تازہ ترین
ازدواجی بندھن میں بند چکی سینکڑوں پاکستانی نژاد خواتین کا پریس کالونی احتجاج، واپس جانے کا مطالبہ
خبراردو:
کشمیریوں کے ساتھ ازدواجی بندھن میں بند چکی سینکڑوں پاکستانی نژاد خواتین نے وزرائے اعظم پاک و ہند سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کی وطن واپسی کے لیے خاطر خواہ اقدامات اُٹھائے جائیں۔ سرینگر میں اپنے جائز مطالبات کے حق میں پرامن احتجاج کررہی خواتین نے بتایا کہ سفری دستاویزات کی غیر موجودگی میں ہم اپنے میکے والوں سے بھی مل نہیں سکتے ۔
سرحد پار سے بیاہی گئی سینکڑوں لڑکیاں اور پاکستان نژادخواتین نے پریس کالونی سرینگر میں سنیچرکو پرامن احتجاج کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے ان کی فوری وطن واپسی کے لیے مؤثر اور ٹھوس اقدامات اُٹھانے پر زور دیا۔ گزشتہ برسوں کے دوران سابق عسکریت پسندوں کے ساتھ نکاح کرچکی سینکڑوں خواتین نے میڈیا کے سامنے اپنے مشکلات و مسائل کو اُجاگر کرتے ہوئے وزیرا عظم پاکستان عمران خان سے دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے اُن کی فوری وطن واپسی پر زور دیا۔احتجاج کررہی خواتین میں سے سید کبریٰ گیلانی جن کا نکاح سال 2010میں جنوبی کشمیر اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے الطاف احمد راتھر کے ساتھ ہوا اور بعد میں ذاتی معاملات پر دونوں میں طلاق واقع ہوگئی نے بھی حکومت ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ ساتھ ریاستی انتظامیہ سے پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وادی کشمیر میں فی الوقت مختلف مشکلات کا سامنا درپیش ہیں لہٰذا اُن کے مسائل کو حل کرنے کی خاطر اُنہیں وطن واپس روانہ کیا جائے۔سید کبریٰ گیلانی کا کہنا تھا کہ میں نے سال 2010میں کوکرناگ اننت ناگ کے رہنے والے الطاف احمد راتھر کے ساتھ پاکستان میں ہی نکاح کیا۔
الطاف احمد اُس وقت عسکریت کے ساتھ وابستہ تھا تاہم ریاست جموں وکشمیر کی اُس وقت کی سرکار جس کی سربراہی عمر عبداللہ کررہے تھے نے سرحد پار گئے عسکریت پسندوں کو واپس کشمیر آنے کے لیے بازآبادکاری پالیسی تشکیل دی جس کے تحت میں اور الطاف سال 2014میں کشمیر وارد ہوئے۔کبریٰ کا کہنا تھا کہ اس دوران میں اپنے سسرال کوکرناگ پہنچی تاہم میں یہاں پر سسرال والوں کے ساتھ میری نہ بن پائی اوراسطرح وقت وقفے کے بعد ہی میرا طلاق واقع ہوگیا۔35سالہ کبریٰ گیلانی کا کہنا تھا کہ فی الوقت مجھے انتہائی تکلیف دہ حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور میرے لیے کشمیر میں رہنا ناممکن ہے۔
انہوں نے بتایا کہ طلاق کے بعد میں نے تمام تر رابطے اپنے سسرال والوں کے ساتھ منقطع کئے اور میں فی الوقت سوپور میں ایک کشمیری فیملی کے ساتھ رہائش پذیر ہوں۔ کبریٰ نے کشمیرنیوز سروس کو بتایا کہ وہ اور الطاف ریاستی حکومت کی طرف سے شروع کی گئی بازآبادکاری پالیسی کے تحت ہی کشمیر واپس آئے تاہم یہاں زمینی حالات کا بغور جائزہ اور مشاہدے کے بعد یہ بات عیاں ہوگئی کہ عمر عبداللہ کی سربراہی والی حکومت نے جو پالیسی شروع کی تھی اُس کا کہی بھی زمینی سطح پر نام و نشان موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا میں طلاق شدہ خاتون ہوں اورپردیس میں ہوں لہٰذا کشمیر میں اس مرحلے پر میری زندگی کا گزربسر ناممکن ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ ہندوستان اور پاکستان کی دونوں حکومتیں ہماری وطن واپسی کا راہ ہموار کریں اور ہمیں اپنے رشتہ داروں سے ملنے دیا جائے۔ادھر کبریٰ کے علاوہ پریس کالونی میں سینکڑوں خواتین وطن واپسی کا رونا رورہی تھیں جو کئی برس قبل کشمیریوں کے ساتھ ازدواجی بندھن میں بند گئی ہیں۔
پرامن احتجاج پر بیٹھی خواتین نے دونوں مملکتوں کی حکومتوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ٹھوس اور موثر اقدامات اُٹھائے جائیں جس سے ہماری وطن واپسی ممکن ہوسکے۔اس موقعے پر احتجاج کررہی پاکستانی نژاد خواتین نے ’انصاف دو، انصاف دو‘ کے نعرے بلند کئے۔ خواتین کا کہنا تھا کہ ہم سے ریاستی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ ہمیں باز آبادکاری کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات اُٹھائے جائیں گے لیکن یہاں آنے کے بعد اُن تمام وعدوں سے انحراف کیا گیا اور ہمیں تمام ضروری سہولیات سے محروم رکھا گیا۔خواتین کاکہنا تھا کہ ریاستی حکومت نہ ہی ہمیں پشتیی باشندوں کی طرح اسناد فراہم کررہی ہے اور نہ ہی ہمیں شناختی کارڈ، آدھار کارڈ دئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
دنیا1 week agoایران کی جنگ بہت جلد ختم ہوجائے گی،تیل کی قیمتوں گر جائیں گی:ٹرمپ
