تازہ ترین
پنجاب اور ہریانہ کی عدالت عالیہ نے ریاستی سرکار اور 6مجرموں کے نام نوٹس جاری کئے
خبراردو: کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس میں مجرموں کو عدالت کی طرف سے مقرر کی گئی سزا میں اضافے کو لے کر پنجاب اور ہریانہ کی عدالت عالیہ نے جموں و کشمیر کی سرکار اور واقعے میں 6مجرموں کو نوٹس اجرا کی ہیں۔
گزشتہ برس جنوری کے مہینے میں پیش آئے انسانیت سوز واقعے جس میں چند افراد نے منصوبہ بند سازش کے تحت معصوم آٹھ سالہ بچی کو اپنی درندگی کا نشانہ بناکر بعد میں اُسے قتل کرڈالا، کے معاملے پر پنجاب اور ہریانہ کی عدالت عالیہ نے جمعرات کو مقتول بچی کے والد کے اسرار پر ریاست جموں وکشمیر کی سرکار اور واقعے میں عدالت کی طرف سے مجرم قرار دئے گئے 6افراد کے نام نوٹس جاری کردی ہے۔عدالت عالیہ نے مذکورہ نوٹس آٹھ سالہ مقتول بچی کے والد کی طرف سے مجرموں کی سزا میں اضافہ کرنے کے حق میں دائر کی تھی جس کے بعد عدالت عالیہ نے عرضی کا سنجیدہ نوٹس لے کر ریاستی سرکار اور واقعے میں مجرم قرار پاچکے 6افراد کے نام نوٹس جاری کردی۔ پنجاب اور ہریانہ کی عدالتوں نے اُس ملزم کے نام بھی نوٹس جاری کردی ہے جس کونچلی عدالت نے الزامات سے بری قرار دیا تھا۔
مقتول بچی کے والد نے دائر عرضی میں مجرموں کو نچلی عدالت کی جانب سے دی جاچکی سزا کو پھانسی اور عمر قید کی سزا میں تبدیل کرنے کی اپیل کرنے کے علاوہ عدالت کی جانب سے بری قرار دئے گئے ایک ملزم سے متعلق عدالتی فیصلے کو بھی چلینج کیا ہے۔درخواست گذار کی طرف سے کیس کی پیروی کررہے ایڈوکیٹ اُتسو بینس نے بتایا کہ پنجاب اور ہریانہ کی عدالت عالیہ نے جمعرات کواس سلسلے میں جموں وکشمیر کی سرکار اور 6مجرموں کے نام نوٹس جاری کردی۔انہوں نے کہا کہ عدالت عالیہ کے ڈیوژن بنچ جسٹس راجیو شرما اور جسٹس ہریندر سنگھ سدھو نے کیس کی اگلی سماعت 7اگست کو مقرر کی۔انہوں نے کہا کہ درخواست گذار نے عرضی میں کہا ہے کہ واقعے کے منصوبہ ساز سانجی رام، اسپیشل پولیس افسر دیپک کھجوریہ اور پرویش کمار کی عمر قید کو پھانسی کی سزا میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔
درخواست گذار کا مزید کہنا ہے کہ اسپیشل پولیس افسر سریندر ورما، ہیڈ کانسٹیبل تلک راج اور سب انسپکٹر آنند دتا کی پانچ سالہ سزا کو عمر قید میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔خیال رہے گزشتہ ماہ پٹھانکوٹ کی عدالت نے واقعے میں مجرم قرار دئے گئے سانجی رام، دیپک کھجوریہ اور پرویش کمار کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے انہیں رنبیر پینل کورڈ کے کئی دفعات جن میں مجرمانہ منصوبہ بندی، قتل، اغوا، اجتماعی عصمت دری، ثبوتوں کو ضائع کرنا، متاثرہ بچی کو نشیلی ادویات دینے کے نتیجے میں مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی تھی۔اس موقعے پر پٹھانکوٹ کی نچلی عدالت نے سانجی رام کے بیٹے وشال جنگوترا کو بری کرتے ہوئے دیگر تین افراد جن میں انند دتا، تلک راج اور سریندر ورما کو پانچ پانچ سال کی سزا سنائی تھی۔
واضح رہے گزشتہ برس 10جنوری کو کٹھوعہ کے رسانہ نامی گاؤں میں آٹھ سالہ معصوم بچی مویشیوں کو چرانے کے دوران اچانک لاپتہ ہوگئی جس کے بعد بسیار تلاش کرنے کے بعد اُس کا کہی اتہ پتہ معلوم نہ ہوسکا۔ا س دوران بچی کے اہل خانہ نے پولیس تھانے میں شکایت درج کی جس کے بعد پولیس نے بھی بچی کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر کئی مقامات پر تلاش کیا۔ اسی اثنا میں 17جنوری 2019کو مذکورہ بچی مردہ اور مسخ شدہ حالت میں نزدیکی جنگلات سے برآمد کی گئی جس کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ بچی کے ساتھ اجتماعی طور پر جنسی زیادتی کی گئی ہے۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
