تازہ ترین
ایوان صحافت کے تاریخ ساز انتخابات منعقد،شجاع الحق صدرمنتخب
خبراردو: ایوان صحافت کی طرف سے پہلے اور تاریخٰی انتخاب کو منعقد کرنے کے حوالے سے چیف الیکشن افسرمنظور انجم نے بتایا کہ تاریخی انتخابات کے دوران صحافیوں نے اس بات کو ثابت کرکے دکھایا کہ وہ جمہوری طرز کے کسی بھی اقدام کی حمایت میں پیش پیش ہے۔
ایوان صحافت (پریس کلب) کی طرف سے سوموار کو جمہوری طرز پر پہلے تاریخ ساز انتخابات منعقد کئے گئے جس دوران ایوان صحافت سے تعلق رکھنے والے رجسٹرڈ ممبران نے پولیو ویو میں قائم دفتر پر صبح سویرے سے ہی یہاں پہنچنا شروع کیا اور اپنی حق رائے دہی کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے موزوں، قابل اور دیانتدار اُمیدواروں کے حق میں اپنی رائے کا استعمال کیا۔ایوان صحافت کی طرف سے انتخابات کو منعقد کرانے کیلئے چیف الیکشن آفسر منظور انجم نے کشمیرنیوز سروس کو بتایا کہ صدارتی عہدے کیلئے کانٹنے کا مقابلہ رہا جس دوران صرف ایک ووٹ نے اُمیدواروں کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی این این آئی بی این کے نمائندے شجاع الحق نے 92ووٹ حاصل کئے جبکہ اُن کے مدمقابل اُمیدوار ہارون رشیدنے 91ووٹ حاصل کئے۔اسی طرح صدارتی عہدے کیلئے ایک اور اُمیدوار ذوالفقار ماجد نے 46ووٹ حاصل کئے۔منظور انجم کا کہنا تھا کہ نائب صدر کے عہدے کیلئے انڈیا توڈے اور کشمیر ریڈر سے وابستہ محمد معظم نے 130 جبکہ جنرل سیکرٹری عہدے کیلئے اشفاق تانترے نے 102ووٹ حاصل کئے۔

دیگر ایکزکیوٹیو ممبران جن میں فاروق جاوید خان، حبیب نقاش، ارشد حسین شاہ، شفاعت کرا، الطاف بابا، نثار احمد بٹ، عاقب جاوید اور گوہر گیلانی شامل ہیں نے بالترتیب 178،150،122،105،86،122،99،106ووٹ حاصل کئے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کی صحافتی برادری میں یہ بات زبان زد عام تھی کہ یہاں آپسی بھائی چارے اور رشتے کا فقدان ہے تاہم آج کے تاریخ ساز الیکشن نے یہ بات ثابت کردکھائی کہ یہاں کی صحافتی برادری اپنے مستقبل کے حوالے سے کافی فکر مند ہے جس کیلئے انہوں نے جمہوری طریقے پر اہم کردار ادا کرتے ہوئے اپنے نمائندوں کا انتخاب کیا۔انہوں نے کہا کہ الیکشن پراسس کے دوران کئی اتار چڑھاو دیکھنے کو ملے۔ مجھ پر کافی دباؤ تھا۔
کچھ صحافی حضرات نہیں چاہتے تھے کہ ایوان صحافت کیلئے انتخابات منعقد ہوں لیکن جس طرح سے یہاں کے نوجوان اور کہنہ مشق صحافیوں نے اپنی حمایت پیش پیش رکھتے ہوئے الیکشن کو کامیاب بنایا وہ واقعی قابل سراہنا ہے۔منظور انجم نے کے این ایس کو انتخابی عمل اختتام پذیر ہونے کے بعد بات چیت کے دوران بتایا کہ آج کے تاریخ ساز الیکشن سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ مستقبل میں وادی کشمیر کے میڈیائی ادارے مضبوط اور مسحکم ہوں گے اور یہاں کے صحافیوں کا مستقبل بھی محفوط ہوگا۔چیف الیکشن افسر کا کہنا تھا کہ دو میڈیائی اداروں نے الیکشن عمل کا مکمل طور پر بائیکاٹ کیا تاہم ان کی یہ کوشش مکمل طور پر ناکام ہوئی کیوں کہ وہ اس پورے پراسس کو سبوتاژ کرنا چاہتے تھے جس کا دیگر صحافیوں نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ جو صحافی حضرات آج ایوان صحافت اْئے اور اپنی حق رائے دہی کا استعمال کیا وہ ایک مثبت سوچ لے کر آئے تھے جس میں وہ کامیاب ہوگئے۔منظور انجم کے بقول مجھ پر بہت سارا دباؤ تھا تاکہ یہ الیکشن پایہ تکمیل تک نہ پہنچ پائے تاہم صحافی عاشق پیر زادہ اور رشید راحل نے جس طرح سے میرا سپورٹ کیا اور میرے شانہ بشانہ رہے وہ قابل تحسین ہے۔ادھر ادارہ کشمیر نیوز سروس کے مدیر اعلیٰ محمد اسلم بٹ نے ایوان صحافت (پریس کلب) کے نومنتخب نظم کو دل کی عمیق گہرائی سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی ہے کہ صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کی خاطر نیا نظم اپنا اہم کردار ادا کریگا۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
