تازہ ترین
جماعت پر پابندی بھارتی حکمرانوں کی بوکھلاہٹ اور بیمار ذہنیت کا کھلا ثبوت : حریت (گ)
خبراردو:
حیدرپورہ میں حریت اکائیوں کے سربراہوں یا ان کے نمائندوں بشمول امیرِ حمزہ شاہ، مولوی بشیر عرفانی، سید محمد شفیع، محمد رفیق اویسی، محمد مقبول ماگامی، امتیاز احمد شاہ، رمیز راجہ، شکیل احمد بٹ، محمد امین بٹ، عمران احمد بٹ کے علاوہ سینکڑوں کارکنوں، عام نوجوانوں اور بزرگوں نے شرکت کی اور بڈگام میں آغا سید عقیل موسوی کی قیادت میں احتجاجی جلوس نکالا گیا، جبکہ اس جلوس کی قیادت آغا سید حسن الموصوی الصفوی کرنے والے تھے، مگر پولیس نے ان کو آج علی الصبح اپنے گھر میں نظربند کردیا۔ اس موقع پر حریت قائدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے حکمران یہاں کے عوام کی مبنی برحق جدوجہد کو کمزور کرنے کے لیے تمام اخلاقی اور انسانی ضابطوں کو بالائے طاق رکھ کر یہاں کے نہتے عوام کے خلاف برسرِ جنگ ہوگئی ہے۔ انہوں نے آزادی پسند راہنما راہنما محمد یٰسین ملک سمیت دوسرے راہنماؤں کو بدنام زمانہ قانون PSAکے تحت گرفتار کرنے کی کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے حکمرانوں کو یہاں کی آزادی پسند قیادت سے اس قدر خوف طاری ہے کہ وہ ان کے ساتھ جمہوری طور مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں کرپا رہا ہے، اسی لیے وہ یہاں کی آزادی پسندوں کو جیلوں میں بھر کر اپنی نام نہاد جمہوریت کو بے نقاب کررہا ہے۔
حریت راہنماؤں نے جماعت اسلامی جموں کشمیر کو غیر قانونی قرار دے کر اس پر پابندی عائد کرنے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جماعت کے دفاتر کو سربمہر کرکے اُن کے قائدین اور کارکنوں کو ریاست سے باہر جیلوں میں منتقل کرکے بھارت کی طاقتیں اُس بوکھلاہٹ اور بیمار ذہنیت کا کھلا ثبوت فراہم کرتی ہیں، جن کے ذریعے وہ یہاں کسی بھی حق پسند شخص کو برداشت کرنے کا مادہ کھو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلاحی اور دینی اداروں پر شکنجہ کسنے سے بھارتی حکمران اپنے لیے صرف نفرت کے بیچ بورہے ہیں اور ان مذموم حربوں سے یہاں کی اکثریت کو ایک واضح اور غیر مبہم پیغام مل رہا ہے کہ غاصب اور قابض طاقتوں کا ہر جگہ مزاج یکساں ہوتا ہے اور وہ کبھی بھی اخلاقی، جمہوری اور انسانی قدروں کو خاطر میں نہیں لاتا ہے۔
حریت قائدین نے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کے مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرنے کے لیے بھارت ہماری حقِ خودارادیت کی تحریک کو کمزور کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر عمل کرنے کی ناکام کوششوں میں لگا ہوا ہے، جس کے لیے سب سے پہلے بھارتی آئین کے علاوہ ریاست جموں کشمیر کے آئین میں ان تمام رُکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے دفعہ 35A کو منسوخ کرنے کے لیے سپریم کورٹ کو استعمال میں لایا جارہا ہے۔ احتجاجی مظاہرہ میں شریک قائدینِ حریت نے اس موقع پر اس عہد کا اعادہ کیا کہ بھارت کی طرف سے یہاں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرکے اِسے ایک ہندو راشٹریہ کے زیرِ تسلط لائے جانے کے مذموم ہتھکنڈوں کو خاک میں ملانے کے لیے کوئی بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔
حریت راہنماؤں نے NIAکی طرف سے قیادت، ان کے رشتہ داروں اور یہاں کے عام لوگوں کے گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کارروائیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ کشمیری قوم کو ہراساں کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے، لیکن ایسے حربوں سے یہاں کے لوگ اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔
حریت قائدین نے غاصب طاقتوں کی طرف سے انتہا درجے کی اس بربریت اور جبر کے خلاف پوری قوم کو صف آراء ہونے کی دردمندانہ اپیل کرتے کہا کہ اگر اس ظلم اور اپنے بنیادی حقوق پر اس طرح کا شب وخون ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنے کی روایت قائم کی گئی تو وہ دن دور نہیں جب یہاں کی پوری آبادی کو اسرائیلی طرز پر اپنی ہی بستیوں سے خالی کرکے یہاں غیر ریاستی لوگوں کو بسانے کا عمل شروع کیا جائے گا اور اُس وقت ہم چاہتے ہوئے بھی اس کے خلاف کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
