تازہ ترین
پولیس افسرنے70لاکھ نفوس کو خطرے میں ڈالا:کشمیری عوام
سرینگر// خانیار کی ایک خاتون جس کاکروناوائرس کی بیماری میں مبتلاء ہونے کاٹیسٹ مثبت آیاہے اور جسے سری نگر کے ہوائی اڈے سے ایک اعلیٰ پولیس افسر کی ساس ہونے کی بناء پربغیرجانچ کے جانے دیاگیا،وادی کے لوگوں میں مروجہ ’وی آئی پی‘ کلچر کیخلاف ناراضگی میں اضافہ ہورہا ہے۔سماجی رابطہ گاہوں پراکثر کشمیریوں نے اپنی خاموشی توڑ کرکشمیرمیں 70لاکھ لوگوں کی زندگیوں کوخطرے میں ڈالنے کاالزام ’وی آئی پی‘کلچر پرعائد کیا ہے۔65برس کی خاتون،جس کا سعودی عرب سے واپسی پر،کروناوائرس میں مبتلاء ہونے کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے،سینئرسپرانٹنڈنٹ پولیس(کرائم) امتیازاسماعیل پرے کی ساس ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ اُس کی سرینگر کے ہوائی اڈے پرجانچ نہیں کی گئی تھی جب پرے نے اُنہیں ہوائی اڈے کے ’وی آئی پی‘گیٹ سے اپنے ساتھ باہرنکالا۔
منیب الحق نے فیس بک پر اپنی وال پر لکھا،”کشمیرمیں آپ کا خوش آمدید،غیرملکی سفر سے واپسی پرمسافر سرینگرکے ہوائی اڈے پراُترتا ہے،اپنا ’وی آئی پی‘اثرورسوخ استعمال کرتی ہے،کیونکہ اُس کاداماد پولیس افسر ہے اورلازمی طبی جانچ سے چھوٹ جاتی ہے۔مابعد اُس کے ٹیسٹ مثبت آتے ہیں اور پوری وادی کو خطرے میں ڈالدیتی ہے۔مذکورہ افسر اخلاقیات کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اُس نے خود کوالگ تھلگ تنہائی میں رکھا ہے اور لازمی پروٹوکول پرعمل پیرا ہے،اور پھر دوسروں کوصلاح دیتا ہے کہ وہ کوئی موقعہ نہ دیں اورحکومتی ہدایات پر من وعن عمل کریں۔سب سے ستائش اور تعریفیں پاتاہے۔اُس کو اب کشمیریوں کی روایات کوزندہ رکھنے کیلئے اعزازدیاجاناچاہیے۔
سماجی رابطہ گاہ پر ایک اور شہری یو نس حجاج لکھتے ہیں،”وی آئی کلچر وادی میں ختم ہونا چاہیے کیونکہ یہ کورپشن کی بنیادی وجہ ہے اور دوسروں کو کورپشن کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔کیااس سنگین غلطی کیخلاف کوئی کارروائی کرسکتا ہے؟امتیازاسماعیل پرے جس کی ساس جو سرینگرشہرسے تعلق رکھتی ہیں،بدھوارکو وادی کشمیرکی پہلی مثبت کروناوائرس مریض بن گئی،نے کہا سعودی عرب سے واپسی پراگرچہ اس کااُس کے ساتھ کوئی براہ راست رابطہ نہ تھا،وہ پھر بھی الگ تھلگ تنہائی میں جارہے ہیں اور لوگوں پرزوردیا کہ وہ کوئی بھی موقعہ نہ دے۔“وہ مزیدلکھتے ہیں،پرے کے قدم کی دیگر پولیس اور سول افسروں نے تعریفیں کیں، سرینگرکے ضلع ترقیاتی کمشنرنے لکھا ، ”آپ پرفخر ہے،امتیازصاحب“۔حجاج کہتے ہیں کہ تعریفوں کے بجائے اس لاپرواہی،جس نے پورے کشمیرکوخطرے میں ڈالدیا ہے،کیخلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔
معروف سماجی کارکن قرعت العین مسعودی نے ’خبراردو‘سے بات کرتے ہوئے حکومت پرزوردیا ہے کہ وہ اس افسر کیخلاف کارروائی کرے اگروہ خطاکارثابت ہوتے ہے۔یہ اختیارات کاصریحاًغلط استعمال ہے جس نے پورے کشمیرکی آبادی کوخطرے میں ڈالدیا ہے۔اس کی کیسے دیگرافسر تعریفیں کرسکتے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ مذکرہ افسر نے اِس کے افشا ہوتے ہی، اپنے ہمراہ ساس کااستقبال کرنے گئے دیگرافسروں کے ساتھ خود ہی قرنطینہ میں جانے کافیصلہ کیا۔
مسعودی نے کہا کہ دفعہ370کی تنسیخ کے بعداُمید کی جارہی تھی کہ ’وی آئی پی کلچر‘ختم ہوجائے گالیکن اس واقعہ سے ہماری امیدوں اور توقعات کوٹھیس پہنچی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک افسر نے خطا کی ہے اور دیگرافسر اُس کوشاباشی دے رہے ہیں،اندازہ کریں اگر یہی غلطی کسی عام آدمی نے کی ہوتی،تو صورتحال قطعی مختلف ہوتی۔ راسخ رسول ایک اور سماجی کارکن نے اس پولیس افسر کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی وال پرلکھا،”حقیقی وی آئی پی وہی ہے جواپنے کوکروناوائرس کی جانچ کیلئے پیش کرے،توحقیقی وی آئی پی بنیں،نہ کہ نقلی۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
