تازہ ترین
مزید8افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت ،تعداد70تک پہنچ گئی
جموں وکشمیر میں جہاں کورونا وائرس کیسوں کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہورہا ہے ،وہیں سیاہ بادلوں میں ایک سنہری کرن بھی نظر آرہی ہے ،کیونکہ کشمیر کی پہلی خاتون کووڈ ۔ 19مریضہ صحتیاب ہوگئیں اور اُنہیں اسپتال سے ڈسچارج بھی کیا گیا ۔ تاہم اُنہیں ڈاکٹروں کی ہدایت پر 14یا28روز تک قرنطینہ میں رہنا ہوگا ۔ ادھر سی ڈی اسپتال سرینگر میں زیر علاج مریض کا بھی ٹیسٹ علاج کے بعد منفی آیا ہے ۔ جموں وکشمیر میں جمعرات کو مزید8افراد کے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جسکے ساتھ ہی یہاں مریضوں کی تعداد 70تک پہنچ گئی جبکہ چھتہ بل سرینگر کو ’زیڈ زون ‘ قرار دیا گیا کیونکہ یہاں 4افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں ۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق کشمیر کی پہلی خاتون کووڈ ۔ 19مریضہ صحتیاب ہوگئیں اور اُنہیں اسپتال سے ڈسچارج بھی کیا گیا ۔ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ سے خاتون کو ڈسچارج کرنے سے ڈاکٹروں نے بتایا کہ اُسکے کورونا ٹیسٹ دو مرتبہ منفی آئے ۔
یاد رہے کہ67سالہ معمر خاتون عمر ہ کلی ادائیگی کے بعد سعودی عرب سے 16مارچ کو وارد کشمیر ہوئی تھیں ۔ اس کے سبھی رابطہ کاروں کے ٹیسٹ بھی خوش قسمتی سے منفی آئے ہیں ۔ مقامی میڈیا خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق اس خاتون کیساتھ ایک کنٹرور سی یہ رہی کہ وہ سرینگر ائر پورٹ سے بغیر اسکریننگ اپنے گھر چلی گئی تھیں ،کیونکہ اُنکے داماد پولیس میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں ۔ چونکہ اب خاتون صحتیاب ہوئیں لہٰذا ممکن ہے کہ یہ کنٹرور سی بھی ختم ہوگی ۔
خاتون کی مکمل صحتیابی کے ساتھ ہی ملک میں دوسرے مریضوں کی جان میں جان آگئی ہے ۔ کووڈ ۔ 19کے زیادہ تر رابطہ کاروں کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں ،یہ حقیقت ہے ،لیکن بری خبروں کی وجہ سے یہ خبرسامنے نہیں آ رہی ہے ۔ ادھرسرکاری ترجمان روہت کنسل نے کووڈ ۔ 19کے مریضوں اور صحتیاب افراد کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ جمعرات کو جموں وکشمیر میں مزید اٹھ افراد کے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آئے ۔ انہوں نے اعداد وشمار دیتے ہوئے بتایا کہ جموں وکشمیر میں اس وقت 17677افراد زیر نگرانی ہیں جبکہ گھروں میں 10694افراد قر نطینہ میں ہیں ۔
ان کا کہناتھا کہ اسی طرح 622افراد سرکاری اسپتالوں میں قرنطینہ میں رکھے گئے ہیں اور65افراد کوآئسو لیشن وارڈ وں میں رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ2187افراد نے زیر نگرانی عمل کی مدت مکمل کرلی جبکہ گھروں میں 4109افراد کو زیر نگرانی میں ہیں ۔
روہت کنسل نے سوشل میڈیا پر کووڈ ۔ 19کے حوالے سے روزانہ بلیٹن جاری کیا ۔ جسکے مطابق 1084افراد کے نمونے ٹیسٹ کےلئے لے گئے جن میں سے1010ٹیسٹ منفی آئے جبکہ 70افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں ۔ ان کا کہناتھا کہ 17متاثرین کا تعلق کشمیر سے ہے جبکہ 53متاثرین کا تعلق کشمیر سے ہیں ۔ 4ٹیسٹوں کی رپورٹ آنا باقی ہے جبکہ 3مریض صحتیاب ہوئے اور2مریضوں کی موت بھی ہوئی ،جن کا تعلق کشمیر سے ہی ہے ۔ ادھر اطلاعات کے مطابق گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں کے مائیکرءوبیالوجی شعبہ میں تعینات جس ڈاکٹرکاٹیسٹ کچھ روزپہلے مثبت آیاتھا،اُس کے والد ،اہلیہ اورگھریلو نوکر کے ٹیسٹ بھی مثبت آگئے تاہم مذکورہ ڈاکٹرکی والدہ کاٹیسٹ منفی پایاگیا ۔ اس دوران ادھمپورسے تعلق رکھنے والے 2افرادکوبھی کوروناپازیٹیو پایا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ پہلے سے متاثرہ کورونا وائرس میں مبتلاء مریضوں کے رابطے میں تھے ۔
اس دوران شہر سرینگر کے مزید کئی علاقے ریڑ زون قرار دیئے گئے ہیں ۔ یہاں کورونا وائرس میں مبتلاء افراد کی تصدیق کےلئے انتظامیہ کی جانب سے یہ اقدامات اٹھائے گئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ چھتہ بل علاقے کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے ۔ علاقے میں 4افراد کے کو رو نا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں ،جسکے بعد علاقے کو ریڈ زون قرار دیا گیا جبکہ اس کے پانچ کلو میٹر کے حدود میں آنے والے علاقوں کو بفر زون قرار دیا گیا ۔ دریں اثناء سی ڈی اسپتال میں زیر علاج پہلے پازیٹیو مریض کا نیا ٹیسٹ بھی منفی آیا ہے ۔ ایک طرف جہاں مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ،وہیں اسپتالوں میں زیر علاج مریض صحتیاب بھی ہورہے ہیں ۔
سی ڈی اسپتال سرینگرکے سربراہ ڈاکٹر نوید احمد شاہ نے ٹویٹ کیا :’سی ڈی اسپتال سے اچھی خبر ۔ ۔ ۔ سی ڈی اسپتال میں پہلے داخل مریض کا ٹیسٹ منفی آیا ‘ ۔
ہندوستان
وزیر اعظم مودی نے یوم تاسیس پر آئی ٹی بی پی کے دلیر جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو سراہا
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز ہند تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے جوانوں، جنہیں عام طور پر باہمت جوان کہا جاتا ہے، کی غیر معمولی بہادری، عزم اور بے لوث خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے فورس کے یوم تاسیس پر مبارک باد دیتے ہوئے ملک کی سلامتی کے تحفظ میں اس کے جوانوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں مودی نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے جوانوں نے اپنی غیر معمولی بہادری سے نمایاں شناخت بنائی ہے اور ہر چیلنج کا مسلسل غیر معمولی عزم کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا، ”ان کی بے لوث خدمات اور قربانیاں ملک کے لیے بے پناہ ترغیب کا ذریعہ ہیں۔”
ہند تبت سرحدی پولیس کا قیام 24 اکتوبر 1962 کو ہندوستان اور چین کے درمیان جنگ کے بعد ہمالیائی سرحد پر سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ یہ ہندوستان کی مرکزی مسلح پولیس فورسز میں سے ایک ہے اور بنیادی طور پر ہندوستان اور چین کی سرحد کی حفاظت کی ذمہ داری انجام دیتی ہے۔ اس کے جوان دنیا کے انتہائی دشوار گزار بلند پہاڑی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔
اس فورس کے جوان سخت موسمی حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں، جہاں انہیں نقطۂ انجماد سے نیچے درجہ حرارت، خطرناک پہاڑی درّوں، دشوار گزار راستوں اور آکسیجن کی کمی جیسے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کی خصوصی تربیت انہیں مشکل گشت انجام دینے اور حساس سرحد پر مسلسل نگرانی رکھنے کے قابل بناتی ہے۔ اکثر انہیں ایسے دور دراز علاقوں میں تعینات کیا جاتا ہے، جہاں پہنچنا اور ضروری سامان فراہم کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران باہمت جوانوں نے پہاڑی علاقوں میں آفات سے نمٹنے، تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں اور انسانی امداد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی عملی مہارت اور برداشت نے انہیں ہندوستان کی سرحدی سلامتی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کا ایک اہم حصہ بنا دیا ہے۔
فورس کے یوم تاسیس پر مودی کے پیغام میں ان جوانوں کی لگن اور قربانیوں کو تسلیم کیا گیا، جو ملک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے انتہائی دشوار حالات میں خدمات انجام دیتے ہیں۔ یہ سالانہ دن فورس کی شاندار روایات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے لیے اس کے جوانوں کے عزم کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ یہ جوان اکثر اپنے اہل خانہ سے دور رہ کر ملک کے انتہائی سخت اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
مرکز نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کیں، آخری تاریخ 20 نومبر
نئی دہلی، مرکزی وزارت برائے عملہ، عوامی شکایات اور پنشن نے مرکزی اطلاعاتی کمیشن (سی آئی سی) میں اطلاعاتی کمشنر کے 2 عہدوں کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026 مقرر کی گئی ہے۔
محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) نے نئی دہلی میں واقع کمیشن میں خالی عہدوں کو پُر کرنے کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں۔ ضرورت کے مطابق تقرریوں کی تعداد 2 سے زیادہ نہیں ہوگی۔ ان عہدوں کو ضرورت کے مطابق پُر کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حکومت 2 سے کم اطلاعاتی کمشنروں کی تقرری بھی کرسکتی ہے۔
محکمے نے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے کہا ہے کہ وہ اہلیت کی شرائط اور درخواست کا مقررہ نمونہ سرکاری ویب سائٹ سے حاصل کرلیں۔ تقرری کے لیے غور کیے جانے کی خاطر امیدواروں کو اپنی مکمل طور پر بھری ہوئی درخواست 20 نومبر 2026 تک محکمے میں جمع کرانی ہوگی۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اشوک سین 2026 کا آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بنے
نئی دہلی، بنگلورو میں انفوسس مادھو چیئر کے پروفیسر ڈاکٹر اشوک سین 2026 کا باوقار آسکر کلائن میڈل حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی ماہر طبیعیات بن گئے ہیں۔ حکومت ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر نے اس اعزاز کے لیے انہیں مبارک باد دی ہے۔
پروفیسر سین اسٹرنگ تھیوری میں اپنی اہم اور انقلابی خدمات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ خاص طور پر ایس ڈوئلٹی، بلیک ہول کی اینٹروپی کی درست گنتی اور اسٹرنگ فیلڈ تھیوری کے شعبوں میں ان کی تحقیق نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی تحقیق نے جدید اسٹرنگ تھیوری کو آگے بڑھانے اور بنیادی طبیعیات کو بہتر طور پر سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آسکر کلائن میڈل مشترکہ طور پر اسٹاک ہوم یونیورسٹی اور رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز کی نوبل کمیٹی برائے طبیعیات کی جانب سے دیا جاتا ہے۔ یہ اعزاز طبیعیات کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔
پروفیسر سین کے اس اعزاز سے ان کی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور اہم اعزاز کا اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی دیگر نمایاں کامیابیوں میں 2012 کا بریک تھرو پرائز برائے بنیادی طبیعیات، 2014 کا ڈیرک میڈل، 2001 کا پدم شری اور 2013 کا پدم بھوشن شامل ہیں۔
یو این آئی ایم جے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا7 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر7 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
-
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر اسمبلی کی کمیٹی نے آنچار جھیل کے آس پاس بڑے پیمانے پر تجاوزات پر تشویش ظاہر کی، فوری کارروائی کا مطالبہ سری نگر، 15 اکتوبر (یو
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان7 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
ہندوستان7 days agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
ہندوستان1 week agoانکِتا کے والدین کو تحویل میں لینے پر کھرگے-راہل نے سخت مخالفت کی
