تازہ ترین
سیکورٹی وجوہات کی بناء پر اسمبلی اور پارلیمانی چنائو بیک وقت نہیں کرائے جاسکتے:شیلندرا کمار
خبراردو:
ریاست چیف الیکٹورل آفیسر شیلندرکابرانے کہا ہے کہ ریاست میں سیکورٹی وجوہات کی بناء پر اسمبلی اور پارلیمانی چنائو بیک وقت کرائے نہیں جاسکتے ہیں۔ چیف الیکٹورل افسر شیلندر کمارنے ایک پریس کانفرنس میں بتایاکہ پوری ریاست میں انتخابات ابتدائی پانچ مرحلوں میں ہوں گے اور حلقہ انتخاب اننت ناگ میں ووٹنگ تیسرے ، چوتھے اور پانچویں مرحلے میں ہوگی ۔انہوںنے بتایاکہ پہلے مرحلے میں دو حلقوں کیلئے نوٹیفکیشن 18مارچ کو جاری کی جائے گی ۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پہلے مرحلے میں 11اپریل کو جموں اور بارہمولہ میں چنائوہوگا۔اسی طرح سے دوسرے مرحلے میں 18اپریل کو سرینگر وادھمپور حلقوں میں پولنگ ہوگی اور تیسرے و چوتھے مرحلے میں 23اور29اپریل کو اننت ناگ میں ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ پانچویں اور آخری مرحلے میں اننت ناگ اور لداخ میں 6مئی کو پولنگ ہوگی ۔چیف الیکٹورل افسر کے مطابق ایک حلقہ میں کئی مرتبہ پولنگ قانون کے مطابق ممکن ہے ۔
انہوںنے بتایاکہ چنائو کیلئے تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور ان کی طرف سے رائے دہندگان کو پولنگ بوتھ پر ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔انہوںنے کہاکہ تمام متعلقہ فریقین مستعد ہیں اور تیاریاں مکمل ہیں ۔انہوںنے مزید بتایاکہ الیکشن کے اعلان کے ساتھ ہی ضابطہ اخلاق کا نفاذ ہوگیا اور انتظامیہ کی طرف سے اس کی خلاف ورزی پر نظر رکھنے کیلئے کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں ۔
شیلندر کمار نے کہا ہے کہ سیکورٹی وجوہات کی بناپر ریاست میں اسمبلی اور پارلیمانی چنائو بیک وقت نہیں کروائے جاسکتے ۔ شیلندر نے کہا’’پارلیمانی چنائو کے برعکس اسمبلی الیکشن میں زیادہ سیکورٹی انتظامات کی ضرورت ہوتی ہے اور موجودہ صورتحال دونوں الیکشن ایک ساتھ کروانے کیلئے موزوں نہیں ‘‘۔الیکشن کمیشن آف انڈیا کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’ریاست میں چھ پارلیمانی نشستیں ہیں، اگر ہمارے پاس ہر ایک نشست کیلئے 10امیدوار ہوں گے تو کل امیدوار 60ہوں گے جنہیں ہمیں سیکورٹی فراہم کرنی ہے لیکن اسمبلی میں ہمارے پاس ہزاروں کی تعداد میں امیدوار ہوتے ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ ہر ایک امیدوار کو سیکورٹی فراہم کی جاسکے ‘‘۔
ان کاکہناتھاکہ اگر دونوں الیکشن بیک وقت ہوتے ہیں تو اس کیلئے زیادہ سیکورٹی کی ضرورت ہوتی ہے اور ریاستی اسمبلی کی 87نشستیں ہیں اورسرسری جائزے کے مطابق 900سے زائد امیدوار ہوتے ہیں جنہیں سیکورٹی کی ضرورت ہوتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ خاص طور پر وادی میں ان امیدواروں کو دونوں جگہ ایک تو ان کی رہائش اور دوسرے مہم کی جگہ سیکورٹی درکار ہوتی ہے ۔شیلندر کاکہناتھا’’اسمبلی چنائو میں مہم چلانے کے علاقے وسیع ہوتے ہیں ، امیدوار ہر جگہ اور حلقہ انتخاب کے دور افتادہ علاقوں تک جانے کی کوشش کرتے ہیں ،اورپولیس پر سیکورٹی فراہم کرنے کا دبائو رہتاہے ‘‘۔چیف الیکٹورل افسر نے کہاکہ اگر دونوں الیکشن بیک وقت کروائے جاتے تو سیکورٹی کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
