تازہ ترین
عید پر بغلگیر ہونے اور مصافحہ کرنے سے اجتناب کیا جائے: علماء کرام
کشمیر میں لاک ڈاؤن کے سبب اس بار جہاں ماہ رمضان میں مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد رہی،وہیں جمعتہ الوداع کو خاموشی سے وداع کیا گیا جب کہ عید کی نمازیں بھی گھروں میں ادا کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ علماء کرام نے عید کے موقع پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اس بار عید پر بغلگیر ہونے اور مصافحہ کرنے سے اجتناب کیا جائے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق عید الفطر اتوار یا سوموار کو وادی کشمیر میں منائی جائیگی،تاہم وادی کشمیر میں اس حوالے سے کوئی رونق نظر نہیں آرہی ہے۔
ہر سال عید کے موقعے پر مساجد،عید گاہوں کو ہفتہ بھر قبل ہی سجانے کا کام شروع ہوتا ہے جبکہ زیبائش کیلئے رضاکارانہ طور نوجوان بھی سامنے آتے تھے،لیکن امسال ایسا کچھ بھی نظر نہیں آرہا ہے۔پھیکی عید کے سبب عید گاہیں بھی ویران ہیں،جو موسم سازگار رہنے کی صورت میں عید نماز کے موقعے پر آباد رہتے تھے اور اگر موسم نا سازگار ہو تا،تو چھوٹی بڑی سبھی مساجد شکرانہ کی دو رکعت نمازادا کرنے کیلئے آباد ہوتی تھیں۔ وادی میں ماہ رمضان کے دوران مدارس و مساجد کی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہوتی تھی۔تاہم وبا کے خطرات و خدشات کے سبب یہاں اب سناٹا طاری ہے۔ کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے جہاں وادی کے بازاروں کی ویرانی وبا کے منفی اثرات کی عکاسی کررہی ہے وہیں لوگوں میں بھی روایتی جوش وخروش مفقود ہی نظر آرہا ہے۔
ادھر کل اتوار 24 مئی کو عالم اسلام میں عید الفطر منائی جا رہی ہے۔ اس بار عید الفطر ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب مسلم ممالک سمیت پوری دنیا کرونا کی وبا کی لپیٹ میں ہے۔کرونا کی وبا کے نتیجے میں عالم اسلام کی عید کی خوشیاں ماند پڑ گئی ہیں۔ کرونا کی وجہ سے نہ تو بازاروں میں عید کی خریداری کی وہ پہلی سی چہل پہل ہے اور نہ دکانداروں کے پاس وافرق مقدار میں اشیاء موجود ہیں۔ لوگ معاشی خوف کی وجہ سے عید کی شا پنگ سے گریز کرتے ہیں۔3روز تک جاری رہنے والی عید الفطر کے موقعے پر مسلمان شہری دور دراز سے سفر کر کے اپنے خاندان سے ملنے جاتے ہیں۔ گھروں میں انواع و اقسام کے کھانے بنائے جاتے ہیں اور گھروں میں دن بھر مہمانوں کی آمد ورفت جاری رہتی ہے۔ مگر اس بار کروڑوں مسلمان گھروں میں بند ہونے کی وجہ سے عید کی خوشیوں سے فایدہ نہیں اٹھا سکھیں گے۔
ادھر عرب اور کئی مسلمان ممالک میں کل اتوار کے روزعید منائی جائے گی۔ مگر عالم اسلام اس وقت کرونا کی وجہ سے انتہائی مشکل سے دوچار ہوئے ہیں۔ مسلمان حکومتیں کرونا کی وبا کی روک تھام کے لیے کڑیاور مشکل فیصلے کرنے پر مجبور ہیں۔بعض عرب اور مسلمان ممالک نے عید الفطرکے موقعے پر لاک ڈاؤں میں نرمی کی ہے۔ تاہم مسلمان ممالک نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کرونا کی وبا کے خطرے کے پیش نظر وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔مسلمان حکومتوں نے عوام الناس پر زور دیا ہے کہ وہ عید کی نمازیں اپنے گھروں میں ادا کریں اور میل جول میں سختی سے گریز کریں۔ سفر اور نقل وحرکت کو محدود رکھیں، بازاروں، ساحلوں، پارکوں، تجارتی مراکز اور تفریحی مقامت پر جانے سے گریز کریں۔اس دوران اگرچہ بازاروں میں لوگ اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لئے نظر آرہے ہیں لیکن روایتی چہل پہل اور گہماگہمی غائب ہے اور بیشتر دکانیں بند ہی ہیں۔ادھر لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کو درپیش اقتصادی بحران کے بیچ اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آسمان پر بھی ہیں اور بازاروں میں ان کی عدم دستیابی بھی ہے۔
وادی میں یہ مسلسل دوسری عید ہے کہ لوگوں کو مالی مشکلات سے دوچار ہیں اور بازار سنسان ہیں۔ سال گذشتہ کے پانچ اگست کے بعد آنے والی عید الضحیٰ کے موقع پر بھی وادی کے بازاروں میں ویرانی ہی ویرانی تھی۔تجارت پیشہ لوگوں بالخصوص دکانداروں کا کہنا ہے کہ سال گذشتہ کے ماہ اگست سے لگاتار ہم بحران کے شکار ہیں اور اب حالات ایسے بن گئے ہیں کہ ہمارا دیوالیہ ہونا طے ہے۔سری نگر کے بازاروں میں تمام دکانوں بالخصوص کپڑے کے دکانوں، بیکری، مرغ فرشوں اور قصائیوں کے دکانوں پر جو بھیڑ ہوتی تھی وہ کلی طور پر غائبہے۔انہوں نے کہا کہ عید کی آمد کے پیش نظر گاڑیوں اور لوگوں کی بھیڑ کا عالم یہ ہوتا تھا کہ کہیں تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں ہوتی تھی اور پانچ منٹ کا فاصلہ طے کرنے میں آدھ گھنٹہ لگ جاتا تھا لیکن امسال ہر سو ویرانی ہی ویرانی ہے۔یاد رہے کہ متحدہ مجلس علما جموں وکشمیر کے بنیادی اراکین اور اس میں شامل مقتدر دینی ادارے انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر، مفتی اعظم جموں وکشمیر مفتی ناصر الاسلام، مسلم وقف بورڈ جموں وکشمیر، جموں وکشمیر جمعیت اہلحدیث، دارالعلوم رحیمیہ،جموں وکشمیر انجمن شریعت شیعان اور کاروان اسلامی جموں وکشمیر، جموں وکشمیر اتحاد المسلین، انجمن تبلیغ الاسلام کے علاوہ اور دیگر دینی و ملی تنظیمات نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ انشاء اللہ مقدس ماہ رمضان کی برکت سے حضرت اللہ جل شانہٗ موجودہ مہلک اور موذی عالمی وبا (کووڈ۔19)سے دنیا اور انسانیت کو نجات عطا فرمائیں گے اور ماضی کی طرح زندگی کی مثبت سرگرمیاں شروع ہونگی۔
مجلس علماجموں وکشمیر نے مسلمانوں سے یہ اپیل کی تھی کہ موجودہ وبا کی سنگینی آئے روز بڑھتے ہوئے (کووڈ۔19)کے گراف اور احتیاطی تدابیر کے پیش نظر شب قدر،جمعتہ الوداع اور نماز عید وغیرہ کی اجتماعی تقریبات انجام نہیں دی جائیں گی بلکہ رواں ماہ رمضان کے معمولات کے مطابق لوگ گھروں میں ہی انفرادی طور نمازوں، ذکر و اذکار، توبہ و استغفار اور دعا و مناجات کا اہتما م کریں۔مجلس علما نے موجودہ پُر آشوب حالات کے تناظر میں ایک دوسرے کی خاص طور پر ضرورتمندوں اور محتاجوں کی امداد و اعانت پر زور دیتے ہوئے لوگوں کو تلقین کی کہ دینی،فلاحی اور امدادی اداروں کی بھر پور مالی معاونت کے ساتھ ساتھ صدقہ فطر جو امسال 55 روپے فی کس طے کیا گیا ہے اُسے سماج کے غریبوں اور محتاجوں تک پہنچا کر عید کی خوشیوں میں انہیں شامل کریں۔علاوہ ازیں معذور حضرات جو روزہ رکھنے پر قادر نہیں ہیں وہ ایک روزے کے بدلے بطور فدیہ 50 روپے یومیہ کے حساب سے اللہ کے راستے میں خیرات کریں۔
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر کے پونچھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد
جموں، جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں سکیورٹی فورسز کی مشترکہ ٹیم نے جمعہ کو دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے ضلع پونچھ کے مینڈھر علاقے میں واقع کس بلاری میں تلاشی مہم شروع کی اور دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کا پردہ فاش کیا۔
تلاشی کے دوران ٹیم نے ایک بیگ، ٹیپ سے لپٹے ہوئے چھ کنٹینر، جن میں دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات (آئی ای ڈی) ہونے کا شبہ ہے، ایک جنگی سازوسامان کا پاؤچ، ایک لوہے کا ڈبہ جس میں میگزین ہونے کا امکان ہے، ٹیپ سے لپٹا ایک اور کنٹینر، 7.62 ایم ایم لائٹ مشین گن (ایل ایم جی) کا ایک میگزین، ایک ایلومینیم کنٹینر، دو اڈاپٹر اور ایک ٹفن برآمد کیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یواین آئی۔ ط ا
دنیا
امریکہ کی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصِبات ہماری زد میں ہیں:ایران
تہران، ایران کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملہ کیا گیا تو تہران سات خلیجی ممالک میں امریکہ سے منسلک توانائی، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
انہوں نے “زیرو ریڈ لائنز” کی حکمت عملی کا حوالہ دیا جبکہ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ ان کا ملک ایران پر دوبارہ حملہ کر سکتا ہے۔
محسن رضائی نے جمعرات کو سرکاری ٹی وی چینل ‘پریس ٹی وی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اس خطے میں امریکی معیشت کی نبض ہمارے خطے سے ہو کر گزرتی ہے۔
انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات میں بڑے پیمانے پر ہونے والی امریکی سرمایہ کاری کی طرف اشارہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمنی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو اس غیر مستحکم خطے میں امریکہ سے منسلک 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کا تکنیکی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
رضائی نے خبردار کیا کہ “ہم نے ابھی تک ان اثاثوں کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا ہے لیکن اگر جنگ چھڑ گئی تو ان میں سے بہت سی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور متعدد دیگر سائٹس تباہ ہو جائیں گی۔”
نیوز آؤٹ لیٹ ‘ڈراپ سائٹ’ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے سات شرائط رکھی ہیں اور جب تک وہ پوری نہیں ہوجاتیں، وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہیں کھولے گا اور نہ ہی مذاکرات شروع کرے گا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ جاری تنازعہ اور علاقائی تناؤ کی وجہ سے عالمی توانائی کی منڈیاں تین سال تک مستحکم ہونے سے رک سکتی ہیں۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی رائے دہندگان میں ایک منقسم ردعمل پیدا کیا ہے۔ انہوں نے اس کی سیاسی قیمت کا اعتراف کیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر اصرار کیا کہ یہ فوجی حملے بہت پہلے ہو جانے چاہیے تھے۔
آنے والے انتخابات پر جنگ کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا: “ایک طرح سے، وہ اسے پسند کر رہے ہیں کیونکہ میں وہ کر رہا ہوں جو دوسرے صدور کو کرنا چاہیے تھا، اور دوسری طرح سے شاید وہ اسے پسند نہیں کر رہے۔ اس کی ایک قیمت چکانی پڑتی ہے، جو میں فوری طور پر جان گیا تھا جب میں نے یہ کیا تھا، لیکن ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
میرا مطلب ہے، ایک طرح سے لوگ شاید اسے پسند نہ کریں، لیکن بہت سے لوگ، بہت سے عظیم محب وطن، اسے واقعی پسند کر رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “یہ کام دوسرے صدور کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا۔ ایران کی جنگ اور ہم نے ان کا کباڑا کر دیا ہے اور ہم اس سلسلے کو تھوڑا مزید آگے بڑھا سکتے ہیں۔”
یہ بیانات فروری 2026 کو ایرانی سول، فوجی اور جوہری سائٹس پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ٹرمپ کے وسیع تر بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں واشنگٹن نے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا تھا۔ ان ابتدائی حملوں کے نتیجے میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ ساتھ دیگر اعلیٰ حکام اور سینکڑوں شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
ایران نے جواب میں اسرائیلی اہداف اور خلیج میں امریکی مفادات کے خلاف میزائل اور ڈرون حملے کیے، اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں بار بار خلل ڈالا۔
یہ تنازعہ اب اپنے آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکا ہے۔
جون میں پاکستان میں ہونے والی ایک مفاہمت کی یادداشت، جس کا مقصد دشمنی کو روکنا اور تجارتی جہاز رانی کو بحال کرنا تھا، تنازعات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ناکام ہو گئی، جس کے بعد وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں۔
امریکہ اور دیگر مقامات پر خام تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اکتوبر کے کئی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ معاشی انتظام، مہنگائی اور ایران کی شمولیت والی جنگ پر بڑے پیمانے پر عوامی ناراضگی کے باعث صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر 30 سے 36 فیصد رہ گئی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
الحان عمر دھوکے باز ہے فوراً استعفی دے:ٹرمپ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ڈیموکریٹک رکن کانگریس الحان عمر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، اور ان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے عہدے کا حلف لیتے وقت ایک فرضی نام استعمال کیا تھا، تاہم ان کے دفتر نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا کہ “چونکہ انہوں نے حلف اٹھانے کے لیے ایک جعلی نام استعمال کیا، اس لیے میرا ماننا ہے کہ انہیں فوری طور پر کانگریس سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی خاتون قانون ساز کا اصل نام الحان نور سعید علمی ہے، جس کا خاندانی نام ان کے سابق شوہر احمد نور سعید علمی سے ملتا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ الہان عمر نے “کھلے عام دھوکہ دہی کا اعتراف” کیا ہے اور ہاؤس اسپیکر مائیک جانسن سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ تسلیم کریں کہ ان کی کانگریس کی نشست خالی ہو چکی ہے۔تاہم، الحان عمر نے ایسا کوئی اعتراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسی عدالت نے یہ ثابت کیا ہے کہ انہوں نے کوئی جعلی شناخت استعمال کی تھی۔
ٹرمپ کے یہ بیانات وزارتِ انصاف کی جانب سے 21 اکتوبر کو عدالت میں جمع کرائی گئی ایک دستاویز کے بعد سامنے آئے ہیں، جو الحان عمر کے واشنگٹن ڈی سی والے گھر پر وفاقی تلاشی سے متعلق تھی۔ اس دستاویز میں ان کی شناخت “الحان نور سعید علمی، عرف الہان عبداللہی عمر” کے طور پر کی گئی تھی۔ استغاثہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے یہ متبادل نام کیوں استعمال کیا، اور نہ ہی اس دستاویز سے یہ ثابت ہوا کہ الہان عمر نے کوئی دھوکہ دہی کی ہے۔
خاتون رکن کانگریس کے ترجمان نے فاکس نیوز کو بتایا، “یہ بالکل جھوٹ ہے۔ الحان عمر ہی ان کا اصل نام ہے۔”
وفاقی ایجنٹوں نے 12 اکتوبر کو امیگریشن اور شہریت کے ریکارڈ میں ممکنہ غلط بیانات کی تحقیقات کے سلسلے میں الہان عمر کے گھر کی تلاشی لی تھی۔
یو این آئی۔ْ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
