تازہ ترین
وادی میں مقامی اخبارات کی اشاعت بند ہو نے کا اند یشہ، اخبارات کی فروخت میں کمی بھی درج
وادی کشمیر میں مقامی اخبارات کی اشاعت بند ہونے کا اندیشہ لاحق ہوگیا ہے کیونکہ زمینی سطح پر لاک ڈاؤن کے دوران پولیس وفورسز اہلکار معاؤن مدیروں،سب ایڈیٹروں،رپورٹروں،وفوٹو جرنسلٹوں کے علاوہ اخبارات سے منسلک دیگر تکنیکی عملے کے شناختی کارڈ،لازمی پاس تصور کرنے سے انکار کررہے ہیں اور وہ ضلع ترقیاتی کمشنروں کی جانب سے جاری پاس کو ہی صحیح تصو ر کررہے ہیں۔ادھر آئی جی پی کشمیر زون،وجے کمار نے لازمی اور ضروری خدمات سے وابستہ ملازمین ضلع ترقیاتی کمشنروں کے دفتر وں سے پاسز حاصل کریں۔ادھر ہاکروں نے بھی کورونا وائرس کے خوف سے اخبارات کی ترسیل وتقسیم کرنے اپنے خد شات وتحفظات کا اظہار کیا ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون،وجے کمار نے کہا ہے کہ لازمی خدمات سے وابستہ ملازمین ضلع ترقیاتی کمشنروں نے سے لازمی پاسز حاصل کریں،اُسکے بعد ہی اُنہیں لاک ڈاؤن کے دوران نقل وحرکت کی اجازت دی جائیگی۔
انہوں نے کہا کہ ناکوں پر شناختی کارڈوں کو پولیس اور سی آر پی ایف اہلکار لازمی پاسز تسلیم نہیں کریں گے۔ان کا کہناتھا کہ اس کے علاوہ ملازمین کام کرنے والی جگہوں کے نزدک ہی قیام کریں اور اپنی مسافت کو کم کریں۔یہ اپیل آئی جی کشمیر پی زون کی جانب سے ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب انتظامیہ نے لاک ڈاؤن کومزید سخت کردیا ہے۔ تاکہ عالمی وبا کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔یاد رہے کہ حکومت نے بھی سبھی سرکاری دفاتر کو14اپریل تک بند کرنے احکامات صادر کئے ہیں اور صرف لازمی خدمات سے منسلک کو ہی کھلا رکھا گیا اور لازمی کو باری باری ڈیوٹی دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔اس دوران وادی کشمیر میں مقامی اخبارات کی اشاعت بند ہونے کی اندیشہ لاحق ہوگیا ہے کیو نکہ اخبارات سے منسلک تکنیکی عملے کے شناختی کارڈوں کو لازمی خدمات سے منسلک پاسز تصور نہیں کیا جاسکتا ہے۔مرکزی حکومت یہاں تک وزیر اعظم نے بھی لاک ڈاؤن کے دوران صحافیوں کی آزاد نقل وحرکت کو یقینی بنانے پر ضرور دیا ہے۔کئی اخبارات سے وابستہ عملے نے ٹیلی فون پر یہ شکایت کی،زمینی سطح پر پولیس اور سی آر پی ایف اہلکار اُنکے شناختی کارڈ تسلیم کرنے سے انکار کررہے ہیں،اور اُن سے مختلف ناکوں پر ضلع ترقیاتی کمشنروں کی جانب سے جا ری کئے گئے پاسز طلب کئے گئے۔ادھر ہاکروں نے بتایا لاک ڈاؤن میں اخبارات کی فروخت میں کافی کمی آئی ہے۔
ان کا کہناتھا کہ لوگ اخبارات خرید نے سے خوف محسوس کررہے ہیں جبکہ وہ بھی مہلک مرض لگنے کا خوف محسوس کررہے ہیں۔یاد رہے کہ ڈبلیو ایچ او نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ اخبارات یا دودھ کی تھیلی سے کورونا وائرس نہیں پھیلتا، لیکن لوگ کسی طرح کا خطرہ نہیں اٹھانا چاہتے اس لیے اخبارات خریدنے سے پرہیز کر رہے ہیں۔کورونا کے بڑھتے پھیلاؤ کی وجہ سے عام لوگ کافی دہشت میں ہیں اور اس بات کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ مغربی بنگال کے کولکاتا میں اخبارات کی فروخت میں 80 فیصد تک کمی آ گئی ہے۔ قارئین میں دراصل اس بات کو لے کر خوف ہے کہ اخبارات کے ذریعہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ ان کے گھروں میں بھی ہو سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ہاکروں سے کہہ دیا ہے کہ وہ اخبارات لانا بند کر دیں۔خبر رساں ادارہ اے این آئی سے بات چیت کرتے ہوئے مغربی بنگال میں اخبار فروخت کرنے والے ایک ہاکر نے بتایا کہ ’ہمارے بیشتر خریداروں نے اخبار لینا بند کر دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے ذریعہ وائرس ان کے گھروں میں داخل ہو جائے گا‘۔ہاکر نے مزید کہا کہ’بیشتر سوسائٹیوں میں تو ہمیں داخل ہونے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔‘کولکاتا میں اخبار کے ایک ڈسٹریبیوٹر امت گوسوامی نے بھی کورونا وائرس کی وجہ سے اخبارات کی فروخت میں کمی کا اعتراف کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’بکری تقریباً 80 فیصد تک کم ہو گئی ہے۔
اخبار کے خریدار کورونا سے گھبرائے ہوئے ہیں اور وہ کسی طرح کا خطرہ نہیں اٹھانا چاہتے‘۔یہاں قابل ذکر ہے کہ عالمی صحت ادارہ یعنی ڈبلیو ایچ او نے پہلے ہی یہ بات واضح کر دی ہے کہ اخبارات یا کسی کاغذ اور دودھ کی تھیلی سے کورونا وائرس نہیں پھیلتا ہے۔ اس کے باوجود لوگوں میں ایک خوف پیدا ہو گیا ہے کہ اگر کسی انفیکشن زدہ شخص نے اخبار چھو دیا تو پھر کورونا وائرس ان کے گھروں میں بھی اخبار کے ذریعہ پہنچ جائے گا۔ حالانکہ کئی ماہرین اور ڈاکٹروں نے بھی الگ الگ اپنے بیانات میں اس بات کا یقین دلایا ہے کہ اخبار یا کسی کاغذ کے ذریعہ کورونا وائرس پھیلنے کے امکانات نہ کے برابر ہیں۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
