی طرف موڑ دیا گیا تاکہ امدادی ٹیمیں بلا رکاوٹ متاثرہ مقام تک پہنچ سکیں۔ پولیس نے آگ لگنے کی وجہ جاننے کے لیے ابتدائی کارروائی شروع کردی ہے، تاہم فوری طور پر آگ لگنے کی اصل وجہ کا علم نہیں ہوسکا۔
اطلاعات کے مطابق اب تک کسی جانی نقصان کی خبر موصول نہیں ہوئی ہے، تاہم مالی نقصان کافی بھاری تصور کیا جارہا ہے۔ متعلقہ محکموں نے کہا کہ آگ پر مکمل قابو پانے کے بعد ہی مجموعی نقصان کا تخمینہ لگایا جاسکے گا۔
آخری اطلاعات موصول ہونے تک آگ پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا تھا، تاہم فائر اینڈ ایمرجنسی کا عملہ احتیاط کے طور پر کولنگ آپریشن میں مصروف تھا تاکہ کوئی چنگاری دوبارہ شعلوں کو جنم نہ دے سکے۔ اس سلسلے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے پونچھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے جمعہ کو دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں واقع کس بلاری میں تلاشی مہم شروع کی اور دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پردہ فاش کیا۔
تلاشی کے دوران ٹیم نے ایک بیگ، ٹیپ سے لپٹے ہوئے چھ کنٹینر، جن میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) ہونے کا شبہ ہے، ایک جنگی سازوسامان کا پاؤچ، ایک لوہے کا ڈبہ جس میں میگزین ہونے کا امکان ہے، ٹیپ سے لپٹا ایک اور کنٹینر، 7.62 ایم ایم لائٹ مشین گن (ایل ایم جی) کا ایک میگزین، ایک ایلومینیم کنٹینر، دو اڈاپٹر اور ایک ٹفن برآمد کیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی شکست کے خوف سے پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت نہیں چاہتی کہ دوسری جماعتوں کو زمینی سطح پر نمائندگی ملے۔
بی جے پی کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری اشوک کول کے اعزاز میں پارٹی کی جموں و کشمیر شاخ کی جانب سے منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے لیے ‘لٹمس ٹیسٹ’ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے حکومت پر بجلی، ایل پی جی سلنڈر، ملازمتوں اور راشن کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔
مسٹر شرما نے کہاکہ ”عبداللہ خاندان کے تکبر اور ‘دبنگئی’ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کہا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔ ان کے والد فاروق عبداللہ صاحب بھی 2 سے 3 بار کہہ چکے ہیں کہ پنچایت انتخابات نہیں ہوں گے۔ نیشنل کانفرنس نہیں چاہتی کہ کوئی اور یہاں کے عوام کی نمائندگی کرے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور انہیں ڈر ہے کہ عوام ان سے ان کے دھوکے کا حساب مانگیں گے۔”
لداخ میں پنچایت انتخابات کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر میں ایسے انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”یہ اس حکومت کے لیے ایک سخت امتحان ہوگا۔ جس حکومت نے بجلی، سلنڈر، ملازمت اور راشن کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، اس کا امتحان پنچایتی راج اور بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔”
مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، مسٹر شرما نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں دہشت گردی میں زبردست کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کا سہرا مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ کے سر باندھا۔ مسٹر شرما نے کہا کہ ”گزشتہ 2 سال میں ایک بھی کشمیری نوجوان کسی دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں ہوا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کی ایک بڑی علامت ہے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لداخ کی طرح کشمیر میں بھی مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جا سکتے ہیں، مسٹر شرما نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ملزم افراد کا لداخ کے مظاہرین سے موازنہ کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ اس وقت جیل میں ہیں، ان کے خلاف سابقہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دور میں عوامی تحفظ قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
مسٹر شرما نے واضح کیا کہ بی جے پی بے گناہوں کو انصاف دلانے کی حمایت کرے گی، لیکن ملک کے خلاف تشدد کرنے والوں کو بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔
یو این آئی۔ این یو۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد
سری نگر، شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں سکیورٹی کارروائی کے دوران 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکنوں (او جی ڈبلیوز) کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ان کے قبضے سے 2 دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ برآمدگیاں گزشتہ شام بارہمولہ کے ڈیلینا علاقے میں کی گئیں۔ گرفتار کیے گئے دونوں افراد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ شمالی کشمیر کے سوپور کے چنکی پورہ علاقے کے رہنے والے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایاکہ ”ان کے قبضے سے 2 آئی ای ڈی، ایک پستول، گولہ بارود کے 10 کارتوس اور 6500 روپے برآمد کیے گئے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے مبینہ روابط کا پتہ لگانے اور معاملے کی دیگر تفصیلات معلوم کرنے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
گرفتاریوں اور برآمدگی کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔.
یو این آئی۔ این یو۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
