تازہ ترین
کشمیر میں کورونا وائرس کی پہلی ہلاکت کا معاملہ
صوبائی انتظامیہ نے سرینگر سے تعلق رکھنے والے 2روزقبل کورونا وائرس میں مبتلاشہری کی موت کی تحقیقات کا حکم دیا،اور اس حوالے ایڈشنل کمشنر کشمیر کو تحقیقاتی افسر مقرر کر کے2روز کے اندر اپنی روپوٹ پیش کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔شہری کی مبینہ موت کے بعد یہ الزام لگایا گیاہے کہ مریض کو علاج معالجے کے حوالے سے پروٹوکال نہیں اپنا گیا ہے۔اس دوران صوبائی کمشنر کشمیر جنہوں نے حال میں چارج سنبھالاپی کے پولے نے بتایا میں یہ دیکھنا چہتا ہوں کہ پروٹوکال کو اپنایا گیا تھا یا نہیں۔کشمیر نیوز سوس (کے این ایس) کے مطابق بدھ کو سرینگر کے حیدر پورہ سے تعلق رکھنے والے ایک 65سالہ شہری کے مہلک وائرس کورونا میں مبتلا ہونے کا ٹسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعدانہیں فوری طور پر چھاتی کے مریضوں کے لئے مخصوص ہسپتال (سی ڈی) ہسپتال سرینگر میں داخل کیا گیا جہاں دو روز بعد مزکورہ مریض جمعرات کی صبح فوت ہواہے۔
اس دوران وادی میں اس طرح وائرس سے پہلی موت درج ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں پوری وادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔مبینہ ہلاکت کے حوالے سے یہ الزام لگایا جارہا ہے، کہ کیس کو اس انداز میں نہیں لیا گیا ہے، جس انداز سے لینا تھا۔اس دوران پہلی ہلاکت اور الزمات کے بیچ صوبائی کمشنر کشمیر نے26مارچ کے صبح ایک حکمنامہ جاری کر کے واقعے کے حوالے سے ایڈشنل کمشنر کشمیرتصدق حسین میر کو انکوائرسی افسر مقرر کر کے 2دن میں اپنی رپوٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔صوبائی کمشنر نے اس حوالے سے ایک آڈر زیر نمبرSKIMS-MC.PS/2020/39gجس میں مریض کوغیر سنجید گی سے لیا گیا ہے،کے بارے میں سی ڈی ہسپتال،پرنسپل سکمز میڈیکل کالج،ہسپتال بمنہ،کو سرینگر کے حیدر پورہ سے تعلق رکھنے والے شہری کے فوت ہونے کے بارے میں رپوٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئے ہے۔حکم نامے کے مطابق وائرس کے باعث فوت ہونے والے65سالہ شہری21تاریخ کوصبح8.30پر سکمزمیڈیکل کالج ہسپتال میں اپنے سفری دستاویزات سمیت ہسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ جہاں اسے وائرس میں مبتلا ہونے کی علامات بھی پائے گئے ہیں،جس کے بعد میں کیا گیا ٹسٹ مثبت پایا گیا،اور مثبت ہونے کے باووجود اس طریقہ سے احتیاط نہیں بھرتا گیا جس انداز میں اس کے لئے کرنا تھا۔حکم نامے میں یہ بھی درج ہے کہ مریض کی سفری ہسٹری اورزیر نگرانی کے بارے میں پولیس کے کسی بھی مقامی،ضلع یا صوبائی سطح کے افسر کو مطلع کرنے کے بغیر ہیں اسپتال میں ایڈمٹ کیا گیا تھا۔ رپوٹ کے مطابق اس طرح سے مریض نے کافی وقت رشتہ رشتہ داروں اور عام لوگوں میں گزارا ہے جس کے نتیجے میں ان تک بھی وائرس پھیل گیا ہے۔
انہوں نے رپوٹ میں بتایا اس طرح سے ہسپتال انتظامیہ کی غفلت شعاوری کے نتیجے میں عام لوگوں میں پریشانی اور خطرہ لاحق ہوا ہے۔ساری صورت حال کے حوالے سے میڈیکل سپرانٹنڈنٹ سکمز بمنہ،ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ چسٹ میڈسن سکمز بمنہ کو اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔دریں اثنا ایڈشنل کمشنر کمشیر تصدق حیسن میر کو معاملے کی ضابطے کی مثالی کارروائی کر نے کے لئے انکوائری افسر تعینات کیا گیا ہے۔ انہوں نے انکوائری افسر کواپنی رپوٹ2روز کے اندر داخل کرنے کے لئے کہا ہے انہوں نے ہسپتال عملے کو انکوائری افسر کے ساتھ تعاون پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔اس دوران صوبائی کمشنر کشمیر پی کے پولے نے بتایا انکوائری مریض کی موت کے حوالے سے نہیں ہے بلکہ میں یہ دیکھنا چہتا ہوں کہ پروٹوکال کو اپنایا گیا تھا یا نہیں۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
