تازہ ترین
مرکز کاجماعت اسلامی کے سوشل میڈیا پر تنظیم سے متعلق میڈیا اکاونٹس بند کرنے کا منصوبہ
خبراردو:
مرکزی سرکار کی طرف سے 28فروری 2019کی شام کو عسکریت کے تئیں نرم گوشہ رکھنے اور ریاست میں علیحدگی پسند رجحان کو پروان چڑھانے کے نتیجے میں غیر قانونی قرار دی گئی جماعت اسلامی جموں وکشمیر کے خلاف مرکزی سرکار آنے والے دنوں میں سوشل میڈیا پر تنظیم سے متعلق مواد پر پابندی عائد کرنے جارہی ہے۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ جس میں جماعت کو غیر قانونی قرار دئے جانے اور اس پر اگلے 5برسوں تک پابندی عائد کرنے کے بعد وادی میں جماعت کے چوٹی کے لیڈران جن میں امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر عبدالحمید فیاض ، نائب امیر جماعت احمد اللہ پرے مکی اور ترجمان ایڈوکیٹ زاہد علی شامل ہیں کے علاوہ ضلعی و تحصیلی سطح پر حکومتی کریک ڈاؤن میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ۔کریک ڈاؤن کے دوران جماعت کے مرکزی دفتر واقع بتہ مالو سمیت تمام اضلاع و تحصیلات میں تنظیم کے دفاتر کو پولیس نے سیل کرنے کے لیے مختلف نوعیت کی جائیداد کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
اس دوران معلوم ہوا ہے کہ مرکزی سرکار آنے والے دنوں میں سوشل میڈیا پر پارٹی کے کاکنوں کی جانب سے چلائی جارہی ملک مخالف مہم پرلگام کسنے کے لیے سوشل میڈیا سائٹس پر تنظیم کے اکاؤنٹس کو پابندی کے زمرے میں لاسکتی ہے۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مرکزی سرکارتنظیم کی جانب سے سوشل میڈیا کیک استعمال پر روک لگانے کے لیے آنے والے دنوں میں سوشل میڈیا پر بھی کریک ڈاؤن عمل میں لاسکتی ہے جس کے نتیجے میں جماعت کے نام سے چلائے جارہے مختلف اکاؤنٹس کو بند کیا جائیگا۔ذرائع کا ماننا ہے کہ مرکزی سرکار کی طرف سے جماعت پر پابندی عائد کرنے کے باوجود سوشل میڈیا کو استعمال کیا جارہا ہے جہاں سے عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کیساتھ ساتھ جماعتی نظریہ کو پھیلانے کے لیے کوشش کی جارہی ہے۔خفیہ ایجنسیوں سے ملی تفصیلات کے مطابق مرکزی سرکارآنے والے دنوں میں امن و قانون پر مامور سیکورٹی ایجنسیوں کو احکامات جاری کرسکتی ہیں جس کے نتیجے میں جماعت اسلامی جموں وکشمیر کی آفیشل ویب سائٹ کو بھی سرکار اپنی تحویل میں لے سکتی ہے۔
خفیہ ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی سرکار جماعت کی آئیڈیولوجی پر قابو پانے کے لیے سوشل میڈیا جیسے فیس بک، وٹس اپ اور ٹویٹر پر چلائے جارہے جماعت کے نام مختلف اکاؤنٹس کو بند کرسکتی ہے۔سرکاری ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جہاں ریاستی ٹریبونل جماعت پر مرکزی سرکار کی طرف سے لگائی گئی پابندی پر مزید کارروائی کرے گی وہیں جماعت اسلامی اس دوران سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرتے ہوئے حکومت مخالف بیانیہ پھیلانے میں پیش پیش ہے۔انہوں نے بتایا کہ ٹویٹر پر چلائے جارہے جماعت کے اکاؤنٹ کے ساتھ 5800سے زائد افراد جڑے ہوئے ہیں اور اس دوران جمعرات کی دوپہر مذکورہ اکاؤنٹ پر تنظیم کے سربمہر کئے گئے مرکزی دفتر کی تصویر وائرل کی گئی جس دوران ٹویٹ کرتے ہوئے یوں لکھا گیا ’’جماعت نے پہلے ہی اپنی پرامن سرگرمیوں اور مذہبی آزادی پر حکومتی قدغن کو عدالت میں چلینج کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘‘۔ادھر سماجی رابطہ سائٹ فیس بک پر چلائے جارہے جماعت کے پیج پر حکومتی فیصلے کو ’’غیر قانونی‘‘ اور ’’غیر جمہوری‘‘ قرار دیا گیا ہے۔مذکورہ فیس بک پرنمایان ہے کہ پیج کو جنوری 2013سے شروع کیا گیا ہے۔مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے پابندی سے متعلق جاری آرڈر میں اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ جماعت کے حریت کانفرنس کے ساتھ قریبی مراسم ہے جو اس کو غیرقانونی قرار دینے کے لیے کافی ہے۔
مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حریت کانفرنس علیحدگی پسند رجحان اور دہشت گردانہ سوچ کا مرکب ہے۔ حریت کانفرنس ریاست جموں وکشمیر میں پاکستان کی طر ف سے درپردہ دہشت گردی کی مکمل حمایت کرتی ہے اور حریت کانفرنس کے پیچھے جماعت اسلامی کی ذہنیت کارفرما ہے۔مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری آرڈر میں بتایا گیا ہے کہ جماعت اسلامی جموں وکشمیر کا جماعت اسلامی ہند کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے۔ ’’جماعت اسلامی جموں وکشمیرنے 1953میں اپنا علیحدہ دستور تشکیل دے کر جماعت اسلامی ہند سے علیحدگی اختیار کی۔ جماعت ریاست جموں وکشمیر میں انتہا پسندی اور علیحدگی پسند رجحان کو بڑھانے میں کلیدی طور پر ذمہ دارہے۔ جماعت نے حز ب المجاہدین کو تشکیل دینے میں بھی اہم رول ادا کیا‘‘۔خفیہ ذرائع کا ماننا ہے کہ جماعت اسلامی جموں وکشمیر حزب المجاہدین کو ہر ممکن معاونت بشمول افرادی قوت، مالی معاونت، جنگی امداد فراہم کررہی ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کے مطابق جماعت کا جنوبی کشمیر میں مضبوط نیٹ ورک موجود ہے جہاں پر سال 2016کے مابعد جنگجوئیت نے سراُٹھانا شروع کردیا ہے۔
مرکزی وزارت داخلہ کا ماننا ہے کہ ’’جماعت سے وابستہ بڑی تعداد حزب المجاہدین اور دیگرجنگجو گروپوں کی کھلے طور پر مدد فراہم کررہے ہیں، اس سے وابستہ افراد مختلف الٹ پلٹ کارروائیوں میں ملوث ہیں جن میں جنگجوؤں کو کمین گاہیں فراہم کرنا بھی شامل ہیں‘‘۔ خیال رہے جماعت پر اس سے قبل بھی دومرتبہ پابندی عائد کی جاچکی ہے جن میں سال 1975میں 2 برس کے لیے جبکہ 1990میں 3برس کے لیے اس کی سرگرمیوں پر حکومتی قدغن عائد کی گئی۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
