تازہ ترین
صوبہ جموں میں مسلمان فرقہ پرستوں کے نشانے پر: محبوبہ مفتی
خبراردو:
پی ڈی پی صدر اور ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے صوبہ جموں میں اقلیتی طبقے کو نشانہ بنانے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ صوبہ جموں میں رہائش پذیر مسلمانوں کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات اُٹھائیں۔ پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اتوار کی سہ پہر کو اپنی رہائش گاہ واقع گپکار میں میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے صوبہ جموں میں اقلیتی طبقے کے مختلف فرقوں کے ساتھ ہورہی زیادتیوں پر تشویش ظاہر کی۔ محبوبہ مفتی نے بتایا کہ ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کی سربراہی والی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ جموں میں مسلمانوں کیساتھ ہورہی زیادتی کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے اُن کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اُٹھائیں۔پی ڈی پی صدر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ صوبہ جموں میں رہائش پذیر مسلمانوں کو ایک اور دوسرے بہانے تنگ طلب کیا جارہا ہے اور آئے روز انہیں غیر ضروری طور پر نشانہ بناکر ستایا جارہا ہے۔
انہوں نے بتایا ریاست میں سابق مخلوط حکومت گرنے کے بعد ہی صوبہ جموں سے تعلق رکھنے والے 33گوجر خاندانوں کو انتظامیہ کی طرف سے آبائی علاقے چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ گزشتہ سال دسمبر میں وہاں گوجر طبقے سے وابستہ بستیوں میں تجاوزات کو ہٹانے کے سلسلے میں مہم کا باضابطہ آغاز کیا گیا اور اس طرح صوبہ جموں میں رہائش اختیار کررہے مسلمانوں کو علیحدہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ بحیثیت وزیر اعلیٰ میں نے فروری 2018کو انتظامیہ کوواضح ہدایت دی کہ جب تک نہ گوجر طبقے سے متعلق ریاستی حکومت کوئی لائحہ عمل ترتیب دیتی ہے تب تک ان کے مکانات اور اُن کی جائیداد کے ساتھ کوئی بھی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جانی چاہیے۔
محبوبہ مفتی نے بتایا کہ میں نے اُس وقت انتظامیہ کو ہدایت کی تھی اگر ناگزیر صورتحال میں ایسی بستیوں میں کسی مہم کا آغاز کرنا بھی پڑے تب بھی اس سلسلے میں متعلقہ محکمہ ٹرائبل افیرز کے ساتھ رابطہ کیا جانا چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ صوبہ جموں میں انتہا پسند سیاسی جماعتوں سے وابستہ لوگوں کی طرف سے آئے روز گوجر طبقے اور دیگر اقلیتی طبقوں کو ہراساں و پریشان کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے انتہا پسندوں اور فرقہ پرستوں کی جانب سے تشکیل دی گئی تنظیم ’اک جٹ جموں مہا ادھیویشان‘ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں اُن کے مطابق یہ تنظیم صوبہ جموں میں مسلمانوں کی موجودگی اور اُن کی بڑھتی آبادی سے کافی خوف زدہ دکھائی دے رہی ہے اور اس کے لیے یہ تنظیم ہندوؤں کو جمع کرکے 1947جیسا ماحول تیار کرنے میں جٹی ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس طرح کے فرقہ پرست لوگوں کی وجہ سے صوبہ جموں میں اقلیتی طبقے سے وابستہ لوگوں میں خوف اور ڈر کا ماحول پایا جارہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس طرح کے فرقہ پرست لوگ آبادی علاقوں سے دور جب کسی اقلیتی فرد کو پاتے ہیں تو وہ اُسے اپنی بربریت اور وحشت کا شکار بناتے ہیں۔محبوبہ مفتی نے بتایا کہ اس طرح کی حرکتیں فرقہ پرستوں نے ماضی قریب میں بھی دہرائی ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے مطابق فرقہ پرستوں نے صوبہ جموں میں زمین کی نرخیں بھی کافی بڑھادی ہیں تاکہ یہاں پر مسلم آبادی کی رہائش کو منصوبہ بند سازش کے تحت ناممکن بنایا جاسکے۔انہوں نے بتایا کہ صوبہ جموں میں مسلمانوں کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے اُن تمام علاقوں کو جہاں مسلم آباد ہیں کو جموں میونسپلٹی کے تحت لایا جارہا ہے تاکہ یہاں مستقبل میں کوئی بھی تعمیری کام ایس ایم سی جموں کی منظوری کے بغیر ممکن نہ ہوسکے۔انہوں نے بتایا کہ پی ڈی پی صوبہ جموں میں مسلمانوں کے تئیں برتی جارہی پالیسی کے خلاف بھر پور آواز اُٹھائے گی اور اقلیتی طبقے سے وابستہ لوگوں کے مسائل کو اُجاگر کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے گورنر اتنظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے صوبہ جموں میں مسلمانوں کے تئیں برتی جارہی متعصبانہ پالیسی پر لگام کسنے کے لیے ٹھوس اور موثر اقدامات کریں۔
ہندوستان
راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات میں ہی شریک حیات بننے کا احساس ہوگیا تھا: سونیا
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی نے سابق وزیر اعظم اور اپنے شوہر راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی شخصیت میں جھلکنے والی انکساری نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا تھا اور وہ اس ملاقات کو کبھی نہیں بھول سکتیں۔
محترمہ گاندھی نے اپنی آنے والی خودنوشت کتاب ‘بیلونگ: اے جرنی آف لو’ میں بیان کیے گئے واقعات سے متعلق ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے ہفتہ کو بتایا کہ ان دنوں انگلینڈ میں انہیں کھانا بہت خراب لگتا تھا۔ اس وقت آج کی طرح اتنے ریستوراں بھی نہیں ہوا کرتے تھے، اس لیے وہ مسلسل ایسی جگہ تلاش کرتی رہتی تھیں، جہاں انہیں اپنی پسند کا کھانا، خاص طور پر اطالوی کھانا مل سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی تلاش کے دوران انہیں ایک یونانی ریستوراں کے بارے میں معلوم ہوا، جہاں کئی طلبہ، خاص طور پر یورپی اور ہندوستانی طلبہ کھانا کھانے جایا کرتے تھے۔ اسی ریستوراں میں ان کی راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔
محترمہ گاندھی نے بتایا کہ پہلی ملاقات میں ہی انہیں احساس ہوگیا تھا کہ مسٹر گاندھی ایسے شخص ہیں، جن کے ساتھ وہ زندگی گزارنا چاہیں گی۔ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ راجیو گاندھی نے بھی ان کے بارے میں ایسا ہی محسوس کیا تھا۔
محترمہ گاندھی نے بتایا کہ سب سے پہلے ان دونوں کے ایک مشترکہ دوست نے ان کا ایک دوسرے سے تعارف کرایا تھا۔ اس کے بعد وہ دوست بن گئے اور اپنے دوستوں کے ساتھ پارٹیوں میں جانے اور سیاحتی مقامات کی سیر کرنے لگے۔ محترمہ گاندھی نے ویلنٹائن پارٹی کا بھی ذکر کیا، جس میں بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی تھی۔
راجیو گاندھی کو یاد کرتے ہوئے محترمہ گاندھی نے کہا کہ وہ بہت پرکشش شخصیت کے مالک تھے، لیکن ان کی شخصیت میں جھلکنے والی انکساری نے انہیں خاص طور پر متاثر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ راجیو گاندھی کی یہی سادگی ان کے دل کو چھو گئی تھی اور وہ ان سے اپنی پہلی ملاقات کو کبھی نہیں بھول سکتیں۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
ووٹر فہرست کی خامیوں کے لیئے سافٹ ویئرکوموردالزام ٹھہرانا ناقابل قبول: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کی ووٹر فہرست میں خامیوں کے تعلق سے الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی منظم سازش کا الزام سافٹ ویئرلگانے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کی ووٹر فہرست میں ایک ووٹر کا نام ‘رام نے یادو کو مارا’ اور اس کے والد کا نام ‘مورکھ چندر یادو’ درج ہے۔ اسی طرح ایک ووٹر کے والد کا نام ‘بی کام’ اور ایک دوسرے ووٹر کا نام ‘رام نے شرما کا نام’ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر فہرستوں کو درست کرنے کے اعلان کردہ مقصد سے شروع کیے گئے خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے عمل نے ان فہرستوں کی ساکھ کو مزید شکوک و شبہات کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ لوک سبھا اور ہریانہ، مہاراشٹر نیز مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں کے انتخابات میں ووٹ چوری کے حوالے سے لوگوں کے شبہات اب یقین میں بدلتے جا رہے ہیں۔ ان کی پارٹی کا واضح موقف ہے کہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن کے ساتھ ملی بھگت کرکے انتخابات جیتے ہیں۔ ووٹ چوری کے معاملے پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی مسٹر گاندھی پر ذاتی حملے کر رہی ہے۔
کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے، بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے چلائے جا رہے ایس آئی آر کے عمل پر روک لگانے، ووٹر فہرست کی غیر جانبدارانہ جانچ کرانے، مکمل مشین ریڈیبل ڈیٹا عام کرنے اور ہر اہل شہری کے حق رائے دہی کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
جموں و کشمیر
اگلے ہفتے کے آغاز میں کابینہ میں توسیع ہوسکتی ہے: عمر عبداللہ
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کو کہا کہ ان کی کابینہ میں ردوبدل اور توسیع اگلے ہفتے کے آغاز میں ہوسکتی ہے۔
انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے ملاقات کرکے ان سے اس کے لیے ایک تاریخ طے کرنے کی درخواست کی ہے۔ عمر عبداللہ نے بتایا کہ لیفٹیننٹ گورنر کچھ دن پہلے ہی سری نگر واپس آئے ہیں۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کی خیریت بھی دریافت کی، کیونکہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کے ساتھ کئی معاملات پر بات چیت کی، جن میں کابینہ میں ردوبدل بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا، ”میں نے ان سے کابینہ میں توسیع کے لیے وقت مانگا ہے اور درخواست کی ہے کہ وہ اگلے ہفتے کے ابتدائی 2 سے 3 دنوں میں کوئی وقت طے کردیں۔”
انہوں نے کہا کہ وہ اپنی کابینہ کے ساتھیوں سے کچھ تبدیلیاں کرنے کے لیے کہیں گے اور جیسے ہی لیفٹیننٹ گورنر وقت طے کردیں گے، کابینہ میں توسیع کردی جائے گی۔ عمر عبداللہ نے بتایا کہ وزیروں کی فہرست تیار ہے اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ سے مشورے کے بعد اسے حتمی شکل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ”فاروق صاحب یا میرے یا کسی اور کے دروازے پر دستک دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کون وزیر بنے گا، اس کا فیصلہ کیا جاچکا ہے۔” انہوں نے پارٹی کے ساتھیوں سے صبر و تحمل سے کام لینے کی اپیل کی۔
وزیر اعلیٰ نے وزیر بننے کے خواہش مند لوگوں کی جانب سے انہیں بڑی تعداد میں پیغامات بھیجنے اور رابطہ کرنے پر ناراضگی بھی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا، ”براہ کرم مجھے واٹس ایپ پیغامات نہ بھیجیں۔ مجھے واٹس ایپ پر بہت سارے پیغامات اور لمبے لمبے خطوط مل رہے ہیں۔ میں نہ تو ان کے سوانحی کوائف دیکھتا ہوں اور نہ ہی انہیں جانتا ہوں۔ فیصلہ کیا جاچکا ہے۔ براہ کرم مجھے نہ واٹس ایپ پیغامات بھیجیں، نہ فون کریں اور نہ ہی میرے دروازے پر دستک دیں۔ اگلے 2 سے 3 دنوں میں کابینہ میں ردوبدل ہوجائے گا۔”
یو این آئی۔ ایم جے
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
جموں و کشمیر1 week agoلداخ کے لیفٹیننٹ گورنر نے سانکو ضلع کے قیام کا اعلان کیا
