تازہ ترین
مسلسل بارشوں سے کشمیر،خطہ چناب میں زمین کھسکنے لگی
گزشتہ کئی روز کی مسلسل بارشوں کے بعد خطہ چناب کے دلواس چند کوٹ اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ علاقے میں زمین کھسکنے کے نتیجے م 39رہائشی مکانوں اور ایک گاؤں خانے کو شدید نقصان پہنچا۔ادھر چند رکوٹ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بتایا ان کی بستی میں جگہ جگہ بڑے شگاف پڑنے کے نتیجے میں آبادی میں خوف و ہراس پھیل گئی ہے۔اس دوران اانتظامیہ نے واقعے کے بعد حالات کا جائزہ لے کر مزکورہ بستی کے40کنبوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔
اس طرح سے مزکورہ بستی کے درجنوں کنبے اس مشکل گھڑی میں بے گھر ہوکر کھلے آسمان تلے زندگی گزار پر مجبور ہوئیں ہیں۔کشمیر نیوز سوس (کے این ایس) کے مطابق ٹنل کے اس پار دلواس چندر کوٹ رام بن میں گزشتہ کئی روز سے جاری بارشوں کے بعد اتوار کے روز گاؤں کے ایک بڑے حصے میں شگاف پڑے ہیں،جس نے آناً فاناً بستی کے35کنبوں کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے جس کے نتیجے میں یہاں شدید خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوا ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا علاقے میں گزشتہ کئی روز کے دوان تیز بارشیں ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں یہاں وسیع علاقے کی زمین کھسکنے لگی،اور معمولی وقت کے اندر زمین میں بڑے بڑے شگاف پڑے ہیں۔انہوں نے بتایا پہلے خالی زمین پر شگاف پڑے اور اس کے بعد یہ بڑنے لگے اور اس طرح سے متعدد تعمیراتی ڈانچے جن میں 35رہائشی مکان بھی شامل ہیں جو ناقابل استعمال بن گئے،لوگوں کا کہنا تھا،کہ علاقے میں کئی مکانات کے نیچے زمین کھسک گئی اور متعدد مکانات اپنی جگہ سے دورسے جگہ تک پہنچ گئے ہیں جس کے نتیجے میں مقامی آبادی میں خوف و ہاس پھیل گئی ہے۔
ریاض احمد نامی ایک شہری نے کے این ایس کو بتایا اس وقت ہم مکمل طور بے گھر ہوئے ہیں انہوں نے بتایا سرکار کی جانب سے مکمل طور ہدایت ہیں کہ گھروں میں بیٹھوں لیکن ہم لوگ کیاکریں گے۔اس دورانانتظامیہ نے واقعے کے حوالے سے اطلاع موصول ہونے کے بعداتوار کے صبح سویرے پولیس اور سیول انتظامیہ کے ٹیم نے علاقے کا دورہ کر کے حالات کا جائزہ لے کر40کنبوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔انتظامی ذرائع نے کشمیر نیوز سروس کو بتایاکہ علاقے میں اس طرح کے واقع کے بعد مقامی لوگوں میں شدید خوف پھیل گئی ہے تاہم انہوں نے بتایا انتظامیہ نے پہلے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے اور ان کے لئے باقی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا35مکانقوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ4کنبوں کواحتیاطی طور یہاں سے منتقل کرنا پڑا ہے۔ادھر شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے چاڈورہ نامی گاؤں میں بھی اسی طرح کے ایک واقعے میں 4مکان اور ایک گاؤں خانے کو پسی گر آنے کے نتیجے میں نقصان پہنچ گیا ہے۔اس دوران انتظامیہ نے علاقے کا دورہ کر کے حالات کا جائزہ لیا۔ادھر جموں کشمیر اپنی پارٹی کے لیڈر جاوید بیگ نے متاثرین میں فورہ معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
