تازہ ترین
فیس کی ادائیگی:تضاد وتزبزب برقرار،مشترکہ پلیٹ فارم منقسم
متاثر طبقہ کو 100فیصد ملے گی فیس میں چھوٹ،متاثر کون؟اسکول انتظامیہ طے کرے گی
5اگست2019سے نافذ ہوگی اسکیم:پی اے پی اے ایس،صرف کورونا لاک ڈاؤن مدت کیلئے اسکیم:پی ایس اے
سرینگر:نجی اسکولوں کو فیس کی ادائیگی پر تضاد اور تزبزب برقرار رہنے کے بیچ والدین کی ایسوسی ایشن (پی اے پی اے ایس) اور پرائیو یٹ اسکول ایسو سی ایشن (پی ایس اے) کا مشترکہ پلیٹ فارم اُس وقت منقسم ہوا ہے جب والدین کی ایسوسی ایشن کی جانب سے یہ اعلان کیا گیاکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے متاثرہ طبقہ کو 5اگست2019سے فیس میں 100فیصد چھوٹ ملے گی جبکہ پرائیو یٹ اسکول ایسوسی ایشن نے والدین کی موجودگی میں ہی اس اعلان سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ طبقہ صرف کورونا لاک ڈاؤن کی مدت کے دائرے میں آئے گا۔
تاہم دونوں انجمنیں اس بات پر متفق تھی کہ اسکول انتظامیہ ہی فیصلہ کرے گی کہ متاثر طبقہ کون ہے؟۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق نجی اسکول میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کی انجمن ’پیرنٹ ایسوسی ایشن آف پرائیویٹلی ایڈ منسٹر یڈاسکول (پی اے پی اے ایس) اور نجی اسکولوں کی انجمن (پی ایس اے) نے مشترکہ طور پر سنیچر کو ایوان صحافت کشمیر(کشمیر پریس کلب) میں ایک پریس کانفرنس کا اہتمام کیا۔
پی اے پی اے ایس کے نمائندہ محسن گونی نے اعلان کیا کہ5اگست2019سے متاثرہ طبقے کو نجی اسکولوں میں فیس کی ادائیگی میں 100فیصد چھوٹ ملے گی۔انہوں نے کہا کہ وہ یہ اعلان نجی اسکولوں کی انجمن (پی ایس اے) کے ساتھ ہوئے معاہدہ کی بنیاد پر کررہے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ متاثرہ طبقہ کون ہے،اس کا فیصلہ اسکول انتظامیہ کرے گی اور سرکاری ملازمین کو اسکول فیس میں کسی طرح کی چھوٹ نہیں ملے گی۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہناتھا کہ متاثر طبقے کے والدین کو اسکول انتظامیہ کو فیس میں چھوٹ کیلئے عرضی دینے ہوگی اور حتمی فیصلہ اسکول انتظامیہ ہی کرے گی اور مذکورہ شخص متاثر ہے یا نہیں؟۔مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ہی پرائیو یٹ اسکول ایسو سی ایشن (پی ایس اے) کے صدر جی این وار نے پی اے پی اے ایس کے اعلان کی مخالفت کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ فیس میں چھوٹ کی اسکیم صرف لاک ڈاؤن مدت کیلئے ہے۔
انہوں نے کہا ’نجی اسکول اُن والدین کو ضرور فیس میں چھوٹ دیں گے،جو صورتحال کی وجہ سے کافی متاثر ہوئے‘۔انہوں نے کہا ’اس حوالے سے اسکیم کے مستحقین کو ایک عرضی دینے ہوگی اور اسکول انتظامیہُ اس عرضی کا جائزہ لیکر یہ فیصلہ لے گی کہ مذکورہ در خواست گزار اسکیم کیلئے مستحکم ہے کہ نہیں‘۔تضاد اور تزبزب سے بھر پور پریس کانفرنس کے دوران انکار اور اقرار کے بیچ یہ مطالبہ بھی سامنے آیا کہ پورے معاملے میں سرکار مداخلت کرے۔
پرائیو یٹ اسکول ایسو سی ایشن نے کہا ’سرکاری کے پاس ڈیزاسٹر کے حوالے سے کافی فنڈس ہے،اگر سرکار چاہئے تو وہ والدین کو راحت دے سکتی ہے‘۔انہوں نے کہا واضح کہ سرکاری ملازمین اور تنخواہ دار طبقے کو اسکول فیس میں قطعی طور پر چھوٹ نہیں ملے گی؟۔پریس کانفرنس میں جی این وار اور محسن گونی کے علاوہ کشمیر چیمبر کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر شیخ عاشق،پی اے پی اے ایس کی کنوینر اسما گونی،ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس ایسو سی ایشن،کشمیر ہاؤس بوٹ او نرس ایسوسی ایشن،کشمیر ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسو سی ایشن،آل کشمیر آتو رکھشا ایسو سی ایشن اور دیگر انجمنوں کے نما ئندے موجود تھے۔
جی این وار نے مزید کہا کہ پرائیو یٹ اسکول سماج کا ایک حصہ ہے اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ بھی متاثر ہوئے،ہم سب متاثر ہوئے ہیں،ہمیں ایکدوسرے کی مدد کرکے موجودہ حالات سے باہر آنا ہے۔ان کا کہناتھا کہ کورونا لاک ڈاؤن کے دوران جنکی افراد کی آمدنی صفر رہی،اُنہیں 100فیصد فیس میں چھوٹ ملے گی۔ان کا کہناتھا کہ جن اسکولوں میں ایک بچے کی ماہانہ فیس800روپے یا اس سے کم ہے،وہ50فیصد فیس کی ادائیگی میں مستحقین کو چھوٹ دیں گے اورجو اسکول ماہانہ فیس 800سے زیادہ لیتے ہیں،وہ100فیصد فیس میں چھوٹ دیں گے۔
دنیا
روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری میں نہیں، یورپی عوام روس سے لڑنا نہیں چاہتے:پوتن
ماسکو، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری نہیں کر رہا ہے اور اگر یورپ میں جاری سیاسی سرگرمیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ وہاں کے لوگ روس سے لڑنا نہیں چاہتے۔
مسٹر پوتن نے روسی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ مغربی ممالک کے رہنما مسلسل ‘روسی خطرے’ اور روس کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم کی تیاریوں کی بات کررہے ہیں۔ تاہم، امید ہے کہ اب یہ بات واضح ہوچکی ہوگی کہ روس کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ”یہ بات سب کے سامنے واضح ہوچکی ہے کہ جنگ کے میدان میں روس کو شکست دینا ناممکن ہے اور اسے حکمت عملی کے اعتبار سے بھی شکست دینا غیر حقیقی ہے۔”
روسی صدر کے مطابق، یورپی سیاست دانوں کی جانب سے روس کے خلاف جنگ کی تیاریوں سے متعلق دیے جانے والے بیانات کسی طرح کی سیاسی ذہنی اختلال کی علامت ہیں۔
مسٹر پوتن نے کہا، ”میرا خیال ہے کہ جن لوگوں نے پوری تاریخ میں روس کو حکمت عملی کے اعتبار سے شکست دینے کی کوشش کی ہے اور بدقسمتی سے آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں، وہ جدید دنیا کی حقیقتوں کو سمجھتے ہیں اور سمجھیں گے کہ روس کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنا ہی بہتر ہے۔ یہ ان کے اپنے عوام کے مفاد میں ہے۔”
یو این آئی/اسپوتنک
ہندوستان
جرمنی کے ایک مطالعاتی و تحقیقی ادارے میں ہندوستان کے لیے خصوصی مرکز قائم
نئی دہلی، جرمنی میں بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے اور تحقیق کرنے والے برلن کے خودمختار ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز (ڈی جی اے پی) میں ہندوستان سے متعلق ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
‘انڈیا سینٹر’ کے نام سے قائم اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا ریشے نے شرکت کی۔ مسٹر گوئل اس وقت جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ڈی جی اے پی میں ہندوستان کے لیے قائم کیا گیا یہ مرکز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا، ”ہماری ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتیں ہمارے بلند حوصلہ اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس شراکت داری کو مزید رفتار دینے کا کام کرے گا۔”
اس موقع پر مسٹر گوئل نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ باہمی خوشحالی اور ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
