پاکستان
کراچی میں پی آئی اے کا طیارہ پائلٹ اور ائیر ٹریفک کنٹرولر کی غفلت کے باعث گرا
اسلام آباد: کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کا طیارہ پائلٹ اور ائیر ٹریفک کنٹرولر کی غفلت کے باعث گرا، طیارہ لینڈنگ کے وقت مقررہ حد سے زیادہ اونچائی پر تھا۔
ائیر ٹریفک کنٹرولر نے تین بار لینڈنگ نہ کرنے کا کہالیکن پائلٹ نے ہدایات کو نظر انداز کیا، لینڈنگ کی کوشش کے دوران انجن میں لگنے والی آگ سے ائیر ٹریفک کنٹرولر نے پائلٹ کو آگاہ نہیں کیا۔
وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کراچی پی آئی اے طیارہ حادثے کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کردی۔
قومی اسمبلی میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے غلام سرور خان نے کہا کہ حادثے کے دن ہی انکوائری کمیشن تشکیل دے دیا تھا جب کہ طیارہ حادثے کے 3 روز بعد فرانسیسی تفتیشی ٹیم پاکستان آ ئی اور جائے حادثہ کا دورہ کیا۔
وزیر ہوا بازی نے کہا کہ صاف شفاف انکوائری ہورہی ہے، انکوائری میں سینئر پائلٹس کو بھی شامل کیا گیا تاہم حادثے کی مکمل رپورٹ تیار ہونے میں ایک سال کا وقت لگے گا۔انہوں نے بتایا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق طیارہ پرواز کے لیے 100 فیصد فٹ تھا، پائلٹس بھی طبی طور پر جہاز اڑانے کے لیے فٹ تھے جب کہ پائلٹس نے دوران پرواز کسی قسم کی تکنیکی خرابی کی نشاندہی نہیں کی۔
غلام سرورخان نے مزید بتایا کہ ائیر ٹریفک کنٹرولر نے 3 بار پائلٹس کی توجہ مبذول کروائی کہ لینڈنگ نہ کریں ایک چکر اورلگائیں لیکن پائلٹس نے ائیر ٹریفک کنٹرول کی ہدایات کو نظر انداز کیا، رن وے سے 10 میل کے فاصلے پر جہاز کو 2500 فٹ پر اڑنا چاہیے تھا، اس وقت جہاز 7220 فٹ کی بلندی پر تھا اور یہ پہلی خلاف ورزی تھی، کنٹرولر نے تین بار پائلٹ کو بتایا اور لینڈنگ نہ کرنے کو کہا، جہاز کے لینڈنگ گیئر 10 ناٹیکل مائلز پر کھولے گئے، 5 ناٹیکل مائلز پر پہنچنے کے بعد لینڈنگ گیئر پھر اوپر کر لیے گئے۔
وفاقی وزیر نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ رن وے پر 1500 سے 3 ہزار فٹ پر جہاز رن وے کو ٹچ کر سکتا ہے ، جہاز رن وے پر انجن رگڑنے سے متاثر ہوا اور آگ نکلی، پائلٹ نے پھر ہدایات کو نظر انداز کر کے جہاز اڑا لیا، کنٹرولر کی بھی غلطی تھی اسے پائلٹ کو بتانا چاہیے تھا، جہاز جب اوپر اٹھایا تو دونوں انجنز متاثر ہو چکے تھے، دوبارہ اس نے لینڈنگ کی اجازت مانگی، جو اسے اپروچ دی گئی وہ بد قسمتی سے وہاں نہ پہنچ سکا اور سویلین آبادی میں گر گیا، پائلٹ اور کنٹرولر دونوں نے مروجہ طریقہ کار کو اختیار نہیں کیا، آخری الفاظ پائلٹ نے تین بار یا اللہ ادا کیے۔
پائلٹ اور کو پائلٹ کے ذہنوں پر کورونا سوار تھا، غلام سرور خان
غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ پائلٹ اور کو پائلٹ کے ذہنوں پر کورونا سوار تھا، ساری گفتگو کورونا پر کر رہے تھے، کنٹرولر کی کال بھی جلدی میں سن کے کہا گیا میں مینیج کر لوں گا، زیادہ خود اعتمادی دیکھنے کو ملی، پائلٹ نے جہاز کو آٹو کنٹرول سے مینوئل پر منتقل کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ طیارہ گرنے سے 29 گھروں کو نقصان پہنچا ہے جن گھروں پر طیارہ گرا ان کا سروے کروادیا ہے جب کہ گھروں کے نقصانات کا بھی سروے کرایا گیا ہے، جن گھروں کو نقصان پہنچا ہے ان کا ازالہ بھی جلد کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ذاتی دلچسپی اور کورونا کی صورتحال کے باوجود انکوائری بورڈ نےفرائض منصبی انجام دیے، ایک عوامی رائے سامنے آئی کہ پائلٹس کو بھی انکوائری کمیٹی کا حصہ بنایا جائے جس پر 2 پائلٹس کوکمیٹی کا حصہ بنایا، مکمل انکوائری رپورٹ میں تمام ترمعاوضہ جات، محرکات اور حقائق سامنے لائیں گے، مکمل رپورٹ بھی اس ایوان کی سامنے پیش کی جائے گی۔
غلام سرور نے کہا کہ بد قسمتی سے پی آئی اے کے 4 پائلٹس کی ڈگریاں جعلی نکلیں، بدقسمتی سے پائلٹس کو بھرتی کرتے وقت میرٹ کو نظر انداز کیا گیا، پائلٹس کو بھی سیاسی بنیادوں پر بھرتی کروایا جاتا ہے، جودکھ کی بات ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت کو بھی ہم تمام حقائق سے متعلق آ گاہ کررہے ہیں اور ذمے داروں کے خلاف بلا تفریق ایکشن ہوگا۔
وفاقی وزیرنےماضی میں ہوئے تین فضائی حادثات کی وجوہات بھی بتا دیں
وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ ایک مہینے میں عبوری رپورٹ لانے کے احکامات پر عمل درآمد کیا۔
وفاقی وزیر نے ماضی میں ہوئے تین فضائی حادثات کی وجوہات بھی بتا دیں۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ائیربلیوکریش کی وجہ بھی کاک پٹ کریو کا غیر پیشہ وارانہ رویہ اور قواعد پر عمل نہ کرنا تھا۔
غلام سرور کے مطابق بھوجا ائیرلائن میں بھی پائلٹ کی غلطی کا بنیادی کردار تھا جبکہ حویلیاں کریش میں طیارے میں تیکنیکی خرابی وجہ بنی تھی۔(جیو نیوز)
پاکستان
حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
اسلام آباد، پاکستان نے یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد مملکت کے دفاع کے لیے ”ہر ممکن مدد” فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ‘انڈیپنڈنٹ عربیہ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔ ان کا یہ بیان ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے درمیان سامنے آیا ہے۔
پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کا رکن ہے، جس میں سعودی عرب اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔ اس اجتماعی دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دیگر ارکان متاثرہ ملک کے دفاع کے لیے آگے آئیں گے۔ تاہم، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں مسلسل شدت کے باوجود اسلام آباد اور انقرہ نے اب تک بیانات جاری کرنے کے علاوہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی، بالخصوص حرمین شریفین کی حفاظت، پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا، ”پاکستان کے لیے یہ معاملہ ناقابلِ سمجھوتہ اور قطعی ہے۔ اس مقصد کے لیے جس مدد کی ضرورت ہے، وہ فراہم کی جا رہی ہے اور آئندہ بھی فراہم کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ فوجی اتحاد اپنی مدد کی نوعیت اور اس کے پیمانے کی تفصیلات عام طور پر ظاہر نہیں کرتے۔
حوثی حملوں پر پاکستان میں ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نے کہا کہ ملک کے عوام، سیاسی قیادت اور فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”آخر کوئی بھی ذی شعور شخص سعودی عرب، مقدس مقامات پر حملہ کیوں کرے گا یا انہیں دھمکی کیوں دے گا، یا کم از کم ایسا تاثر کیوں پیدا کرے گا؟” ان کا کہنا تھا کہ اسلامی مقدس مقامات کی سلامتی کے معاملے میں کوئی شرط یا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
یہ پوچھے جانے پر کہ اگر حوثی حملے جاری رہے تو کیا اسلام آباد کی مدد صرف دفاعی نوعیت تک محدود رہے گی، چوہدری نے کہا کہ مکہ اتحاد کے تینوں ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ معاہدے کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں اور یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔
اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کا حوالہ دیتے ہوئے، جو حقِ دفاع کو تسلیم کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد اجتماعی ردعمل کے ذریعے رکن ممالک کو لاحق خطرات کی روک تھام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ”اگر یہ بازدارانہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہوتی تو تینوں ممالک کو دستیاب تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسے دوبارہ مؤثر بنانا ہوگا۔”
سعودی نائب وزیر خارجہ کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ ایران کے تعلقات کی نشاندہی کے بعد، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد نے تہران کو حملوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے، تو چوہدری نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے تہران سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان رابطوں کا بنیادی مقصد ”کشیدگی کو کم کرنا” ہے اور تمام فریقوں کے ساتھ پاکستان کی بات چیت کا محور حالات کو معمول پر لانا ہے۔
چوہدری نے خبردار کیا کہ حوثیوں یا دیگر فریقوں کو تنازع میں شامل کرکے اس کا دائرہ وسیع کرنے سے بحران حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا، ”خواہ آپ اس میں حوثیوں کو شامل کریں یا دوسرے علاقوں تک پھیلائیں، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہوگا جو خطے میں افراتفری چاہتے ہیں۔”
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
پاکستان
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
اسلام آباد، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہفتہ کو 5.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی۔ ہندوستان کے نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) نے یہ اطلاع دی۔
ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ زلزلہ 17 اکتوبر کو ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 37 منٹ پر آیا۔ زلزلے کا مرکز 27.944 ڈگری شمالی عرض البلد اور 66.532 ڈگری مشرقی طول البلد پر واقع تھا۔
زلزلے کے زمینی اثرات کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، جن میں آبادی والے علاقوں سے اس کا فاصلہ، مقامی ارضیاتی حالات اور زمین میں ارتعاش کی شدت شامل ہیں۔
زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحد کے قریب واقع ہے، جہاں ان پلیٹوں کے ٹکراؤ سے زلزلہ خیز سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔
جنوب مغربی پاکستان کا وسیع صوبہ بلوچستان زلزلے کے خطرات سے دوچار علاقوں میں شامل ہے۔ دیگر حساس علاقوں میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان شامل ہیں، جہاں فعال فالٹ لائنیں اور پیچیدہ پہاڑی سلسلے زلزلوں کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے بعض علاقے بھی زلزلہ خیز سرگرمیوں سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں ایک اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 28 طلبہ اور ایک استاد ہلاک، جبکہ 20 سے زائد دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
اسپتال کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔
یہ حادثہ جمعرات کو خیبر پختونخوا کی راجدھانی پشاور میں واقع نجی اسکول الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا۔ حادثے کے بعد راحت اور بچاؤ کی ٹیمیں ملبے میں دبے افراد کی تلاش اور زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے تمام بچوں کی عمر 13 سال یا اس سے کم ہے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زخمیوں کے علاج کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
اسلام آباد سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے کمال حیدر نے بتایا کہ گنجان آبادی والے علاقے میں اسکول واقع ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”بھاری مشینری، جو امدادی کارروائیوں میں اہم ثابت ہوسکتی تھی، جائے حادثہ تک نہیں پہنچ سکی۔ مقامی افراد اور امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور اس کے نیچے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے بالٹیوں اور دیگر برتنوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس اسکول میں تقریباً 350 طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ زخمی طلبہ کی بڑی تعداد اسپتال میں زیر علاج ہے، جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔
حکام نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ”ہمارے بچے ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور اس طرح کا ہر نقصان پورے ملک کے لیے ایک سانحہ ہے۔ میری دلی تعزیت اور دعائیں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، ”وزیر اعظم اور حکومت نے اس صورت حال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ ہمارے بچوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہنی چاہیے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
