تازہ ترین
کھنموہ جھڑپ:ایک مقامی سمیت 2جنگجو جاں بحق، 7فورسز اہلکار بھی زخمی، مکمل رپورٹ
خبراردو:
26جنوری کی تقریب سے چند گھنٹے قبل سرینگر کے مضافاتی علاقے کھنموہ میں فوج اور جنگجوؤں کے درمیان علی الصبح ہوئی خونین معرکہ آرائی میں جیش محمد سے وابستہ 2جنگجو جاں بحق ہوئے جن کی تحویل سے فورسز نے دو AK-47 رائفلوں کے علاوہ دیگر گولہ بارودبھی ضبط کیا۔ادھر معلوم ہوا ہے کہ طرفین کی شدید گولہ باری کے نتیجے میں فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کے 7اہلکار بھی گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ۔اس دوران مقامی بستیوں سے نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز کارروائی میں رخنہ ڈالنے کی خاطر احتجاجی مظاہرے کئے تاہم مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فورسز اہلکاروں نے آنسو گیس کے گولوں کے علاوہ پیلٹ فائرنگ کا بھی استعمال کیا۔ پولیس نے اس سلسلے میں کیس رجسٹر کرتے ہوئے مزید تحقیقات شروع کی ہیں۔ ادھر پولیس نے بتایا کہ جھڑپ میں مارے گئے جنگجوؤں کا مقصد 26جنوری کی تقریبات میں خلل ڈالنا تھا اسی لیے انہوں نے سرینگر تک اپنی رسائی ممکن بنائی تھی۔
شہر سرینگر کے مضافاتی علاقے کھنموہ میں 26جنوری کی تقریب منعقد ہونے سے چند گھنٹے قبل فوج اور جنگجوؤں کے درمیان خونین معرکہ آرائی ہوئی جس دوران طرفین کی گولہ باری سے پورا علاقہ لرز اُٹھا۔ معلوم ہوا ہے کہ فوج، سی آر پی ایف اور پولیس سے وابستہ اسپیشل آپریشن گورپ کی بھاری جمعیت نے جنگجوؤں سے متعلق اطلاع موصول ہونے کے بعد کھنموہ کے سرہندی کالونی کا صبح 3بجے ہی کڑا محاصرہ عمل میں لایا جس دوران فورسز اہلکاروں نے پورے علاقے کا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے یہاں چپے چپے پر چاک و چوبند فورسز اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز اہلکاروں نے علاقے کی طرف آنے اور جانے والی تمام گلی کوچوں پرکڑے پہرے بٹھاتے ہوئے لوگوں کی نقل و حرکت ناممکن بنانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اسی دوران جونہی فورسز اہلکاروں نے سرہندی کالونی کھنمو میں داخل ہوکر یہاں تلاشی کی غرض سے فاروق احمد گوجری نامی شخص کے رہائشی مکان کی جانب پیش قدمی شروع کی تو یہاں یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے مورچہ سنبھالتے ہوئے جوابی کارروائی کا باضاباطہ آغاز کیا ۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ قریباً صبح 4بجے علاقے میں گولیوں کی آواز سنی گئی تاہم اندھیرا ہونے کے باعث لوگوں کو اصل حقائق معلوم نہیں چل پائے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی دوران یہاں طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا جس دوران علاقہ گولیوں کی گن گرج سے دہل اُٹھا جبکہ آبادی بھی گھروں میں سہم کر رہ گئی۔لوگوں کا کہنا تھا کہ اسی دوران فورسز نے یک منزہ مکان میں آگ لگادی جس کے بعد یہاں ہر طرف دھواں نظر آنے لگا۔
ادھر پولیس نے جھڑپ سے متعلق تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ سنیچر کی علی الصبح فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کی مشترکہ پارٹی نے سرہندی کالونی کھنموہ کا مصدقہ اطلاع ملنے کے بعدکڑا محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جونہی تلاشی پارٹی مشتبہ مکان کے نزدیک پہنچی تو مکان کے اندر چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے فورسز اہلکاروں پر شدید فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا جس کا فورسز اہلکاروں نے بھی معقول جواب دیا۔ پولیس نے بتایا کہ اسی اثنا میں طرفین کے گولی بھاری سے یہاں جھڑپ شروع ہوئی ۔پولیس کا کہنا تھا کہ دوران جھڑپ فورسز کارروائی کے نتیجے میں جیس محمد سے وابستہ 2عدم جنگجو جاں بحق ہوئے جن میں ایک غیر ملکی بتایا جاتا ہے۔پولیس نے مارے گئے جنگجوؤں میں سے ایک کی شناخت محمد شفیع ڈار ساکن آری ہل پلوامہ کے بطور کی تاہم دوسرا جنگجو غیرپولیس کے مطابق غیر ملکی بتایا جارہا ہے جن کی تحویل سے 2اے کے سنتالین رائفلیں اور دیگر قسم کا گولہ بارود ضبط کیاگیاہے۔انہوں نے بتایا کہ مارئے گئے جنگجوؤں کا منصوبہ 26جنوری کی تقریبات میں خلل ڈالنا تھا جس کے لیے انہوں نے سرینگر تک رسائی حاصل کی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ جنگجوؤں کی ہمیشہ سے روایت رہی ہے کہ وہ 26جنوری کی تقریبات کے دوران عام لوگوں کے قلب و ذہن میں خوف و ڈر کا ماحول پیدا کرکے اپنی کاررائیاں کریں ۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مارے گئے جنگجوؤں کو ناکام بنادیا۔انہوں نے بتایا کہ پولیس نے اس حوالے سے ایک کیس درج کرتے ہوئے مزید تحقیقات کا آغاز شروع کردیا ہے۔ادھر معلوم ہوا ہے کہ طرفین کی شدید فائرنگ کے نیتجے میں 7فورسز اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں جنہیں فوری علاج و معالجہ کی خاطر مختلف ہسپتالوں کو منتقل کردیا گیا ۔ معلوم ہو اکہ جنگجوؤں کی فائرنگ سے فوج کے 2، سی آر پی ایف کے 2اور پولیس اور ایس او جی کے 3اہلکار گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ادھر پولیس نے جائے جھڑپ پر عام شہریوں کی ہلاکت سے بچنے کے لئے عوام کے نام ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی نہ کریں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ جب تک جائے جھڑپ کو گولہ بارود جیسے مواد سے پاک و صاف نہیں کیا جاتا ہے تب تک عوام یہاں آنے سے گریز کرے۔
اس حوالے سے پولیس نے امن وقانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے عوام سے تعاون طلب کیا ہے۔ادھر مقامی لوگوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران فورسز نے یک منزلہ مکان کو آگ لگادی جس کے کچھ وقفے بعد ہی آپریشن کو ختم کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مکان میں آگ نمودار ہونے کے بعد یہاں فائر اینڈ ایمرجنسی کی ٹیم وارد ہوئی جنہوں نے مکان میں لگی آگ کو بجھانے کی کوشش کی۔ مقامی لوگوں کا کہنا کہ آگ بجھانے پر مامور عملے نے یہاں مکان کے ایک کمرے سے موٹر سائیل بھی برآمد کی جو جنگجوؤں کی بتائی جارہی ہے۔ ادھر جھڑپ شروع ہونے کے بعد ہی جونہی آس پاس کے علاقوں میں اس کی خبر پھیل گئی تو یہاں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکوں پر آگر فورسز کارروائی کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ معلوم ہوا ہے کہ احتجاج کررہے نوجوانوں نے جائے جھڑپ کی جانب پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تاہم یہاں موجود فورسز اہلکاروں نے ان کی یہ کوشش ناکام بناتے ہوئے مظاہرین پر کئی آنسو گیس کے گولے داغنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ کی۔ ادھر انتظامیہ نے 26جنوری کے پیش نظر اور علاقے میں جھڑپ شروع ہونے کے ساتھ ہی علاقے میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو بھی معطل رہی.
دنیا
روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری میں نہیں، یورپی عوام روس سے لڑنا نہیں چاہتے:پوتن
ماسکو، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری نہیں کر رہا ہے اور اگر یورپ میں جاری سیاسی سرگرمیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ وہاں کے لوگ روس سے لڑنا نہیں چاہتے۔
مسٹر پوتن نے روسی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ مغربی ممالک کے رہنما مسلسل ‘روسی خطرے’ اور روس کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم کی تیاریوں کی بات کررہے ہیں۔ تاہم، امید ہے کہ اب یہ بات واضح ہوچکی ہوگی کہ روس کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ”یہ بات سب کے سامنے واضح ہوچکی ہے کہ جنگ کے میدان میں روس کو شکست دینا ناممکن ہے اور اسے حکمت عملی کے اعتبار سے بھی شکست دینا غیر حقیقی ہے۔”
روسی صدر کے مطابق، یورپی سیاست دانوں کی جانب سے روس کے خلاف جنگ کی تیاریوں سے متعلق دیے جانے والے بیانات کسی طرح کی سیاسی ذہنی اختلال کی علامت ہیں۔
مسٹر پوتن نے کہا، ”میرا خیال ہے کہ جن لوگوں نے پوری تاریخ میں روس کو حکمت عملی کے اعتبار سے شکست دینے کی کوشش کی ہے اور بدقسمتی سے آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں، وہ جدید دنیا کی حقیقتوں کو سمجھتے ہیں اور سمجھیں گے کہ روس کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنا ہی بہتر ہے۔ یہ ان کے اپنے عوام کے مفاد میں ہے۔”
یو این آئی/اسپوتنک
ہندوستان
جرمنی کے ایک مطالعاتی و تحقیقی ادارے میں ہندوستان کے لیے خصوصی مرکز قائم
نئی دہلی، جرمنی میں بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے اور تحقیق کرنے والے برلن کے خودمختار ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز (ڈی جی اے پی) میں ہندوستان سے متعلق ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
‘انڈیا سینٹر’ کے نام سے قائم اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا ریشے نے شرکت کی۔ مسٹر گوئل اس وقت جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ڈی جی اے پی میں ہندوستان کے لیے قائم کیا گیا یہ مرکز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا، ”ہماری ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتیں ہمارے بلند حوصلہ اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس شراکت داری کو مزید رفتار دینے کا کام کرے گا۔”
اس موقع پر مسٹر گوئل نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ باہمی خوشحالی اور ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
