تازہ ترین
ممالک کے25سفارتکارکادورہ کشمیر مکمل،دوسرے پڑاؤکیلئے جموں روانہ
فوجی حکام نے دی صورتحال کی تفصیلی جانکاری
صحافیوں کاگروپ بھی سفارتکاروں سے ملاقی،اصل صورتحال بیان کردی
سری نگر:۳۱،فروری:بدھ کی صبح سری نگروارد ہوئے21ممالک کے25رُکنی وفدمیں شامل سفارتکاروں نے جمعرات کوبادامی باغ کنٹونمنٹ میں اعلیٰ فوجی حکام سے کشمیرکی اندرونی اورسرحد ی صورتحال کے بارے میں تفصیلی جانکاری حاصل کی۔فوجی حکام نے غیرملکی سفارتکاروں کوبتایاکہ جموں وکشمیر بالخصوص وادی میں بدامنی اورتشدد کوہوادیناپاکستان کی پالیسی رہی ہے،اوراسی پالیسی کے تحت سرحدپار سے تربیت یافتہ جنگجوؤں کوکشمیر میں دھکیلاجاتاہے۔اُدھربدھ کی شام صحافیوں کاجوگروپ غیرملکی سفارتکاروں سے ملاقی ہوا،اُن کوسفارتکاروں کے سوالات کاجواب دیناپڑا۔غیرملکی سفارتکاروں نے صحافیوں کوبتایاکہ دفعہ370و35Aکی منسوخی اورزمینی صورتحال کے حوالے سے آپ لوگوں کے تاثرات سیول سوسائٹی کارکنوں کی جانب سے فراہم کی گئی جانکاری سے بالکل مختلف ہیں۔معلوم ہواکہ جمعرات کودوسرے پڑاؤ کیلئے جموں روانہ ہونے سے قبل غیر ملکی سفارتکاروں کے 25رُکنی وفد نے سری نگرکے بادامی باغ علاقہ میں قائم فوج کی پندرہویں کور کے ہیڈکوارٹر یعنی کنٹونمنٹ کادورہ کیا۔خیال رہے ماہ اگست2019کے اوائل میں مرکزی سرکارکی جانب سے دفعہ370اور35Aکی تنسیخ نیز جموں وکشمیرکی تقسیم وتنظیم نو عمل میں لائے جانے کے بعدکشمیر کادورہ کرنے والایہ غیرملکی سفارتکاروں کاتیسراوفد ہے،کیونکہ اسے پہلے اکتوبر2019اورجنوری2020میں پہلے ہی 2غیرملکی سفارتی وفود کشمیرکادورہ کرکے یہاں کی زمینی صورتحال کامشاہدہ کرچکے ہیں۔غورطلب ہے کہ اپوزیشن جماعتوں اوردیگرحلقوں کی سخت مخالفت کے باوجود مرکزی سرکارکی اس پالیسی پرکاربندہے کہ غیرملکی سفارتکاروں کوکشمیر کادورہ کرایاجائے تاکہ وہ خود یہ دیکھ سکیں کہ وادی میں کیسی صورتحال پائی جاتی ہے،اوریہاں کے لوگوں کے بدلتی صورتحال کے حوالے سے کیاتاثرات اورخیالات ہیں،اوراپنے مشاہدے کے بارے میں اپنے اپنے ممالک کی حکومتوں کوجانکاری فراہم کرسکیں۔معلوم ہواکہ جمعرات کی صبح بادامی باغ کنٹونمنٹ کادورہ کرنے والے غیرملکی سفارتکاروں کویہاں فوج کی پندرہویں کور کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل ڈھلون اوردوسرے اعلیٰ فوجی حکام نے کشمیروادی کی مجموعی صورتحال کے بارے میں جانکاری فراہم کی۔فوجی حکام نے غیرملکی سفارتکاروں کوبتایاکہ جموں وکشمیر بالخصوص وادی میں بدامنی اورتشدد کوہوادیناپاکستان کی پالیسی رہی ہے،اوراسی پالیسی کے تحت سرحدپار سے تربیت یافتہ جنگجوؤں کوکشمیر میں دھکیلاجاتاہے۔فوجی حکام نے غیرملکی سفارتکاروں کوبتایاکہ کشمیر کے عام لوگ بشمول نوجوان تشدداوربدامنی سے اُکتاچکے ہیں،اوروہ امن وامان چاہتے ہیں،جس کے سیکورٹی ایجنسیاں کام کررہی ہیں۔انہوں نے غیرملکی سفارتکاروں کوبتایاکہ کشمیرمیں جنگجوئیانہ سرگرمیاں کافی کم ہوئی ہیں،اوراب نوجوانوں میں ملی ٹنسی کارُجحان بھی کافی کم ہواہے،لیکن پاکستان کی فوج اورخفیہ ادارے اسبات کیلئے کوشاں ہیں کہ کشمیرمیں ملی ٹنٹ گروپ سرگرم رہیں تاکہ یہاں تشددکالامتناعی سلسلہ جاری رکھاجاسکے۔فوجی حکام نے غیرملکی سفارتکاروں کوبتایاکہ پاکستانی فوج اوررینجرس کی جانب سے جموں وکشمیرمیں لائن آف کنٹرول اوربین الااقوامی سرحدپرناجنگ معاہدے کی خلاف ورزیوں یعنی بلاجواز فائرنگ اورشلنگ کاایک مقصد یہ بھی ہے کہ گولی باری کی آڑ میں جنگجوؤں کوجموں وکشمیرمیں داخل ہونے کاموقعہ فراہم کیاجائے۔اس حوالے سے فوجی حکام نے غیرملکی سفارتکاروں کو5اگست2020کیبعدسیزفایر خلاف ورزیوں اوردراندازی کے واقعات کے بارے میں اعدادوشمار فراہم کئے۔خیال رہے 25رکنی غیرملکی سفارتی وفد میں 21ممالک کے سفارتکار شامل ہیں۔بادامی با غ فوجی کنٹونمنٹ کادورہ کرنے کے بعدغیرملکی سفارتکاروں کاگروپ جموں روانہ ہوگیا،جہاں وہ لیفٹنٹ گورنر گریش چندرمرمو اوراعلیٰ سیول وسیکورٹی حکام کیساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔اس دوران بدھ کی شام کشمیری صحافیوں کاایک گروپ جب غیرملکی سفارتکاروں سے ملاقی ہوا،گروپ میں شامل صحافیوں کوغیرملکی سفارتکاروں کے سوالات کاجواب دیناپڑا۔میڈیارپورٹ کے مطابق صحافیوں کے گروپ نے سفارتکاروں کوبتایاکہ کشمیر میں زیادہ ترلوگ دفعہ370اور35Aکی تنسیخ نیز جموں وکشمیرکی تقسیم وتنظیم نوسے ناخوش ہیں۔انہوں نے غیرملکی سفارتکاروں کوبتایاکہ 5اگست2019کے بعدکشمیری عوام کوجن مشکلات اورمصائب کاسامناکرناپڑا،اُس سے لوگ ناراض ہیں۔غیرملکی سفارتکاروں نے صحافیوں سے استفسار کیاکہ آپ لوگوں کے تاثرات سیول سوسائٹی کارکنوں کی جانب سے فراہم کی گئی جانکاری سے بالکل مختلف ہیں۔انہوں نے صحافیوں کوبتایاکہ ہم نے دیکھاکہ آپ لوگ کتنی مشکل صورتحال میں کام کرتے ہیں،کیونکہ کشمیرمیں انٹرنیٹ خدمات سات ماہ بعدبھی پوری طرح سے بحال نہیں ہوئی ہیں۔تاہم غیرملکی سفارتکاروں نے صحافیوں کی جانب سے کشمیرکی صورتحال کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات پرکوئی بھی رائے زنی کرنے سے احتراض کیا۔
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
آر بی آئی نے ‘ان فیڈنگ ورلڈ بینک’ کے خلاف عوام کو کیا خبردار، کہا کہ ادارے کے پاس بینکنگ لائسنس نہیں
نئی دہلی، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے ایک عوامی نوٹس جاری کرکے لوگوں کو ‘ان فیڈنگ ورلڈ بینک’ نامی ادارے کے ساتھ لین دین کرنے سے خبردار کیا ہے۔ آر بی آئی نے کہا ہے کہ اس ادارے کے پاس بینکنگ لائسنس نہیں ہے اور اس میں جمع کی گئی رقم ملک کے ڈپازٹ انشورنس نظام کے تحت محفوظ نہیں ہے۔
آر بی آئی کے شعبۂ نگرانی، کانپور کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق، اس ادارے کی جانب سے لفظ ‘بینک’ کا استعمال بینکنگ ریگولیشن ایکٹ 1949 کی دفعہ 7 کی خلاف ورزی ہے۔
نوٹس میں اس ادارے کی ویب سائٹ unfeedingworldbank.com بتائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ مرکزی بینک نے اسے بینکنگ کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے، ”مذکورہ ادارے کو نہ تو ریزرو بینک نے بینکنگ ریگولیشن ایکٹ 1949 کے تحت کوئی بینکنگ لائسنس جاری کیا ہے اور نہ ہی اسے ریزرو بینک کی جانب سے بینکنگ کاروبار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔”
آر بی آئی نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اگر صارفین نے اس ادارے میں کوئی رقم جمع کی ہے تو وہ ڈپازٹ انشورنس اینڈ کریڈٹ گارنٹی کارپوریشن (ڈی آئی سی جی سی) کے بیمہ تحفظ کی اہل نہیں ہوگی۔ ڈپازٹ انشورنس نظام کے تحت بیمہ شدہ بینکوں میں اہل جمع شدہ رقوم کو مقررہ شرائط کے مطابق ہر جمع کنندہ کے لیے 5 لاکھ روپے تک تحفظ حاصل ہے۔ تاہم، یہ تحفظ غیر مجاز بینکنگ اداروں پر نافذ نہیں ہوتا۔
نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس ادارے کے ساتھ مالی لین دین کرنے والے افراد ایسا اپنی ذمہ داری اور خطرے پر کریں گے۔ اس کے علاوہ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ بینکنگ یا مالی خدمات فراہم کرنے کا دعویٰ کرنے والے اداروں کی پیش کشوں پر عمل کرنے سے پہلے احتیاط برتیں اور ضروری جانچ پڑتال کرلیں۔
آر بی آئی نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق کریں کہ کوئی ادارہ بینکنگ سرگرمیاں انجام دینے کا مجاز ہے یا نہیں۔ اس کے لیے وہ آر بی آئی کی ویب سائٹ پر موجود بینکوں اور رجسٹرڈ غیر بینکنگ مالیاتی کمپنیوں کی سرکاری فہرست دیکھ سکتے ہیں۔
یو این آئی ۔ ایم جے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
