تازہ ترین
بحالی اعتمادکیلئے جماعت اسلامی اورلبریشن فرنٹ پرعائدپابندی واپس لی جائے:میرواعظ
خبراردو: حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ عمرفاروق نے مسئلہ کشمیرپرہندوپاک کے درمیان مذکرات کی حمایت کااعلان کرتے ہوئے واضح کیاکہ کشمیریوں کی جدوجہد بھارتی عوام کیخلاف نہیں بلکہ حکومت ہندکی کشمیرکش پالیسیوں کیخلاف ہے۔
میرواعظ مولوی محمدفاروق مرحوم کی برسی کے حوالے سے منائے جارہے ہفتہ شہادت کے سلسلے میں حریت(ع) کے صدردفترواقع راجباغ سری نگرمیں ایک سمینارسے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ عمرفاروق نے کہا’کشمیری عوام اورحریت پسندقیادت نہ ترقی کیخلاف ہے اورنہ بھارتی عوام کے خلاف “۔انہوں نے کہاکہ ہماری جدوجہدکسی بھی بھارت کے عوام کیخلاف نہیں ہے اورنہ ہم اسبات کے مخالف ہیں کہ جموں وکشمیرمیں ترقی اورخوشحالی ہوبلکہ ہماری جدوجہدکامقصد اُن وعدوں اورقراردادوں کوروبہ عمل لانے کی کوشش ہے ،جووعدے بھارت کی اعلیٰ قیادت نے 70برس کشمیری عوام سے کئے ہیں ،اورہم اُن قراردادوں کوعملانے کی مانگ کرتے آئے ہیں جوقراردادیں بھارت کی درخواست کے بعداقوام متحدہ سلامتی کونسل میں منظورکی گئیں ،اورجن میں یہ واضح کیاگیاہے کہ جموں وکشمیرکے لوگ اپنے اوراپنی ریاست کے سیاسی مستقبل کافیصلہ آزادانہ اورمنصفانہ استصواب رائے کے ذریعے کریں گے ۔
انہوں نے بھارت کے اولین وزیراعظم پنڈت جواہرلعل نہرﺅکی پارلیمان کے اندراورباہرکی گئی تقاریرکاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پنڈت نہرﺅنے ایک بارنہیں بلکہ متعددباریہ واضح کیاتھاکہ کشمیرکے اصل مالک کشمیری ہی ہیں ،اوراُنھیں آزادانہ اورغیرجانبدارانہ اندازمیں کرائی جانے والی رائے شماری کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کافیصلہ لینے کے حق اورموقعہ بھی دیاجائیگا۔میرواعظ عمرفاروق کاکہناتھاکہ پنڈت نہرﺅنے یہاں تک کہاتھاکہ اگرکشمیری بھارت کاانتخاب نہیں کریں گے توہمیں یہ فیصلہ بغیرجھجھک قبول ہوگا۔انہوں نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ اگرہم ان وعدوں کوعملانے کامطالبہ کرتے ہیں تواس میں کیاجرم ہے ۔حریت(ع) چیئرمین کاکہناتھاکہ کشمیری عوام اورحریت پسندلیڈرشپ نہ توریاست میں ترقی کیخلاف ہے اورنہ ہی ہندوپاک دوستی کے مخالف ۔میرواعظ نے کہاکہ ہم حکومت ہندکی اُن پالیسیوں کیخلاف ہیں جوکشمیری عوام اوریہاں کی حریت پسندقیادت کوکچلنے اوردبانے کیلئے روبہ عمل لائی جاتی ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ سخت گیرپالیسیوں کولاحاصل مشق سے تعبیرکرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی جانب سے اپنائی جانے والی سخت پالیسی کے کبھی مثبت نتائج برآمدنہیں ہونگے بلکہ اس کے نتیجے میں نت نئے مسائل اورنئی نئی مشکلات پیداہوں گے ۔میرواعظ عمرفاروق نے کہاکہ طاقت کے استعمال سے مسائل کو سلجھانے کے راستے مسدودہونے کیساتھ ساتھ مسائل مزیداُلجھ جاتے ہیں ،اورہم نہیں چاہتے کہ بھارت اورپاکستان کے درمیان گزشتہ7دہائیوں سے چلی آرہی دشمنی اورمقابلہ آرائی مزیدکئی دہائیوں تک چلتی رہے ۔انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام جنگ وجدل کی سختیوں کوجانتے ہیں ،اسی لئے یہ مظلوم اورمعصوم قوم چاہتی ہے کہ برصغیرکے کروڑوں معصوم انسانوں کوبھی ناکردہ گناہوں کی سزانہ ملتی رہے ۔
انہوں نے کہاکہ ہماراپہلے دن سے یہ موقف رہاہے کہ بھارت اورپاکستان کشمیرمسئلے کاپُرامن حل نکالنے کیلئے بامعنی ٰ مذاکرات کریں لیکن کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے کشمیریوں کی رائے بھی لیاجائے کیونکہ کشمیری اس دیرینہ مسئلے کے بنیادی فریق ہیں ۔میرواعظ نے کہاکہ ہماری جدوجہد بھارت یابھارتی عوام کیخلاف نہیں ہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ بھارت کشمیرمسئلے اوراس پورے خطے کی متنازعہ حیثیت تسلیم کرلے تاکہ نتیجہ خیزمذاکرات ہوسکیں اورکشمیرمسئلے کاپُرامن اورپائیدارحل نکالاجاسکے ۔میرواعظ عمرفاروق نے کہاکہ یہ بات انتہائی افسوسناک اورمایوس کن ہے کہ بھارت سرکارنے کشمیر میں اظہاررائے پرقدوغن لگارکھاہے ۔انہو ں نے کہاکہ ہمیں جلسوں ،سمیناروں اورعوامی رابطوں تک کی اجازت نہیں دی جاتی ہے اورہمیں زیادتیوں کیخلاف آوازاُٹھانے کاحق بھی نہیں ۔
انہوں نے کہاکہ کشمیرمسئلے کاکوئی فوجی حل نہیں ،اوریہ بات اٹل بہاری واجپائی نے جب محسوس کی توانہوں نے نہ صرف سرزمین کشمیرسے پاکستان کی جانب دوستی کاہاتھ بڑھایابلکہ انہوں نے مسئلہ کشمیرکوجمہوریت ،کشمیریت اورانسانیت کے دائرے میں حل کرنے کانعرے بھی بلندکیا۔میرواعظ عمرفاروق نے مرکزی حکومت سے جماعت اسلامی اورلبریشن فرنٹ پرعائدپابندی کوواپس لینے کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ بحالی اعتمادکیلئے کشمیری لیڈروں اورسیاسی کارکنوں کوبغیرکسی پیشگی شرط کے رہاکیاجاناچاہئے ۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
