پاکستان
’’ریاست ِمدینہ‘‘
سلیم صافی
موت سے مفر ممکن نہیں لیکن اگر مقتول کو فتویٰ لگا کر مجرم اور ظالم کے طور پر بھی پیش کیا جائے تو یہ قتل در قتل یا تہہ در تہہ ظلم بن جاتا ہے۔
معروف پشتو شاعر مطیع اللہ تراب اپنی ایک نظم میں دہشت گرد کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھے مارنا ہے تو ضرور مار دیجئے لیکن اللہ کا واسطہ کہ قتل کے وقت میرے کاندھے پر کافر کا لفظ لکھ کرفتویٰ نہ لگائیے۔
گویا وہ موت کو گلے لگانے کیلئے تیار ہے لیکن کفر کا فتویٰ سہنے کو نہیں۔ مرحوم نقیب اللہ محسود کے ساتھ یہ تہہ در تہہ ظلم روا رکھا گیا۔ ایک طرف وہ دو اور ساتھیوں کے ساتھ بےگناہ قتل کئے گئے۔
دوسری طرف ان کے ماتھے پر دہشت گرد کا لیبل لگا دیا گیا اور تیسری طرف وہ کسی دہشت گرد کے ہاتھوں نہیں بلکہ ان باوردی پولیس کے ہاتھوں مارے گئے جنہیں ان جیسے شہریوں کی جان، مال اور عزت کی رکھوالی کی تنخواہ ملتی ہے۔
رائو انوار اینڈ کمپنی کے ہاتھوں نقیب اللہ محسود کے ساتھ اس ظلم کے خلاف کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر آواز اٹھائی تو یہ سیاست کا ایشو بن گیا۔ کراچی اور اسلام آباد میں دھرنے دئیے گئے۔
کوئی لیڈر اسلام آباد کے دھرنے میں گیا تو کوئی کراچی کے دھرنے میں لیکن پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان دونوں شہروں میں گئے اور وعدے کئے کہ وہ رائو انوار کو سزا دلوا کر نقیب اللہ محسود جیسے لوگوں کو انصاف دلوائیں گے۔ عوام اور میڈیا کے احتجاج کے پیشِ نظر سندھ پولیس نے انکوائری کمیٹی بنائی۔ انکوائری کرنے والے پولیس افسران نے رسک لے کر غیرت کا مظاہرہ کیا اور اپنی رپورٹ میں نقیب اللہ محسود کو بےگناہ جبکہ رائو انوار کو ذمہ دار قرار دیا۔
مقدمہ درج ہونے کے بعد رائو انوار غائب ہو گئے اور کہا جاتا ہے کہ وہ اسلام آباد میں کسی مخصوص اور محفوظ مقام پر مہمان رہے۔ منت ترلوں کے بعد وہ بڑے طمطراق کے ساتھ جسٹس(ر) ثاقب نثار کی عدالت میں پیش ہوئے اور انہیں عزت و احترام کے ساتھ کراچی منتقل کیا گیا۔ بدقسمتی سے سیاست چمکانے کا وقت گزر گیا تو سیاسی لیڈروں نے نقیب اللہ محسود کو بھلا دیا البتہ کراچی کے ایک نوجوان جبران ناصر آخری وقت تک ان کے ساتھ کھڑے رہے۔ نقیب اللہ محسود کے بوڑھے والد دل میں نقیب اللہ کے بچھڑنے کا غم لئے اور کاندھوں پر ان کی بیوہ اور بچوں کا بوجھ اٹھائے کراچی کی عدالتوں کے چکر لگاتے رہے۔ کبھی عمران خان اور کبھی دیگر طاقتوروں سے التجائیں کرتے اور انصاف کی بھیک مانگتے رہے لیکن سزا دلوانا تو درکنار الٹا رائو انوار ضمانت پر رہا ہو گئے۔
افسوس کہ بیماری کی بنیاد پر نواز شریف کی ضمانت پر رہائی سے تڑپنے والے پی ٹی آئی کے کسی حکمران کو رائو انوار کی رہائی سے کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ نقیب اللہ محسود کے نام پر پہچان حاصل کرنے والے سیف الرحمان محسود نے قومی اسمبلی کا ممبر بننے کے بعد دوبارہ نقیب اللہ کا نام لیا اور نہ پی ٹی آئی کے کسی اور پختون ممبر اسمبلی نے۔
نقیب کے والد محمد خان ”ریاستِ مدینہ“ میں زنجیرِ عدل ہلاتے ہلاتے کینسر کے مریض بن گئے اور کیس کی پیروی کے لئے کراچی جانے سے بھی قاصر ہو گئے۔ ابھی چند روز قبل جبران ناصر اس مشن پر اسلام آباد آئے تھے کہ ان کا وڈیو بیان لے جا کر کراچی کی عدالت میں پیش کردیں تاکہ وہ اور ان کے ساتھی بطور وکیل نقیب کے کیس کی پیروی کر سکیں۔
بہرحال محمد خان اپنے مقتول بیٹے کے لئے انصاف اور رائو انوار کے لئے سزا کی آرزو لئے اس دار فانی سے کوچ کرگئے جبکہ نقیب اللہ محسود سمیت چار سو سے زائد انسانوں کے قتل کے ملزم رائو انوار دندناتے پھررہے ہیں تاہم افسوس کہ ”ریاستِ مدینہ“ کے امیرالمومنین اپنے سب وعدے بھول گئے ہیں اور رائو انوار یا ان کے سرپرستوں سے ان کے خوف کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے محمد خان کے انتقال پر تعزیتی بیان جاری کرنے کی ہمت بھی نہیں کی۔
نقیب اللہ محسود کے قتل کا سانحہ تو چلیں ”ریاستِ مدینہ“ کے قیام سے پہلے رونما ہوا تھا لیکن ایس پی طاہر داوڑکا واقعہ تو ”ریاستِ مدینہ“ کے پایہ تخت اسلام آباد میں اس وقت سامنے آیا جب عمران خان ”امیرالمومنین“ بنے تھے اور بات بات پر اللہ کو جان دینے والے شہریار آفریدی وزیرداخلہ تھے۔
پشاور کے شہریوں کی جان ومال کی حفاظت پر مامور پولیس ایس پی طاہر داوڑ اسلام آباد سے اٹھا کر غائب کئے گئے۔ جس کے بعد طاہرداوڑ کی لاش افغانستان سے برآمدہوئی۔ شہریار آفریدی نے اسمبلی کے فلور پر گلا پھاڑ پھاڑ کر اور قسمیں اٹھا اٹھا کر طاہر داوڑ کے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے دعوے کئے جبکہ ”امیرالمومنین“ نے مقتول کے بھائی اور بچوں کو وزیراعظم ہائوس بلا کر انصاف دلانے کے وعدے کئے لیکن آج تک برائے نام انکوائری رپورٹ بھی سامنے نہیں آئی۔
طاہرداوڑ محمود خان عرف بزدار پلس کی پولیس کے ایس پی تھے جو عمران خان کی سلطنت کے مرکز سے اٹھائے گئے تھے جبکہ انکوائری شہریار آفریدی نے کرنا تھی۔ سانحہ ساہیوال کو دیکھ لیجئے کہ جس کا زخم تو ابھی تازہ ہے جس میں بڑے آرام سے سب ملزمان بری ہوگئے جبکہ مقتولین کے اہل خانہ کو اتنا دبادیا گیا ہے کہ اب وہ پیروی کرنے کے بھی قابل نہیں رہے۔
افسوس صرف اس بات کا نہیں کہ انصاف کا حصول تحریک انصاف کی حکومت میں ناممکن بن گیا ہے بلکہ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ حکمران اتنے ڈھیٹ ہو گئے ہیں کہ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی ”ریاستِ مدینہ“ کا نام استعمال کرنے سے باز نہیں آتے۔
قابلِ صد احترام مولانا طارق جمیل صاحب کا فتویٰ درکار ہے کہ کیا ایسی حکومت کے لئے ”ریاستِ مدینہ“ کا پاک نام استعمال کرنا مناسب ہے؟ شہریار آفریدی اور علی محمد خان بتائیں کہ کیا نقیب اللہ محسود، طاہر داوڑ اور سانحہ ساہیوال کے مقتولین کے ورثا کی آہوں سے اب بھی عرش ہلتا ہے یا کہ نہیں؟
واضح اور یاد رہے کہ جان اللہ نے لینی ہے اور ایک دن ہم سب نے اسی طرح منوں مٹی تلے دفن ہونا ہے جس طرح نقیب اللہ محسود کے سادہ اور دکھی والد محمدخان دفن ہو گئے۔
اللہ کی عدالت میں زبان درازی سے کام چلے گا اور نہ جھوٹی قسموں سے۔ وہاں آر ٹی ایس سسٹم فیل ہوگا اور نہ ووٹوں کی گنتی کی طرح غلط گنتی ہوگی۔ یہاں تو یہ تکیہ کلام بن گیا ہے کہ جان اللہ کو دینی ہے لیکن یاد رکھیں کہ جان اللہ نے لینی ہے۔
(jang.com)
پاکستان
حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
اسلام آباد، پاکستان نے یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد مملکت کے دفاع کے لیے ”ہر ممکن مدد” فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ‘انڈیپنڈنٹ عربیہ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔ ان کا یہ بیان ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے درمیان سامنے آیا ہے۔
پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کا رکن ہے، جس میں سعودی عرب اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔ اس اجتماعی دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دیگر ارکان متاثرہ ملک کے دفاع کے لیے آگے آئیں گے۔ تاہم، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں مسلسل شدت کے باوجود اسلام آباد اور انقرہ نے اب تک بیانات جاری کرنے کے علاوہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی، بالخصوص حرمین شریفین کی حفاظت، پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا، ”پاکستان کے لیے یہ معاملہ ناقابلِ سمجھوتہ اور قطعی ہے۔ اس مقصد کے لیے جس مدد کی ضرورت ہے، وہ فراہم کی جا رہی ہے اور آئندہ بھی فراہم کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ فوجی اتحاد اپنی مدد کی نوعیت اور اس کے پیمانے کی تفصیلات عام طور پر ظاہر نہیں کرتے۔
حوثی حملوں پر پاکستان میں ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نے کہا کہ ملک کے عوام، سیاسی قیادت اور فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”آخر کوئی بھی ذی شعور شخص سعودی عرب، مقدس مقامات پر حملہ کیوں کرے گا یا انہیں دھمکی کیوں دے گا، یا کم از کم ایسا تاثر کیوں پیدا کرے گا؟” ان کا کہنا تھا کہ اسلامی مقدس مقامات کی سلامتی کے معاملے میں کوئی شرط یا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
یہ پوچھے جانے پر کہ اگر حوثی حملے جاری رہے تو کیا اسلام آباد کی مدد صرف دفاعی نوعیت تک محدود رہے گی، چوہدری نے کہا کہ مکہ اتحاد کے تینوں ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ معاہدے کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں اور یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔
اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کا حوالہ دیتے ہوئے، جو حقِ دفاع کو تسلیم کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد اجتماعی ردعمل کے ذریعے رکن ممالک کو لاحق خطرات کی روک تھام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ”اگر یہ بازدارانہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہوتی تو تینوں ممالک کو دستیاب تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسے دوبارہ مؤثر بنانا ہوگا۔”
سعودی نائب وزیر خارجہ کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ ایران کے تعلقات کی نشاندہی کے بعد، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد نے تہران کو حملوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے، تو چوہدری نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے تہران سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان رابطوں کا بنیادی مقصد ”کشیدگی کو کم کرنا” ہے اور تمام فریقوں کے ساتھ پاکستان کی بات چیت کا محور حالات کو معمول پر لانا ہے۔
چوہدری نے خبردار کیا کہ حوثیوں یا دیگر فریقوں کو تنازع میں شامل کرکے اس کا دائرہ وسیع کرنے سے بحران حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا، ”خواہ آپ اس میں حوثیوں کو شامل کریں یا دوسرے علاقوں تک پھیلائیں، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہوگا جو خطے میں افراتفری چاہتے ہیں۔”
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
پاکستان
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
اسلام آباد، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہفتہ کو 5.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی۔ ہندوستان کے نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) نے یہ اطلاع دی۔
ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ زلزلہ 17 اکتوبر کو ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 37 منٹ پر آیا۔ زلزلے کا مرکز 27.944 ڈگری شمالی عرض البلد اور 66.532 ڈگری مشرقی طول البلد پر واقع تھا۔
زلزلے کے زمینی اثرات کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، جن میں آبادی والے علاقوں سے اس کا فاصلہ، مقامی ارضیاتی حالات اور زمین میں ارتعاش کی شدت شامل ہیں۔
زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحد کے قریب واقع ہے، جہاں ان پلیٹوں کے ٹکراؤ سے زلزلہ خیز سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔
جنوب مغربی پاکستان کا وسیع صوبہ بلوچستان زلزلے کے خطرات سے دوچار علاقوں میں شامل ہے۔ دیگر حساس علاقوں میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان شامل ہیں، جہاں فعال فالٹ لائنیں اور پیچیدہ پہاڑی سلسلے زلزلوں کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے بعض علاقے بھی زلزلہ خیز سرگرمیوں سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں ایک اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 28 طلبہ اور ایک استاد ہلاک، جبکہ 20 سے زائد دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
اسپتال کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔
یہ حادثہ جمعرات کو خیبر پختونخوا کی راجدھانی پشاور میں واقع نجی اسکول الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا۔ حادثے کے بعد راحت اور بچاؤ کی ٹیمیں ملبے میں دبے افراد کی تلاش اور زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے تمام بچوں کی عمر 13 سال یا اس سے کم ہے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زخمیوں کے علاج کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
اسلام آباد سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے کمال حیدر نے بتایا کہ گنجان آبادی والے علاقے میں اسکول واقع ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”بھاری مشینری، جو امدادی کارروائیوں میں اہم ثابت ہوسکتی تھی، جائے حادثہ تک نہیں پہنچ سکی۔ مقامی افراد اور امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور اس کے نیچے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے بالٹیوں اور دیگر برتنوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس اسکول میں تقریباً 350 طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ زخمی طلبہ کی بڑی تعداد اسپتال میں زیر علاج ہے، جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔
حکام نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ”ہمارے بچے ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور اس طرح کا ہر نقصان پورے ملک کے لیے ایک سانحہ ہے۔ میری دلی تعزیت اور دعائیں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، ”وزیر اعظم اور حکومت نے اس صورت حال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ ہمارے بچوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہنی چاہیے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
