تازہ ترین
غیر ملکی سفارتکاروں اور قانون دانوں کا وفد وارد کشمیر
سیول سوسائٹی،فوج، سیاست دانوں کے وفود سے ملاقی،شکارہ کا بھی مزہ لیا
سرینگر/12فروری: غیر ملکی سفارتکاروں اور یورپی یونین کے قانون دانوں کا دوسرا قافلہ وادی کے دورے پر پہنچ گیا،جس کے دوران انہوں نے سیاست دانوں،سیول سوسائٹی ارکان اور میڈیا نمائندوں سے تبادلہ خیال کیا،جبکہ وہ مجموعی صورتحال کا احاطہ بھی کریں گے۔ غیر ملکی سفارتکاروں نے جھیل ڈل میں شکارہ کی سواری بھی کی۔اس دوران غیر ملکی سفارتکاروں کی وادی آمد کے خلاف احتجاج کر رہے کئی نوجوانوں کو پولیس نے گرفتار کیا۔ جے کے این ایس کے مطابق یورپی یونین سے وابستہ قانون دانوں اور سفارتکاروں کی ایک ٹیم بدھ کو وارد کشمیر ہوئی اور مختلف طبقہ ہائے فکر سے وابستہ لوگوں سے تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ20ملکوں،جن میں جرمنی،کینڈا،فرانس،افغانستان، آسٹریا، ازبکستان، جمہوریہ سلواکیہ، ہائی لینڈ،نمیبیا،کرگز،بلغیاریہ،تاجکستان، ڈنمارک، اٹلی،نیو زی لینڈ،پولینڈ،رونڈا اور دیگر ممالک بھی شامل ہیں کے سفارتکار خصوصی طیارے کے ذریعے بدھ کو 11بجے صبح سرینگر پہنچے، تاہم نا مساعد موسمی حالات کی وجہ سے وہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ نہیں جاسکے،جہاں پر انہیں جانے کا پروگرام تھا۔ مذکورہ وفدمرکزی حکومت کی طرف سے5اگست کو جموں کشمیر کو خصوصی حیثیت فراہم کرنے والے دفعہ370کی تنسیخ اور جموں کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے مرکزی زیر انتظام والے علاقوں میں تبدیل کرنے کے فیصلے کے بعد پیدہ شدہ صورتھال کا جائزہ لینگے۔ افغانستان کے سفیر برائے بھارت طاہر قادری نے سماجی وئب سائت ٹیوٹر پر تحریر کیا”پہنچے کے بعد ہم سرینگر کے جھیل ڈل میں شکارہ سواری سے لطف اندوز ہوئے،خوبصورت جھیل اور مہمان نواز لوگ،میں نے ایک کشتی جو دکان کے طور پر کام کرتی ہے سے ایک خوبصورت انگوٹھی خرید لی“۔گزشتہ ایک ماہ میں یہ غیر ملکی سفارتکاروں کی طرف سے وادی کا دوسرا دورہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سفارتکاروں اور قانون دانوں نے جھیل ڈل میں شکارے کی بھی سواری کی اور قدرت کی خوبصورتی کا لطف اٹھایا۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ وفد نے بدھ کو ایک مقامی ہوٹل میں سیول سوسائٹی، سیاست دانوں اور دیگر طبقہ ہائے فکر سے وابستہ لوگوں سے ملاقی ہوکر مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی کشمیر کے فرور گرورس کے علاوہ میڈیا نمائندوں نے بھی غیر ملکی سفارتکاروں سے ملاقات کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ وفد ممکنہ طور پر فوجی افسران سے بھی ملاقات کریں گی،جس کے دوران انہیں جموں کشمیر میں پاکستان کی پشت پناہی سے انتہپا پسندی کے بارے میں تفصیلات فراہم کی جائں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کا وفد رات بھر وادی میں قیام کرین گا اور جمعرات کو جموں روانہ ہونگے،جہاں پر امکانی طور پر وہ جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر جی سی مورمو کے علاوہ سیول سوسائتی ارکان سے ملاقی ہوگئی۔ اس دوران ایک سفارتکار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وکشمیر میں ایک سیاح کے طور پر آیا ہے۔ادھر سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی دختر التجاء مفتی نے یورپی یونین اور غیر ملکی سفارتکاروں کے دورے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کو توقع ہے کہ دورے پر آئے سفارتکار حکام سے انٹرنیت کی عدم موجودگی اور سیاسی لیڈروں کی پی ایس ائے کے تحت نظربندی سے متعلق سوال پوچھے گے۔ گزشتہ ایک ماہ سے یہ غیر ملکی سفارتکاروں کو وادی کا دوسرا دورہ ہے،جبکہ9 جنوری کو امریکہ سمیت15ملکوں کے سفارتکار وادی کے دو روزے پر پہنچ گئے تھے،جہاں پر انہوں نے سیاسی لیڈروں،فوج اور سیول سوسائٹی سمیت کئی لوگوں سے ملاقات کرکے زمینی صورتحال کا جائزہ لیا تھا۔ کشمیر آنے والے سفارتکاروں میں جنوبی کوریا،مراکو،نائجریا،گیانا،آرجنٹینا، ناروئے،فلپین،مالدیپ، ٹوگو،فجی، پیرو اور بنگلہ دیش کے علاوہ ویتنام کے سفارکار بھی شامل تھے۔ مذکورہ سفارتکار حکومت ہند کی دعوت پر وادی کے دو روزہ دورے پر پہنچ گئے تھے۔جموں کشمیر میں 5اگست کو مرکز کی طرف سے دفعہ370کے خاتمے اور ریاست کو تقسیم کرکے دو مرکزی زیر انتظام والے علاقوں میں تبدیل کے بعد پیدہ شدہ صورتحال کا احاطہ کرنے کیلئے مذکورہ سفارتکاروں کا یہ گروپ وارد کشمیر ہوا تھا۔ یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کی طرف سے گزشتہ دورے کی ہی طرح سفارتکاروں کے اس گروپ نے بھی وادی اور جموں میں مختلف طبقہ ہائے فکرس سے وابستہ لوگوں کے علاوہ فوج اور سیول سوسائٹی لیڈروں سے تبادلہ خیال کیا تھا۔۔ حکام کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر میں 5اگست کو دفعہ370کی تنسیخ کے بعد کئی ملکوں نے جموں کشمیر کے دورے کی درخواست کی تھی تاکہ وہ وہاں کی صورتحال کا جائزہ لئے سکیں جموں کشمیر میں خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد حکومت نے مواصلاتی بندشیں عائد کی تھی،جبکہ مین اسٹرئم سیاست دانوں کو بھی گھروئں اور جیلوں میں نظربند رکھا گیا،تاہم کچھ ہفتوں سے ان بندشوں کو ہٹانے سلسلہ بھی شروع ہوا،اور نظر بند لیڈروں کی بھی مرحلہ وار بنیادوں پر رہائی ہوئی،تاہم 3سابق وزراء اعلیٰ سمیت قریب10سیاست داں ابھی بھی نظربند ہے۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق بین الاقوامی میڈیا،سیاست دانوں اور حکومتوں کی طرف سے انٹرنیٹ و مواصلاتی بندشوں اور لیڈروں کی مسلسل نظر بندی پر حکومت ہند کو تنقید کا نشانہ بنانے کو مد نظر رکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے یہ فیصلہ لیا ہے۔ حکومت ہند نے گزشتہ برس29اور30اکتوبر کو یورپی پارلیمنٹ کے23ارکان کو وادی کا دورہ کرنے کیلئے سہولیات فراہم کی تھی،جبکہ ان میں بیشتر ممبران دائیں بازوں کی جماعتوں اور نظریات سے وابستہ تھے۔اس معاملے پر تنازعہ بھی کھڑا ہوا تھا کیونکہ حکومت ہند نے کچھ پارلیمانی وفود اور پارلیمنٹ ممبران کو کشمیر جانے کی اجازت نہیں تھی۔بھارت میں یورپی یونین کی طرف سے اس وفد کو سرکاری حیثیت کی نظر سے بھی نہیں دیکھا گیا تھا،جبکہ ان نمائندوں کے ذاتی دورے سے تعبیر کیا گیا تھا۔اس وفد نے وزیر اعظم ہند نریندر مودی اور قومی سلامتی کے صلاح کار اجیت ڈول سے بھی سرینگر دورے سے قبل ملاقات کی تھی۔ اس دوران سرینگر میں پولیس نے غیر ملکی سفارتکاروں کی کشمیر آمد کے خلاف احتجاج کر رہے 3نوجوانوں کو حراست میں لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کو تین نوجوانوں نے غیر ملکی سفارتکاروں اور یورپی یونین کے قانون دانوں کی وادی آمد کے خلاف احتجاج کیا،جس کے دوران پولیس نے انہیں حراست میں لیا۔معلوم ہوا ہے کہ ان نوجوانوں نے ان سفارتکاروں کے وادی دورے کو رقومات کو ضائع کرنے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سفارتکار جھیل ڈل میں شکارہ سواری کا مزہ لے رہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان سفارتکاروں کی آؤ بھگت میں جو رقم ضائع کر رہی ہے اس کے بجائے اس کو کشمیر کی ترقی پر خرچ کیا جانا چاہے۔
دنیا
امریکہ یا اسرائیل کے دوبارہ حملے کی صورت میں خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کی ایران کی تیاری
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے تو وہ خلیج فارس میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبوں پر عمل کر سکتا ہے۔ ایرانی سکیورٹی حکام کے اس انتباہ سے خطے میں انٹرنیٹ کنکٹیویٹی اور مالیاتی خدمات میں ممکنہ خلل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
‘ٹائمز آف اسرائیل’ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے دو سکیورٹی عہدیداروں نے کہا کہ اگر واشنگٹن کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو تہران زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے پر غور کر رہا ہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ ایران کسی بھی حملے کے بعد ان کیبلز کی مرمت روکنے کی کوشش کرے گا، تاکہ مواصلاتی نظام اور انٹرنیٹ کنکشن میں خلل طویل عرصے تک برقرار رہے۔
عہدیدار نے واشنگٹن کو ”آگ سے نہ کھیلنے” کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ”اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو پھر کوئی سرخ لکیر باقی نہیں رہے گی۔۔۔ زیرِ سمندر کیبلز سے لے کر فوجی اڈوں تک، جن میں خفیہ اڈے بھی شامل ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ان کیبلز تک رسائی ہے اور وہ انہیں تباہ کر سکتا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے نائب سربراہ برائے سیاسی امور یداللہ جوانی نے بدھ کو کہا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو تہران آبنائے ہرمز کے نیچے سے گزرنے والی انٹرنیٹ کی سات بڑی کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے مطابق، زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے دنیا بھر میں انٹرنیٹ ٹریفک کا تقریباً 99 فیصد منتقل ہوتا ہے۔ تاہم، ٹیلی مواصلات پر تحقیق کرنے والے ادارے ٹیلی جیوگرافی کے ریسرچ ڈائریکٹر ایلن مولڈن نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں حملوں کے عالمی اثرات محدود ہو سکتے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی بینڈوڈتھ کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ اس آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے۔ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔
یہ دھمکیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ تہران کے نزدیک امریکہ کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں گزشتہ تنازع کے مقابلے میں زیادہ سخت ردعمل دینا ضروری ہوگا۔ ایران کے سینئر سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے بھی رواں ماہ کے اوائل میں خبردار کیا تھا کہ خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ سے منسلک ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے، بشمول ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات، کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے دوسرے سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ خلیجی ممالک کو زیرِ سمندر کیبلز کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرانا چاہیے، کیونکہ خطے کے ممالک نے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر الیکس واتانکا نے کہا کہ ان دھمکیوں کا مقصد خلیجی حکومتوں اور امریکی کمپنیوں میں ان کی سرمایہ کاری کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھا کر امریکہ کو دوبارہ فوجی کارروائی سے روکنا ہے۔
واتانکا نے کہا، ”تہران چاہتا ہے کہ خلیجی ممالک اور کارپوریٹ اداروں کے سربراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ڈالیں کہ ان کی پالیسیوں سے ان کے سرمایہ کاری منصوبوں کو لاحق خطرات پر غور کیا جائے۔”
مولڈن کے مطابق، متعدد کیبلز کٹنے سے انٹرنیٹ خدمات کی رفتار سست ہو سکتی ہے اور مالیاتی لین دین، آن لائن تجارت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ متاثر ہو سکتی ہے۔ خلل کی شدت اس بات پر منحصر ہوگی کہ آیا آپریٹرز ٹریفک کو متبادل رابطوں کی جانب منتقل کر سکتے ہیں اور آیا ان نیٹ ورکس میں اضافی گنجائش موجود ہے۔
تنازع کے دوران کیبلز کی مرمت بھی مشکل ہو سکتی ہے۔ بیمہ اخراجات میں اضافے اور علاقائی سمندری حدود میں داخلے کے اجازت نامے حاصل کرنے میں تاخیر سے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
بحیرۂ احمر اس سے زیادہ اہم ہدف ثابت ہو سکتا ہے، بالخصوص اگر ایران کو یمن میں اپنے حلیف حوثی باغیوں کی حمایت حاصل ہو۔ تاہم، تہران نے وہاں کیبلز پر حملے کے کسی منصوبے کا عوامی طور پر اعلان نہیں کیا ہے۔
مولڈن کے مطابق، بحیرۂ احمر سے گزرنے والی کیبلز یورپ، مشرقی افریقہ اور ایشیا کے درمیان ڈیٹا کی ترسیل کرتی ہیں۔ عالمی بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک کی طلب میں اس آبی گزرگاہ کا حصہ تقریباً تین فیصد، جبکہ مختلف خطوں کے درمیان منتقل ہونے والی ٹریفک میں اس کا حصہ تقریباً 10 فیصد ہے۔
یہ دھمکیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب خلیجی حکومتیں تیل پر انحصار کم کرنے اور اپنی معیشتوں کو متنوع بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے شعبے کو وسعت دے رہی ہیں اور خود کو مصنوعی ذہانت کے عالمی مراکز کے طور پر قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ ان کے تعلقات بھی گہرے ہو رہے ہیں۔
مارچ میں ایرانی حملوں میں متحدہ عرب امارات میں ایمیزون ویب سروسز کی دو تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جبکہ بحرین میں ایک دوسری تنصیب کے قریب بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔ اسی ماہ تنازع کے عروج پر پاسدارانِ انقلاب نے مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل اور اینویڈیا سمیت امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی جائز اہداف قرار دیا تھا۔
زمین پر قائم نیٹ ورک انٹرنیٹ ٹریفک کی ترسیل کے لیے متبادل راستے فراہم کر سکتے ہیں۔ خلیجی حکومتیں اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی نیٹ ورک کی مضبوطی اور ہنگامی حالات میں اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اضافی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ نے 2030 تک خطے میں زیرِ سمندر اور زمینی مواصلاتی رابطوں کے لیے 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے
انقرہ، ترکیہ کے صدر ایردوان نے اپنے پیغام میں درج ذیل الفاظ بیان کیے: “اقوامِ متحدہ کے قیام کی 81ویں سالگرہ پر میں اپنی اور ترک عوام کی جانب سے دلی جذبات کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سیکریٹری جنرل جناب انتونیو گوترش صاحب اور ہمارے ملک میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔”
دو عالمی جنگوں کے بعد ‘جنگ کی آفت سے آنے والی نسلوں کا تحفظ’ کے عزم کے تحت قائم ہونے والے اقوامِ متحدہ نے بین الاقوامی امن و امان کے تحفظ، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ابتدا سے ہی اہم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
آج جن عالمی آزمائشوں کا سامنا ہے – جنگیں، انسانی آفات، موسمیاتی تبدیلی، بھوک اور غربت، نسل پرستی، بیرونِ وطن دشمنی اور اسلام مخالف رجحانات – وہ دکھاتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے قیام کا مشن کم نہیں ہوا بلکہ اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
انسانیت آج بھی اُس مستقبل کی آرزو رکھتی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق مشترکہ ارادہ عملی طور پر نافذ ہو، جنگیں ختم ہوں اور دائمی امن قائم ہو۔
اقوامِ متحدہ ان عظیم ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے نبھانے کے قابل ہونے کے لیے تمام ممالک کی طرف سے اقوامِ متحدہ کے منشور کی مضبوط حمایت اور تنظیم کے بنیادی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے والی اصلاحات کی حمایت کرنا انسانی مفاد میں ضروری ہے۔
اسی نقطۂ نظر کے تحت، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ، جامع اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کے مطابق بنانے کی ضرورت خاص طور پر اہم ہو گئی ہے۔ غزہ میں پیش آنے والا واقعہ، جسے نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد غزہ کے باشندگان کی جانیں ضائع ہوئیں، اور دنیا کے دیگر خطوں میں پھیلنے والے بحران اور تصادم اس ضرورت کی کتنا فوری ہونے کو عیاں کر دیتے ہیں۔
اسی فہم کے ساتھ، ہم محترم سیکریٹری جنرل کی جانب سے شروع کیے گئے UN 80 اقدام کی حمایت کرتے ہیں؛ استنبول کو اقوامِ متحدہ کا ایک مرکز بنانے کے ہمارے ہدف کے تناظر میں ہم تنظیم کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کر رہے ہیں۔
ان خیالات کے ساتھ، میں 24 اکتوبر اقوامِ متحدہ کے دن کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس یقین کے ساتھ کہ ایک زیادہ منصفانہ دنیا ممکن ہے، بین الاقوامی نظام اور اسی کے مرکز میں موجود اقوامِ متحدہ کو زیادہ مؤثر اور جامع بنانے کے لیے ہماری کاوشیں ہم عزم طور پر جاری رکھیں گے، ایک بار پھر زور دیتا ہوں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کا ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ دستخط شدہ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا اعلان
سلام آباد، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے عمل کو مکمل کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے تعاون کو مضبوط کریں گے۔
معاہدے کے متعلقہ امور، اس کی توثیق، اور اس کے عملی نفاذ پر تینوں فریق بات چیت کر رہے ہیں جن میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی بھی شامل ہے جس کی حالیہ ملاقات 5 اکتوبر کو ہوئی تھی۔
حیدر خان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں۔
خان نے مزید کہا کہ اسلام آباد معاہدے کی شقوں اور اس کے نچوڑ دونوں کے ساتھ مکمل پابند ہے، جو دفاعی نوعیت کا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔
7 اگست کو ترک صدر رجب طیب ایردوان، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان نے مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل تلاش کریں گے اور ان کی مشترکہ اسٹریٹجک بصیرت علاقائی سلامتی اور استحکام پر مرکوز ہے۔
یہ تینوں ممالک کی سلامتی کو اجتماعی بازدارندگی اور دفاع کے ذریعے مضبوط کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے پہلے ہی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے داخلی قانونی فریم ورک کے مطابق مطلوبہ طریقہ کار اختیار کر رہا ہے،
ترکیہ نے بدھ کو پارلیمنٹ میں تین شقوں پر مشتمل بل جمع کرایا ہے جس کا مقصد اس معاہدے کی منظوری حاصل کرنا ہے۔
اس معاہدے سے توقع ہے کہ ترکیہ کے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات گہرے ہوں گے اور ایک جامع علاقائی سیکیورٹی میکانزم کی حمایت ہوگی۔
یہ بل پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں زیرِ غور آئے گا، جسے قیادت کرنے والی کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔اگر کمیٹی نے منظوری دے دی تو اسے پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔
مکہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جو 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد بڑھ گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فعال یا حتمی امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔
اگرچہ ایک ابتدائی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت جو عارضی جنگ بندی قائم کرتی تھی جون 2026 میں دستخط ہوئی تھی، بات چیت زیادہ تر ناکام ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک اس وقت پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے غیر مستقیم، معطل مذاکرات میں مصروف ہیں۔
اس تنازع نے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی وسعت اختیار کی ہے، اور حوثی ملیشیا نے بحرِ احمر میں سعودی جہاز رانی اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے بڑھا دیے ہیں۔
سیکیورٹی کے بگڑتے ہوئے ماحول نے علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون کو تیز کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
-
ہندوستان1 week agoتمل ناڈو اور کرناٹک میں شدید بارش کی وارننگ، جنوبی ریاستوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان
-
ہندوستان1 week agoیوپی، اتراکھنڈ اور پنجاب انتخابات سے پہلے بی ایس پی کے خلاف ‘فرضی سروے’ کی تشہیر، کارکنان ہوشیار رہیں: مایاوتی
