تازہ ترین
شاہراہ بند کا پہلا دن، این سی ، پی ڈی پی، پی سی کا احتجاج: مکمل رپورٹ
خبراردو:
حکومت کی طرف سے سرینگر جموں شاہراہ پر فورسز کانوائے کو جنگجوؤں کے حملوں سے محفوظ رکھنے اور فورسز اہلکاروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کی خاطر لیے گئے تازہ فیصلے جس میں شاہراہ کو ہفتے میں 2روز تک عام لوگوں کی نقل و حمل پرقدغن عائد کرنا شامل ہیں، کے پہلے روز بارہمولہ سے اُدھم پور تک 300کلومیٹر لمبی شاہراہ پر اتوار کو مکمل ہوکا عالم چھایا رہا جس دوران یہاں کسی بھی عام شہری کو فورسز اہلکاروں نے پر مارنے کی اجازت نہیں دی۔ معلوم ہوا کہ بارہمولہ، پٹن، لاوے پورہ، ایچ ایم ٹی، پانتھ چوک، پانپور، لیت پورہ، بارسو، اونتی پورہ، چرسو، سنگم، بجبہارہ، اننت ناگ، قاضی گنڈ ، بانہال، رام بن پتنی ٹاپ، اُدھم پور وغیرہ شامل ہیں میں انتظامیہ نے فورسز کی اضافی اور خصوصی دستوں کو تعینات کیا تھا جنہوں نے دوران شب ہی شاہراہ سے ملنے والے لنک روٹوں پر خار دار تاریں نصب کرنے کیساتھ ساتھ یہاں فورسز کے خصوصی دستوں کو الرٹ رکھا تھا۔بارہمولہ سے قاضی گنڈ تک بالخصوص شاہراہ سے لگنے والے علاقوں کو ملانے والی رابطہ سڑکوں پر فورسز نے سخت بندشیں عائد کررکھی تھیں جس کے نتیجے میں مذکورہ علاقوں سے کسی بھی شخص کو شاہراہ کی جانب آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ عینی شاہدین نے کشمیرنیوز سروس کو بتایا کہ اتوار کی صبح جونہی لوگ اپنی اپنی بستیوں سے معمول کے مطابق اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے گھروں سے باہر نکلے تو وہ اُس وقت حیران ہوئے جب یہاں سرینگر جموں شاہراہ سے ملنے والے لنک روٹوں پر فورسز نے خار دار تاروں کیساتھ ساتھ ٹین کی چادریں نصب کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ لوگوں نے اگر چہ صبح سویرے دودھ اور روٹی کی خریداری کے لیے یہاں موجود فورسز اہلکاروں سے منت سماجت کی تاہم اہلکاروں نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ بعض مقامات سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شاہراہ پر تعینات فورسز اہلکاروں نے لوگوں کی نقل و حمل کو شاہراہ سے دور رکھنے کے لیے ڈھنڈوں اور لاٹھیوں کا بھی استعمال کیا جس کے نتیجے میں اننت ناگ، پلوامہ اور بارہمولہ کے کئی علاقوں میں دن بھر افرا تفری کا ماحول گرم رہا۔ موصولہ اطلاعات کے شاہراہ پر سیولین ٹریفک کی نقل وحرکت پر پابندی کے پہلے روز شمال و جنوب میں بیماروں، مریضوں اور تیمارداروں کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ شمالی کشمیر کے کنسپورہ، پٹن اور چھور نامی علاقوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ضرورت مند افراد بالخصوص بیماروں اور تیمار داروں کو سرینگر کی جانب پیش قدمی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جس کے نتیجے میں کئی بیماروں کو سرراہ درد سے کراہتے ہوئے پایا گیا۔اس دوران جنوبی کشمیر کے کولگام، اننت ناگ اور پلوامہ کے کئی علاقوں سے لوگوں نے بتایا کہ اتوار کے سبب انہیں بذریعہ شاہراہ مختلف علاقوں کا سفر کرنا تھا تاہم حکومت کے تازہ فیصلے کے تنیجے میں انہیں اپنی تمام مشغولیات کو مؤخر کرنا پڑا جس کے نتیجے میں اُن کا قیمتی وقت ضائع ہوا۔
لوگوں نے بتایا کہ وادی کشمیر میں شادیوں کا موسم شروع ہوا تھا جس دوران بیشتر شادیاں سنیچر اور اتوار کو ہی طے پاتی ہے تاہم حکومت کے تازہ فیصلے نے بہت سارے خاندانوں کو مایوس کردیا ہے کیوں کہ اپابندی کے نتیجے میں لوگوں کا اتوار کے روز شاہراہ پر سفر کرنا ناممکن ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر حکومت فورسز اہلکاروں کی سلامتی سے متعلق واقعی فکر مند دکھائی دے رہی ہے تو اسے عام لوگوں کو مزید تکلیف دینے کے بجائے فورسز اہلکاروں کو متبادل کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا چاہیے۔ انہوں نے بتایاعام لوگوں کو تکلیف دہ صورتحال سے گزارنے کے بجائے حکومت کو چاہیے کہ وہ دوران شب ریل سروس کی خدمات حاصل کرتے ہوئے فورسز اہلکاروں کو اپنے اپنے مقامات پر منتقل کریں۔ ادھر پابندی کے پہلے روز شاہراہ کو فورسز چھاونی میں تبدیل کیا گیا تھا جس دوران شمال و جنوب میں شاہراہ پر فوج، سی آر پی ایف اور دیگر فورسز اہلکاروں کو بندوقوں، لاٹھیوں اور ڈھنڈوں کے ساتھ تیاری کی حالت میں دیکھا گیا۔ اس دوران جہاں سیاسی و غیر سیاسی حلقوں کے علاوہ تجارتی انجمنوں نے سرکاری فیصلے کو پاگل پن ، انسانی المیے اور ظالمانہ ہتھکنڈے سے تعبیر کیا وہیں سماجی رابطہ سائٹوں پر لوگوں نے مذکورہ فیصلے کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور ریاست کے سابق وزیرا علیٰ عمر عبداللہ نے بارہمولہ سے اُدھم پور تک شاہراہ کو ہفتے میں دو روز تک عام لوگوں کی نقل و حمل کے لیے بند کئے جانے کے فیصلے کو پاگل پن قرار دیا ہے۔
سماجی رابطہ سائٹ ٹویٹر پر حکومتی فیصلے پر اپنے ردعمل کا ا ظہار کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے بتایا کہ ’’میں اُوری کی طرف چل رہا ہوں جس دوران میں نے اپنی آنکھوں سے حکومتی فیصلے کا مشاہدہ کیا ہے جس سے عام لوگوں کوعبور و مرور میں سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور یہ سب اس لیے کیوں کہ حکومت کی طرف سے ایک ایسا فیصلہ لیا گیا ہے جو پاگل پن پر مبنی ہے‘‘۔پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے شاہراہ پر عام لوگوں کی نقل و حمل پر حکومت کی طرف سے پابندی عائد کرنے کی کارروائی پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے لوگوں کو شاہراہ پر آکر کرفیو جیسی بندشیں توڑنے کی اپیل کی ۔محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ کشمیر کشمیریوں کا ہے اور یہاں کی سڑکیں کشمیریوں کی ہیں۔انہوں نے اس موقعے پر بتایا کہ ’’لوگوں کو شاہراہ پر چلنے کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت ہند کو ایسے ظالمانہ اور جابرانہ اقدامات سے گریز کرنا چاہیے، وہ کشمیر میں قابض طاقت نہیں ہے لیکن اس فیصلے کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیاجائیگا۔محبوبہ مفتی نے بتایا کہ میں اپنے لوگوں کا اس طرح تڑپتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی، میں نے شاہراہ پر متعدد مقامات پر ضرورت مند نوجوانوں اور بزرگوں کو پیدل سفر کرتے ہوئے دیکھا۔ محبوبہ مفتی نے بتایا کہ حکومتی فیصلہ کا مقابلہ کرنے کی خاطر پی ڈی پی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی، پی ڈی پی ان ظالمانہ ہتھکنڈوں کو ٹھنڈے پیٹ برداشت نہیں کریگی۔ادھر پی سی چیر مین اور سابق وزیر سجاد غنی لون نے سرینگر جموں شاہراہ کو عام لوگوں کی نقل و حمل کے لیے ہفتے میں دو روز تک مکمل طور پر بند رکھنے کے حکومتی فیصلے کو انسانی المیہ قرار دیا ہے۔سماجی رابطہ سائٹ ٹویٹر پر حکومتی فیصلے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ ’’شاہراہ پر پابندی اب انسانی المیے کی شکل اختیار کررہی ہے، ریاست بھر سے سینکڑوں لوگوں نے فون کالز کرتے ہوئے اپنے خدشات کا اظہار کیا ، لوگ سخت مشکلات میں ہیں اور روز مرہ کے معاملات کے نپٹارے کے لیے وہ خود کو بے یار و مددگارمحسوس کررہے ہیں۔ گورنر ستیہ پال ملک کو چاہیے کہ مذکورہ غیر انسانی حکم نامے کو فی الفور منسوخ کریں‘‘۔اس طرح سماجی رابطہ سائٹس پر مختلف لوگوں نے حکومتی فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے عام لوگوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ ایک سینئر صحافی نے سماجی رابطہ سائٹ پر تحریرکیا کہ ’’جو لوگ چناوی جلسوں میں شرکت کرنے کے لیے جارہے ہیں انہیں بھی شاہراہ پر سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے‘‘۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ’’الیکشن کے پیش نظر شاہراہ سے موصول ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز واقعی طور پر غور طلب ہیں، شمالی کشمیر سے تعلق رکھنے والے لوگ چناوی جلسوں میں شریک ہونا چاہتے ہیں تاہم انہیں شاہراہ پر موجود فورسز اہلکار آگے جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں‘‘۔ٹویٹر پر ایک اور سینئر صحافی جس نے شاہراہ سے متعلق ایک ویڈیو بھی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر اپلوڈ کیا، نے حکومتی فیصلے کو ’’نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن‘‘ یعنی دو مصیبتوں کے درمیان پھنس جانے سے تعبیر کیا ہے۔انہوں نے حکومتی فیصلے کو مضحکانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’پابندی اُن لوگوں کے لیے غیر سارکاری دوڑ کی مانند ہے جنہیں آج اس شاہراہ پرسفر کرکے اپنی اپنی منزلوں کو پہنچنا تھا، مجھے اپنے لوگوں کے درپیش مشکلات کا احساس ہے، عام لوگوں کے لیے بھی، جنہیں دو مصبیتوں کے درمیان پسا جارہا ہے۔ادھر شہر کی پریس کالونی میں بھی حکومتی فیصلے کے خلاف متعدد تجارتی اداروں نے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو منسوخ کرنے کی مانگ کی۔ احتجاج کرتے ہوئے تجار پیشہ افراد نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت کی طرف سے شاہراہ کو سیولین مومنٹ کے لیے بند کرنے سے 90فیصدی آبادی کو شہر آنے سے روکا گیا جس کے نتیجے میں شہر سرینگر کا کاروباربری طرح سے متاثر ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ خریداروں کے بغیر یہاں تجارتی اداروں کا کوئی مطلب نہیں ہے۔تجار نے بتایا کہ اتوار کو چونکہ شہر سرینگر کے گھونی کھن، ریذیڈنسی روڑ، ریگل چوک، بتہ مالو، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، لل دید، لعل چوک، کورٹ روڑ جیسے تجارتی مقامات پر خریداروں کا جم غفیر اُمڈ آتا تھا تاہم آج حکومت کی جانب سے پابندی کے نتیجے میں شہر کا کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اتوار کی صبح سے لعل چوک میں تجارتی سرگرمیاں ماند دکھائی دے رہی ہیں۔دوکانداروں نے اس موقعے پر حکومت پر زور دیا کہ وہ پابندی کے فیصلے کو فوری طور پر منسوخ کریں۔
ہندوستان
اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کے لیے تیار رہے فوج: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے فوج کے سینئر کمانڈروں سے کہا ہے کہ وہ اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل مدتی حکمت عملی تیار کریں اور موجودہ نیز ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی تیار رہیں۔
مسٹر سنگھ نے جمعہ کو یہاں فوجی کمانڈروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق فوجی حکمت عملیوں میں تبدیلی کے لیے لچک برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اس موقع پر انہوں نے فوج کی مستقبل کی تیاری کے لیے فوجی آپریشنز کا نظریہ بھی جاری کیا۔
وزیر دفاع نے آپریشن سندور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نئی سوچ، بہتر تال میل، مضبوط ہم آہنگی اور جدید ہتھیاروں نے اس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم نے واضح پیغام دیا کہ ہندوستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
مسٹر سنگھ نے فوج میں تنظیم نو اور ڈرون سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے کی جانے والی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، اعداد و شمار کے تجزیے، سائبر سکیورٹی اور محفوظ مواصلاتی نظام جیسے شعبوں میں صلاحیت بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فضائی، سمندری، خلائی اور سائبر شعبوں میں چیلنجز بڑھنے کے باوجود زمینی جنگ اور فوج کا کردار اہم رہے گا۔ جدید جنگ میں کامیابی کے لیے متعدد شعبوں میں بیک وقت کام کرنے کی صلاحیت اور مشترکہ آپریشنز میں بہتر تال میل ضروری ہے۔
وزیر دفاع نے دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں ملک کی دفاعی پیداوار بڑھ کر ریکارڈ 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ دفاعی برآمدات تقریباً 38 ہزار کروڑ روپے کی اب تک کی بلند ترین سطح پر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری مرکزی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
سال 2025 کو اصلاحات کا سال قرار دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے اور ان کی کامیابی مؤثر نفاذ پر منحصر ہے۔ انہوں نے فوجی کمانڈروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں اصلاحات کو آگے بڑھائیں اور انہیں فوجی صلاحیت میں حقیقی بہتری کی شکل میں نافذ کریں۔ انہوں نے انسانی وسائل کے بہتر انتظام، فوج میں خواتین کی زیادہ شمولیت اور قومی سلامتی کے لیے متحدہ نقطۂ نظر اپنانے پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر وزیر دفاع نے فوجی آپریشنز کا نظریہ جاری کیا۔ یہ بدلتی ہوئی جنگی نوعیت اور مستقبل کے تنازعات کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ہندوستانی فوج کی تیاری کا ایک جامع خاکہ پیش کرتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے جریدے کا سالانہ شمارہ بھی جاری کیا اور اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں نمایاں تعاون کرنے والے ہندوستانی فوج کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
اس پروگرام میں وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنی، فوج کے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ، دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ اور دیگر سینئر افسران موجود تھے۔ فوجی کمانڈروں کی یہ کانفرنس موجودہ اقدامات کا جائزہ لینے، مستقبل کی ترجیحات طے کرنے اور ٹیکنالوجی سے لیس نیز بدلتے ہوئے حالات کے مطابق تیار فوج کی تشکیل کے لیے پالیسی کی سمت متعین کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
کیا عالمی تیل کے ذخائر امریکہ اور ایران کے درمیان نئی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں
ویانا، آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس تیل بردار جہازوں پر حملوں میں اضافے اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کو دو ڈالر سے زیادہ بڑھ کر 110.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو تقریباً پانچ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
اس سے ایک روز قبل ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایسے راستے پر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو تیل بردار جہازوں میں آگ لگ گئی، جسے اس نے غیر قانونی گزرگاہ قرار دیا۔ جمعرات کو آئی آر جی سی نے مزید سات جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم واشنگٹن نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق، نشانہ بننے والے جہازوں میں سے چار تیل منتقل کر رہے تھے اور رات کے دوران ان میں آگ لگ گئی۔
ستمبر میں حوثی باغیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، نے یمن میں باب المندب آبنائے کے قریب علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ بحیرہ احمر میں داخلے اور وہاں سے نکلنے کی ایک اہم گزرگاہ ہے اور مصر کی نہر سویز تک رسائی کا راستہ بھی ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی ہنگامی تیل ذخائر سے بڑے پیمانے پر تیل نکالا جا چکا ہے اور اب یہ ذخائر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہیں۔
الجزیرہ نے ماہرین سے یہ سوال کیا کہ اگر مکمل جنگ دوبارہ شروع ہوجائے، آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کردی جائے اور حوثیوں کے حملوں سے باب المندب کی گزرگاہ بھی متاثر ہوجائے تو دنیا کے تیل ذخائر کتنے عرصے تک کام آسکتے ہیں؟
اسٹریٹجک تیل ذخائر خام تیل اور ایندھن کے وہ ذخیرے ہیں جنہیں حکومتیں یا ان کی جانب سے کام کرنے والی کمپنیاں ہنگامی صورت حال میں استعمال کے لیے محفوظ رکھتی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے)، جو 1974 میں عرب تیل پابندی کے بعد قائم کی گئی تھی، ان ذخائر کے انتظام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایجنسی کے رکن ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی خالص تیل درآمدات کے کم از کم 90 دن کے برابر ذخائر رکھیں۔ چین اور ہندوستان اس ایجنسی کے رکن نہیں ہیں۔
اس سال ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں تیل نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔
11 مارچ کو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد، آئی ای اے کے 32 رکن ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل دستیاب کرانے پر اتفاق کیا۔ یہ مقدار 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد جاری کیے گئے تیل سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔
آئی ای اے کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ نے اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) سے 17 کروڑ 22 لاکھ بیرل جبکہ جاپان نے 7 کروڑ 98 لاکھ بیرل تیل فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق، اس کے بعد امریکہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں تیل کی مقدار گھٹ کر 28 کروڑ 30 لاکھ بیرل رہ گئی ہے، جو اکتوبر 1982 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔
امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، اس تیل کا بڑا حصہ فروخت کرنے کے بجائے قرض کے طور پر دیا گیا تھا، جسے اضافی تیل کے ساتھ واپس کرنا ہوگا۔
فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں اب کہیں کم تیل دستیاب ہے اور اس کا تمام حصہ فوری طور پر استعمال بھی نہیں کیا جا سکتا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
اروناچل میں چین کے ساتھ تصادم پر حکومت سچ چھپا رہی ہے، ملک کو پوری معلومات دی جائیں: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر اروناچل پردیش میں چینی فوج کے ساتھ ہندوستانی فوجیوں کے تصادم کی معلومات چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ملک کو گمراہ کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور عوام کو پوری حقیقت بتانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ انڈو-تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ساتھ مسلسل ہونے والے تصادم کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈوکلام اور گلوان کے بعد یہ ایک اور سنگین تصادم ہے؟ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگست میں تکسنگ کے قریب چینی دراندازی کی خبریں آئی تھیں اور واچا-دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے 47 دن بعد بھی تصادم جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس معاملے میں ملک کو اندھیرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ حکومت کو بتانا چاہیے کہ کیا اس علاقے میں ہندوستان کی گشت کرنے کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے وزیر اعظم سے چین کو بار بار کلین چٹ دینا بند کرنے اور ملک کے سامنے صورتِ حال واضح کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی ضروری ہے، نہ کہ سفارتی ملاقاتیں اور گلے ملنا۔
چین پر اقتصادی انحصار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مالی سال 2020-21 سے چین سے درآمدات میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے اور چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 112.16 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن تسلیم کر چکی ہیں کہ چین ہندوستانی برآمدات میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ چین سے وابستہ سرمایہ کاری پر پابندیوں میں نرمی اور اہل چینی کمپنیوں کو پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) دینے پر غور کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب ‘میک اِن انڈیا’، ‘امپورٹ فرام چائنا’ بن گیا ہے؟
مسٹر کھرگے نے کہا، ”وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان کم از کم 23 ملاقاتیں اور بات چیت ہوئی ہیں۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی شرکت کے ساتھ خصوصی نمائندوں کی سطح پر 25 دور کی بات چیت ہوئی ہے اور سرحدی معاملات پر مشاورت و تال میل کے لیے ورکنگ میکانزم (ڈبلیو ایم سی سی) کی 36 میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور برکس کے سربراہ اجلاسوں میں بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ ان ملاقاتوں کے کیا ٹھوس نتائج برآمد ہوئے اور کیا مئی 2020 سے پہلے گشت کرنے کی رسائی مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے؟ ہمیں مسلح افواج پر پورا بھروسہ ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی بھی ضروری ہے۔ وزیر اعظم کو اپوزیشن پر حملے کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور ملک کے عوام کو پوری صورتِ حال سے آگاہ کرنا چاہیے۔”
اس دوران کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جون-جولائی سے اروناچل پردیش میں چین کی سرگرمیوں سے متعلق خبروں کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے اب تصدیق کی ہے کہ ہندوستانی فوجیوں اور چینی فوج کے درمیان تصادم جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس آئی ٹی بی پی سمیت تمام بہادر فوجیوں کو سلام کرتی ہے، جو نامساعد حالات میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں ایسی حکومت ہے جو نہ تو فوجیوں کی قربانی کو سلام کرتی ہے اور نہ ہی ان کی بہادری کی ستائش کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2020 میں وادیٔ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مسٹر مودی نے چین کو کلین چٹ دے دی تھی، جس کے نتیجے میں لداخ سے اروناچل پردیش تک چین کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل کے بیان کے فوراً بعد ذرائع کے حوالے سے خبریں آنے لگیں کہ فورس اس معاملے پر جلد ہی باضابطہ بیان جاری کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت سچائی کو سامنے آنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا ہندوستان آج بھی اروناچل پردیش میں شیرا-5 گشت چوکی تک پہنچ پا رہا ہے اور کیا چین نے اسافلا، ماجا اور تکسنگ میں سات کلومیٹر اندر تک خیمے لگا رکھے ہیں؟
انہوں نے مشرقی لداخ میں 2020 سے پہلے کی صورتِ حال بحال ہونے کے بارے میں بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو کب ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ بار بار ملاقاتوں کے باوجود ملک کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان کو ان سے کیا حاصل ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے چین پر اقتصادی انحصار بڑھایا ہے اور چینی سرمایہ کاری نیز پی ایل اے سے وابستہ کمپنیوں کے لیے راستے آسان کیے ہیں۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ ہندوستان چین کی شرائط مانتا رہا ہے اور اس کے حملوں کا سامنا بھی کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 99 ارب ڈالر سے بڑھ کر 112 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے چینی شہریوں کے لیے سفری پابندیاں ہٹائیں، ویزوں کی تعداد بڑھائی اور پریس نوٹ-3 میں ترمیم کرکے چین پر سرمایہ کاری سے متعلق پابندیوں میں نرمی کی، لیکن اس کے بدلے ہندوستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہندوستانی فوجی آج بھی ان گشت چوکیوں تک پہنچ پا رہے ہیں جہاں وہ 20 اپریل 2020 سے پہلے گشت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بین الاقوامی فورموں پر چین کے سامنے سخت موقف اختیار کرنے کے بجائے اپوزیشن کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو چین سے کس بات کا خوف ہے؟ چینی صدر کے ساتھ ملاقاتوں کے باوجود انہوں نے لداخ اور اروناچل پردیش جیسے حساس معاملات کیوں نہیں اٹھائے؟
مسٹر کھیڑا نے طنز کرتے ہوئے کہا، ”ملک میں 56 انچ کا ایک چینی کھلونا ہے، جس کی چابی کئی ممالک کے پاس ہے۔”
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ مسٹر مودی چین کو مسلسل رعایتیں دے رہے ہیں، جبکہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پی ایل اے کے ساتھ حالیہ تصادم کے دوران فورس کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ تکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ واچا اور دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی تھی۔ مقامی لوگوں کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ لداخ کی طرح اروناچل پردیش میں بھی ہندوستان کے کچھ گشت کے مقامات اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کر رہا ہے اور 60 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت والا ڈیم تعمیر کر رہا ہے، جو ہندوستان کے ماحولیاتی نظام اور آبی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
