تازہ ترین
سنہ 1967 کے بعد پہلی بار بھارت – چین سرحد پر جوانوں کی ہلاکت ہوئی
قابل ذکر ہے کہ اس پورے تنازعہ میں بھارتی اور چینی فوج کے مابین پہلے بھی متعدد بار تصادم دیکھنے کو ملا ہے۔ بالکل ایسی ہی نازک صورتحال 5 مئی کو لداخ کے پینگانگ جھیل کے شمالی کنارے میں پیدا ہوئی تھی، جس میں کم از کم 75 جوان زخمی ہوگئے تھے، حالیہ صورتحال کے تناظر کو دیکھتے ہوئے 6 جون کو لیہہ میں 14 وہیں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ہریندر سنگھ اور پی ایل اے کے جنوبی جھنجیانگ ضلع کے کمانڈر میجر جنرل لن لیو کے درمیان ایک میٹنگ منعقد کی گئی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وفد سے ملاقات کرنے سے قبل دونوں لیفٹیننٹ جنرلز کے درمیان ایک گھنٹے تک طویل گفتگو بھی ہوئی تھی۔ سرحد پر پیدا ہوئی کشیدگی کی وجہ سے لیفٹیننٹ جنرل سطح کی میٹنگ منعقد کی گئی تھی۔ اس سے پہلے برگیڈیئر اور چیف ملٹری آفیسرز کی سطح پر متعدد اجلاس ہوچکے ہیں۔
ایک دیگر اعلی فوجی سطح کے ذرائع کے مطابق اس طرح کی فوجی سطح کے اجلاس آئندہ بھی منعقد کیے جائیں گے۔ ذرائع نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ سرحد پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کرنا ایک اہم ترین مسئلہ ہے۔ اس کی وجہ چین کے ذریعہ خیموں، دیگر عارضی ڈھانچے اور ذخائر کا جمع کرنا ہے۔
اگر بھارت سرحدی علاقوں میں انفرانسٹرکچر اور سڑکوں کی تعمیر کرتا ہے تو اس کے خلاف چین اپنے اعتراضات کو ظاہر کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اس کا فوری طور پر کوئی مستقل حل نظر نہیں آرہا ہے۔ بھارت تعمیراتی کام کے لیے پرعزم ہے۔ بھارت نے کہا ہے کہ اس کا سڑک کی تعمیراتی کام جاری رہے گا۔اہم بات یہ ہے کہ اس سے قبل مشرقی لداخ میں صورتحال تب مزید بگڑ گئی تھی جب 5 مئی کی شام چین اور بھارت کے مابین 250 فوجیوں کے درمیان تصادم ہوگیا تھا، یہ کشیدگی اگلے دن بھی جاری رہی۔
اسی طرح کا واقعہ 9 مئی کو شمالی سکم کے ناکولا درے کے قریب بھی پیش آیا تھا، جس میں بھارت اور چین کے تقریباً 150 فوجی اہلکار ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہوگئے تھے۔اس سے قبل سنہ 2017 میں ڈوکلام میں دونوں ممالک کی فوج کے درمیان 73 دنوں تک تنازعہ جاری رہا تھا۔ بھارت اور چین کے درمیان 3 ہزار 488 کلومیٹر طویل ایل اے سی پر تنازعہ چل رہا ہے۔ چین، اروناچل پردیش پر اپنا دعوی ہمیشہ سے کرتا آرہا ہے اور اسے جنوبی تبت کا حصہ بتاتا ہے، وہیں بھارت نے اسے اپنا اٹوٹ حصہ قرار دیا ہے۔ دونوں فریق کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں امن و استحکام برقرار رکھنا ضروری ہے، جب تک کہ سرحدی علاقوں کا تنازعہ حل نہیں ہوجاتا۔گزشتہ چند مہینوں میں چین بڑے پیمانے پر ہیلی کاپٹر کی مدد سے مشرقی لداخ سیکٹر سمیت گلوان کے علاقوں میں نظر رکھ رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق چینی فوج اکثر اپنے ہیلی کاپٹروں کا استعمال کر کے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتی رہی ہے اور چینی فوج ایل اے سی پر بھارتی علاقوں کے قریب گشت کرتی ہوئی بھی نظر آئی ہے۔جون کے پہلے ہفتے میں پپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نے وسطی چین کے ہوبی صوبہ کی سرحد کے بیچ اونچائی والے علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں پیرا ٹروپرز او بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر جنگی مشق کی تھی۔ چینی اخبار گلوبل ٹائمز نے اس بات کا دعوی کیا تھا۔مشرقی لداخ میں حساس صورتحال کے بارے میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا تھا کہ چینی اس علاقے تک آگئے ہیں جس کا وہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ ان علاقہ ہے، جبکہ بھارت کا ماننا ہے کہ وہ علاقہ بھارت کا حصہ ہے۔
سنگھ نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ‘اس کے بارے میں ہمیشہ سے اختلاف رائے رہا ہے اور چینی باشندوں کی کثیر تعداد بھی اس علاقے تک پہنچ گئی ہے، لیکن بھارت کو اپنی طرف سے جو کچھ بھی کرنا چاہیے تھا بھارت نے وہ اقدام اٹھائے ہیں۔لداخ میں 31 مئی اور یکم جون کو بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی کی بات سامنے آئی تھی۔ فوجی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کی فوجیں مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچوول کنٹرول (ایل اے سی) پر اسلحہ، ٹینک اور دیگر بھاری گاڑیاں لے کر آرہی ہیں۔
اس سے قبل خبر سامنے آرہی تھی کہ چین جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ مئی میں ملی خبروں کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے فوج کو تیار رہنے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے بدترین صورتحال کا تصور کرتے ہوئے فوج کو جنگ کی تیاریوں میں تیزی لانے کا حکم جاری کیا تھا۔ شی جن پنگ نے فوج سے پورے عزم کے ساتھ ملک کی خودمختاری کا دفاع کرنے کو کہا تھا۔
دفاعی امور کے ماہر سی ادئے بھاسکر نے بھی کہا ہے کہ لداخ میں بھارت – چین تعطل اس بار مختلف اور پریشان کن ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ بھارت اورچین کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں سرحد سے متعلق جو کشیدگی ابھی نظر آرہی ہے، وہ علاقائیت اور حالیہ پیشرفت سے منسلک ہے۔ اس کا تعلق چار ہزار کلومیٹڑ لمبی ‘غیر حد بندی’ لائن آف ایکچووئل کنٹرول سے ہے۔مئی کے ماہ سے ہی چینی فضائیہ لداخ کے قریب گشت کر رہی ہے۔ اس کے جواب میں بھارت بھی لڑاکا طیارہ بھیج رہا ہے۔
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
