تازہ ترین
ویڈیو: وادی میں بھاجپا نے کیوں بدلا اپنا رنگ؟؟
رضوان سلطان:
انتخابات کے قریب آتے ہی ریاست اور علاقے کے حساب سے سیاسی پارٹیاں بھی اپنے رنگ بدلتی رہتی ہیں ، جو کہ عوام کو کبھی سمجھ بھی نہیں آتا کہ کون سی پارٹی پہلے کیا کہتی تھی اور اب کیا کہتی تھی ۔
لیکن اب کچھ ایسا وادی میں ہوا کہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے امیدوار کی تشہیر کیلئے اپنے ترنگے کا رنگ ہی تبدیل کر دیا ہے ۔
وادی کے اخبارات میں کچھ روز سے سرینگر سیٹ سے بھاجپا کے لوک سبھا امیدوار خالد جہانگیر کے اشتہارات دیکھے گئے ۔ جن میں پارٹی نے اپنے زعفرانی رنگ کے بجائے اب ان اشتہارات میں ہرا رنگ اپنا لیا ہے ۔
اخبار میں اس اشتہار میں کہیں پر بھی بھگوا رنگ دیکھائی نہیں دے رہا ۔ مودی کے ساتھ لکھے گئے الفاظ بھی ہرے رنگ میں ہیں ۔
اسکے بعد بھاجپا کا لوگو بھی زعفرانی رنگ میں رنگنے کے بجائے کالے اور سفید رنگ میں رنگا گیا ہے ۔ اور نیچے لکھا گیا بی جے پی بھی ہرے رنگ میں ہی ہے ۔ اور اس پوسٹر کا بیک گراونڈ بھی ہرے رنگ میں ہی ہے ۔ہرا رنگ زیادہ تر اسلام کے ساتھ جوڑا جاتا ہے ، جنوبی ایشا کے مسلم ممالک کے مسلم جلوسوں میں اسی رنگ کا زیادہ استعمال کیا جاتاہے ۔ ہمسایہ ملک پاکستان کا ترنگہ بھی سبز رنگ کا ہے ۔بھاجپا کی سابقہ اتحادی پیپلز ڈیماکریٹک پارٹی کے جھنڈے کا رنگ بھی ہرا ہی ہے ۔اور سب سے پہلے بھاجپا پی ڈی پی اتحاد کروانے والے حسیب درابو جن کی اس بدلتے رنگ پر نظر اٹک گئی ۔ جنہوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ کشمیر میں اب رنگ بدلتے رہے ہیں اور کیسے ، یہ انتخابات کے سیاسی رنگ ہیں ، زعفران کیسے سبز ہو گیا ، یا پھر یہ پی ڈپی ہے جس نے بھاجپا کی پلیٹ پر ایک ناقابل یقین نشان چھوڑ دیا ہے ۔
وادی کے سیاسی لیڈران میں سب سے زیادہ ٹویٹر پر سرگرم رہنے والے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بھاجپا پر حملہ بولتے ہوئے کہا کہ ’’ بھاجپا کے زعفران کا رنگ کشمیر پہنچتے ہی ہرے میں تبدیل ہو گیا ، مجھے یقین نہیں کہ بھاجپا سہی میں مانتی کہ وہ ووٹروز کو بیوقوف بنا سکتی ہے جب وہ اس طرح سے خود اپنے آپ کو ہی بیوقوف بنائے ۔‘‘ کانگریس کے ترجمان فاروق اندرابی نے کہا کہ ’’ بھاجپا کو لگتا ہے ایسا کرنے سے لوگ نہیں پسند کرے گے لیکن ان کو یہ غلط فہمی ہے ۔
وہیں اب اس تنازعے پر خالد جہانگیر کا کہنا ہے کہ ’’میر ا نعرہ جھوٹ چھوڑئے اور سچ بولیے ہے ، سماج سیاست کو رنگوں کے چشمے سے نہ دیکھے‘‘۔ اتنا ہی نہیں بھاجپا کے امیدوار اب وادی کے باقی سیاسی لیڈران کی طرح زیارتوں کے دورے پر جا کر وہاں اپنے لئے دعائیں بھی کر وا رہے ہیں ۔
نہ بھاجپا کی پہلی بار اپنا رنگ وادی میں آکر بدلا اور نہ ہی صرف بھاجپا اپنا رنگ بدلتی ہے ، بلکہ ہر ایک سیاسی جماعت کے پاس رنگ بدلنے کے مختلف طریقے موجود ہوتے ہیں ۔بھاجپا جہاں پورے ملک میں ’بیف بین ‘ کی بات کرتی نظر آ رہی ہے ، لیکن وہیں بھارت میں سب سے زیادہ گوشت شمال مشرقی ریاستوں میں کھایا جاتا ہے ۔اور ان ریاستوں میں سے تریپورا ، منی پور آسام اور ا روناچل پردیش میں بھاجپا کی حکومت ہے اور حیر ان کن طور پر وہاں گوشت پر پابندی باکل بھی نہیں ۔
اسکے بعد کانگریس کے دور میں سائرہ بانو کا کیس بھی آپ کو یاد ہو گا کیسے کانگریس نے مسلم ووٹ بنک بچانے کیلئے کورٹ کا فیصلہ ہی بدل دیا ۔وادی میں بھی ایسے رنگ بدلنے ولاے لیڈر موجود ہیں جیسے ۲۰۰۲ میں بھاجپا این سی کیلئے خراب نہیں تھی جب عمر عبداللہ کو مرکزی و زیربنایا گیا تھا اور بھاجپا پی ڈی پی کیلئے تب تمام پریشانیوں کی جڑ نہیں تھی جب اسنے ۲۰۱۴ میں اتحاد کر لیا تھا ۔
ادھر اسی سال مغربی بنگال میں عوامی ریلی کو امیت شاہ نے اس لئے منسوخ کیا کیوں کہ وہاں صرف ہرا اورلال کارپیٹ ہی موجود تھا نہ کہ بھگوا ۔
اب سوال یہ کہ وادی آنے والے مرکزی بھاجپا لیڈران کیلئے کیا اب بھگوا ، ہرا یا لال کارپیٹ ب بچھایا جائے گاْ ۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
