تازہ ترین
پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس ووٹ کی خاطر علیحدگی پسندانہ لہجہ اپنارہے ہیں:رام مادھو
خبراردو:
بھارتیہ جنتاپارٹی کے قومی جنرل سیکرٹری رام مادھونے بدھ کے روزسری نگرمیں یہ دعویٰ کردیاکہ اب پی ڈی پی کے برسراقتدارآنے کے دن چلے گئے ۔اُنہوں نے کہاکہ بھاجپاکاپی ڈی پی کیساتھ اتحادکرکے حکومت بناناایک وقتی مجبوری تھی کیونکہ گزشتہ اسمبلی انتخابات کے بعدکچھ ایسا سیاسی منظرنامہ سامنے آیاتھاکہ ایساکرناناگزیربن چکاتھا۔
یہاں ایک ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رام مادھوکاکہناتھاکہ ہم نے پی ڈی پی کیساتھ ملکرمخلوط سرکاربنائی تووہ وقت کاتقاضایااُبھرنے والے سیاسی منظرنامے کی ضرورت تھی ،لیکن بقول رام مادھوجب ہمیں لگاکہ محبوبہ مفتی کی سربراہی والی سرکارصحیح ڈھنگ سے کام نہیں کررہی ہے توبھاجپانے پی ڈی پی کودی گئی حمایت واپس لے لی ۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی کے پی ڈی پی سے حمایت واپس لینے یعنی محبوبہ مفتی کی سرکارگرنے کے بعدجموں وکشمیرکے حالات میں کافی بہتری آئی ۔ اس سوال کے جواب میں کہ پی ڈی پی کے سینئرلیڈرمظفرحسین بیگ نے جماعت اسلامی اورلبریشن فرنٹ کوپابندی کیخلاف قانونی مددفراہم کرنے کی پیشکش کی ہے ،بھاجپاکے قومی جنرل سیکرٹری نے نامہ نگاروں سے مخاطب ہوکرسوالیہ اندازمیں کہاکہ آپ دیکھیں مظفرحسین بیگ نے حالیہ وقت میں کیاکیابیانات دئیے ہیں ۔
اس سوال کے جواب میں کہ محبوبہ مفتی کے بقول اگراُنکی جماعت پھربرسراقتدارآئے توجماعت اسلامی پرعائدکردہ پابندی کوواپس لیاجائے گا۔رام مادھونے طنزیہ اندازمیں کہاکہ پی ڈی پی کے برسراقتدارآنے کے دن چلے گئے۔انہوں نے کہاکہ صرف پی ڈی پی ہی نہیں بلکہ نیشنل کانفرنس کے لیڈربھی کشمیر میں علیحدگی پسندانہ لب ولہجہ اپناتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کے ووٹ بٹورسکیں ۔بھاجپاجنرل سیکرٹری نے نیشنل کانفرنس کوہدف تنقیدبناتے ہوئے کہاکہ اس جماعت کے لیڈرپاکستان اورعلیحدگی پسندوں کی حمایت میں بیانات دیکرپارلیمانی انتخابات میں ووٹ بٹورناچاہتے ہیں لیکن میں کشمیرکے لوگوں سے کہتاہوں کہ وہ یہ دیکھیں کہ کون یہاں ملک کادوست ہے اورکون نہیں ۔یہاں کون امن ،ترقی اورخوشحالی کیلئے کوشاں ہے اورکون یہاں علیحدگی پسندی کوجاری رکھناچاہتاہے۔انہوں نے الزام لگایاکہ این سی اورپی ڈی پی دونوں اپنے سیاسی فائدے کی خاطرکشمیرمیں لوگوں کوعلیحدگی پسندی کی جانب راغب کررہی ہیں اوریہ دونوں جماعتیں یہاں علیحدگی پسندی کی حوصلہ افزائی کررہی ہیں۔
رام مادھونے این سی کے اُمیدواربرائے بارہمولہ پارلیمانی حلقہ محمداکبرلون کیخلاف ایف آئی آریامقدمہ درج کرنے کامطالبہ کیا ۔ایک اورسوال کے جواب میں رام مادھونے کہاکہ اُنکی جماعت بی جے پی جموں وکشمیر میں جلدازجلدیافوری اسمبلی انتخابات کرانے کے حق میں ہے ۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی نے مرکزی الیکشن کمیشن سے کہاہے کہ وہ جموں وکشمیرمیں جتنی جلدی ممکن ہوسکے ،اسمبلی انتخابات کرائے ۔بھاجپاکے قومی جنرل سیکرٹری کاریاست کوحاصل خصوصی پوزیشن کے تناظرمیں یہ کہناتھاکہ بھاجپاکادفعہ370اور35Aکے بارے میں جواسٹینڈیاموقف تھا،وہ آج بھی وہی ہے اوراس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔نیشنل ،کانگریس انتخابی تال میل کے بارے میں رام مادھونے کہاکہ دونوں پارٹیوں کاآپس میں پارلیمانی سیٹیں بانٹناایک ڈرامہ ہے ۔
انہوں نے اس یقین کااظہارکیاکہ بھاجپاجموں پونچھ اوراودھم پور کی پارلیمانی سیٹیں برقراررکھنے کیساتھ ساتھ لداخ کی لوک سبھاسیٹ بھی جیتے گی اورکشمیرکے تینوں پارلیمانی حلقوں میں بھی پارٹی اُمیداراچھی کارکردگی کامظاہرہ کریں گے ۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
