تازہ ترین
وزیر اعظم کی کشمیر آمد پر فقید المثال ہڑتال حکمرانوں کے لیے نوشتۂ دیوار، واجپائی کا ’انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت‘ کا نعرہ محض فریب: جے آر ایل
خبراردو:
مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے وزیر اعظم کی کشمیر آمد کے موقعہ پر یہاں کے مظلوم اور محکوم عوام کے فقید المثال احتجاجی ہڑتال کو قابض حکمرانوں کیلئے نوشتہ دیوار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نہتے اور بے بس عوام کے پاس اس کے سوا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے جس سے وہ اپنا احتجاج درج کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس زبردستی فوجی قبضے والے خطے میں عوام کا بے مثال احتجاج اس بات کا غماز ہے کہ جموں وکشمیر کے عوام مجموعی طور اُس غیر قانونی اور غیر اخلاقی رشتے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں جو ان پر زبردستی مسلط کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے قومی تہوار ہوں یا بھارت کی کسی سیاسی شخصیت کا دورۂ کشمیر ہر حال میں یہ مواقع یہاں کے عوام کیلئے وبال جان بن کر ان کی تکلیفوں اور مصائب میں اضافے کا باعث بنتے ہیں ۔
قائدین نے فوجی حصار اور بندوقوں کے سائے میں کئے گئے دورے کو عوامی دورہ قرار دیئے جانے کو حد درجہ مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ بھارتی وزیراعظم کا یہ کہنا کہ دوسروں کے خواب چھیننے والا بڑا بزدل ہوتا ہے ہمارے اس موقف کی تائید کررہے ہیں کہ لاکھوں کشمیروں کے خواب چھیننے والے حکمران ان کی امنگوں اور آرزوؤں کا خون کرنے والے، انکے جذبات کا استحصال اور ان کا امن و سکون چھیننے والے ، ان کے نوجوانوں کو بے دردی سے شہید کرنے والے ، ان کی عفت مآب عورتوں کی عصمت کو داغدار کرنے والے یہاں کی بستیوں کو کھنڈرات میں تبدیل اور ہزاروں نوجوانوں کو بلا لحاظ جنس و عمر جیلوں اور عقوبت خانوں میں ٹھونسنے والا ملک سب سے بڑا بزدل ہے اور اس بزدلی کو چھپانے کیلئے حقائق اور دلائل سے منہ چھپا کر طاقت کا بے تحاشا استعمال کرکے حق و انصاف کی ہر آواز کو دبانے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔
قائدین نے کہا کہ ہندوستان کے لوگوں کا کشمیریوں کے قتل و عام پر غصہ ہونے کی بات یہاں کے عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے کیونکہ بھارتی عوام کو جو کچھ اُن کے حکمران اور ان کا منہ زور میڈیا کشمیر کے حوالے سے دکھا رہا ہے وہ اُسی بات کو سچ سمجھ رہے ہیں کیونکہ بھارتی میڈیا نے ہمیشہ کشمیر کے حالات کی غلط تصویر کشی کرکے بھارتی عوام کو ہر مرحلے پر گمراہ کیا ہے اور اگر بھارتی عوام کو کشمیر میں روزانہ بہتے ہوئے لہو کا ذرا بھی احساس ہوتا تو کم سے کم وہ اس درندرگی اور بربریت پر کبھی تو زبان کھول سکتے تھے لیکن ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔قائدین نے بھارت کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے خواب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ خواب بی جے پی کے خواب سے مختلف نہیں تھا اور ان کے موجودہ پیشرو اسی مشن کی آبیاری کررہے ہیں جس سے اس ریاست پر ان کی گرفت مضبوط ہو۔انہوں نے کہا کہ طاقت کے بل پر کسی قوم کو زیادہ دیر تک غلام بنائے نہیں رکھا جاسکتا اوراسکی واضح مثال افغانستان سے امریکہ کی واپسی ہے جہاں پر امریکی صدر نے بھی یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ فوجی طاقت اور قوت کے بل پر افغان قوم کو اپنا زیر دست بنائے رکھیں گے لیکن وقت نے ثابت کردیا کہ امریکہ کے اس دعوے میں کوئی بنیا د نہیں تھی اور انہیں آخر کار افغانستان کو چھوڑ کر جانا پڑا۔قائدین نے کہا کہ نہ بھارتی وزیراعظم کے دھمکی آواز تقاریر سے اورنہ کسی آل آؤٹ آپریشن سے کسی قوم کی مبنی برحق جدوجہد کو دبایا جاسکتا ہے اور نہ بے پناہ فوجی جماؤ اور قوت کے بل پر کسی قوم کے حقوق کو سلب کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ انسانیت ، جمہوریت اور کشمیریت کا نعرہ محض سیاسی فریب کاری کے سوا کچھ نہیں تھا جبکہ ان کے دور میں بھی یہاں کے عوام کے مصائب اور مشکلات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ۔قائدین نے بھارتی وزیراعظم کے گھر گھر بجلی کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کبھی بھارت سے بجلی کی بھیک نہیں مانگی ہے بلکہ ہم اپنے قدرتی وسائل کی تحویل چاہتے ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ دلی کے حکمرانوں کے ریاستی حاشیہ برداروں نے ہمیشہ ان کے حکم پر سر تسلیم خم کرکے اپنی غیر ت اور عزت کا جنازہ نکالا ہے اور پھر جب اقتدار سے الگ ہوتے ہیں تو مگر مچھ کے آنسو بنا کر عوام کی ہمدردیاں بٹورنے کیلئے سینہ کوبی کرتے ہیں ۔قائدین نے کہا کہ کشمیری پنڈت ہمارے سماج کا ایک حصہ ہیں اور ہم ان کی واپسی کا ہمیشہ بے تابی سے انتظار کرتے ہیں تاہم ان کے لئے الگ بستیاں بنانے کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ اور اس پر بننے والے فلموں کو بھارتی عوام کی ہمدردیاں اور ووٹ حاصل کرنے کیلئے استعمال تو کیا جاسکتا ہے لیکن ایسی سیاسی شعبدہ بازیوں کی حقیقت سے یہاں کے عوام پوری طرح واقف ہیں ۔ ہم ایک جائز اور پر امن جدوجہد میں مصروف عمل ہے جس کو خود بھارت سمیت پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے اور اپنے حقوق کی بازیابی کیلئے ہماری جدوجہد ہر سطح پر جاری
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
