تازہ ترین
مزاحمتی کال پر وادی میں مکمل ہڑتال معمولات زندگی متاثر، مکمل رپورٹ
خبراردو:
وادی کشمیر میں جماعت اسلامی اور لبریشن فرنٹ کے خلاف اندھا دھند گرفتاریوں کی مہم اور دفعہ35Aکے معاملے کو لے کر مزاحمتی قیادت جن میں سید علی شاہ گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی کال پر وادی میں مکمل ہڑتال رہی جس دوران پوری وادی میں تمام دکانیں اور کار باری ادارے بند رہے جس کے نتیجے میں معمولات کی زندگی بری طرح متاثر رہی سڑکوں سے ٹرانسپوٹ بھی غائب رہنے کے نتیجے میں یہاں ہو کا آلم رہا۔ اس دوران انتظامیہ نے وادی کے حساس علاقوں میں فورسز کی اضافی نفری کو صبح سویرے سے تعینات کیاگیا جبکہ انتظامیہ نے سرینگر شہر کے5پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں بندشیں نافذ کر کے دفعہ144نافذ رہا۔
ادھر ریل انتظامیہ نے مسافروں کی حفاظت اور ریل املاک کو مدنظر رکھ کر بارہمولہ بانہال ریل سروسکو معطل رکھا۔جبکہ پواری وادی میں ز رفتار والی انٹرنیٹ سروس پر روک لگایا دیا گیا۔تاہم ہڑتال کے دوران پوری وادی میں حالات پرامن رہے اور کسی بھی جگہ سے کسی ناخوشگوار واقعے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ۔
وادی کشمیر میں پولیس کی جانب سے جماعت اسلامی اور لبریشن فرنٹ کے150سے زیاہ لیڈران اور کارکنان کو کریڈون کر کے گرفتاریوں کے خلاف سیاسی و سماجی حلقوں کے ساتھ ساتھ ساتھ عام لوگوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کر کے گرفتار لیڈران کی اس طرح کی عجیب گرفتاری پر طرح طرح کے سوالات کھڑے کئے ہیں ۔جبکہ سابق وزیر اعلی محبوبہ ،فتی اور سابق وزیر سجاد گںی لون نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس طڑھ کی گرفتاریوں سے نہ پہلے کچھ حاصل ہوا اور نہ آئندہ ہوگا۔ جبکہ گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مزاحمتی قیادت جن میں سید علی شاہ گیلانی،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے سنیچر کے روز ہی واقعے کے خلاف ایک روزہ ہڑتال کی کال دی تھی جس دوران اتوار کے روز مزکورہ قیادت کی کال پر پوری وادی میں مکمل ہڑتال رہی ،جس دوران ہڑتال کی وجہ سے معمولات کی زند گی بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئی جبکہ وادی کے اطراف و اکناف میں تمام دکانیں بند رہے جبکہ سڑکوں سے ٹرانسپوٹ بھی غائب رہا۔
ادھر ہڑتال کے دوران انتظامیہ نے پوری وادی اور شہر سرینگر کے حساس مقامات کے ساتھ ساتھ جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ ،شوپیان ،اننت ناگ،پلوامہ،اونتی پورہ ،ترال ،پانپور، کوگام ،قاضی گنڈ ، بڈگام ،گاند بل ،کپوارہ ،ہندوارہ،سوپور،بارہمولہ ،بانڈی پورہ میں علاقوں میں فورسز کی اضافی نفری کو کسی بھی امکانی گڑ بڑ کو ناکام بنانے کے لئے چوکنا رکھا گیا تھا۔جبکہ ہڑال کے دوران جنوبی کشمیر کے اکثر علاقوں میں مسافروں اور گاڑیوں کی تلاشی لی جا رہی تھی ۔ادھر صوبائی انتظامیہ نے شہر کے5پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں دفعہ 144کے تحت بندشیں رکھیں تھی جس دوران لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ ا۔اس دوران واد ی کشمیر کے تحصیل اور ضلع ہیڈ کواٹروں پر موجود نامہ نگاروں نے جو اطلاعات فراہم کی ہے ۔ ان کے مطابق یہاں مکمل ہڑتال کی وجہ سے معمولات کی زندگی بری طرح متاثر رہی ہے ۔ جبکہ اکثر مقامات پر فورسز کی اضافی نفری کو امن و قانون کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لئے تعینات رکھا گیا جس دوران تمام کاربای ادارے جن میں دود،سبزی اور ادویات فرووشوں کی بیشتر دکانیں مکمل بند رہنے کے ساتھ ساتھ سڑکوں سے ٹرانسپورٹ غائب رہا ۔
ادھر وادی کشمیر میں امن و قانون کی صورت حال کو برقرار رکھنے اور افواہ بازی کو روکنے کے لئے انتظامیہ نے انٹرنیٹ سروس کو گزشتہ رات سے ہی تیز رفتار میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ کئی علاقوں میں مکمل طورپر سروس کو بند رکھا ہے ۔ادھر ریل حکام نے وادی میں امن و قانون کے صورت حال کے پیش نظر مسافروں کی حفاظت اور ریل املاک کو بچانے کے لئے بارہمولہ بانہال ریل خدمات کو مکمل طور بند رکھا ہے ۔اس دوران وادی کے کسی بھی علاقے سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے جبکہ پولیس کی جانب سے موصولہ جناکری کے مطابق وادی میں ہڑتال کے دوران حالات بلکل پر امن رہے ۔ خیال رہے وادی کشمیر میں پولیس نے سنیچر کی رات کو شبانہ چھاپو کے دوران جماعت اسلامی کے پروفیسر حمید فیاض اور لبریشن فرنٹ سے وابستہ لیڈران اور کارکنان کے150سے زیادہ افراد کو گرفتار کر کے تھانوں میں بند رکھا ہے ۔
جس پر سیاسی اور سماجی حلقوں نے شدید ناراض گی کا اظہار کیا۔جبکہ مشترکہ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے فرنٹ چیرمین اور جماعت اسلامی کے لیڈران اورارکان کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے حکمرانوں کی بوکھلاہٹ سے تعبیر کیا ہے۔قائدین نے اندھا دھند گرفتاریوں، ظلم و تشدد، شبانہ چھاپوں، ہراسانیوں اور35A کیخلاف رچائی جا رہی سازشوں کے ردعمل میں 24 فروری بروز اتوار کو مکمل احتجاجی ہڑتال کی عوام سے اپیل کی تھی ۔جس دوران اتوار کو قیادت کی کال پر ہی مکمل ہڑتال سے وادی میں ہو کا آلم رہا۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
