تازہ ترین
ہاپت نار بڈگام جھڑپ : ایک عسکریت پسند جاںبحق ، جھڑپ جاری ، مکمل رپورٹ
خبراردو:
وادی کشمیر میں آپریشن آل آؤٹ کو جاری رکھتے ہوئے فوج، پولیس اور سی آر پی ایف نے وسطی ضلع بڈگام کے ہاپت نار علاقے کو علی الصبح مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد محاصرے میں لیا جس کے بعد یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز اہلکاروں پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کی تاہم آخری اطلاعات موصول ہونے تک کسی بھی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ڈی آئی جی وسطی کشمیر وی کے بھردی کا کہنا تھا کہ علاقے پہاڑی ہونے اور یہاں بھاری برف جمع ہونے کے نتیجے میں جنگجوؤں کی ہلاکتوں سے متعلق کچھ بھی کہا نہیں جاسکتا۔ ادھر جھڑپ شروع ہوتے ہی انتظامیہ نے ضلع بڈگام میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا۔ادھر پلوامہ میں جھڑپ میں مقامی نوجوانوں کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی یہاں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکوں پر نکل کر فورسز کارروائی کے خلاف احتجاج کیا جس کے بعد پولیس و فورسز نے احتجاجی مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے درجنوں آنسو گیس کے گولے داغے۔
فوج، پولیس اور سی آر پی ایف نے آپریشن آل آؤٹ کو جاری رکھتے ہوئے سوموار کی علی الصبح وسطی ضلع بڈگام کے ہاپت نار علاقے کو محاصرے میں لیتے ہوئے یہاں موجود جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کا باضابطہ آغاز کیا۔ تفصیلات کے مطابق سوموار صبح کو فوج کی 53آر آر، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی بھاری نفری نے جنگجوؤں سے متعلق مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد زنپاچال ہاپت نار نامی علاقے کا سخت محاصرے عمل میں لاتے ہوئے یہاں جگہ جگہ فورسز اہلکاروں کو رتعینات کردیا۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز اہلکاروں نے جنگجوؤں کی نقل و حمل کو محدود کرنے اور فرار کے ممکنہ راستوں پر فورسز اہلکاروں اور موبائل بنکروں کی تعیناتی یقینی بناتے ہوئے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن کا آغاز کیا۔معلوم ہوا ہے کہ فورسز کی تلاشی پارٹی نے جونہی مشتبہ مقام کی جانب پیش قدمی شروع کی تو یہاں موجود 2سے 3جنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر خودکار ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کرتے ہوئے یہاں سے فرار ہونے کے کوشش کی تاہم فورسز اہلکاروں نے جنگجوؤں کی اس کوشش کو ناکام بناتے ہوئے علاقے کے ارد گرد کڑ امحاصرہ عمل میں لایا۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ سوموار کی سہ پہر کو طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ تھم گیا جس دوران پہاڑی علاقے میں موجود جنگجوؤں کی کمین گاہ کو فورسز نے بارودی مواد سے زمین بوس کردیا۔
پولیس ذرائع نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سوموار کو جاری آپریشن میں طرفین کی گولہ باری سہ پہر کو بند ہوئی جس دوران فورسز اہلکاروں نے پہاڑی علاقے میں موجود جنگجوؤں کی کمین گاہ کو تباہ کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے تلاشی آپریشن کے دوران جنگجوؤں کی ایک کمین گاہ کا پتہ لگایا جسے بعد میں بارود مواد سے زمین بوس کردیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکار پہاڑی علاقے میں ہنوزجنگجوؤں کی تلاش کے لیے موجود ہے جس دوران وہ تلاشی کارروائی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس دوران پولیس کے ڈی آئی جی برائے وسطی کشمیروی کے بھردی نے جھڑپ سے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ہاپت نار علاقے میں ہوئی جھڑپ سے متعلق ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اگر چہ طرفین کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ رک گیا ہے تاہم علاقے میں بھاری برف موجود ہونے اور پہاڑی راستے کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ بھی کہا نہیں جاسکتا۔انہوں نے بتایا کہ علاقے میں برف کی موٹی تہہ جمع ہونے کے بعد فورسز اہلکاروں کو آگے بڑھنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور جھڑپ سے متعلق پوری تصویر پر تبصرہ کرنا قبل از وقت کہلائے گا۔انہوں نے بتایا کہ جنگجوؤں کی ہلاکت سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم فورسز اہلکاروں علاقے میں تلاشی آپریشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تاہم اطلاعات کے مطابق جھڑپ میں ابھی تک ایک جنگجو جاںبحق ہوا ہے . جس کی لاش کو لینے کے لئے جب فورسز کی پارٹی کمین گاہ کی طرف بڑھی تو جنگجوئوں نے فورسز پر فائرنگ کر دی .
ادھر علاقے میں جھڑپ شروع ہوتے ہی علی الصبح انتظامیہ نے ضلع بھر میں موبائل انٹرنیٹ سہولیات کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔ معلوم ہوا ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے اور امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ضلع بھر کے حدود میں اگلے احکامات تک موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل رکھنے کا فیصلہ لیا۔ ادھر پلوامہ کے راجپورہ، مورن اور کاکہ پورہ علاقوں میں سوموار کی دو پہر کو اُس وقت پرتشدد احتجاج بھڑک اُٹھا جب یہاں یہ خبر پھیل گئی کہ وسطی ضلع بڈگام کے ہاپت نار علاقے میں ہوئی جھڑپ کے دوران پلوامہ سے تعلق رکھنے والے 2مقامی نوجوان جاں بحق ہوگئے ہیں۔ معلوم ہوا کہ پلوامہ کے راجپورہ ، مورن اور کاکہ پورہ میں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکوں پر نکل کر فورسز کارروائی کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ مظاہرین نے اسلام، آزادی اور جنگجوؤں کے حق میں زور دار نعرے لگاتے ہوئے یہاں موجود فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی جس کے نتیجے میں یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔عینی شاہدین کے مطابق ضلع میں جونہی نوجوانوں کی ہلاکت سے متعلق خبر پھیل گئی تو یہاں مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران دوکانات اور تجارتی اداروں نے اپنے دوکانات کے شٹر گراکر گھروں کی راہ لی۔ انہوں نے بتایا کہ ہڑتال کی وجہ سے سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت پر بھی اثر پڑا ۔ اس دوران فورسز نے احتجاج کررہے نوجوانوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے جبکہ مظاہرین نے بھی چہار سو فورسز پر کچھ دیر کے لیے پتھراؤ کو جاری رکھا تاہم شام دیر گئے حالات معمول پر آگئے۔
دنیا
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے
انقرہ، ترکیہ کے صدر ایردوان نے اپنے پیغام میں درج ذیل الفاظ بیان کیے: “اقوامِ متحدہ کے قیام کی 81ویں سالگرہ پر میں اپنی اور ترک عوام کی جانب سے دلی جذبات کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سیکریٹری جنرل جناب انتونیو گوترش صاحب اور ہمارے ملک میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔”
دو عالمی جنگوں کے بعد ‘جنگ کی آفت سے آنے والی نسلوں کا تحفظ’ کے عزم کے تحت قائم ہونے والے اقوامِ متحدہ نے بین الاقوامی امن و امان کے تحفظ، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ابتدا سے ہی اہم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
آج جن عالمی آزمائشوں کا سامنا ہے – جنگیں، انسانی آفات، موسمیاتی تبدیلی، بھوک اور غربت، نسل پرستی، بیرونِ وطن دشمنی اور اسلام مخالف رجحانات – وہ دکھاتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے قیام کا مشن کم نہیں ہوا بلکہ اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
انسانیت آج بھی اُس مستقبل کی آرزو رکھتی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق مشترکہ ارادہ عملی طور پر نافذ ہو، جنگیں ختم ہوں اور دائمی امن قائم ہو۔
اقوامِ متحدہ ان عظیم ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے نبھانے کے قابل ہونے کے لیے تمام ممالک کی طرف سے اقوامِ متحدہ کے منشور کی مضبوط حمایت اور تنظیم کے بنیادی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے والی اصلاحات کی حمایت کرنا انسانی مفاد میں ضروری ہے۔
اسی نقطۂ نظر کے تحت، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ، جامع اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کے مطابق بنانے کی ضرورت خاص طور پر اہم ہو گئی ہے۔ غزہ میں پیش آنے والا واقعہ، جسے نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد غزہ کے باشندگان کی جانیں ضائع ہوئیں، اور دنیا کے دیگر خطوں میں پھیلنے والے بحران اور تصادم اس ضرورت کی کتنا فوری ہونے کو عیاں کر دیتے ہیں۔
اسی فہم کے ساتھ، ہم محترم سیکریٹری جنرل کی جانب سے شروع کیے گئے UN 80 اقدام کی حمایت کرتے ہیں؛ استنبول کو اقوامِ متحدہ کا ایک مرکز بنانے کے ہمارے ہدف کے تناظر میں ہم تنظیم کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کر رہے ہیں۔
ان خیالات کے ساتھ، میں 24 اکتوبر اقوامِ متحدہ کے دن کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس یقین کے ساتھ کہ ایک زیادہ منصفانہ دنیا ممکن ہے، بین الاقوامی نظام اور اسی کے مرکز میں موجود اقوامِ متحدہ کو زیادہ مؤثر اور جامع بنانے کے لیے ہماری کاوشیں ہم عزم طور پر جاری رکھیں گے، ایک بار پھر زور دیتا ہوں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کا ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ دستخط شدہ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا اعلان
سلام آباد، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے عمل کو مکمل کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے تعاون کو مضبوط کریں گے۔
معاہدے کے متعلقہ امور، اس کی توثیق، اور اس کے عملی نفاذ پر تینوں فریق بات چیت کر رہے ہیں جن میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی بھی شامل ہے جس کی حالیہ ملاقات 5 اکتوبر کو ہوئی تھی۔
حیدر خان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں۔
خان نے مزید کہا کہ اسلام آباد معاہدے کی شقوں اور اس کے نچوڑ دونوں کے ساتھ مکمل پابند ہے، جو دفاعی نوعیت کا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔
7 اگست کو ترک صدر رجب طیب ایردوان، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان نے مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل تلاش کریں گے اور ان کی مشترکہ اسٹریٹجک بصیرت علاقائی سلامتی اور استحکام پر مرکوز ہے۔
یہ تینوں ممالک کی سلامتی کو اجتماعی بازدارندگی اور دفاع کے ذریعے مضبوط کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے پہلے ہی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے داخلی قانونی فریم ورک کے مطابق مطلوبہ طریقہ کار اختیار کر رہا ہے،
ترکیہ نے بدھ کو پارلیمنٹ میں تین شقوں پر مشتمل بل جمع کرایا ہے جس کا مقصد اس معاہدے کی منظوری حاصل کرنا ہے۔
اس معاہدے سے توقع ہے کہ ترکیہ کے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات گہرے ہوں گے اور ایک جامع علاقائی سیکیورٹی میکانزم کی حمایت ہوگی۔
یہ بل پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں زیرِ غور آئے گا، جسے قیادت کرنے والی کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔اگر کمیٹی نے منظوری دے دی تو اسے پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔
مکہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جو 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد بڑھ گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فعال یا حتمی امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔
اگرچہ ایک ابتدائی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت جو عارضی جنگ بندی قائم کرتی تھی جون 2026 میں دستخط ہوئی تھی، بات چیت زیادہ تر ناکام ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک اس وقت پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے غیر مستقیم، معطل مذاکرات میں مصروف ہیں۔
اس تنازع نے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی وسعت اختیار کی ہے، اور حوثی ملیشیا نے بحرِ احمر میں سعودی جہاز رانی اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے بڑھا دیے ہیں۔
سیکیورٹی کے بگڑتے ہوئے ماحول نے علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون کو تیز کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فرانس میں احتجاج کے پیش نظر 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات، پیرس کے عجائب گھر بند
پیرس، فرانس میں گزشتہ ہفتے بڑے پیمانے پر لوٹ مار، آتش زنی اور سرکاری عمارتوں پر حملوں کے بعد سکیورٹی کی خامیاں سامنے آنے اور صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت پر دباؤ بڑھنے کے درمیان، حکام نے نئے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ہفتہ کو ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اہلکاروں اور جنڈارمری فورس کے جوانوں کو تعینات کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیرس کے کئی بڑے عجائب گھر بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
تشدد کے دوبارہ بھڑکنے کے خدشے کے پیش نظر لوور، اورسے میوزیم، پکاسو میوزیم اور گرینڈ پیلے سمیت کئی ثقافتی ادارے بند رہے۔ پیرس میں منعقد ہونے والے عصری فنون کے بڑے میلے آرٹ باسل کے منتظمین نے بھی جمعہ کو افتتاح کے بعد ہفتے کے اختتام کے پروگرام منسوخ کر دیے۔
پیرس سے تقریباً 110 کلومیٹر جنوب میں واقع اورلیاں میں انتہائی دائیں بازو کے خلاف ایک بڑے احتجاج کی تیاری کی گئی۔ یہ مظاہرہ میرین لے پین کی جماعت نیشنل ریلی کی قومی کانگریس کے ساتھ ہی منعقد ہونے والا ہے۔
ٹریڈ یونینوں، بائیں بازو کی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور نسل پرستی مخالف انجمنوں سمیت تقریباً 50 تنظیموں نے اس مظاہرے کی اپیل کی ہے۔ حکام کو اس میں 20 ہزار سے 30 ہزار افراد کی شرکت کی توقع ہے۔ ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے تقریباً 3 ہزار پولیس اہلکاروں اور جنڈارمری فورس کے جوانوں کو تعینات کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے کہا کہ سکیورٹی انتظامات میں فساد مخالف پولیس، ہیلی کاپٹر، بکتر بند گاڑیاں اور واٹر کینن شامل ہوں گے۔
نونیز نے جمعہ کو کہا، ”ہم تشدد کرنے والے ہنگامہ آرائی کرنے والوں اور لوٹ مار میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ حکام کسی قسم کی نرمی نہیں برتیں گے۔
طلبہ تنظیموں، ٹریڈ یونینوں اور یلو ویسٹ تحریک کے کارکنوں کی جانب سے پیرس میں بھی احتجاجی مظاہروں کی توقع ہے۔ فرانسیسی اخبار ‘لوموند’ کے حوالے سے پیش کیے گئے انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق، پیرس کی سڑکوں پر 60 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار تک افراد اتر سکتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے فرانس بھر میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد نے مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد میں دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا، لوٹ مار کی گئی، گاڑیوں کو آگ لگائی گئی اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، ملک بھر میں تقریباً 3 ہزار کاروباری اداروں کو نقصان پہنچا یا انہیں لوٹ لیا گیا۔
حکام نے خصوصی پولیس دستوں، سراغ رساں کتوں کی ٹیموں، گھڑسوار اہلکاروں اور ڈرون مخالف ٹیموں کی مدد سے سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ نیشنل جنڈارمری کے زیر استعمال تقریباً 15 واٹر کینن گاڑیوں اور 20 بکتر بند گاڑیوں کو بھی تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔
احتجاج سے قبل پیرس کے دکانداروں نے اپنی دکانوں کے شٹر اور دروازے مضبوط کیے اور سکیورٹی کے اضافی انتظامات کیے۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر بدامنی سے متاثر ہونے والے پلیس دے لا ریپوبلیک کے قریب کاروباری اداروں اور بینک کی ایک شاخ نے اپنے احاطے کو محفوظ بنانے کے لیے لکڑی کے تختے لگا دیے۔
یہ احتجاج گزشتہ ماہ پیرس کے جنوب مشرق میں واقع ایک ہائی اسکول سے شروع ہوا تھا۔ ابتدا میں مظاہرین نے عملے کی کمی اور تعلیمی حالات کے خلاف آواز اٹھائی، لیکن بعد میں اس تحریک میں مہنگائی اور معاشی عدم مساوات کے خلاف ناراضگی بھی شامل ہو گئی۔
اسکولوں میں ناکافی فنڈنگ، پسماندہ علاقوں میں عملے کی کمی اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے مسائل نے بھی طلبہ کی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔
لیون، نیس اور مونٹ پیلیئر میں مجوزہ بعض مظاہروں پر مقامی حکام نے پابندی عائد کر دی، جبکہ پیرس اور مارسیے میں ریلیاں نکالے جانے کی توقع ہے۔ ٹریڈ یونینوں نے ان پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آئین کے تحت حاصل آزادیٔ اظہار کے حق کی خلاف ورزی ہیں۔
صدر میکرون، جنہیں اپنی صدارت کے دوران عوامی ناراضگی میں اضافے کا سامنا ہے، نے سکیورٹی کے ان اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کے مرکزی علاقوں، کاروباری اداروں اور سرکاری عمارتوں کے تحفظ کے لیے یہ ضروری ہیں۔
یواین آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
