تازہ ترین
انسانیت کے دائرے میں مذاکراتی عمل کو بھر پور تعاون فراہم کریں گے: میر واعظ
خبراردو: عوامی مجلس عمل کا56واں یوم تاسیس جمعرات کو اس عزم اور تجدید عہد کے ساتھ منایا گیا کہ آج سے 56سال قبل جس عظیم مقصد اور نصب العین کے حصول کیلئے بانی تنظیم شہید ملت میرواعظ مولانا محمد فاروق نے اپنے رفقاءکے ہمراہ اس تنظیم کے داغ بیل ڈالی تھی اس مقصد اور نصب العین کے حصول تک مبنی برحق پر امن جدوجہد ہر سطح پر جاری و ساری رکھی جائیگی۔
یوم تاسیس کے سلسلے میں تنظیم کے مرکزی دفتر میرواعظ منزل راجوری کد ل سرینگر پر وادی بھر سے آئے ہوئے تنظیمی زعماﺅں ، کارکنوں، مرکزی عہدیداروں اور حلقہ صدور کا ایک پر وقار اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت سربراہ میرواعظ عمر فاروق نے انجام دی جبکہ اس موقعہ پر متعدد تنظیمی زعماءنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے تنظیم کی 56 سالہ کارکردگی کی حصولیابیوں قربانیوں اور حصول مقصد کے حوالے سے کی جارہی کاوشوں کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا۔اپنے صدارتی خطاب میں میرواعظ نے موجودہ سیاسی ، تحریکی اور تنظیمی صورتحال کے مختلف پہلوﺅں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ قوم گزشتہ سات دہائیوں سے اپنے جائز مقصد کے حصول کی راہ میں قربانیوں کی ایک تاریخ رقم کرتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری موجودہ تحریک اُس جدوجہد کا تسلسل ہے جس کی بنیاد مہاجر ملت میرواعظ مولانا محمد یوسف شاہ ؒ نے اپنے دور میں اپنے رفقا کے ہمراہ مسلم کانفرنس کا قیام عمل میںلاکر ڈال تھی اور پھر 1964 ءمیں شہید ملت نے عوامی مجلس عمل کی بنیاد ڈال کر اس تحریک کو ایک نئی جہت اور سمت عطا کی۔ میرواعظ نے کہا عوامی مجلس عمل کی بنیاد یہاں کے عوام کی مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے اٹھنے والی آواز کو دوام بخشنے کےلئے ڈالی گئی ہے تاکہ عوامی خواہشات کے مطابق اس دیرینہ مسئلہ کشمیر کو حل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا یہ بھارت اور پاکستان ہےں جنہوں1947 میںمسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میںلیااور دونوں ممالک کے اقوام متحدہ کی قرارداتوں پرباضابطہ دستخط ہےں۔
انہوں نے کہا اب تک دونوں ملکوں کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کئی خونریز جنگیں بھی ہوچکی ہیں اور تاشقند، شملہ اور آگرہ جیسے معاہدوں کے علاوہ بات چیت بھی ہوئی۔ میرواعظ نے کہا یہ شہید ملت میرواعظ مولوی فاروق تھے جنہوں نے روایت سے ہٹ کر مسئلہ کشمیر سے تینوں فریقوں کے مابین مذاکراتی عمل سے اس مسئلہ کاپُر امن حل نکالنے کا نعرہ دیا۔ انہوں نے کہا شہید ملت امن و امان کے ایک عظیم داعی تھے جو ہمیشہ ہندو پاک کے مابین دوستی کے خواہاں تھے۔ انہوں نے کہا شہید ملت کشمیر کو ہند پاک کے درمیان دوستی کے ایک پُل کی حیثیت سے دیکھنا چاہتے تھے جبکہ اس کے برعکس کہ دونوں ممالک آج بھی ہتھیاروں کی دوڑ میں اپنے قیمتی وسائل ضائع کررہے ہیں۔میرواعظ نے کہا عوامی مجلس عمل کی بنیاد سیاسی اقتدار اور مراعات و مفادات کیلئے نہیں ڈالی گئی بلکہ تنظیم دونوں ہمسایہ ملکوں سے اس مسئلے کی تاریخی حیثیت اور یہاں کے عوام کی امنگوں کے مطابق ایک پُر امن حل چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کشمیری عوام مصنوعی سرحدکی لکیر کھینچنے کے سبب اپنے عزیز و اقارب کے درمیان منقسم کئے گئے ہیں اسی لئے ہم نے ہمیشہ امن اور مفاہمت کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کشمیری قوم کسی ملک، مذہب یا تہذیب کےخلاف نہیں ہےں ہم فقط کشمیرتنازعہ کا پر امن اور جامع مذاکرات کے ذریعے ایک ایسا حل چاہتے ہیں جو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہو۔انہوںنے کہا طاقت و تشدد نے نہ تو ماضی میں اس مسئلے کو حل کیا اور نہ آئندہ کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا ہم ہند وپاک کی قیادت ،وزرائے اعظم نریند ر مودی اور عمران خان سے شری اٹل بہاری واجپائی کے طرز پر’انسانیت کے دائرے‘ میں بات چیت کے متمنی ہیں جس کےلئے ہماری تنظیم اورعوام کا بھر پور تعاون دینے کیلئے تیار ہے۔میرواعظ نے بھارتی تفتیشی ایجنسی این آئی اے کی جانب سے محبوس جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک پر کشمیری عوام اور قیادت کے مابین بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ کشمیر کے حل کے ضمن میں اتحاد و یکجہتی کو عملانے کا الزام عائد کرنے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد و یکجہتی قائم کرنا کوئی جرم نہیں ہے جبکہ 2008 سے اب تک متعدد بار عوامی تحریکوں کے ذریعے اس تنازعہ کو حل کرنے کےلئے اجتماعی طور آوایں اٹھائی گئیں۔
جناب میرواعظ نے کہا کہ طاقت اور تشدد کے بل پر یہاں کے نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کرنے کا عمل انتہائی منفی نتائج کا حامل ثابت ہو سکتا ہے اور حکومت ہندوستان نے کشمیری عوام کی جائز جدوجہد کو دبانے کیلئے جس طرح طاقت اور تشدد کی پالیسی اپنائی ہے اور کشمیر جیسے انسانی اور سیاسی مسئلے کو مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے کے بجائے فوجی قوت سے عبارت پالیسی اختیار کی ہے وہ اس پورے خطے کے امن کو پہلے سے لاحق خطرات میں اضافے کا موجب بن رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مزاحمتی قیادت کو آئے روز گھروں یا تھانوںمیں محصور کرنے، لوگوں کیخلا ف طاقت اور تشدد کی پالیسی پیلٹ اور بلٹ کا وحشیانہ استعمال اور حقوق انسانی کی سنگین پامالیاں یہ سب بھارتی حکمرانوں کی سرکاری پالیسی بن گئی ہے تاہم عالمی برادری اب زیادہ دیر تک کشمیری عوام پر ہو رہے مظالم کے تئیں چشم پوشی کی متحمل نہیں ہوسکتی اور کشمیر کے حالات کے حوالے سے اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن کی حالیہ رپورٹ حکومت ہندوستان کیلئے چشم کشا ہے ۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے پونچھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے جمعہ کو دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں واقع کس بلاری میں تلاشی مہم شروع کی اور دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پردہ فاش کیا۔
تلاشی کے دوران ٹیم نے ایک بیگ، ٹیپ سے لپٹے ہوئے چھ کنٹینر، جن میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) ہونے کا شبہ ہے، ایک جنگی سازوسامان کا پاؤچ، ایک لوہے کا ڈبہ جس میں میگزین ہونے کا امکان ہے، ٹیپ سے لپٹا ایک اور کنٹینر، 7.62 ایم ایم لائٹ مشین گن (ایل ایم جی) کا ایک میگزین، ایک ایلومینیم کنٹینر، دو اڈاپٹر اور ایک ٹفن برآمد کیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
دنیا
امریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
تہران، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا تو تہران سات خلیجی ممالک میں امریکہ سے منسلک توانائی، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے “زیرو ریڈ لائنز” کی حکمت عملی کا حوالہ دیا جبکہ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ان کا ملک ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
محسن رضائی نے جمعرات کو سرکاری ٹی وی چینل ‘پریس ٹی وی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اس خطے میں امریکی معیشت کی نبض ہمارے خطے سے ہو کر گزرتی ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی امریکی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمنی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس غیر مستحکم خطے میں امریکہ سے منسلک 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا تکنیکی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
رضائی نے خبردار کیا کہ “ہم نے ابھی تک ان اثاثوں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا ہے لیکن اگر جنگ چھڑ گئی تو ان میں سے بہت سی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور متعدد دیگر سائٹس تباہ ہو جائیں گی۔”
نیوز آؤٹ لیٹ ‘ڈراپ سائٹ’ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے سات شرائط رکھی ہیں اور جب تک وہ پوری نہیں ہوجاتیں، وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا اور نہ ہی مذاکرات شروع کرے گا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ جاری تنازعہ اور علاقائی تناؤ کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈیاں تین سال تک مستحکم ہونے سے رک سکتی ہیں۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی رائے دہندگان میں ایک منقسم ردعمل پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اس کی سیاسی قیمت کا اعتراف کیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر اصرار کیا کہ یہ فوجی حملے بہت پہلے ہو جانے چاہیے تھے۔
آنے والے انتخابات پر جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: “ایک طرح سے، وہ اسے پسند کر رہے ہیں کیونکہ میں وہ کر رہا ہوں جو دوسرے صدور کو کرنا چاہیے تھا، اور دوسری طرح سے شاید وہ اسے پسند نہیں کر رہے۔ اس کی ایک قیمت چکانی پڑتی ہے، جو میں فوری طور پر جان گیا تھا جب میں نے یہ کیا تھا، لیکن ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
میرا مطلب ہے، ایک طرح سے لوگ شاید اسے پسند نہ کریں، لیکن بہت سے لوگ، بہت سے عظیم محب وطن، اسے واقعی پسند کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “یہ کام دوسرے صدور کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ ایران کی جنگ اور ہم نے ان کا کباڑا کر دیا ہے اور ہم اس سلسلے کو تھوڑا مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔”
یہ بیانات فروری 2026 کو ایرانی سول، فوجی اور جوہری سائٹس پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ٹرمپ کے وسیع تر بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں واشنگٹن نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا۔ ان ابتدائی حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ ساتھ دیگر اعلیٰ حکام اور سینکڑوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
ایران نے جواب میں اسرائیلی اہداف اور خلیج میں امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں بار بار خلل ڈالا۔
یہ تنازعہ اب اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔
جون میں پاکستان میں ہونے والی ایک مفاہمت کی یادداشت، جس کا مقصد دشمنی کو روکنا اور تجارتی جہاز رانی کو بحال کرنا تھا، تنازعات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ناکام ہو گئی، جس کے بعد وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں۔
امریکہ اور دیگر مقامات پر خام تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اکتوبر کے کئی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی انتظام، مہنگائی اور ایران کی شمولیت والی جنگ پر بڑے پیمانے پر عوامی ناراضگی کے باعث صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر 30 سے 36 فیصد رہ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
الحان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ڈیموکریٹک رکن کانگریس الحان عمر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے عہدے کا حلف لیتے وقت ایک فرضی نام استعمال کیا تھا، تاہم ان کے دفتر نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ “چونکہ انہوں نے حلف اٹھانے کے لیے ایک جعلی نام استعمال کیا، اس لیے میرا ماننا ہے کہ انہیں فوری طور پر کانگریس سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی خاتون قانون ساز کا اصل نام الحان نور سعید علمی ہے، جس کا خاندانی نام ان کے سابق شوہر احمد نور سعید علمی سے ملتا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ الہان عمر نے “کھلے عام دھوکہ دہی کا اعتراف” کیا ہے اور ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ ان کی کانگریس کی نشست خالی ہو چکی ہے۔تاہم، الحان عمر نے ایسا کوئی اعتراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی عدالت نے یہ ثابت کیا ہے کہ انہوں نے کوئی جعلی شناخت استعمال کی تھی۔
ٹرمپ کے یہ بیانات وزارتِ انصاف کی جانب سے 21 اکتوبر کو عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز کے بعد سامنے آئے ہیں، جو الحان عمر کے واشنگٹن ڈی سی والے گھر پر وفاقی تلاشی سے متعلق تھی۔ اس دستاویز میں ان کی شناخت “الحان نور سعید علمی، عرف الہان عبداللہی عمر” کے طور پر کی گئی تھی۔ استغاثہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے یہ متبادل نام کیوں استعمال کیا، اور نہ ہی اس دستاویز سے یہ ثابت ہوا کہ الہان عمر نے کوئی دھوکہ دہی کی ہے۔
خاتون رکن کانگریس کے ترجمان نے فاکس نیوز کو بتایا، “یہ بالکل جھوٹ ہے۔ الحان عمر ہی ان کا اصل نام ہے۔”
وفاقی ایجنٹوں نے 12 اکتوبر کو امیگریشن اور شہریت کے ریکارڈ میں ممکنہ غلط بیانات کی تحقیقات کے سلسلے میں الہان عمر کے گھر کی تلاشی لی تھی۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
