تازہ ترین
مفلسوں کے کفیل، کرونا کا شکارشخص کون تھے؟
مارچ 26, 2020 – صریر خالد
تبلیغی جماعت کے ایک اہم راہنما اور معروف داعی محمد اشرف انم کا آج صبح سرینگر کے چسٹ ڈزیز اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ وہ وادی میں کرونا سے متاثر دوسرے مریض تھے اور دنیا بھر میں تباہی مچاتی آرہی اس وبا سے ریاست میں مرنے والے پہلے شخص ہیں۔
خوبرو اور نیک صفت بتائے جاہے محمد اشرف دو ایک روز سے موضوعِ بحث ہیں کہ جب ان میں کرونا وائرس کی موجودگی کا پتہ چلا ہے اور پھر یہ سنسنی خیز انکشاف بھی ہوا کہ انکی وجہ سے طبی عملہ کے کئی ارکان سمیت کئی لوگ متاثر ہوچکے ہیں۔
محمد اشرف کون تھے اور کیا کرتے تھے ،یہ جاننے کیلئے تھوڑی ہی کوشش کرنے پر ایک عظیم شخصیت کا تصور ابھرتا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ وہ سوپور کے ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھنے والے ایک اللہ والے تھے کہ جو سوپور کے علاوہ سرینگر کے پوش حیدرپورہ کے رہائشی تھے۔
نوجوان عالمِ دین اور تفصیلات کے مستقل مضمون نگار الطاف جمیل ندوی نے اشرف انم صاحب کو قریب جاننے کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک تحریری نوٹ میں بتایا ”آج صبح ہی صبح یہ خبر آئی کہ قصبہ سوپور کے مشہور داعی الحاج محمد اشرف صاحب اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ موت کی وجہ کرؤنا وائرس کی تکلیف کو قرار دیا گیا یہ جانکاہ خبر ایک بجلی کی طرح ان غریبوں پر بھی گری جنہیں مرحوم اپنی کفالت میں رکھے ہوئے تھے میں ۔ مرحوم کو قریب سے جانتا ہوں انتہائی نیک اور پاکیزہ صفات کے مالک تھے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ دعوت تبلیغ میں گزارا۔ انکا زیادہ تر وقت مساجد میں ہی صرف ہوتا تھا یہاں تک کہ دو مساجد ایسی ہیں جو نہ صرف انہوں نے اپنی زمین پر بنائیں بلکہ ان کا خرچہ بھی برداشت کیا“۔
الطاف جمیل ندوی کا کہنا ہے ”مرحوم جہاں خود کو ذکر و اذکار مجالس اسلامی دعوت تبلیغ کے لئے وقف کئے ہوئے تھے وہیں یہ اپنے علاقہ کے مشہور و معروف تاجر بھی تھے۔ علاقہ کے ایک نامی دولت مند ہونے کے باوجود رب کے ساتھ کچھ اس طرح سے محبت کرتے تھے کہ اپنی کوئی فکر نہ رہتی تھی۔وہ اپنے لبوں پر مسکان لئے ہر ایرے غیرے کی مدد لئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے اور انا کی کبھی ان میں ہلکی سی رمق بھی نہ دیکھی گئی“۔
اپنے ایک استاد اور اشرف انم صاحب کے ساتھی کے ساتھ انم کے بارے میں ہوئی بات چیت کے بارے میں الطاف جمیل نے لکھا ہے ”میرے استاد مکرم مفتی بشیر احمد بٹ صاحب (استاد دارلعلوم سوپور ) کہتے ہیں کہ محمد اشرف پاکیزہ اخلاق ،صالح مزاج اور پرہیز گار شخصیت کے مالک تھے جو ایک بہت بڑے تاجر ہونے کے باوجود سادگی و شرافت کا مجسمہ تھے“۔ مولانا بشیر کہتے ہیں ”اشرف صاحب کی زندگی کا بیشتر حصہ مساجد میں گزرتا تھا جیسے کہ مساجد ہی ان کا گھر ہوں“۔ استاد دار العلوم کہتے ہیں ”
اب جبکہ ان کی موت وبا کے سبب ہوئی تو یاد رکھیں احادیث میں اس بات کی وضاحت موجود ہے کہ وبا کے دوران موت کا شکار ہونے والا اللہ کے ہاں شہادت کا درجہ پاتا ہے
ہاں غلطیاں کس سے نہیں ہوتی ہیں ،ان سے بھی ہوئی ہوں گی ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ بھی وبائی امرض کا شکار ہوئے ہیں اور ان کی شہادت بھی ہوئی ہے ۔
شاید موت کے وقت ان کے وہ آنسو ان کے کام آجائیں جو کل شام انہوں نے ایک ساتھی کے ساتھ فون پر بات کرتے ہوئے بہائے اور اپنی طرف سے یہی کہا کہ مجھے مسجد زکریا سوپور کے پاس ہی دفن کردینا“۔ واضح رہے کہ اس مسجد کی تعمیر میں انہوں نے زبردست محنت کی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ اشرف صاحب نے مولانا بشیر احمد مہتمم دار العلوم کو انکا جنازہ پڑھانے کی وصیت کی ہے۔ انکی موت سے نہ صرف سوپور اور سرینگر بلکہ یہ پورا خطہ ایک عظیم داعی سے محروم ہوگیا ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ محمد اشرف 7 مارچ کو ایک تبلیغی دورے کیلئے روانہ ہونے کے بعد دلی،دیوبند اور سانبہ سے ہوتے ہوئے واپس واردِ کشمیر ہوئے تھے اور اسکے بعد بھی یہاں سرگرم رہے یہاں تک کہ ان میں کرونا وائرس کی علامات ظاہر ہوگئیں اور انہیں اسپتال میں بھرتی کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اشرف صاحب کی وجہ سے طبی عملہ کے 13 ارکان ، جن میں 2 ڈاکٹر صاحبان بھی شامل ہیں، اور تبلیغی جماعت سے وابستہ کئی عام لوگ کرونا سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان سبھی کو قرنطینیہ میں بھیجا جاچکا ہے جبکہ اشرف صاحب نے جمعرات کی صبح سرینگر کے چسٹ ڈزیز اسپتال،جسے کرونا کے مریضوں کیلئے مختص کیا جاچکا ہے، میں آخری سانس لی۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ ذیابطیس، بلند فشارِ خون اور موٹاپا کے امراض کا شکار تھے،بہترین علاج کے باوجود بھی وہ جانبر نہیں ہوسکے۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
