تازہ ترین
شوپیان تصام آرائی میں 2جنگجو اور شہری جاں بحق: مکمل رپورٹ
خبراردو: جنوبی کشمیر کے شوپیان اور ترال علاقوں میں سرگرم جنگجوﺅں کےخلاف فیصلہ کن آپریشن جاری رکھتے ہوئے فوج، فورسز اور پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ کی طرف سے کی گئی کارروائی میں 2حزب جنگجو اور ایک عام شہری جاں بحق ہوئے۔
جنوبی کشمیرمیں سرگرم جنگجوﺅں کیخلاف فیصلہ کن آپریشن جاری رکھتے ہوئے فوج ،فورسزاورپولیس کے اسپیشل آپریشن گرﺅپ سے وابستہ اہلکاروں نے علی الصبح ضلع شوپیان کے زینہ پورہ علاقے میں موجودجنگجوﺅں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی ۔علاقے کوچاروں اطراف سے محاصرے میں لینے کے بعدجب سیکورٹی اہلکاروں نے یہاں تلاشی کارروائی شروع کی توایک میوہ باغ میں مبینہ طورپرقائم کردہ خفیہ کمین گاہ میں موجودجنگجوﺅں نے محاصرہ توڑکرفرارہونے کی کوشش میں اندھادھندفائرنگ شروع کردی تاہم الرٹ فورسزنے فوری جوابی کارروائی عمل میں لائی ،جسکے دوران حزب المجاہدین سے وابستہ 2مقامی جنگجواورایک مقامی شہری جاں بحق ہوگیاتاہم پولیس نے دعویٰ کیاکہ جھڑپ کے دوران ماراگیاشہری جنگجوﺅں کاساتھی یااعانت کارتھا۔اس دوران یہاں مشتعل نوجوانوں اورپولیس وفورسزاہلکاروں کے درمیان ٹکراﺅ کے واقعات بھی پیش آئے ۔
اُدھرزینہ پورہ شوپیان میں جنگجومخالف آپریشن کے چلتے فوج ،فورسزاورایس اﺅجی اہلکاروں نے ضلع پلوامہ کے نانرمندورہ اونتی پورہ علاقہ کابعددوپہراچانک محاصرہ کرکے جب یہاں جنگجومخالف آپریشن شروع کیاتومحاصرے میں پھنسے جنگجوﺅں نے فائرنگ شروع کردی جسکے بعدیہاں بھی طرفین کے درمیان شدیدنوعیت کی گولی باری کاتبادلہ ہوا،جوتادم تحریرجاری تھا۔اطلاعات کے مطابق جنگجوﺅں کی موجودگی سے متعلق پختہ اطلاع ملتے ہی فوج کی44آرآر،سی آرپی ایف اورریاستی پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ سے وابستہ اہلکاروں نے جمعہ کوعلی الصبح ضلع شوپیان کے درگڈسوگن زینہ پورہ علاقہ کومحاصرے میں لیا۔پولیس ذرائع نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ محاصرے کی کارروائی مکمل کرنے کے بعدجب سیکورٹی دستوں نے علاقہ میں تلاشی کارروائی شروع کی تومحاصرے میں پھنسے کچھ جنگجوﺅں نے فرارہونے کی کوشش کے تحت اندھادھندفائرنگ شروع کردی ۔انہوں نے کہاکہ ایک میوہ باغ میں بنائی گئی خفیہ کمین گاہ یاہائیڈآﺅٹ میں موجودجنگجوﺅں کی جانب سے کی گئی فائرنگ کے بعدفوج ،فورسزاورایس اﺅجی اہلکاروں نے پوزیشن سنبھال کرجوابی کارروائی شروع کردی ،جسکے بعدطرفین کے درمیان شدیدگولی باری کاتبادلہ ہوا۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ کچھ وقت تک شدیدفائرنگ کاسلسلہ جاری رہنے کے بعدگولی باری رُ ک گئی لیکن جنگجوﺅں کی جانب سے پھرفائرنگ کاسلسلہ شروع کیاگیا۔انہوں نے بتایاکہ اضافی کمک طلب رکے جنگجوﺅں کیخلاف سیکورٹی اہلکاروں نے اس مرتبہ فیصلہ کن کارروائی عمل میں لائی ،اورپھرشدیدگولی باری کے بعدیہ سلسلہ تھم گیا۔
پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایاگیاکہ فائرنگ کاسلسلہ تھم جانے کے بعدجب سیکورٹی دستوں نے جائے جھڑپ کی تلاشی کارروائی عمل میں لائی تویہاں سے 2نعشیں اورکچھ اسلحہ وگولی بارودبھی برآمدکیاگیا۔بیان کے مطابق دونوں نعشوں اورہتھیارکویہاں سے برآمدکرنے کے بعدبھی سیکورٹی اہلکاروں نے محاصرہ جاری رکھاکیونکہ اسبات کااندیشہ تھاکہ ابھی کچھ جنگجوﺅں یہاں موجودہوسکتے ہیں ۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ لگ بھگ پانچ گھنٹے تک علاقہ میں مکمل خاموشی یاسکوت جاری رہنے کے بعداچانک فائرنگ کاسلسلہ پھرسے شروع ہوگیا۔انہوں نے کہاکہ پھرایک مرتبہ فوج ،فورسزاورایس اﺅجی اہلکاروںنے اپنی اپنی پوزیشن سنبھال کرجوابی کارروائی عمل میں لائی،جسکے بعدیہاں معرکہ آرائی کادوسراسلسلہ شروع ہوگیاجوشدیدفائرنگ کے بیچ کچھ وقت تک جاری رہا۔ذرائع کاکہناتھاکہ فائرنگ کاسلسلہ تھم جانے کے بعدیہاں پھرسے تلاشی کارروائی عمل میں لائی گئی توایک اورنعش کیساتھ ساتھ کچھ اسلحہ وگولی بارودبرآمدکیاگیا۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ مارے گئے تینوں افرادکی نعشوں کویہاں سے پولیس تھانہ زینہ پورہ شوپیان منتقل کیاگیاتاکہ ان کی شناخت اورتنظیمی وابستگی کے بارے میں تحقیقات عمل میں لائی جاسکے ۔انہوں نے کہاکہ تحقیقات کے دوران مارے گئے تینوں افرادکی شناخت ہوگئی ،جن میں سے 2حزب المجاہدین سے وابستہ جنگجواورایک اُنکااعانت کارہے ۔پولیس ذرائع نے زینہ پورہ میں جاں بحق ہوئے تینوں نوجوانوں کی شناخت ظاہرکرتے ہوئے بتایاکہ مارے جانے والوں میں حزب کمانڈرعابدمنظورماگرے عرف سجوٹائیگرولدمنظوراحمدساکنہ نوپورہ پائین پلوامہ ،حز ب جنگجوہلال احمدساکنہ ارمولہ پلوامہ اوراُن کااعانت کارجاسم احمدشاہ ساکنہ مالندسگن شوپیان شامل ہیں ۔تاہم مقامی لوگوں نے بتایاکہ جھڑپ کے دوران ماراگیاہلال نامی نوجوان ایک معصوم شہری تھا۔
اُدھرمعلوم ہواکہ درگڈسوگن زینہ پورہ شوپیان میں جنگجومخالف آپریشن کے دوران مشتعل نوجوانوں نے سنگباری شروع کردی ،اوراُن کومنتشرکرنے کیلئے پولیس وفورسزاہلکاروں نے فوری کارروائی عمل میں لائی ۔دریں اثناءپولیس ذرائع نے بتایاکہ شناخت کی کارروائی مکمل ہونے کے بعددیگرلوازمات کوبھی عمل میں لایاجائیگا،جسکے بعدزینہ پورہ شوپیان میں مارے گئے دونوں مقامی جنگجوﺅں اوراُن کے اعانت کارکی نعشوں کولواحقین کے سپردکیاجائیگا۔اس دوران زینہ پورہ شوپیان میں جنگجومخالف آپریشن کے چلتے فوج ،فورسزاورایس اﺅجی اہلکاروں نے ضلع پلوامہ کے نانرمڈورہ اونتی پورہ علاقہ کابعددوپہراچانک محاصرہ کرکے جب یہاں جنگجومخالف آپریشن شروع کیاتومحاصرے میں پھنسے جنگجوﺅں نے فائرنگ شروع کردی جسکے بعدیہاں بھی طرفین کے درمیان شدیدنوعیت کی گولی باری کاتبادلہ ہوا،جوتادم تحریرجاری تھا۔معلوم ہواکہ جنگجوﺅں کی موجودگی سے متعلق پختہ اطلاع ملتے ہی فوج کی42آرآر،سی آرپی ایف اورریاستی پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ سے وابستہ اہلکاروں نے جمعہ کوبعددوپہر ضلع پلومہ کے نانرمندورہ اونتی پورہ علاقہ کومحاصرے میں لیکرجب جنگجومخالف کارروائی عمل میں لائی تویہاں موجودجنگجوﺅں نے فرارہونے کی کوشش کے تحت اندھادھندفائرنگ کردی ،جسکے بعدیہاں جھڑپ شروع ہوئی جوآخری اطلاعات موصوہل ہونے تک جاری تھی۔
پولیس ذرائع کے بقول علاقے میں 2سے 3جنگجوﺅں کے چھپے ہونے کی اطلاع ہے۔اس دوران علاقے میں جھڑپ شروع ہونے کےساتھ ہی بس اسٹینڈ ترال میں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے فورسز گاڑیوں پر شدید پتھراﺅ کیا جس کے نتیجے میں یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا جس کے نتیجے میںیہاں دوکانداروں اور دیگر تجارتی مراکز نے اپنی دکانوں کے شٹر گراتے ہوئے محفوظ مقامات کی راہ لی۔ معلوم ہوا کہ جائے جھڑپ اور بٹہ گنڈ میں بھی فورسز اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ شام دیر گئے تک جاری تھا۔ علاقے میں جھڑپ کی خبر پھیلتے ہی یہاں معمول کی زندگی متاثر ہوئی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک کی روانی بھی ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ انتظامیہ نے یہاں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور شرپسندوں کی جانب سے بے لگام افواہ بازی پر بریک لگانے کےلئے پولیس ضلع اونتی پورہ میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو اگلے احکامات تک معطل رکھنے کا فیصلہ کیا۔
ہندوستان
اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کے لیے تیار رہے فوج: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے فوج کے سینئر کمانڈروں سے کہا ہے کہ وہ اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل مدتی حکمت عملی تیار کریں اور موجودہ نیز ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی تیار رہیں۔
مسٹر سنگھ نے جمعہ کو یہاں فوجی کمانڈروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق فوجی حکمت عملیوں میں تبدیلی کے لیے لچک برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اس موقع پر انہوں نے فوج کی مستقبل کی تیاری کے لیے فوجی آپریشنز کا نظریہ بھی جاری کیا۔
وزیر دفاع نے آپریشن سندور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نئی سوچ، بہتر تال میل، مضبوط ہم آہنگی اور جدید ہتھیاروں نے اس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم نے واضح پیغام دیا کہ ہندوستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
مسٹر سنگھ نے فوج میں تنظیم نو اور ڈرون سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے کی جانے والی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، اعداد و شمار کے تجزیے، سائبر سکیورٹی اور محفوظ مواصلاتی نظام جیسے شعبوں میں صلاحیت بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فضائی، سمندری، خلائی اور سائبر شعبوں میں چیلنجز بڑھنے کے باوجود زمینی جنگ اور فوج کا کردار اہم رہے گا۔ جدید جنگ میں کامیابی کے لیے متعدد شعبوں میں بیک وقت کام کرنے کی صلاحیت اور مشترکہ آپریشنز میں بہتر تال میل ضروری ہے۔
وزیر دفاع نے دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں ملک کی دفاعی پیداوار بڑھ کر ریکارڈ 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ دفاعی برآمدات تقریباً 38 ہزار کروڑ روپے کی اب تک کی بلند ترین سطح پر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری مرکزی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
سال 2025 کو اصلاحات کا سال قرار دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے اور ان کی کامیابی مؤثر نفاذ پر منحصر ہے۔ انہوں نے فوجی کمانڈروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں اصلاحات کو آگے بڑھائیں اور انہیں فوجی صلاحیت میں حقیقی بہتری کی شکل میں نافذ کریں۔ انہوں نے انسانی وسائل کے بہتر انتظام، فوج میں خواتین کی زیادہ شمولیت اور قومی سلامتی کے لیے متحدہ نقطۂ نظر اپنانے پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر وزیر دفاع نے فوجی آپریشنز کا نظریہ جاری کیا۔ یہ بدلتی ہوئی جنگی نوعیت اور مستقبل کے تنازعات کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ہندوستانی فوج کی تیاری کا ایک جامع خاکہ پیش کرتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے جریدے کا سالانہ شمارہ بھی جاری کیا اور اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں نمایاں تعاون کرنے والے ہندوستانی فوج کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
اس پروگرام میں وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنی، فوج کے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ، دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ اور دیگر سینئر افسران موجود تھے۔ فوجی کمانڈروں کی یہ کانفرنس موجودہ اقدامات کا جائزہ لینے، مستقبل کی ترجیحات طے کرنے اور ٹیکنالوجی سے لیس نیز بدلتے ہوئے حالات کے مطابق تیار فوج کی تشکیل کے لیے پالیسی کی سمت متعین کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
کیا عالمی تیل کے ذخائر امریکہ اور ایران کے درمیان نئی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں
ویانا، آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس تیل بردار جہازوں پر حملوں میں اضافے اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کو دو ڈالر سے زیادہ بڑھ کر 110.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو تقریباً پانچ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
اس سے ایک روز قبل ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایسے راستے پر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو تیل بردار جہازوں میں آگ لگ گئی، جسے اس نے غیر قانونی گزرگاہ قرار دیا۔ جمعرات کو آئی آر جی سی نے مزید سات جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم واشنگٹن نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق، نشانہ بننے والے جہازوں میں سے چار تیل منتقل کر رہے تھے اور رات کے دوران ان میں آگ لگ گئی۔
ستمبر میں حوثی باغیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، نے یمن میں باب المندب آبنائے کے قریب علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ بحیرہ احمر میں داخلے اور وہاں سے نکلنے کی ایک اہم گزرگاہ ہے اور مصر کی نہر سویز تک رسائی کا راستہ بھی ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی ہنگامی تیل ذخائر سے بڑے پیمانے پر تیل نکالا جا چکا ہے اور اب یہ ذخائر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہیں۔
الجزیرہ نے ماہرین سے یہ سوال کیا کہ اگر مکمل جنگ دوبارہ شروع ہوجائے، آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کردی جائے اور حوثیوں کے حملوں سے باب المندب کی گزرگاہ بھی متاثر ہوجائے تو دنیا کے تیل ذخائر کتنے عرصے تک کام آسکتے ہیں؟
اسٹریٹجک تیل ذخائر خام تیل اور ایندھن کے وہ ذخیرے ہیں جنہیں حکومتیں یا ان کی جانب سے کام کرنے والی کمپنیاں ہنگامی صورت حال میں استعمال کے لیے محفوظ رکھتی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے)، جو 1974 میں عرب تیل پابندی کے بعد قائم کی گئی تھی، ان ذخائر کے انتظام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایجنسی کے رکن ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی خالص تیل درآمدات کے کم از کم 90 دن کے برابر ذخائر رکھیں۔ چین اور ہندوستان اس ایجنسی کے رکن نہیں ہیں۔
اس سال ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں تیل نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔
11 مارچ کو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد، آئی ای اے کے 32 رکن ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل دستیاب کرانے پر اتفاق کیا۔ یہ مقدار 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد جاری کیے گئے تیل سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔
آئی ای اے کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ نے اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) سے 17 کروڑ 22 لاکھ بیرل جبکہ جاپان نے 7 کروڑ 98 لاکھ بیرل تیل فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق، اس کے بعد امریکہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں تیل کی مقدار گھٹ کر 28 کروڑ 30 لاکھ بیرل رہ گئی ہے، جو اکتوبر 1982 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔
امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، اس تیل کا بڑا حصہ فروخت کرنے کے بجائے قرض کے طور پر دیا گیا تھا، جسے اضافی تیل کے ساتھ واپس کرنا ہوگا۔
فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں اب کہیں کم تیل دستیاب ہے اور اس کا تمام حصہ فوری طور پر استعمال بھی نہیں کیا جا سکتا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
اروناچل میں چین کے ساتھ تصادم پر حکومت سچ چھپا رہی ہے، ملک کو پوری معلومات دی جائیں: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر اروناچل پردیش میں چینی فوج کے ساتھ ہندوستانی فوجیوں کے تصادم کی معلومات چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ملک کو گمراہ کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور عوام کو پوری حقیقت بتانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ انڈو-تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ساتھ مسلسل ہونے والے تصادم کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈوکلام اور گلوان کے بعد یہ ایک اور سنگین تصادم ہے؟ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگست میں تکسنگ کے قریب چینی دراندازی کی خبریں آئی تھیں اور واچا-دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے 47 دن بعد بھی تصادم جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس معاملے میں ملک کو اندھیرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ حکومت کو بتانا چاہیے کہ کیا اس علاقے میں ہندوستان کی گشت کرنے کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے وزیر اعظم سے چین کو بار بار کلین چٹ دینا بند کرنے اور ملک کے سامنے صورتِ حال واضح کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی ضروری ہے، نہ کہ سفارتی ملاقاتیں اور گلے ملنا۔
چین پر اقتصادی انحصار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مالی سال 2020-21 سے چین سے درآمدات میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے اور چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 112.16 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن تسلیم کر چکی ہیں کہ چین ہندوستانی برآمدات میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ چین سے وابستہ سرمایہ کاری پر پابندیوں میں نرمی اور اہل چینی کمپنیوں کو پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) دینے پر غور کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب ‘میک اِن انڈیا’، ‘امپورٹ فرام چائنا’ بن گیا ہے؟
مسٹر کھرگے نے کہا، ”وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان کم از کم 23 ملاقاتیں اور بات چیت ہوئی ہیں۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی شرکت کے ساتھ خصوصی نمائندوں کی سطح پر 25 دور کی بات چیت ہوئی ہے اور سرحدی معاملات پر مشاورت و تال میل کے لیے ورکنگ میکانزم (ڈبلیو ایم سی سی) کی 36 میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور برکس کے سربراہ اجلاسوں میں بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ ان ملاقاتوں کے کیا ٹھوس نتائج برآمد ہوئے اور کیا مئی 2020 سے پہلے گشت کرنے کی رسائی مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے؟ ہمیں مسلح افواج پر پورا بھروسہ ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی بھی ضروری ہے۔ وزیر اعظم کو اپوزیشن پر حملے کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور ملک کے عوام کو پوری صورتِ حال سے آگاہ کرنا چاہیے۔”
اس دوران کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جون-جولائی سے اروناچل پردیش میں چین کی سرگرمیوں سے متعلق خبروں کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے اب تصدیق کی ہے کہ ہندوستانی فوجیوں اور چینی فوج کے درمیان تصادم جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس آئی ٹی بی پی سمیت تمام بہادر فوجیوں کو سلام کرتی ہے، جو نامساعد حالات میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں ایسی حکومت ہے جو نہ تو فوجیوں کی قربانی کو سلام کرتی ہے اور نہ ہی ان کی بہادری کی ستائش کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2020 میں وادیٔ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مسٹر مودی نے چین کو کلین چٹ دے دی تھی، جس کے نتیجے میں لداخ سے اروناچل پردیش تک چین کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل کے بیان کے فوراً بعد ذرائع کے حوالے سے خبریں آنے لگیں کہ فورس اس معاملے پر جلد ہی باضابطہ بیان جاری کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت سچائی کو سامنے آنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا ہندوستان آج بھی اروناچل پردیش میں شیرا-5 گشت چوکی تک پہنچ پا رہا ہے اور کیا چین نے اسافلا، ماجا اور تکسنگ میں سات کلومیٹر اندر تک خیمے لگا رکھے ہیں؟
انہوں نے مشرقی لداخ میں 2020 سے پہلے کی صورتِ حال بحال ہونے کے بارے میں بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو کب ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ بار بار ملاقاتوں کے باوجود ملک کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان کو ان سے کیا حاصل ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے چین پر اقتصادی انحصار بڑھایا ہے اور چینی سرمایہ کاری نیز پی ایل اے سے وابستہ کمپنیوں کے لیے راستے آسان کیے ہیں۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ ہندوستان چین کی شرائط مانتا رہا ہے اور اس کے حملوں کا سامنا بھی کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 99 ارب ڈالر سے بڑھ کر 112 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے چینی شہریوں کے لیے سفری پابندیاں ہٹائیں، ویزوں کی تعداد بڑھائی اور پریس نوٹ-3 میں ترمیم کرکے چین پر سرمایہ کاری سے متعلق پابندیوں میں نرمی کی، لیکن اس کے بدلے ہندوستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہندوستانی فوجی آج بھی ان گشت چوکیوں تک پہنچ پا رہے ہیں جہاں وہ 20 اپریل 2020 سے پہلے گشت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بین الاقوامی فورموں پر چین کے سامنے سخت موقف اختیار کرنے کے بجائے اپوزیشن کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو چین سے کس بات کا خوف ہے؟ چینی صدر کے ساتھ ملاقاتوں کے باوجود انہوں نے لداخ اور اروناچل پردیش جیسے حساس معاملات کیوں نہیں اٹھائے؟
مسٹر کھیڑا نے طنز کرتے ہوئے کہا، ”ملک میں 56 انچ کا ایک چینی کھلونا ہے، جس کی چابی کئی ممالک کے پاس ہے۔”
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ مسٹر مودی چین کو مسلسل رعایتیں دے رہے ہیں، جبکہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پی ایل اے کے ساتھ حالیہ تصادم کے دوران فورس کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ تکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ واچا اور دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی تھی۔ مقامی لوگوں کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ لداخ کی طرح اروناچل پردیش میں بھی ہندوستان کے کچھ گشت کے مقامات اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کر رہا ہے اور 60 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت والا ڈیم تعمیر کر رہا ہے، جو ہندوستان کے ماحولیاتی نظام اور آبی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
