تازہ ترین
ویڈیو: دی رائزآف مودی
بھارت کے لوک سبھا انتخابات میں تاریخی فتح حاصل کرنے والے نریندر مودی اب پھر سے بھارت پر اگلے پانچ سال کےلئے حکم رانی کرے گے ۔ نرنیدر مودی نے وہ کچھ اس بار کر کے دیکھایا جو 1971 میں اندراگاندھی نے کر کے دیکھایا تھا جب انہوں نے بھی دوسری مرتبہ پوری اکثریت کےساتھ سرکار بنائی ۔
بھاجپا نے سرکار پھر سے کیوں بنائی ؟ کیوں کہ ایک اپوزیشن بٹا ہوا تھا اور دوسرا اپوزیشن کا پورا دھیان نریندر مودی پر ہی تھا ۔ کانگریس صدر راہل گاندھی کی جانب سے شروع کئے گئے چوکیدار چور ہے کے جواب میں مودی نے اپنے نام کے آگے ہی چوکیدار لگا دیا ۔اور مودی کی انرجی کے ساتھ تھی شاہ کی اسٹریٹجی، جس نے بھاجپا کو یہ جیت دلوائی ۔
اگر دیکھا جائے تو یہ جیت بھاجپا کی کم اور مودی کی زیادہ لگتی ہے ۔ بھاجپا امیدواروں نے بھی جہاں تک چاہا مودی نے نام پر ووٹ مانگا اور اسی کی تصویریں اپنے حلقوں میں چسپاں کی ۔
گزشتہ سال مودی حکومت کی جانب سے دو بڑے قدم لئے گئے جن میں جی ایس ٹی اور نوٹ بندی شامل ہے ۔ اور اس کا خمیازہ بھاجپا کو چھ ماہ قبل راجھستان ، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں ہوئی ہار سے بھگتنا پڑا ۔ اور ان لوک سبھا انتخابات میں بھی شائد کانگریس لیڈرشپ ان ریاستوں سے جیت کی توقع کر رہی تھی ۔ لیکن نتائج کچھ اور تھے ۔
چھتیس گڑھ میں بھاجپا نے 11 میں سے دس پر قبضہ کیا ۔ وہیں راجھستان کی 25 میں سے 25 سیٹوں پر قبضہ کیا اور مدھیہ پردیش کی 29میں سے 28 سیٹوں پر قبضہ کیا ۔2014 میں سرکار میں آنے کے بعد مودی کا نعرہ سب کا ساتھ سب کا وکاس تھا ۔ جس کے تحت انہوںنے ہر سال دو کڑور نوکریاں دلانے کا وعدہ ،کالا دھن واپس لا کر ہر ایک کے ایکاونٹ میں 15 لاکھ جمع کرانا ، قیمتوں میں کمی لانا ۔ لیکن پھر پانچ سال میںا س کا الٹا دیکھا گیا۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے پانچ ملین نوکریاں چلی گئی ۔ نوٹ بندی کے دوران اپوزیشن نے کہا کہ ۰۰۱ سے زائد کی موت لائن میں لگنے سے ہوئی ۔ ہر دن بڑھتی کسانوں کی خودکشی ۔National Sample Survey Office کے مطابق بھارت میں بے روزگاری کی شرح پچھلے 45 سال سے بڑھ گئی ہے جو کہ 6.1 فیصدی ہے .
ان سوالوں کا جواب دینے کے بجائے مودی کا فوکس ہندوتوا ، ملک کی سلامتی ، دہشتگردی ، پاکستان ، کشمیر سیکولرم ، کےلئے علاوہ آخر پر خان مارکیٹ گینگ بھی جوڑا گیا ۔
پلوامہ حملے کے بعد مودی کے پاس پاکستان مخالف بیان بازیاں کرنے کا موقع بھی ہاتھ آیا ۔ اور اسکے بعد بالاکوٹ ائر سٹرائک ۔بھاجپا جہاں مودی کے نام پر ووٹ مانگ رہی تھی ، وہیں مودی نے نئے ووٹروں سے پلوامہ حملے میں مارے گئے اہلکاروں کے نام پر ووٹ دینے کو کہا ،جو کہ کامیاب بھی ہوا ۔ پورے ملک میں یہ تاثر پیدا کیا کہ مودی ہی وہ واحد لیڈر ہے جو ملک کو دیش ورودیوں سے بچا سکتا ہے اور دہشتگردی کا خاتمہ کر سکتا ہے ۔ دوسرا یہ کہ مودی نہیں تو پھر کون یعنی مودی کے بغیر ملک میں کوئی متبدال ہی نہیں بچاہئے ۔ اور آخر پر یہ بھی ثابت بھی کر کے دیکھا دیا گیا ۔
بھاجپا نے اپنے منشور میں رام مندر کا قیام ، 35 اے کو ختم کرنا ، کسانوں کی کمائی 2022 تک دوگنی کرنا، یکساں سیول کوڈ جیسے وعدے دہرائے گئے ہیں ۔
اب دیکھنا ہو گا کہ تین بار گجرات کے وزیر اعلی رہے اور اب دوسری مرتبہ وزیر اعظم کا حلف 30 مئی کو اٹھانے والے نریندر مودی یہ وعدے پورے کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں ۔
وہیں کیا ایسے وعدے پورے کرنا جن میں یکساں سیول کوڈ ، رام مندر کی تعمیر سے بھارت ایک ہندو راشٹرا کی جانب سے بڑھ رہا ہے ۔ آپ بھی کمنٹ بکس میں ضرور بتائے ۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
