تازہ ترین
کینیا: عسکریت پسند تنظیم الشباب کا امریکی فوجی اڈے پر حملہ، تین افراد ہلاک، دو زخمی
عسکریت پسند تنظیم الشباب کی جانب سے کینیا میں امریکی فوج کے زیرِ استعمال فوجی اڈے پر حملے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ہلاک ہونے والے میں ایک امریکی فوج کا اہلکار جبکہ دو کانٹریکٹرز (ٹھیکے دار) شامل ہیں۔ سمبا کیمپ نامی فوجی اڈہ امریکی اور کینیا کی افواج کے زیر استعمال ہے۔
یہ حملہ اتوار کی صبح کینیا کے ساحلی علاقے لامو پر واقع بحری اڈے پر کیا گیا۔
امریکی فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں امریکی محکمہ دفاع کے دو مزید اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
بیان کے مطابق ’زخمی ہونے والے امریکی اہلکاروں کو بیس سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
الشباب کی خفیہ تنظیم سٹالن کی خفیہ پولیس سے کم نہیں
صومالیہ کے دارالحکومت میں کار بم دھماکا، درجنوں ہلاک
نیروبی: شدت پسندوں کے خلاف آپریشن مکمل، 21 ہلاک
عینی شاہدین کے مطابق انھیں اتوار کی صبح سمبا کیمپ سے گولیوں کی آوازیں سنائی دی گئیں اور دھویں کے بادل اٹھتے نظر آئے۔ کینیا کے فوجی ترجمان کے مطابق ان کی فوجی دستوں نے شدت پسندوں کو اڈے سے باہر نکال دیا ہے۔
الشباب کے شدت پسند تنظیم القاعدہ کے ساتھ روابط ہیں اور اس کا ہیڈ کوارٹر صومالیہ میں موجود ہے۔ تقریباً ایک دہائی قبل وجود میں آنے والی عسکریت پسند تنظیم الشباب اب تک متعدد حملے کر چکی ہے۔ 28 دسمبر کو صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں کیے گئے ایک حملے میں کم از کم 80 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
کیمپ سمبا میں کیا ہوا؟
کینیئن ڈیفنس فورسز (کے ڈی ایف) کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے ’مندا ہوائی پٹی پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی‘ تام اس حملے کو پسپا کر دیا گیا جس کے تتیجے میں چار شدت پسند ہلاک ہو گئے۔
کے ڈی ایف کے ترجمان کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں ہوائی پٹی پر آگ بھڑک اٹھی جس پر جلد قابو پا لیا گیا اور اب یہ اڈاہ محفوظ ہے۔
دوسری جانب الشباب کے مطابق اس نے ’سخت سکیورٹی کے باوجود فوجی اڈے پر حملہ کیا‘ جس کے بعد انھوں نے ’اڈے کے ایک حصے کا کنٹرول سنبھال لیا‘۔
عسکریت پسند تنظیم کے مطابق اڈے پر اب بھی جھڑپ جاری ہے اور کینیا کی فوج جنگی طیاروں کا استعمال کر رہی ہے۔
اس حملے میں کتنا نقصان ہوا؟
خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق ہوائی پٹی پر دو طیارے اور دو امریکی ہیلی کاپٹرز سمیت متعدد گاڑیوں کو بھی تباہ کیا گیا ہے۔ الشباب کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں ’امریکہ اور کینیا کی فوجوں کو شدید جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘
دوسری جانب امریکہ افریقہ کمانڈ کے ترجمان کرسٹوفر کارنز نے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ الشباب کے ان دعوؤں میں ’شدید مبالغہ آرائی‘ سے کام لیا گیا ہے۔ تاہم انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات دینے سے گریز کیا۔
وائس آف افریقہ کے ایک صحافی ہارون معروف نے ٹوئٹر پر ایک تباہ شدہ طیارے کی تصاویر جاری کی ہیں جنھیں الشباب کے مطابق امریکی طیارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطاق کیمپ میں 100 سے کم امریکی فوجی موجود تھے۔ یاد رہے کہ جون 2018 میں الشباب کے ایک حملے میں امریکی کمانڈو ہلاک ہو گیا تھا۔
’بے باک حملہ‘
بی بی سی ورلڈ سروس افریقہ کے مدیر ول راس کے مطابق الشباب کے شدت پسندوں نے یہ بے باک حملہ صبح سویرے کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ کینیا کی فوجی ترجمان کا بیان اس حملے کی شدت کو کم ظاہر کرنے کی کوشش لگتی ہے۔
دوسری جانب امریکہ کی جانب سے اب تک یہ نہیں بتایا کہ آیا اسے کسی جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا یا نہیں۔ ول راس کے مطابق اس وقت الشباب کے دعوؤں کی تصدیق کرنا ممکن نہیں ہے تاہم اس حوالے سے غیر مصدقہ رپورٹس ہیں کہ اس حملے میں امریکی طیارہ تباہ ہوا ہے جو اس خطے میں جاسوسی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
ساتھ ہی یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ یہ حملہ لامو جزیرے کے قریب ہوا جو ایک سیاحتی مقام بھی ہے۔
سنہ 2011 میں کینیا نے الشباب مقابلہ کرنے لیے اپنی افواج صومالیہ بھیجیں۔ عسکریت پسند تنظیم الشباب نے کینیا کی سرزمین پر اب تک متعدد حملے کیے ہیں۔
تقریباً ایک برس قبل کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے ڈیوسٹ ہوٹل کمپلیکس میں ایک شدت پسند حملے کے باعث 21 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ خیال رہے کہ سال 2017 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد امریکہ نے شدت پسندوں کے خلاف فوج آپریشنز میں اضافہ کیا ہے۔
امریکی فوج نے سال 2019 میں صومالیہ میں پچھلے کسی بھی سال کی نسبت زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔(بی بی سی)
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے پونچھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے جمعہ کو دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں واقع کس بلاری میں تلاشی مہم شروع کی اور دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پردہ فاش کیا۔
تلاشی کے دوران ٹیم نے ایک بیگ، ٹیپ سے لپٹے ہوئے چھ کنٹینر، جن میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) ہونے کا شبہ ہے، ایک جنگی سازوسامان کا پاؤچ، ایک لوہے کا ڈبہ جس میں میگزین ہونے کا امکان ہے، ٹیپ سے لپٹا ایک اور کنٹینر، 7.62 ایم ایم لائٹ مشین گن (ایل ایم جی) کا ایک میگزین، ایک ایلومینیم کنٹینر، دو اڈاپٹر اور ایک ٹفن برآمد کیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
دنیا
امریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
تہران، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا تو تہران سات خلیجی ممالک میں امریکہ سے منسلک توانائی، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے “زیرو ریڈ لائنز” کی حکمت عملی کا حوالہ دیا جبکہ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ان کا ملک ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
محسن رضائی نے جمعرات کو سرکاری ٹی وی چینل ‘پریس ٹی وی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اس خطے میں امریکی معیشت کی نبض ہمارے خطے سے ہو کر گزرتی ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی امریکی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمنی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس غیر مستحکم خطے میں امریکہ سے منسلک 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا تکنیکی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
رضائی نے خبردار کیا کہ “ہم نے ابھی تک ان اثاثوں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا ہے لیکن اگر جنگ چھڑ گئی تو ان میں سے بہت سی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور متعدد دیگر سائٹس تباہ ہو جائیں گی۔”
نیوز آؤٹ لیٹ ‘ڈراپ سائٹ’ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے سات شرائط رکھی ہیں اور جب تک وہ پوری نہیں ہوجاتیں، وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا اور نہ ہی مذاکرات شروع کرے گا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ جاری تنازعہ اور علاقائی تناؤ کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈیاں تین سال تک مستحکم ہونے سے رک سکتی ہیں۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی رائے دہندگان میں ایک منقسم ردعمل پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اس کی سیاسی قیمت کا اعتراف کیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر اصرار کیا کہ یہ فوجی حملے بہت پہلے ہو جانے چاہیے تھے۔
آنے والے انتخابات پر جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: “ایک طرح سے، وہ اسے پسند کر رہے ہیں کیونکہ میں وہ کر رہا ہوں جو دوسرے صدور کو کرنا چاہیے تھا، اور دوسری طرح سے شاید وہ اسے پسند نہیں کر رہے۔ اس کی ایک قیمت چکانی پڑتی ہے، جو میں فوری طور پر جان گیا تھا جب میں نے یہ کیا تھا، لیکن ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
میرا مطلب ہے، ایک طرح سے لوگ شاید اسے پسند نہ کریں، لیکن بہت سے لوگ، بہت سے عظیم محب وطن، اسے واقعی پسند کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “یہ کام دوسرے صدور کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ ایران کی جنگ اور ہم نے ان کا کباڑا کر دیا ہے اور ہم اس سلسلے کو تھوڑا مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔”
یہ بیانات فروری 2026 کو ایرانی سول، فوجی اور جوہری سائٹس پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ٹرمپ کے وسیع تر بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں واشنگٹن نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا۔ ان ابتدائی حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ ساتھ دیگر اعلیٰ حکام اور سینکڑوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
ایران نے جواب میں اسرائیلی اہداف اور خلیج میں امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں بار بار خلل ڈالا۔
یہ تنازعہ اب اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔
جون میں پاکستان میں ہونے والی ایک مفاہمت کی یادداشت، جس کا مقصد دشمنی کو روکنا اور تجارتی جہاز رانی کو بحال کرنا تھا، تنازعات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ناکام ہو گئی، جس کے بعد وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں۔
امریکہ اور دیگر مقامات پر خام تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اکتوبر کے کئی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی انتظام، مہنگائی اور ایران کی شمولیت والی جنگ پر بڑے پیمانے پر عوامی ناراضگی کے باعث صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر 30 سے 36 فیصد رہ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
الحان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ڈیموکریٹک رکن کانگریس الحان عمر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے عہدے کا حلف لیتے وقت ایک فرضی نام استعمال کیا تھا، تاہم ان کے دفتر نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ “چونکہ انہوں نے حلف اٹھانے کے لیے ایک جعلی نام استعمال کیا، اس لیے میرا ماننا ہے کہ انہیں فوری طور پر کانگریس سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی خاتون قانون ساز کا اصل نام الحان نور سعید علمی ہے، جس کا خاندانی نام ان کے سابق شوہر احمد نور سعید علمی سے ملتا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ الہان عمر نے “کھلے عام دھوکہ دہی کا اعتراف” کیا ہے اور ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ ان کی کانگریس کی نشست خالی ہو چکی ہے۔تاہم، الحان عمر نے ایسا کوئی اعتراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی عدالت نے یہ ثابت کیا ہے کہ انہوں نے کوئی جعلی شناخت استعمال کی تھی۔
ٹرمپ کے یہ بیانات وزارتِ انصاف کی جانب سے 21 اکتوبر کو عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز کے بعد سامنے آئے ہیں، جو الحان عمر کے واشنگٹن ڈی سی والے گھر پر وفاقی تلاشی سے متعلق تھی۔ اس دستاویز میں ان کی شناخت “الحان نور سعید علمی، عرف الہان عبداللہی عمر” کے طور پر کی گئی تھی۔ استغاثہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے یہ متبادل نام کیوں استعمال کیا، اور نہ ہی اس دستاویز سے یہ ثابت ہوا کہ الہان عمر نے کوئی دھوکہ دہی کی ہے۔
خاتون رکن کانگریس کے ترجمان نے فاکس نیوز کو بتایا، “یہ بالکل جھوٹ ہے۔ الحان عمر ہی ان کا اصل نام ہے۔”
وفاقی ایجنٹوں نے 12 اکتوبر کو امیگریشن اور شہریت کے ریکارڈ میں ممکنہ غلط بیانات کی تحقیقات کے سلسلے میں الہان عمر کے گھر کی تلاشی لی تھی۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
