تازہ ترین
قبل ازوقت پیدا ہونے والے بچے
خبراردو
دُنیا بَھر میں ہر سال صحت سے متعلق مختلف این جی اوز اور فاؤنڈیشنز کے زیرِاہتمام 17نومبر کو ’’ورلڈ پِری میچوریٹی ڈے‘‘ منایا جاتا ہے، تاکہ قبل ازوقت پیدایش سے متعلق احتیاطی تدابیر اور دیگر معلومات عام کرکےپِری میچور بچّوں کی پیدایش کی شرح میں کمی لائی جاسکے۔
امسال جو تھیم منتخب کیا گیا ہے،وہ ہے”Born Too Soon: Providing the right care, at the right time, in the right place”۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال دُنیا بَھر میں 15ملین بچّے وقت سے پہلے تولّد ہوتے ہیں،جب کہ پانچ سال سے کم عُمر بچّوں میں ہونے والی اموات کا ایک بڑا حصّہ قبل ازوقت پیدا ہونے والے یا ایک ماہ سے کم عُمر بچّوں پر مشتمل ہے۔
واضح رہے کہ2015ء میں تقریباً ایک ملین بچّوں کی اموات اِسی عُمر میں ہوئیں ۔عالمی سطح پر کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق 184مُمالک میں 5سے 8فی صد بچّے پری ٹرم پیدا ہوتے ہیں،ان میں سے دوتہائی بچّوں کی زندگیاں بہتر سہولتوں اور بروقت علاج سے بچائی جا سکتی ہیں۔ 2016ء میں یونیسیف نے ایک رپورٹ جاری کی ،جس کے مطابق پاکستان میں سالانہ 860,000بچّے قبل از وقت جنم لیتے ہیں،جن میں سے 102,000انتقال کرجاتے ہیں۔
جب کہ گزشتہ برس جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر روز چھے سو سے زائد نوزائیدہ بچّے قبل از وقت پیدائش یا دیگر پیچیدگیوں کے سبب فوت ہو جاتے ہیں۔اس اعتبار سے پاکستان ایسے دس بڑے مُمالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے، جہاں قبل از وقت پیدایش کی پیچیدگیوں کے سبب بچّوں کی ہلاکت کی شرح زیادہ ہے۔
ہر نوع میں حمل کی مدّت مختلف ہوتی ہے۔نوعِ انسانی میںیہ مدّت نو ماہ پر مشتمل ہے،جس کے بعدہی زچگی عمل میں آتی ہے۔ بعض اوقات بچّہ مدّت مکمل کرنے سے قبل پیداہوجاتا ہے،جسے طبّی اصطلاح میں پِری میچور یا پری ٹرم کہا جاتا ہے۔قبل از وقت پیدا ہونے والے بچّوں کی ہفتوں کے اعتبار سے درجہ بندی کی گئی ہے،جس کے مطابق 20سے32ہفتوں کے دوران پیدا ہونے والے بہت زیادہ کم عُمر(very preterm )،32سے 34ہفتوں کے دوران جنم لینے والے درمیانی کم عُمر(moderate preterm) اور34سے37 ہفتوں کے دوران توّلد ہونے والے کم عُمر(late preterm )بچّےکہلاتے ہیں۔ ترقّی یافتہ مُمالک میں 24ہفتوں کی مدّت میں پیدا ہونے والے بچّوں میں 50فی صد زندہ بچ جاتے ہیں، اس کے برعکس ترقّی پذیر مُمالک میں 28ہفتوں سے پہلے پیدا ہونے والے 90فی صد بچّے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔
اِن بچّوں میں قوّتِ مدافعت کی کمی کے ساتھ ساتھ ذہنی صلاحیتیں، سیکھنے کا عمل، قوّتِ سماعت اور قوّتِ بینائی دیگر بچّوں کی نسبت کم ہوتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پِری میچور بچّیوں میں عام لڑکیوں کی نسبت ڈیپریشن اور دماغی ہیجان کے خطرات زیادہ پائے جاتے ہیں،جب کہ پِری میچور بچّوں میں اعتماد اور دوستانہ رویے کی کمی ہوتی ہے۔نیز،بعض اوقات جسم کےکسی اہم عضوکی نشو ونما نہیں ہوپاتی،نتیجتاً وہ جسمانی طورپر کم زورہوتے ہیں یا پھرکوئی معذوری لاحق ہوتی ہے۔
قبل از وقت پیدایش کے کئی محرّکات ہیں۔تاہم بنیادی وجہ ماں کی خرابیٔ صحت ہے۔جیسےحاملہ کااپنی غذاکی جانب توجّہ نہ دینا آئرن اور خون کی کمی کا سبب بنتا ہے،جس کے نتیجے میں بچّے کی نشوونما متاثر ہوجاتی ہے۔علاوہ ازیں،ماں کا کم عُمر ہونا، جڑواں یا اس سے زائد بچّوں کی پیدایش، بُلند فشارِ خون،ذیابطیس،عارضۂ قلب،نشہ آور ادویہ یا تمباکو نوشی کی لَت میں مبتلا ہونا ،سانس،جگر، دِل یا گُردے کی کوئی بیماری، دائمی کھانسی،جوڑوں کے درد کا مرض وغیرہ بھی قبل از وقت زچگی کی وجوہ بن جاتی ہیں۔
بعض کیسز میں بچّہ دانی کی بیماریاں،Fetal distress اور مختلف موروثی عوراض بھی وجہ بن سکتے ہیں۔بعض اوقات مثانے،گُردےیا بچّہ دانی کا انفیکشن یا بچّہ دانی کا منہ ڈھیلا ہونا بھی پری ٹرم پیدایش کا باعث بن سکتا ہے۔ علاوہ ازیں،حمل سے قبل ماں کا وزن 45 کلو گرام سے کم یا 85 کلو گرام سے زیادہ ،قد4 فٹ 11 انچ سے کم اورخون کا گروپ نیگیٹو ہونا بھی قبل از وقت پیدایش کے محرّکات بن سکتے ہیں۔نیز،درج ذیل ممکنہ علامات بہت اہم ہیں،جن سے کوئی بھی حاملہ دوچار ہوسکتی ہے۔مثلاً:
وزن:
حمل کے دوران حاملہ کا وزن بہت تیزی سے بڑھنے لگے یا اس میں اضافہ کی رفتار معمول سے کم ہو۔ عمومی طور پر حاملہ کا وزن حمل کے 12ویں سے14ویں ہفتے کے دوران ایک کلو گرام کے لگ بھگ بڑھتا ہے۔14 ویں سے 28ویں ہفتے کے دوران3تا4کلو گرام اور 28ویں سے40ویں ہفتے تک تقریباً 4سے6کلو گرام کا اضافہ ہوتا ہے۔ یوں مجموعی طور پر 10سے12کلو گرام وزن بڑھتا ہے۔ اس مناسبت سےوزن میں اضافےکی رفتار معمول کے مطابق نہ ہونا خطرے کی علامت ہو سکتا ہے۔
سُوجن:
پائوں یا جسم پر سُوجن کی پہلی علامت بالعموم اس طرح ظاہر ہوتی ہے ،جب انگوٹھی یا چُوڑی پھنسنےلگے، جوتے تنگ محسوس ہوں۔ دورانِ حمل جسم پر سُوجن خطرے کی گھنٹی بھی ہو سکتی ہے،لہٰذا اس حوالے سے خاص دھیان رکھا جائے۔
سَردرد:
چکرآنے ،آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا جانے،اکثر سَربوجھل اوردرد رہنے جیسی علامات عموماً خواتین معمولی جان کر نظرانداز کردیتی ہیں،جو درست نہیں۔کیوں کہ یہ علامات خون کا دباؤ بڑھنے کے سبب بھی ظاہر ہوسکتی ہیں،بہتر تو یہی ہے کہ معالج کو آگاہ کیا جائے۔
خون کا اخراج:
دورانِ حمل کسی بھی مرحلے پراگر زائد مقدار میں رطوبت یا خون خارج ہو، تو گھریلو ٹونے ٹوٹکوں کی بجائےمعالج سے رجوع کیا جائے، کیوں کہ یہ کیفیت زیادہ عرصے برقرار رہے، تو زچہ و بچّہ کی زندگی خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے اور جان بچانے کے لیے وقت سے پہلے پیدایش ناگزیر ہوجاتی ہے۔
تشنّج:
بعض اوقات حاملہ جھٹکے لگنے کی بیماری میں( جسے طبّی اصطلاح میں تشنّج کہا جاتا ہے) مبتلا ہوجاتی ہے۔یہ حمل کی انتہائی خطرناک علامت ہے،کیوں کہ جھٹکنے لگنے سے بچّہ رحمِ مادر میں انتقال کرسکتا ہے یا پھر جان بچانے کے لیے قبل ازوقت زچگی کروائی جاتی ہے،لہٰذا ایسی صورت میں معالج سے رابطہ ناگزیر ہے کہ معمولی سی کوتاہی یا تاخیر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
دردِ زہ جیسا درد:
بعض اوقات حمل کی مدّت (40ہفتے) پورے ہونے سے قبل کسی بھی وقت دردِ زہ جیسی تکلیف شروع ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے یہ علامت قبل ازوقت بچّے کی پیدایش کی ہو۔
شکمِ مادر میں بچّے کی حرکت:
بچّے کی حرکت بالعموم حمل کے چار ماہ مکمل ہونے پر محسوس ہونے لگتی ہے اور ماں جلد ہی معمول کی حرکات سے آشنا ہو جاتی ہے۔ معمول میں تغیر ایک غیر معمولی علامت ہے۔ حرکت معمول سے زیادہ یا کم ہو یا بالکل ختم ہو جائے، توجس قدر جلد ہوسکے ،معالج سے رجوع کیا جائے۔یاد رکھیے، دورانِ حمل باقاعدگی سے چیک اپ صحت مندی کے ساتھ حمل کی مدّت پوری کرنے کے لیےناگزیرہے۔
قبل از وقت پیدا ہونے والے بچّوں کے مسائل:
قبل از وقت پیدایش کی وجہ سے عموماًبچّے طبّی مسائل کا شکا ر ہوجاتے ہیں، کیوں کہ قدرتی نظام کے تحت ماں کے پیٹ میں بچّے کو نشوونما کے لیے ایک خاص ماحول ملتا ہے۔40 ہفتے کی مدّت مکمل کرکے بچّہ شکمِ مادر سے باہر کی دُنیا میں خودبخودسانس لینے کے قابل ہوجاتا ہے۔لہٰذا اگر زچگی قبل از وقت ہوجائے، تو ایسے بچّوں کا دیگر بچّوں کی نسبت خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔
یہ بچّے اپنا جسمانی درجۂ حرارت قائم نہیں رکھ پاتے، کیوں کہ اِن کی جِلد کے نیچے نارمل چربی کی تہہ نہیں ہوتی، اس لیے انہیں سرما میں ٹھنڈ سے اور گرمی کے موسم میں زیادہ درجۂ حرارت سے بچانا بےحد ضروری ہوتا ہے،عموماً پِری میچور بچّوں کو انکیوبیٹرمیں خاص مدّت تک رکھا جاتا ہے۔اگرنومولود کی صحت کے پیشِ نظرمعالج انکیوبیٹر میں رکھنے کا مشورہ نہ دے، تب بھی ایسے بچّوں کابہت خیال رکھا جائے۔ پیدایش کے فوراً بعد خوراک شروع کروانا بہت اہم مرحلہ ہے۔
کوشش کی جائے کہ بچّہ پیدایش کے ایک گھنٹے کے اندر ماں کا دودھ پی لے،کیوں کہ وہ چاہےمقررہ مدّت سے جتنے ہفتے قبل پیدا ہو، اُس کا نظامِ ہضم ماں کا دودھ فوری قبول کرلیتا ہے۔چوں کہ اِن بچّوں کے جسم میں گلوکوز محفوظ نہیں ہوتا، اس لیےوقفے وقفے سے دودھ پلایا جائے۔ماں کا دودھ اس لیے بھی ضروری ہے کہ کیلشیم کی کمی سے بچّے کو جھٹکے لگ سکتے ہیں۔پِری میچور بچّوں میں سانس کا مرض(Idiopathic Respiratory Distress) ایک خطرناک بیماری ہے۔اگر بچّے کی سانس کی رفتار سُست ہو یا سانس لینے میں دشواری ہو، تو فوراً اسپتال لےجائیں،تاکہ بروقت تشخیص کے بعد فوری علاج ہوسکے۔
اس مرض میں بچّے کے پھیپھڑوں میں مخصوص دوا داخل کی جاتی ہے،جو پاکستان میں بھی دستیاب ہے۔کم عُمر بچّے کو دودھ پلانے کے بعد ڈکار دلوا کر 30ڈگری پر لٹایا جائے، سیدھانہ لٹائیں۔کیوں کہ بعض اوقات دودھ اُبکائی کی صورت مُنہ کے راستے ناک میں آجاتا ہے، جس سے سانس رکنے لگتی ہے۔اور اگرپھیپھڑوں میں چلا جائے،تو نمونیا ہوسکتا ہے۔یہ بچّےیرقان سے بھی جلد متاثرہو جاتے ہیں اورتاخیر سے صحت یاب ہوتے ہیں۔یرقان کی صُورت میں معالج سے رجوع کیا جائے، تاکہ بروقت درست علاج ہوسکے۔واضح رہے کہ یہ یرقان ماں کی خوراک کی وجہ سے ہرگز نہیں ہوتا۔
قبل از وقت جنم لینے والے بچّوں میں پیٹ پُھولنے اور خون کے اخراج کی بیماری، جسے طبّی اصطلاح میں”Necrotizing Enterocolitis”کہا جاتا ہے، ایک عام اور جان لیوا بیماری ہے، مگر مناسب احتیاط اور ماں کا دودھ جلد شروع کروانے سے اس کا علاج ممکن ہے۔پھرپِری ٹرم بچّے قوّتِ مدافعت کی کمی کے سبب انفیکشن کا بھی جلد شکار ہو سکتے ہیں، اس لیےماں اپنے ہاتھوں اوربچّے کی صفائی کا خصوصی خیال رکھے اور اپنا دودھ لازمی پلائے کہ ماں کا دودھ ہی پہلی ویکسین ہوتا ہے،جو قوّتِ مدافعت بڑھاتا ہے۔اِن بچّوں میں جھٹکےمختلف وجوہ سے لگ سکتے ہیں،لہٰذا ماہرِ امراضِ اطفال سے رجوع کیا جائے۔
زچگی کے لیے کسی قریبی کلینک یا اسپتال کا انتخاب کیا جائے، جو نہ صرف گھر سے قریب ہو، بلکہ تمام طبّی سہولتیں اور 24گھنٹے عملہ بھی دستیاب ہو۔ مزید برآںبچّوں کی نگہداشت کے لیے ضروری آلات جیسے انکیوبیٹر، آکسیجن سلنڈر اور مخصوص مشینیں وغیرہ بھی میسّر ہوں،کیوں کہ ان آلات کے بغیر پِری ٹرم بچّوں کے زندہ رہنے کی اُمید بہت کم ہوتی ہے۔نیز، ایسے بچّوں کو مناسب دیکھ بھال کے لیے انکیو بیٹر میں رکھا جاتا ہے اور زیادہ افراد کو چُھونے بھی نہیں دیا جاتا ،کیوں کہ یہ جراثیم سے جلد متاثر ہوسکتے ہیں۔عمومی طور پر حاملہ میںقبل از وقت زچگی کی علامات ظاہر ہوں، تو فوری آپریشن کردیا جاتا ہے، تاکہ ماں اور بچّے کی جان بچائی جا سکے۔
ماں کو اگر قبل از وقت درو شروع ہو جائے،خاص طور پر پیٹ یا کمر کے نچلے حصّے میں تو فوری طور پر بستر پر لٹا دیں، ماں کو تسلّی دیں اور اس دوران معالج سےمشورہ کریں۔ اگر اسپتال لے جانے کی ضرور ت پڑے تو تاخیر کیے بغیر لے جائیں،کیوں کہ ایسی ادویہ اور احتیاطی تدابیر موجود ہیں، جن سے قبل از وقت پیدایش روکی جا سکتی ہے۔حاملہ سے اچھی بات اور اچھی طرح سے بات کریں۔
نیز،پینے کے لیے دودھ یا شربت موسم کے مطابق ضرور دیں۔ پیدایش کے وقت اردگرد کے ماحول کا درجۂ حرارت گرم ہونا چاہیے۔ پیدایش کے فوراً بعدبستر کی چادر تبدیل کر کے خشک چادر میں لیٹائیں،اس دوران ماں کی سانس اور رنگت کا جائزہ لیتے رہیں۔نومولود کو کپڑے پہنا کر ایک گھنٹے کے اندر اندر ماں کا دودھ ضرور پلوائیں ۔ پھر ہر دو گھنٹے بعد دودھ پلاتے رہیں ،جب کہ نوزائیدہ کا ماہرِ اطفال سے تفصیلی معائنہ کروائیں اور اس کی ہدایات پر عمل بھی کیا جائے۔
پِری ٹرم بچّوں کے لیے بعض وٹامنز اور منرلز 6سے 8ہفتے تک ضروری ہوتے ہیں،جن کا باقاعدہ استعمال انہیں نارمل وزن تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ اگر پہلی زچگی پِری ٹرم ہو، تو آئندہ حمل میں 17.2فی صد امکان ہوتا ہے کہ دوسرا بچّہ بھی پِری ٹرم پیدا ہوگا۔ اگر پہلے دو بچّے پِری ٹرم ہوں، تو تیسری زچگی میں یہ امکان 28.4فی صد بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ماں بننے والی خواتین اپناطبّی معائنہ اور کسی بھی بیماری کی صُورت میں اس کا علاج لازماًکروائیں ۔ اپنی غذا کا خاص خیال رکھا جائے کہ اگر ماں بیمار اور لاغر ہے، تو اس کے اثرات بچّے پر بھی مرتّب ہوں گے۔
اس ضمن میں نوزائیدہ بچّوں کے انتہائی نگہداشت کے اداروں کا قیام، تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتالوں میں تمام سہولتوں کا موجود ہونا، حکومتی سطح پر صحت کی پالیسی کا تسلسل اور بہتری،نئے اسپتال اور ایم سی ایچ سینٹرز(Maternal And Child Health Care Centers)قائم کرنا، ڈاکٹرزاور پیرا میڈیکس کا اس شعبے میں تربیت یافتہ ہونا، ہر سطح تک عمومی معلومات فراہم کرنا وغیرہ پِری ٹرم زچگی کو نارمل حمل کی مدّت تک لے جانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
جیو نیوز
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
