تازہ ترین
فرنٹ چیرمین کو کوئی گزند پہنچی تو ذمہ داری حکومت ہندوستان پر عائد ہوگی: گیلانی
خبراردو:
حریت (گ) چیرمین سید علی گیلانی نے فرنٹ چیرمین محمد یٰسین ملک کی این آئی اے کی تحویل میں بگڑتی صحت پر اپنی گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی کے ساتھ جان بوجھ کر کھلواڑ کیا جارہا ہے اور اگر انہیں کوئی گزند پہنچی تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت ہند پر عائد ہوگی۔ انہوں نے اپنے بڑے فرزند ڈاکٹر نعیم گیلانی کو این آئی اے کی طرف سے دہلی بلا کر پوچھ تاچھ کرنے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے حکمرانوں اوچھے حربے استعمال کرکے ہمارے عزم وحمت کو توڑنا چاہتے ہیں۔ گیلانی نے کہا کہ دنیا میں ہر جگہ لوگ اپنے جائز اور پیدائشی حقوق کے بازیابی کے لیے جمہوری طریقے جدوجہد کرتے ہیں، البتہ جموں کشمیر دنیا میں ایسا واحد خطہ ہے جہاں اپنے غصب شدہ حقوق کے خلاف آواز اٹھانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے اور بھارت جو دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت کا دعویدار ملک ہے اپنے ہی ہاتھوں اس کا جنازہ جموں کشمیر کی سرزمین سے اُٹھا رہا ہے۔
انہوں نے ریاست اور ریاست کے باہر کے جیلوں میں کشمیری قیدیوں کی حالت زار پر بھی اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت نے اس ریاست کے باشندوں کے خلاف ہر محاذ پر ایک جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ قتل وغارت گری کا بازار گرم کرکے اوپریشن آل آوٹ کے تحت ہر کشمیری حریت پسند کو قابل گردن زنی تصور کیا جاتا ہے، دوسری طرف نام نہاد تحقیقاتی اداروں کو جنگی ہتھیار کے طور استعمال کرکے چھاپوں، بلاؤں اور پوچھ گچھ کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنڈنگ کے نام پر سینکڑوں حریت پسند پابند سلاسل کئے گئے ہیں جن میں شبیر احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار، شاہد الاسلام، سید شکیل احمد، سید شاہد یوسف اور ظہور احمد وٹالی۔ خواتین کو عزت اور احترام کا دعویٰ کرنے والوں کے ہاتھوں ہماری آزادی پسند خواتین بھی دوردراز جیلوں اور خاص کر بدنامِ زمانہ تہاڑ جیل میں قید ہیں جن میں سیدہ آسیہ اندرابی، ناہیدہ نصرین، فہمیدہ صوفی شامل ہیں۔
حریت (گ)چیرمین نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں نے اپنی ہی جمہوریت کا مذاق بنایا ہوا ہے۔ عدالت میں بیٹھے انصاف دینے والے بھی حسب ونسب دیکھ کر ہی فیصلے سُناتے ہیں۔ اگر کہیں کوئی شخص حق وانصاف کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کرنے کی جرأت کرتا ہے تو اس کو ’’پلک جھپکتے ہی اپنی کرسی سے ہٹا کر وہاں اپنے من پسند فرد کو تعینات کردیا جاتا ہے، تاکہ حکمرانوں کی منشاء اور مرضی کے مطابق فیصلے صادر کردئے جائیں، جس کی تازہ مثال ریاست کے معروف تاجر ظہور احمد وٹالی کی دلی ہائی کورٹ کی طرف سے ملی ضمانت کو سپریم کورٹ کی طرف سے مسترد کرنے کا حیران کُن فیصلہ ہے، جو یہاں کی عدالتوں کی غیر جانبداری اور شفافیت پر ایک بڑا سوال ہے۔ اگرچہ کشمیریوں کے حوالے سے بھارتی عدالتیں پہلے سے ہی متعصبانہ شبیح رکھتے ہیں، لیکن خود سپریم کورٹ کے سینئر ججوں کی طرف سے سیاسی مداخلت کا کھلم کھلا اعلان ایک نہتی قوم کے خلاف عدالتی تعصب اور جانبداری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ میں اقبال جرم کرنے والے اسیم آنند اور اس کے ساتھیوں کو ہندوتوا کے پرچارک باعزت بری کردیتے ہیں، شاید اس لیے ان کو اس دھماکے میں مرنے والے زیادہ تر مسلمان اور پاکستانی تھے، تو دوسری طرف بے گناہ کشمیریوں کو اپنے غصب شدہ حقوق کی بازیابی کی جدوجہد کے لیے عدالتی طوالت سے برس ہا برس تک جیلوں میں سڑایا جارہا ہے۔موصولہ بیان کے مطابق حریت (گ) چیرمین سید علی گیلانی نے کہا کہ ہمارے اسیروں نے تحریک مزاحمت کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے جن میں عمر قید کی سزا بھگت رہے ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، ڈاکٹر محمد شفیع خان شریعتی، غلام قادر بٹ، فیروز احمد بٹ، بلال احمد کوٹا، بشیر احمد بابا، شیخ نذیر احمد، محمد ایوب میر، محمد ایوب ڈار، علی محمد بٹ، لطیف احمد واجا، مرزا نثار، عبدالغنی گونی، محمود ٹوپی والا، جاوید احمد خان، پرویز احمد میر، غلام محمد بٹ، ڈاکٹر وسیم وغیرہ شامل ہیں۔ 35بارپبلک سیفٹٰی ایکٹ کے تحت گرفتار حریت لیڈر مسرت عالم بٹ، 8سال سے تہاڑ جیل میں مقید ڈاکٹر غلام محمد بٹ، 3سال سے نظر بند محمد یوسف فلاحی، عبدالغنی بٹ، منظور احمد خان بٹہ مالو، مولانا سرجان برکاتی، اور حال ہی میں گرفتار شدگان جن میں امیر جماعت اسلامی ڈاکٹرعبدالحمید فیاض، ایڈوکیٹ زاہد علی، مولانا مشتاق احمد ویری، سید امتیاز حیدر شامل ہیں۔آزادی پسند راہنما نے کہا کہ اب تو سینٹرل جیل سرینگر میں بھی ملاقاتیوں کو تلاشی اور پوچھ گچھ کے لیے گھنٹوں انتظار کروایا جاتا ہے اور دوردراز علاقوں سے آئے ہوئے قیدیوں کے عزیز واقارب کو اتنے طویل انتظار کے بعد جھالیوں کی اوٹ سے چند منٹ کے لیے ملاقات کروائی جاتی ہے جس سے اہل خانہ اور خاص کر معصوم بچوں کی تسلی نہیں ہوتی ہے۔
حریت (گ)چیرمین نے بین الاقوامی اداروں اور خاص کر قیدیوں کے حقوق کے علمبرداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریاست اور ریاست سے باہر کے جیلوں میں قیدیوں کی حالت زار کا سنجیدہ نوٹس لے کر بھارت کو کم سے کم اپنے ہی قوانین کی پاسداری کرنے کے لیے مجبور کریں۔انہوں نے کہا کہ آزادی کی تحریکوں میں جیل کے مراحل لازمی ہیں۔ اس لیے سنگینوں کی چاردیواریاں ہمارے عزم اور حوصلوں کو قید کرنے میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں۔
کے این ایس
دنیا
فرانس میں احتجاج کے پیش نظر 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات، پیرس کے عجائب گھر بند
پیرس، فرانس میں گزشتہ ہفتے بڑے پیمانے پر لوٹ مار، آتش زنی اور سرکاری عمارتوں پر حملوں کے بعد سکیورٹی کی خامیاں سامنے آنے اور صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت پر دباؤ بڑھنے کے درمیان، حکام نے نئے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ہفتہ کو ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اہلکاروں اور جنڈارمری فورس کے جوانوں کو تعینات کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیرس کے کئی بڑے عجائب گھر بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
تشدد کے دوبارہ بھڑکنے کے خدشے کے پیش نظر لوور، اورسے میوزیم، پکاسو میوزیم اور گرینڈ پیلے سمیت کئی ثقافتی ادارے بند رہے۔ پیرس میں منعقد ہونے والے عصری فنون کے بڑے میلے آرٹ باسل کے منتظمین نے بھی جمعہ کو افتتاح کے بعد ہفتے کے اختتام کے پروگرام منسوخ کر دیے۔
پیرس سے تقریباً 110 کلومیٹر جنوب میں واقع اورلیاں میں انتہائی دائیں بازو کے خلاف ایک بڑے احتجاج کی تیاری کی گئی۔ یہ مظاہرہ میرین لے پین کی جماعت نیشنل ریلی کی قومی کانگریس کے ساتھ ہی منعقد ہونے والا ہے۔
ٹریڈ یونینوں، بائیں بازو کی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور نسل پرستی مخالف انجمنوں سمیت تقریباً 50 تنظیموں نے اس مظاہرے کی اپیل کی ہے۔ حکام کو اس میں 20 ہزار سے 30 ہزار افراد کی شرکت کی توقع ہے۔ ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے تقریباً 3 ہزار پولیس اہلکاروں اور جنڈارمری فورس کے جوانوں کو تعینات کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے کہا کہ سکیورٹی انتظامات میں فساد مخالف پولیس، ہیلی کاپٹر، بکتر بند گاڑیاں اور واٹر کینن شامل ہوں گے۔
نونیز نے جمعہ کو کہا، ”ہم تشدد کرنے والے ہنگامہ آرائی کرنے والوں اور لوٹ مار میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ حکام کسی قسم کی نرمی نہیں برتیں گے۔
طلبہ تنظیموں، ٹریڈ یونینوں اور یلو ویسٹ تحریک کے کارکنوں کی جانب سے پیرس میں بھی احتجاجی مظاہروں کی توقع ہے۔ فرانسیسی اخبار ‘لوموند’ کے حوالے سے پیش کیے گئے انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق، پیرس کی سڑکوں پر 60 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار تک افراد اتر سکتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے فرانس بھر میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد نے مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد میں دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا، لوٹ مار کی گئی، گاڑیوں کو آگ لگائی گئی اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، ملک بھر میں تقریباً 3 ہزار کاروباری اداروں کو نقصان پہنچا یا انہیں لوٹ لیا گیا۔
حکام نے خصوصی پولیس دستوں، سراغ رساں کتوں کی ٹیموں، گھڑسوار اہلکاروں اور ڈرون مخالف ٹیموں کی مدد سے سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ نیشنل جنڈارمری کے زیر استعمال تقریباً 15 واٹر کینن گاڑیوں اور 20 بکتر بند گاڑیوں کو بھی تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔
احتجاج سے قبل پیرس کے دکانداروں نے اپنی دکانوں کے شٹر اور دروازے مضبوط کیے اور سکیورٹی کے اضافی انتظامات کیے۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر بدامنی سے متاثر ہونے والے پلیس دے لا ریپوبلیک کے قریب کاروباری اداروں اور بینک کی ایک شاخ نے اپنے احاطے کو محفوظ بنانے کے لیے لکڑی کے تختے لگا دیے۔
یہ احتجاج گزشتہ ماہ پیرس کے جنوب مشرق میں واقع ایک ہائی اسکول سے شروع ہوا تھا۔ ابتدا میں مظاہرین نے عملے کی کمی اور تعلیمی حالات کے خلاف آواز اٹھائی، لیکن بعد میں اس تحریک میں مہنگائی اور معاشی عدم مساوات کے خلاف ناراضگی بھی شامل ہو گئی۔
اسکولوں میں ناکافی فنڈنگ، پسماندہ علاقوں میں عملے کی کمی اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے مسائل نے بھی طلبہ کی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔
لیون، نیس اور مونٹ پیلیئر میں مجوزہ بعض مظاہروں پر مقامی حکام نے پابندی عائد کر دی، جبکہ پیرس اور مارسیے میں ریلیاں نکالے جانے کی توقع ہے۔ ٹریڈ یونینوں نے ان پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آئین کے تحت حاصل آزادیٔ اظہار کے حق کی خلاف ورزی ہیں۔
صدر میکرون، جنہیں اپنی صدارت کے دوران عوامی ناراضگی میں اضافے کا سامنا ہے، نے سکیورٹی کے ان اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کے مرکزی علاقوں، کاروباری اداروں اور سرکاری عمارتوں کے تحفظ کے لیے یہ ضروری ہیں۔
یواین آئی۔ ع ا۔
دنیا
علاقائی مسائل کے حل میں ترکیہ ذمہ داری اٹھانے کاسلسلہ جاری رکھے گا:وزیر فیدان
استنبول، ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے اپنے سوشل اکاؤنٹ پر استنبول میں آر4 (ترکیہ، مصر، پاکستان، سعودی عرب) اور اٹلی کی شرکت کے ساتھ منعقدہ آر4 ای3 (برطانیہ، جرمنی، فرانس) وزرائے خارجہ کی ملاقاتوں کے بارے میں ایک بیان جاری کیا۔
وزیر فیدان نے کہا کہ استنبول میں پاکستان، سعودی عرب اور مصر کے ہم منصبوں کے ساتھ ہونے والے آر4 مذاکرات کے بعد، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے وزرائے خارجہ کی شرکت کے ساتھ آٹھ ممالک کو یکجا کرنے والے ایک اہم اجلاس کی میزبانی کی گئی۔
اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے آپس میں جڑے تمام مسائل اور تنازعات پر تبادلہ خیال کیا گیا، اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اختلافات کو علاقائی ملکیت کے تصور کے تحت، گفت و شنید اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
اجلاس میں شریک ہم منصبوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیر فیدان نے کہا:ہم امید کرتے ہیں کہ جس اقدام کی ہم رہنمائی کر رہے ہیں وہ مستقل مزاجی اختیار کرے اور ہمارے خطے میں اور اس سے باہر امن اور استحکام میں حصہ ڈالے۔ ترکیہ دو جغرافیوں کے درمیان مرکزی مقام کے ساتھ علاقائی مسائل کے حل میں اپنی ذمہ
داریوں کو جاری رکھے گا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فلپائن میں تربیتی طیارے حادثے کا شکار، فضائیہ کے چار پائلٹ ہلاک
منیلا، فلپائن میں منیلا کے جنوب میں واقع ایک فضائی اڈے پر تربیتی پرواز کے دوران دو ایس ایف 260 طیاروں کے حادثے کا شکار ہونے سے فضائیہ کے چار پائلٹ ہلاک ہو گئے۔ فوج نے ہفتہ کو یہ اطلاع دی۔
فلپائن کی فضائیہ (پی اے ایف) کے ایک بیان کے مطابق، یہ حادثہ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بج کر 51 منٹ پر صوبہ باتانگاس میں واقع فرنانڈو ایئر بیس پر پیش آیا۔ دونوں طیارے فضائی اڈے کی حدود کے اندر گر کر تباہ ہو گئے۔
حادثے میں کسی دوسرے شخص کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔
مقامی میڈیا کی خبروں کے مطابق، دونوں طیارے فضا میں آپس میں ٹکرا گئے تھے، تاہم فضائیہ نے حادثے کی وجہ کی تصدیق نہیں کی ہے۔
پی اے ایف نے کہا کہ حادثے کے حالات اور اسباب کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ احتیاطی اقدام کے طور پر تحقیقات مکمل ہونے تک ایس ایف 260 طیاروں کے پورے بیڑے کی پروازیں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔
فضائیہ نے یہ بھی بتایا کہ ہلاک ہونے والے پائلٹوں کے اہل خانہ کو مدد فراہم کرنے کے لیے ان سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ اس نے عوام سے اپیل کی کہ وہ متاثرہ خاندانوں کی نجی زندگی کا احترام کریں۔
بیان میں ہلاک ہونے والے پائلٹوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور نہ ہی حادثے سے متعلق مزید تفصیلات فراہم کی گئیں۔
فلپائن میں ایس ایف 260 تربیتی طیاروں کے ساتھ پیش آنے والا یہ تازہ ترین جان لیوا حادثہ ہے۔
مئی میں ملک کے شمالی حصے کے ایک پہاڑی علاقے میں ایس ایف 260 طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا، جس میں دو پائلٹ ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے قبل 2023 میں تربیتی پرواز کے دوران ایک اور ایس ایف 260 ٹی پی مارچیٹی طیارہ حادثے کا شکار ہوا تھا، جس میں دو پائلٹوں کی موت ہو گئی تھی۔
فلپائن کی فوج نے 2017 میں جنوبی شہر مراوی کے بعض علاقوں پر قبضہ کرنے والے اسلامک اسٹیٹ سے وابستہ جنگجوؤں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں بھی ایس ایف 260 طیاروں کا استعمال کیا تھا۔
جمعہ کو پیش آنے والے حادثے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ فضائیہ نے یہ نہیں بتایا کہ عارضی طور پر گراؤنڈ کیے گئے طیاروں کو دوبارہ پرواز کی اجازت کب دی جائے گی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
