تازہ ترین
مرکزی وزیر داخلہ 2روزہ دورے پر وادی وارد
خبراردو: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ وادی کے پہلے 2روزہ دورے پر سرینگربدھوار کو سرینگر پہنچ گئے۔ معلوم ہوا کہ موصوف ریاست کی تازہ ترین سیاسی و سیکورٹی صورتحال پر سیکورٹی ایجنسیوں اورانتظامیہ پر مفصل تبادلہ خیال کرنے کے علاوہ کئی اہم اُمورکی جانب سیکورٹی فورسز کی توجہ مبذول کرائیں گے۔
خفیہ ذرائع سے معلوم ہو اہے کہ وزیر موصوف وادی کشمیر میں نوجوانوں کی جانب سے عسکری صفوں میں شمولیت،جنگجوؤں کی جانب سے ہتھیار چھیننے کے واقعات اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے فرار اختیار کرنے کے بعد عسکری صفوں میں شمولیت جیسے واقعات میں اضافے پر سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔
خیال رہے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی کابینہ میں بحیثیت مرکزی وزیر داخلہ کا یہ پہلا دورہ ہے جس دوران وہ یہاں تازہ سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے سیکورٹی ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران کیساتھ حالات پر گہرائی کیساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بدھوار بعد دوپہر شیخ العالم انٹرنیشنل ہوائے اڈے پر پہنچ گئے جہاں پر ان کا استقبال گورنر ستیہ پال ملک اور ان کے مشیروں، چیف سیکرٹری بی وی ار سبھرامنیم، ڈپٹی کمشنر بڈگام ڈاکٹر سحرش اصغر اور دیگرپولیس و سیول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے کیا۔خفیہ ذرائع سے کے این ایس کو معلوم ہوا ہے کہ مرکزی وزیر دو روزہ دورے کے دوران سیکورٹی کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں تازہ ترین سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر موصوف میٹنگ کے دوران خصوصیت کیساتھ وادی کشمیر میں مقامی نوجوانوں کی جنگجوؤں کے تئیں رغبت اور عسکری صفوں میں شمولیت میں ہوشربا اضافہ پر تبادلہ خیال کریں گے۔ مرکزی وزیر سیکورٹی افسران سے مقامی نوجوانوں کی عسکری صفوں میں شمولیت کے پیچھے محرکات کو جاننے کی کوشش کریں گے۔ خفیہ ذرائع کا کہنا تھا کہ امت شاہ سیکورٹی کی جائزہ میٹنگ کے دوران وادی کشمیر میں ہتھیار چھینے جیسے واقعات پر بھی اعلیٰ حکام کیساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جنگجوؤں کی طرف سے سیکورٹی اہلکاروں سے ہتھیار چھیننے جیسے واقعات پر گہری تشویش اور فکر مندی ظاہر کی ہے جس دوران وہ دورہ وادی کے بیچ سیکورٹی ایجنسیوں سے ایسے واقعات کی روک تھام سے متعلق تجاویز طلب کریں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ کئی برسوں سے جنگجوؤں کی طرف سے وادی کے شمال و جنوب میں فورسز سے ہتھیار چھیننے کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے جس کو لے کر بی جے پی کی قیادت والی مرکزی سرکار کافی فکرمند دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر میں ہتھیار چھیننے کے واقعات پر قابو پانے کیلئے اگر چہ سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے قبل ہی بعض احتیاطی تدابیر اُٹھائی گئی ہیں تاہم انہیں نامکتفی سمجھتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے واقعات کی روک تھام کیلئے ٹھوس پالیسی ترتیب دینے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو روزہ دورے کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سیکورٹی ایجنسیوں کو سختی کیساتھ ایسے واقعات پر قابو پانے کی ہدایت دیں گے۔انہوں نے کہا کہ وزیر موصوف میٹنگ کے دوران محکمہ پولیس میں کام کررہے اہلکاروں کی جانب سے نوکری سے فرار اختیار کرنے اور جنگجوؤں کے ساتھ رابطہ بنانے کا بھی سنجیدہ نوٹس لیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سال 2016کے بعد سے وادی کشمیر میں محکمہ پولیس سے وابستہ درجنوں اہلکاروں نے فرار اختیار کرتے ہوئے جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرلی جس کے نتیجے میں محکمہ پولیس کو کہی محاذوں پر خفت کا سامنا کرنا پڑا۔معلوم ہوا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے نوکری کو لات مارنے اور مابعد جنگجوؤں کے ساتھ ہتھیار اُٹھانے پر بھی سیکورٹی حکام کیساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ امت شاہ محکمہ پولیس میں عارضی طور پر بھرتی ہوئے اہلکاروں پر کڑی نگاہ رکھنے اور ان کی جملہ حرکات و سکنات کو نوٹس میں لانے کیلئے سیکورٹی ایجنسیوں کو خصوصی ہدایات دیں گے۔ خفیہ ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر میں امن و قانون کی صورتحال کو پٹری پر لانے کیلئے قومی تحقیقاتی ایجنسی کے رول پر بھی تبادلہ خیال کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے حوالہ رقومات سے متعلق تحقیقات کے بعد وادی کشمیرمیں امن و قانون کی صورتحال میں نمایاں بہتری واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این آئی اے نے جموں وکشمیر میں علیحدگی پسند لیڈران اور جماعتوں کے خلاف کارروائی عمل میں لاکر یہاں امن و امان کی صورتحال کو معمول پر لانے کیلئے اہم کردار ادا کیا۔ اس سلسلے میں وزیر داخلہ امت شاہ میٹنگ کے دوران این آئی اے کی طرف سے آج تک کی گئی کارروائیوں پر بھی سیر حاصل تبادلہ خیال کریں گے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہتھیار چھینے اور پولیس اہلکاروں کا جنگجوؤں کے ساتھ شامل ہونے کے متعدد واقعات رونما ہونے کے بعد قومی تحقیقاتی ایجنسی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کا باضابطہ آغاز کیا۔ اس سلسلے میں این آئی اے نے محبوبہ مفتی کی سربراہی والی پی ڈی پی کے سابق ایم ایل اے اعجاز میر کو تحقیقاتی دائرے میں لاکر ان سے کئی دنوں تک پوچھ تاچھ کی۔
خفیہ ذرائع نے کشمیرنیوز سروس کو بتایا کہ مرکزی وزیر داخلہ دورے کے دوران حریت کانفرنس (ع) چیرمین میرواعظ عمر فاروق کی جانب سے مذاکرات کے تئیں حامی بھرنے پر بھی ریاستی انتظامیہ اور یہاں کی مین اسٹریم سیاسی پارٹیوں کیساتھ صلاح و مشورہ کریں گے۔ امت شاہ گورنر ستیہ پال ملک کی قیادت والی انتظامیہ کیساتھ ساتھ مین اسٹریم سیاسی جماعتوں اور سیول سوسائٹی ممبران کیساتھ ان کو مکمل طور پر بحال کرنے کیلئے مذاکراتی عمل میں ممکنہ پیش رفت پر صلاح و مشورہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس (ع) چیرمین میرواعظ عمر فاروق کی جانب سے بات چیت کی حامی بھرنے کے بعد مرکزی سرکار متوقع طور پر آنے والے دنوں میں مذاکرات کے حوالے سے کئی مثبت قدم اُٹھائے گی تاہم کسی بڑے فیصلے سے قبل مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ جموں وکشمیر کی تازہ ترین سیاسی صورتحال کے تناظر میں نئی دہلی اور حریت کے مابین مذاکرات عل پر سیاسی جماعتوں کیساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔ اس دوران معلوم ہوا ہے کہ وزیر داخلہ 2روزہ دورے کے دوران سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کیساتھ ساتھ سماج کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے ریاست کو درپیش مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
