جموں و کشمیر
کشتواڑ تصادم میں فوج کے آٹھ جوان زخمی، وسیع پیمانے پر تلاشی آپریشن جاری
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے بالائی علاقوں میں جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائی پیر کو دوسرے روز بھی پوری شدت کے ساتھ جاری رہی، جبکہ اتوار کی دوپہر شروع ہونے والے مسلح تصادم میں فوج کے آٹھ اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ گھنے جنگلات اور مشکل جغرافیائی صورتحال کے باعث آپریشن کو مزید وسیع کر دیا گیا ہے، جسے فوج کی وائٹ نائٹ کور نے ’آپریشن ترشی–I‘ کا نام دیا ہے۔
دفاعی حکام کے مطابق یہ کارروائی سونار–چھاترو کے جنگلی خطے میں اس وقت شروع ہوئی جب مشترکہ سرچ پارٹی نے ایک مشکوک حرکت کا سراغ لگایا۔ جیسے ہی فورسز نے گھیرا تنگ کرنا شروع کیا، گھات میں بیٹھے دہشت گردوں نے اچانک اندھا دھند فائرنگ اور دستی بموں سے حملہ کیا، جس سے ابتدائی مرحلے میں آٹھ فوجی زخمی ہوگئے۔ زخمی جوانوں کو فوری طور پر محفوظ مقام منتقل کرکے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال پہنچایا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی جارہی ہے۔
حکام کے مطابق ابتدائی جھڑپ کے دوران تلاشی ٹیم کا سامنا دو سے تین غیر ملکی دہشت گردوں سے ہوا، جن پر شبہ ہے کہ وہ پاکستان میں موجود جیشِ محمد گروہ سے وابستہ ہیں۔دہشت گرد گھنے درختوں، پتھریلی ڈھلوانوں اور دشوار گزار راستوں کو ڈھال بنا کر وقفے وقفے سے فائرنگ کر رہے ہیں۔
فوج، سی آر پی ایف اور پولیس کی اضافی کمک اتوار کی شام ہی علاقے میں پہنچا دی گئی تھی، جس نے رات بھر علاقے کو حصار میں لیے رکھا۔ صبح ہوتے ہی جدید نگرانی کے آلات، ڈرون ، تھرمل امیجرز اورکھوجی کتوں کی مدد سے علاقے کی باریک بینی سے چھان بین کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ’فرار کے تمام ممکنہ راستوں پر سخت ناکہ بندی کی گئی ہے اور جنگل کے گہرے حصوں کی مرحلہ وار صفائی جاری ہے۔‘
علاقے کی حساسیت اور زمینی پیچیدگیوں کے باعث کارروائی میں خاص احتیاط برتی جارہی ہے۔ حکام کے مطابق جنگلاتی خطے میں موجود چٹانوں اور قدرتی غاروں کے باعث شدت پسندوں کو عارضی پناہ گاہوں کی سہولت میسر ہے، جس سے انہیں فائدہ پہنچ رہا ہے۔ فوجی افسران کا کہنا ہے کہ ’دہشت گرد محدود تعداد میں ہیں لیکن چیلنج جنگل کی ساخت ہے، جس کے باعث کارروائی محتاط انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔‘
کشتواڑ اور ملحقہ وادیٔ چناب کی جنگلاتی بیلٹ میں رواں برس یہ تیسرا انکاؤنٹر ہے۔ اس سے پہلے 7 جنوری کو بلاور کے کہوگ جنگلات میں اور 13 جنوری کو نوجوٹ کے علاقے میں مسلح تصادم ہوا تھا۔ گزشتہ سال دسمبر میں ادھم پور کے سوان گاؤں میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں ایک پولیس افسر شہید ہوا تھا۔
سیکورٹی حکام نے اس بار کارروائی کو زیادہ مربوط اور سخت بتایا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ یومِ جمہوریہ کے موقع پر سرحد پار سے دراندازی کی کوششوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ خفیہ اداروں نے رپورٹ دیا ہے کہ پاکستان میں موجود ہینڈلرز موسم سرما میں جنگلاتی راستوں کو استعمال کرتے ہوئے چھوٹے گروہوں کو کشمیر میں داخل کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس خطرے کے پیش نظر جموں صوبے میں تمام اہم مقامات، شاہراہوں اور حساس جنگلاتی زون میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
فورسز کو جنگل سے بعض شواہد بھی ملے ہیں، جن میں گولیوں کے خول اور خوراک کے پیکٹ شامل ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد جنگل میں موجود ہیں اور ان تک رسائی کا دائرہ مزید محدود ہو چکا ہے۔
سیکیورٹی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع مقامی پولیس کو دیں۔ انتظامیہ کے مطابق کارروائی عوامی سرگرمیوں کو متاثر کیے بغیر جاری ہے اور مقامی آبادی کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔
فوجی حکام نے اعتماد ظاہر کیا کہ آپریشن ترشی–I جلد اپنے منطقی انجام تک پہنچے گا اور دہشت گردوں کو زندہ یا مردہ، دونوں صورتوں میں انجام تک پہنچایا جائے گا۔
یو این آئی، ارشید بٹ،
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر: کشتواڑ میں ہندوستانی فوج نے طلبہ اور فوج میں بھرتی کے خواہش مند نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی
جموں، سابقہ ڈوڈہ ضلع کے نوجوانوں سے رابطہ قائم کرنے اور ان کی رہنمائی و معاونت کی مسلسل کوششوں کے تحت آرمی ریکروٹنگ آفس (اے آر او)، جموں نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی رابطے کا ایک خصوصی پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا۔
اے آر او، جالندھر کے ہیڈکوارٹر ریکروٹنگ زون کا حصہ ہے۔
وزارت دفاع، جموں کے تعلقات عامہ کے افسر اور ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سنیل برتوال نے ایک سرکاری بیان میں بتایا کہ ہندوستانی فوج کی اس پہل کو طلبہ کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی، جبکہ کالج انتظامیہ نے بھی اس کی بھرپور ستائش کی۔
انہوں نے کہاکہ ”اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہندوستانی فوج میں بھرتی کے طریقۂ کار سے متعلق ابہام دور کرنا اور دفاعی شعبے میں کریئر بنانے کے خواہش مند نوجوانوں کے جوش و جذبے کو ایک منظم اور قابلِ عمل منصوبے کی شکل دینا تھا۔”
انہوں نے بتایا کہ مسلح افواج میں شمولیت کے طریقوں کے بارے میں واضح رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اس رابطہ پروگرام کا مقصد مقامی نوجوانوں کو قومی خدمت کے لیے وقف کریئر اختیار کرنے اور ”ایک غیر معمولی زندگی گزارنے” کی ترغیب دینا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پروگرام کے دوران منعقدہ باہمی تبادلۂ خیال کے اجلاسوں میں فوجی افسران نے بھرتی کی مختلف اسکیموں، اہلیت کے معیار اور امتحانات کے طریقۂ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ اس طرح فوج میں شمولیت کے خواہش مند نوجوانوں کو دستیاب مواقع سے واقف کرانے اور ان کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔
تعلقات عامہ کے افسر نے کہاکہ ”ہندوستانی فوج خطے کے تمام دلچسپی رکھنے والے امیدواروں اور نوجوان قائدین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ وہ اپنے کریئر کے سفر میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے بھرتی کے سرکاری پورٹل www.joinindianarmy.nic.in پر جائیں، جہاں آئندہ بھرتی مہمات، رجسٹریشن اور درخواست دینے کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلی معلومات دستیاب ہیں۔”
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے پونچھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے جمعہ کو دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں واقع کس بلاری میں تلاشی مہم شروع کی اور دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پردہ فاش کیا۔
تلاشی کے دوران ٹیم نے ایک بیگ، ٹیپ سے لپٹے ہوئے چھ کنٹینر، جن میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) ہونے کا شبہ ہے، ایک جنگی سازوسامان کا پاؤچ، ایک لوہے کا ڈبہ جس میں میگزین ہونے کا امکان ہے، ٹیپ سے لپٹا ایک اور کنٹینر، 7.62 ایم ایم لائٹ مشین گن (ایل ایم جی) کا ایک میگزین، ایک ایلومینیم کنٹینر، دو اڈاپٹر اور ایک ٹفن برآمد کیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما
سری نگر، جموں و کشمیر اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعرات کو نیشنل کانفرنس حکومت پر انتخابی شکست کے خوف سے پنچایت اور بلدیاتی انتخابات میں جان بوجھ کر تاخیر کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمراں جماعت نہیں چاہتی کہ دوسری جماعتوں کو زمینی سطح پر نمائندگی ملے۔
بی جے پی کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری اشوک کول کے اعزاز میں پارٹی کی جموں و کشمیر شاخ کی جانب سے منعقدہ الوداعی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ مقامی بلدیاتی انتخابات عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کے لیے ‘لٹمس ٹیسٹ’ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے حکومت پر بجلی، ایل پی جی سلنڈر، ملازمتوں اور راشن کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا۔
مسٹر شرما نے کہاکہ ”عبداللہ خاندان کے تکبر اور ‘دبنگئی’ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات نہیں ہونے دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں کہا کہ وہ انتخابات نہیں کرائیں گے۔ ان کے والد فاروق عبداللہ صاحب بھی 2 سے 3 بار کہہ چکے ہیں کہ پنچایت انتخابات نہیں ہوں گے۔ نیشنل کانفرنس نہیں چاہتی کہ کوئی اور یہاں کے عوام کی نمائندگی کرے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں منہ کی کھانی پڑے گی اور انہیں ڈر ہے کہ عوام ان سے ان کے دھوکے کا حساب مانگیں گے۔”
لداخ میں پنچایت انتخابات کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شرما نے سوال کیا کہ جموں و کشمیر میں ایسے انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ”یہ اس حکومت کے لیے ایک سخت امتحان ہوگا۔ جس حکومت نے بجلی، سلنڈر، ملازمت اور راشن کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، اس کا امتحان پنچایتی راج اور بلدیاتی انتخابات کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔”
مرکزی وزیر داخلہ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، جس میں کہا گیا تھا کہ کشمیر میں دہشت گردی ختم ہو گئی ہے، مسٹر شرما نے کہا کہ گزشتہ 5 سال میں دہشت گردی میں زبردست کمی آئی ہے۔ انہوں نے اس کا سہرا مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزارت داخلہ کے سر باندھا۔ مسٹر شرما نے کہا کہ ”گزشتہ 2 سال میں ایک بھی کشمیری نوجوان کسی دہشت گرد تنظیم میں شامل نہیں ہوا ہے، جو دہشت گردی کے خاتمے کی ایک بڑی علامت ہے۔”
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا لداخ کی طرح کشمیر میں بھی مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جا سکتے ہیں، مسٹر شرما نے دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ملزم افراد کا لداخ کے مظاہرین سے موازنہ کرنے کی کوشش کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ اس وقت جیل میں ہیں، ان کے خلاف سابقہ پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس حکومتوں کے دور میں عوامی تحفظ قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔
مسٹر شرما نے واضح کیا کہ بی جے پی بے گناہوں کو انصاف دلانے کی حمایت کرے گی، لیکن ملک کے خلاف تشدد کرنے والوں کو بے قصور نہیں کہا جا سکتا۔
یو این آئی۔ این یو۔
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
