تازہ ترین
کرونا وائرس: بھارت میں حکومتی و عوامی ترجیحات تبدیل
بھارت بھی اس وقت دیگر ممالک کی طرح مختلف سطح پر کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مصروف ہے۔ ملک بھر میں ہنگامی حالات ہیں جب کہ اکثر ریاستوں اور شہروں میں لاک ڈاون کر دیا گیا ہے۔ کئی ریاستوں میں کرفیو بھی نافذ ہے۔
کرونا وائرس نے سیاسی، سماجی، تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی تمام قسم کی سرگرمیوں کا محور تبدیل کر دیا ہے جب کہ ترجیحات بھی بدل گئی ہیں۔
اس وبا کی بھارت آمد سے قبل مختلف معاملات میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان رسہ کشی جاری تھی۔ خاص طور پر اقتصادی محاذ پر حکومت بہت زیادہ مصروف تھی۔ اقتصادی شرح نمو میں گرواٹ سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے تھے۔
حزب اختلاف کی جانب سے حکومت پر مسلسل تنقید کی جا رہی تھی۔ دہلی میں حال ہی میں ہونے والے فسادات کی وجہ سے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مرکزی حکومت ہدف تنقید تھی۔ پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوران حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان کسی نہ کسی معاملے پر نوک جھونک بھی چل رہی تھی۔
حکومت کی جانب سے آبادی کے رجسٹر نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) پر یکم اپریل سے کام شروع ہونے والا تھا۔ حکومت نے اس سلسلے میں جو طریقہ کار وضع کیا ہے اس پر حزب اختلاف شدید نکتہ چینی کر رہی تھی جب کہ سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے اعلان کیا جا رہا تھا کہ وہ این پی آر کا بائیکاٹ کریں گی۔
سی طرح شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور شہریوں کے قومی رجسٹر (این آر سی) کے معاملے پر حکومت پر نکتہ چینی کی جا رہی تھی۔ سی اے اے کے خلاف ملک بھر میں ریلیاں نکالی جا رہی تھیں اور مظاہرے ہو رہے تھے۔
جنوبی دہلی کے شاہین باغ میں 15 دسمبر سے سی اے اے کے خلاف خواتین کا دھرنا جاری تھا۔ شاہین باغ کا دھرنا سی اے اے کے خلاف احتجاج کی ایک علامت بن گیا تھا۔
کرونا وائرس کے طوفان سے کیسے نمٹا جائے
کرونا وائرس کا طوفان کیا آیا کہ سب کچھ تبدیل ہو گیا۔ اب نہ صرف حکومت بلکہ حزب اختلاف کی جماعتوں اور عوام کی بھی بس ایک ہی ترجیح ہے اور وہ یہ ہے کہ کرونا وائرس کے طوفان سے کیسے نمٹا جائے اور جو تباہی سروں پر منڈلا رہی ہے اس سے کیسے نجات حاصل کی جائے۔
تجزیہ کار پرتاپ سوم ونشی وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کرونا وائرس کے عذاب سے قبل بھی بھارت میں اقتصادی بدحالی تھی لیکن اس وبا کے ساتھ اس بدحالی میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ان کے بقول پوری دنیا کا بازار مندی کا شکار ہے۔ اسی لیے بھارت پر بھی اس کے اثرات پڑ رہے ہیں۔ یہاں حکومت کو کرونا وائرس کے ساتھ ساتھ اقتصادی بدحالی سے بھی نمٹنا ہے۔
معاشی پیکج کا اعلان متوقع
پرتاپ سوم ونشی نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے انکم ٹیکس ریٹرن داخل کرنے کی تاریخ 30 جون تک بڑھا دی ہے۔ اس کے علاوہ تمام تجارتی و مالیاتی لین دین پر بینک چارجز کم کر دیے گئے ہیں۔ اے ٹی ایم سے تین ماہ تک بغیر کوئی چارج دیے پیسے نکالے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اقتصادی حالات کو سنبھالنے کے لیے جلد معاشی پیکج کا اعلان کیا جائے گا۔
حکومت کی تیاری کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ حکومت وبائی مرض سے نمٹنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اسی لیے اس نے خاص طور پر ان ریاستوں میں جہاں پازیٹیو کیسیز پائے گئے ہیں، لاک ڈاون کر دیا ہے۔
‘عوام میں ابھی بھی شعور پیدا نہیں ہوا’
حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ عوام کے مجموعی رویے کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ عوام میں ابھی وہ شعور پیدا نہیں ہوا ہے جس کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ حکومت کے اقدامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ایک روز قبل 900 افراد کے خلاف کاررروائی کی گئی ہے۔
ایک اور سینئر تجزیہ کار انجم نعیم اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ کرونا وائرس نے حکومتی و عوامی سطح پر ترجیحات بدل دی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ خود حکومت نے اپنے بہت سے کام موخر کر دیے ہیں۔
‘سی اے اے اور این پی آر معطل کر دیے جائیں گے’
وہ خاص طور پر سی اے اے اور این پی آر کا نام لے کر کہتے ہیں کہ ابھی ان کو موخر کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا لیکن حکومت جس طرح سے کرونا وائرس سے مقابلے کے لیے جتن کر رہی ہے اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مذکورہ سرگرمیاں معطل کر دے گی۔
سینئر تجزیہ کار انجم نعیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ عوامی سطح پر بھی تبدیلیاں آئی ہیں اور عوام کے ایک بڑے طبقے کی جانب سے حکومت کی پالیسیوں کی جو مخالفت کی جا رہی تھے اسے فی الحال روک دیا گیا ہے اور سب مل کر اس تباہی کا مقابلہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ملک میں تقریباً 200 مقامات پر سی اے اے کے خلاف خواتین دھرنے پر بیٹھی ہوئی تھیں لیکن اب زیادہ تر اٹھ گئی ہیں یا پولیس کی جانب سے اٹھا دی گئی ہیں۔ خود شاہین باغ کا مظاہرہ جو کہ ایسے مظاہروں کی ایک علامت بن گیا تھا، آج پولیس کی جانب سے جبراً ہٹا دیا گیا ہے۔
‘خواتین نے کرونا وائرس کی وجہ سے شاہین باغ جانا چھوڑ دیا تھا’
دھرنے کے خاتمے کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ مختلف طبقات سمیت سیاسی، سماجی، مذہبی اور فلمی شخصیات کی جانب سے وہاں بیٹھے لوگوں کی صحت کے پیش نظر شاہین باغ کے دھرنے کو ختم کرنے کی اپیل کی جا رہی تھی۔ خود شاہین باغ کے مظاہرین کی تعداد گھٹ گئی تھی۔ خواتین نے کرونا وائرس کی وجہ سے وہاں جانا چھوڑ دیا تھا۔
انجم نعیم کے خیال میں اب ان دھرنوں کو ہٹایا جا رہا ہے تو حکومت کو اپنے اوپر کی جا رہی نکتہ چینی سے عارضی طور پر نجات مل گئی ہے۔
ان کا یہ بھی خیال ہے کہ حکومت ان مظاہروں سے بہت زیادہ پریشان تھی لیکن اب اس کو اس محاذ پر راحت کا موقع نصیب ہوا ہے۔
باجماعت نماز ادا کرنے سے گریز کیا جائے: جماعت اسلامی ہند
دوسری جانب جماعت اسلامی ہند کی شرعیہ کونسل نے اعلان کیا ہے کہ مساجد میں باجماعت نماز ادا کرنے سے گریز کیا جائے۔ گھر ہی پر نماز ادا کی جائے۔ مسجد میں اذان تو ہو مگر دو تین لوگ ہی جماعت کا اہتمام کریں۔
ملک کی مختلف مساجد کی جانب سے بھی یہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ لوگ مسجدوں میں کم آئیں۔ جو آئیں بھی وہ وضو گھر سے کرکے سنت ادا کرکے صرف فرض نماز کی ادائیگی کے لیے آئیں۔ جمعے کی نماز میں بھی اس طرح کا اہتمام کیا جائے۔
دنیا
ایردوان: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ اور جامع بنایا جانا چاہیے
انقرہ، ترکیہ کے صدر ایردوان نے اپنے پیغام میں درج ذیل الفاظ بیان کیے: “اقوامِ متحدہ کے قیام کی 81ویں سالگرہ پر میں اپنی اور ترک عوام کی جانب سے دلی جذبات کے ساتھ مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سیکریٹری جنرل جناب انتونیو گوترش صاحب اور ہمارے ملک میں اور دنیا کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اقوامِ متحدہ کے کارکنوں کو مبارکباد دیتا ہوں۔”
دو عالمی جنگوں کے بعد ‘جنگ کی آفت سے آنے والی نسلوں کا تحفظ’ کے عزم کے تحت قائم ہونے والے اقوامِ متحدہ نے بین الاقوامی امن و امان کے تحفظ، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ابتدا سے ہی اہم ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔
آج جن عالمی آزمائشوں کا سامنا ہے – جنگیں، انسانی آفات، موسمیاتی تبدیلی، بھوک اور غربت، نسل پرستی، بیرونِ وطن دشمنی اور اسلام مخالف رجحانات – وہ دکھاتی ہیں کہ اقوامِ متحدہ کے قیام کا مشن کم نہیں ہوا بلکہ اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
انسانیت آج بھی اُس مستقبل کی آرزو رکھتی ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق مشترکہ ارادہ عملی طور پر نافذ ہو، جنگیں ختم ہوں اور دائمی امن قائم ہو۔
اقوامِ متحدہ ان عظیم ذمہ داریوں کو مناسب طریقے سے نبھانے کے قابل ہونے کے لیے تمام ممالک کی طرف سے اقوامِ متحدہ کے منشور کی مضبوط حمایت اور تنظیم کے بنیادی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے والی اصلاحات کی حمایت کرنا انسانی مفاد میں ضروری ہے۔
اسی نقطۂ نظر کے تحت، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو زیادہ منصفانہ، جامع اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کے مطابق بنانے کی ضرورت خاص طور پر اہم ہو گئی ہے۔ غزہ میں پیش آنے والا واقعہ، جسے نسل کشی قرار دیا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد غزہ کے باشندگان کی جانیں ضائع ہوئیں، اور دنیا کے دیگر خطوں میں پھیلنے والے بحران اور تصادم اس ضرورت کی کتنا فوری ہونے کو عیاں کر دیتے ہیں۔
اسی فہم کے ساتھ، ہم محترم سیکریٹری جنرل کی جانب سے شروع کیے گئے UN 80 اقدام کی حمایت کرتے ہیں؛ استنبول کو اقوامِ متحدہ کا ایک مرکز بنانے کے ہمارے ہدف کے تناظر میں ہم تنظیم کے ساتھ قریبی تعاون میں کام کر رہے ہیں۔
ان خیالات کے ساتھ، میں 24 اکتوبر اقوامِ متحدہ کے دن کی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس یقین کے ساتھ کہ ایک زیادہ منصفانہ دنیا ممکن ہے، بین الاقوامی نظام اور اسی کے مرکز میں موجود اقوامِ متحدہ کو زیادہ مؤثر اور جامع بنانے کے لیے ہماری کاوشیں ہم عزم طور پر جاری رکھیں گے، ایک بار پھر زور دیتا ہوں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کا ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ دستخط شدہ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا اعلان
سلام آباد، پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا پاکستان نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کے عمل کو مکمل کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی معاہدہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اجتماعی دفاع اور علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے تعاون کو مضبوط کریں گے۔
معاہدے کے متعلقہ امور، اس کی توثیق، اور اس کے عملی نفاذ پر تینوں فریق بات چیت کر رہے ہیں جن میں اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی بھی شامل ہے جس کی حالیہ ملاقات 5 اکتوبر کو ہوئی تھی۔
حیدر خان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بھی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں۔
خان نے مزید کہا کہ اسلام آباد معاہدے کی شقوں اور اس کے نچوڑ دونوں کے ساتھ مکمل پابند ہے، جو دفاعی نوعیت کا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے ہے۔
7 اگست کو ترک صدر رجب طیب ایردوان، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان نے مکہ میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
یہ معاہدہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ علاقائی مسائل کے لیے علاقائی حل تلاش کریں گے اور ان کی مشترکہ اسٹریٹجک بصیرت علاقائی سلامتی اور استحکام پر مرکوز ہے۔
یہ تینوں ممالک کی سلامتی کو اجتماعی بازدارندگی اور دفاع کے ذریعے مضبوط کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے پہلے ہی اپنے توثیقی مراحل مکمل کر لیے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے داخلی قانونی فریم ورک کے مطابق مطلوبہ طریقہ کار اختیار کر رہا ہے،
ترکیہ نے بدھ کو پارلیمنٹ میں تین شقوں پر مشتمل بل جمع کرایا ہے جس کا مقصد اس معاہدے کی منظوری حاصل کرنا ہے۔
اس معاہدے سے توقع ہے کہ ترکیہ کے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ دفاعی اور سیکیورٹی تعلقات گہرے ہوں گے اور ایک جامع علاقائی سیکیورٹی میکانزم کی حمایت ہوگی۔
یہ بل پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں زیرِ غور آئے گا، جسے قیادت کرنے والی کمیٹی مقرر کیا گیا ہے۔اگر کمیٹی نے منظوری دے دی تو اسے پارلیمنٹ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھا جائے گا۔
مکہ معاہدہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جو 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد بڑھ گئی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کوئی فعال یا حتمی امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔
اگرچہ ایک ابتدائی 60 روزہ مفاہمتی یادداشت جو عارضی جنگ بندی قائم کرتی تھی جون 2026 میں دستخط ہوئی تھی، بات چیت زیادہ تر ناکام ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک اس وقت پاکستان اور دیگر ثالثوں کے ذریعے غیر مستقیم، معطل مذاکرات میں مصروف ہیں۔
اس تنازع نے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی وسعت اختیار کی ہے، اور حوثی ملیشیا نے بحرِ احمر میں سعودی جہاز رانی اور دیگر انفراسٹرکچر پر حملے بڑھا دیے ہیں۔
سیکیورٹی کے بگڑتے ہوئے ماحول نے علاقائی شراکت داروں کے درمیان دفاعی تعاون کو تیز کر دیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
فرانس میں احتجاج کے پیش نظر 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات، پیرس کے عجائب گھر بند
پیرس، فرانس میں گزشتہ ہفتے بڑے پیمانے پر لوٹ مار، آتش زنی اور سرکاری عمارتوں پر حملوں کے بعد سکیورٹی کی خامیاں سامنے آنے اور صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت پر دباؤ بڑھنے کے درمیان، حکام نے نئے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ہفتہ کو ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اہلکاروں اور جنڈارمری فورس کے جوانوں کو تعینات کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیرس کے کئی بڑے عجائب گھر بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
تشدد کے دوبارہ بھڑکنے کے خدشے کے پیش نظر لوور، اورسے میوزیم، پکاسو میوزیم اور گرینڈ پیلے سمیت کئی ثقافتی ادارے بند رہے۔ پیرس میں منعقد ہونے والے عصری فنون کے بڑے میلے آرٹ باسل کے منتظمین نے بھی جمعہ کو افتتاح کے بعد ہفتے کے اختتام کے پروگرام منسوخ کر دیے۔
پیرس سے تقریباً 110 کلومیٹر جنوب میں واقع اورلیاں میں انتہائی دائیں بازو کے خلاف ایک بڑے احتجاج کی تیاری کی گئی۔ یہ مظاہرہ میرین لے پین کی جماعت نیشنل ریلی کی قومی کانگریس کے ساتھ ہی منعقد ہونے والا ہے۔
ٹریڈ یونینوں، بائیں بازو کی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور نسل پرستی مخالف انجمنوں سمیت تقریباً 50 تنظیموں نے اس مظاہرے کی اپیل کی ہے۔ حکام کو اس میں 20 ہزار سے 30 ہزار افراد کی شرکت کی توقع ہے۔ ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے تقریباً 3 ہزار پولیس اہلکاروں اور جنڈارمری فورس کے جوانوں کو تعینات کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے کہا کہ سکیورٹی انتظامات میں فساد مخالف پولیس، ہیلی کاپٹر، بکتر بند گاڑیاں اور واٹر کینن شامل ہوں گے۔
نونیز نے جمعہ کو کہا، ”ہم تشدد کرنے والے ہنگامہ آرائی کرنے والوں اور لوٹ مار میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔” انہوں نے خبردار کیا کہ حکام کسی قسم کی نرمی نہیں برتیں گے۔
طلبہ تنظیموں، ٹریڈ یونینوں اور یلو ویسٹ تحریک کے کارکنوں کی جانب سے پیرس میں بھی احتجاجی مظاہروں کی توقع ہے۔ فرانسیسی اخبار ‘لوموند’ کے حوالے سے پیش کیے گئے انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق، پیرس کی سڑکوں پر 60 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار تک افراد اتر سکتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے فرانس بھر میں پانچ لاکھ سے زیادہ افراد نے مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔ ان مظاہروں کے دوران ہونے والے تشدد میں دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا، لوٹ مار کی گئی، گاڑیوں کو آگ لگائی گئی اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق، ملک بھر میں تقریباً 3 ہزار کاروباری اداروں کو نقصان پہنچا یا انہیں لوٹ لیا گیا۔
حکام نے خصوصی پولیس دستوں، سراغ رساں کتوں کی ٹیموں، گھڑسوار اہلکاروں اور ڈرون مخالف ٹیموں کی مدد سے سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ نیشنل جنڈارمری کے زیر استعمال تقریباً 15 واٹر کینن گاڑیوں اور 20 بکتر بند گاڑیوں کو بھی تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔
احتجاج سے قبل پیرس کے دکانداروں نے اپنی دکانوں کے شٹر اور دروازے مضبوط کیے اور سکیورٹی کے اضافی انتظامات کیے۔ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر بدامنی سے متاثر ہونے والے پلیس دے لا ریپوبلیک کے قریب کاروباری اداروں اور بینک کی ایک شاخ نے اپنے احاطے کو محفوظ بنانے کے لیے لکڑی کے تختے لگا دیے۔
یہ احتجاج گزشتہ ماہ پیرس کے جنوب مشرق میں واقع ایک ہائی اسکول سے شروع ہوا تھا۔ ابتدا میں مظاہرین نے عملے کی کمی اور تعلیمی حالات کے خلاف آواز اٹھائی، لیکن بعد میں اس تحریک میں مہنگائی اور معاشی عدم مساوات کے خلاف ناراضگی بھی شامل ہو گئی۔
اسکولوں میں ناکافی فنڈنگ، پسماندہ علاقوں میں عملے کی کمی اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے مسائل نے بھی طلبہ کی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔
لیون، نیس اور مونٹ پیلیئر میں مجوزہ بعض مظاہروں پر مقامی حکام نے پابندی عائد کر دی، جبکہ پیرس اور مارسیے میں ریلیاں نکالے جانے کی توقع ہے۔ ٹریڈ یونینوں نے ان پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آئین کے تحت حاصل آزادیٔ اظہار کے حق کی خلاف ورزی ہیں۔
صدر میکرون، جنہیں اپنی صدارت کے دوران عوامی ناراضگی میں اضافے کا سامنا ہے، نے سکیورٹی کے ان اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کے مرکزی علاقوں، کاروباری اداروں اور سرکاری عمارتوں کے تحفظ کے لیے یہ ضروری ہیں۔
یواین آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
