تازہ ترین
قلم دوات جماعت ریاست کے جھنڈے کو نہیں بچا پائی، خصوصی پوزیشن کی کیا رکھوالی کریگی؟: عمر عبداللہ
خبراردو:
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیرا علیٰ عمر عبداللہ نے شمالی کشمیر کے بارہمولہ خواجہ باغ میں الیکشن ریلی سے خطاب کے دوران بھاجپا اور پی ڈی پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیوں نے ملک اور ریاست میں تباہی اور بربادی مچادی ہے جس کا خمیازہ صرف عوام کو بھگتنا پڑرہا ہے۔عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ پچھلے 5سال کے دوران مرکز میں بھاجپا کی حکومت نے ملک کا بیڑا غرق کیا جبکہ یہاں ریاست میں پی ڈی پی کیساتھ مل کر تباہی اور بربادی مچادی، جس کا خمیازہ آج بھی یہاں کے لوگ بھگت رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے زندگی میں پہلی بار دیکھا کہ یوم پاکستان کے موقعے پر نئی دلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کے باہر پولیس اہلکار لوگوں کو باہر روک رہے تھے اور انہیں اندر نہ جانے کیلئے کہہ رہے تھے۔ یہ سب کچھ اُنہی لوگوں کی ایما پر ہورہا تھا جو چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہونے کے بجائے اور زیادہ بگڑ جائیں۔‘‘انہوں نے کہاکہ ’’جب دونوں ممالک کے درمیان رشتے بگڑجاتے ہیں تو اس کا سب سے زیادہ خمیازہ جموں وکشمیر کے لوگ بھگتے ہیں۔
جو لوگ ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر جنگ کی باتیں کرتے ہیں اُن کو خمیازہ نہیں بھگتنا پڑتا، اُن کے گھروں کے اوپر اُس ملک کے جہاز نہیں جاتے، وہ سرحد کے قریب نہیں رہتے، گولہ باری سے اُن کے گھر تباہ نہیں ہوتے، جب جنگ کی بات آتی ہے اُس کا اثر ہم پر پڑتا ہے،جبھی تو میں پوچھتا ہوں کہ جناب پچھلے 5سال میں ہم نے کیا کھویا کیا پایا؟۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’ہمارے ہائے وے اب ہمارے نہیں رہے، سرینگر سے بارہمولہ زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ لگتا تھا آج مجھے 2گھنٹے لگے، جگہ جگہ ہائے وے بند کیا جاتا ہے، گاڑیوں کو آگے جانے کی اجازت نہیں۔ میں 6سال اس ریاست کا وزیر اعلیٰ رہا، مجھے اچھی طرح یاد ہے ، شروع شروع میں فوج کی گاڑی پر فوجی بندوق لیکر گاڑیاں روکنے کیلئے کھڑا ہوتھا، آہستہ آہستہ ہم نے حالات ٹھیک کئے،پھر بندوق کے بجائے اُن کے ہاتھوں میں لاٹھیاں ہوا کرتی تھیں اور وہ ڈنڈے دکھا کر گاڑیوں کو روکتے تھے، ہم نے یہ معاملہ بھی کور کمانڈر کیساتھ اُٹھایا اور کہاکہ ’’یہ ٹھیک نہیں لگتا آپ کے لوگ دوسری گاڑیوں پر ڈنڈے برساتے ہیں، اس سے لوگ ناراض ہوجاتے ہیں، لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے‘‘، اُن کے ہاتھوں سے پھر وہ ڈنڈے بھی لئے گئے، وہ پھر اشاروں سے گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کرتے تھے۔2014تک حالات اتنے سازگار ہوگئے تھے کہ دوسری گاڑیوں کو روکنے کیلئے فوج کی گاڑیوں پر فوجی ہوتا ہی نہیں تھا۔
آج 2019کا حال دیکھئے ہر جگہ بندوقیں لیکر گاڑیوں کو روکنے کیلئے فوج اور فورسز کے اہلکار ہوتے ہیں۔عام گاڑیوں کو فورسز کی گاڑیوں سے 50میٹر دور رکھا جاتا ہے، یہی حصولیابی ہے بھاجپا اور پی ڈی پی کی حکومت کی‘‘۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ میں حیران ہوتا ہوں جب محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ پی ڈی پی والے خصوصی پوزیشن کو بچائیں گے، ’’محبوبہ جی !گذشتہ4سال کے دوران آپ نے تو خصوصی پوزیشن کی دھجیاں اُڑا دیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ ’’پی ڈی پی حکومت نے یہاں جی ایس ٹی کا اطلاق عمل میں لایا ،ہم نے محبوبہ مفتی کو روکنے کی بہت کوشش کی ، ہم اس وقت کہا میڈم یہ جی ایس ٹی مت لگائے، اس سے اس ریاست کو نقصان ہوگا، نہ صرف مہنگائی بڑھے گی بلکہ دفعہ370کو بھی زک پہنچے گا، لیکن موصوفہ نے ایک نہیں مانی اور یہ مرکزی قانون یہاں لاکر ہی دم لیا‘‘۔ موبائل ریچارج کی مثال پیش کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ پہلے ہمیں 100روپے کے ریچارج پر برابر 100روپے ملتے ہیں کیونکہ یہاں موبائل پر کوئی ٹیکس نہیں تھا لیکن جی ایس ٹی لاگو ہونے کے بعد یہاں 100روپے کے ریچارج پر 18روپے کٹتے ہیں، اُس میں سے 9 روپے مودی صاحب کی حکومت کی تجوری میں جاتے ہیں اور 9روپے گورنر انتظامیہ کی تجوری میں چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح باقی چیزوں پر بھی بے تحاشہ ٹیکس لگا اور مہنگائی بڑھی، ٹورسٹ ٹیکسیوں ، ہوٹلوں ، کھانے پینے کے سامان، ملبوسات، بچوں کی کتابوں، ہینڈی کرافٹس، قالینوں نیز ہر ایک چیز پر ٹیکس عائد کیا گیا۔عمر عبداللہ نے محبوبہ مفتی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ خصوصی پوزیشن کیا رکھوالی کریں گی؟ آپ تو ہمارے جھنڈے کو نہیں بچا پائے، آپ کی حکومت آتے ہی ایک حکمنامہ نکلا کہ ہر سرکاری ادارے پر ریاست کا جھنڈا ہونا چاہئے لیکن 2دن کے اندر اندر اُس آرڈر کو کالعدم کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ’’میرے ساتھی بشارت بخاری نے بحیثیت وزیر قانون محبوبہ مفتی صاحبہ کو ایک فائل سونپی اور جس میں نقلی سٹیٹ سبجیکٹ کو منسوخ کرنے کی سفارش کی گئی تھی، محبوبہ مفتی بتائیں کہ انہوں نے اُس فائل کا کیا کیا؟ محبوبہ جی اپنی حکومت اور اپنی جماعت کو بچانے کیلئے آپ نے یہ فائل غائب کردی کیونکہ آپ بھاجپا کو ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔آپ خصوصی پوزیشن کو بچاؤ گی؟‘‘۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے مزید کہا کہ کیا دوبارہ ہمیں 5سال کیلئے وہی حکومت چاہئے جو ہمارے جذبات کی ترجمانی نہ کرے، جو ہمارے جذبات کی رکھوالی نہ کرے، جو جموں وکشمیر کے مسئلے کی بات ہی نہ کرے،جو ہمیں ڈرائے اور دھمکائے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے کتنے نوجوان مارے گئے، کتنے نوجوان ملی ٹنٹ بنے۔ گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ یہاں تک کہ نوکری پیشہ نوجوانوں نے مجبور ہوکر بندوق اُٹھائی،محبوبہ جی !جن نوجوانوں کو ہم روشنی کی کرن دکھانا چاہتے تھے اُن کو آپ نے قبروں میں لیٹا دیا، پچھلے 5سال کا حساب کتاب دیکھئے، ہم نے کیا کھویا کیا پایا۔‘‘ عمر عبداللہ نے کہا کہ قلم دوات اور سیب کے نشان والے بھاجپا کے قریبی ہیں اور گذشتہ4سال میں ہوئی تباہی اور برداری میں برابر شریک ہیں،یہی لوگ آج طرح طرح لبا س اور مختلف رنگ اور روپ بدل کے آپ سے ووٹ مانگیں گے، کوئی مذہب کے نام پر، کوئی ذات کے نام پر ،کوئی برادری کے نام پے اور کوئی زبان کے نام پر ، ایسے لوگوں کو یکسر مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مذہب، ذات ، زبان اور برداری کے نام پر وو ٹ نہیں مانگتے، اُمیدوار کے نام پر ووٹ مانگے ہیں، جو سب سے بہترین اُمیدوار ہونگے۔ این سی نائب صدر نے کہا کہ حالات کو سازگار بنانے اور سیاحت کو دوام بخشنے کیلئے ہماری سابق حکومت نے کام کیاتھا ، نئے نئے مقامات پر سیاحت کے نقشے پر لایا ، تعمیر و ترقی کو دور دورہ تھا لیکن اس سب پر پی ڈی پی بھاجپا حکومت نے پانی پھیر دیا۔ ٹیئر گیس، پیلٹ گن، تباہی اور بربادی کے سوا ہم نے گذشتہ4سال میں کچھ نہیں دیکھا،آج یہ لوگ مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں، آج ان کو اچانک ہمدردی یاد آگئی ہیں ، ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ گذشتہ4سال میں ہم نے کس تباہی اور کن حالات کا سامنا کیا۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق عمر عبداللہ کاکہنا تھا کہ کیا ہم اگلے 5سال کیلئے بھی یہی دیکھنا چاہتے ہیں؟ کیا ہم دوبارہ 5سال کیلئے ان سازشوں کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ہم چاہتے ہیں کہ اگلے 5سال بھی ریاست کے باہر کشمیریوں کو نشانہ بنایا جائے؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے بچے جو بیرونِ ریاست پڑھ رہے تھے بی جے پی اور آر ایس ایس کی بدولت ان کو ایک ایک کو وہاں سے بگھایا گیا، ہم نے 10دن انتظار کیا کہ کب وزیر اعظم صاحب ہمارے حق کی بات کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی حکومت نے ہمارے بچوں کو نہیں بچایا۔ پنجاب ،ہریانہ ، دلی اور دیگر ریاستوں میں ہمارے سردار بھائیوں نے ہمارے کشمیر کے بچوں کو بچایا،میں شکر گزار ہوں سکھ برادری کا ، جہاں بھی اُن کے گورودوارے اور ادارے تھے وہاں انہوں نے کشمیریوں کی حفاظت کی۔جو کام مودی کو کرنا تھا وہ ہمارے سردار بھائیوں نے کیا۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
