تازہ ترین
کولگام میں بیٹے کی ہلاکت کے 2سال بعد جنگجو کی والدہ گرفتار
خاتون غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث،کیس پہلے درج کیا تھا:پولیس
پولیس نے جنگجوؤں کے کنبے کو ثبوت کی بنیاد پر گرفتاری عمل میں لائی:آئی جی پی
خبراردو:-
سرینگر: جموں کشمیر پولیس نے جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام سے تعلق رکھنے والے ایک جاں بحق جنگجو کی والدہ کو گرفتار کر کے اننت ناگ کے زنانہ پولیس تھانہ منتقل کیا۔اس دوران آئی جی پی کشمیرزون، وجے کمار نے بتایا کہ جنگجوؤں کے رشتہ داروں کو ثبوت کی بنیاد پر گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
انہوں نے کہاکہ جو بھی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو گا،اُس کے خلاف باضابطے کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔پولیس نے بتایا گرفتارخواتین کے خلاف سال2018ء میں ایک کیس درج تھا جس سلسلے میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
کشمیر نیوز سروس (کے این ایس) کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں پولیس نے ایک سابق جنگجو کی والدہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے،اس دوران دو گرفتاریوں کے حوالے سے خبریں سوشل میڈیا پر گشت کر رہی تھی،اور ان پوسٹ میں عوام نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ذرائع نے بتایا سابق جنگجوجو دو سال قبل ایک معرکہ آرائی میں جان بحق ہوا ہے کی والدہ نسیمہ بانوں زوجہ عبد السلام ساکن ران پورہ قیموہ کولگام پولیس نے 20جون 2020کو گرفتار کر لیا ہے اس دوران واقعے کے خبر گزشرہ دو روز سے سوشل میڈیا پر گشت کر رہی ہے۔
لوگوں کا کہنا تھا کہ جب مزکورہ جنگجوحیات تھا تو ان کی والدہ نے انہوں نے اپنی والدہ کے ساتھ اسلحہ کے ساتھ ایک تصویر کھینچی تھی جو مہلوک جنگجو کی ہلاکت کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا۔اس دوران اتوار کے روز مزکورہ واقعے کے حوالے سے ایک خر بھی سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پرت وائرل ہوئی ہے جس میں لوگوں نے سخت برہمی اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
تاہم سوشل میڈیا پر خبر پھیلنے کے ساتھ ہی پولیس نے ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ گرفتار خاتوں کو ایک کیس زیر نمبر30/2018/13B,17,18,18B,19,39غیر قانونی دفعات کے تحت درج تھے۔پولیس نے بتائیا خاتون گرفتاری اس کی گرفتاری قانون کی دفعات کی تعمیل میں کی گئی تھی اور اس کی گرفتاری کے بعد سے ہی اسے پولیس تھانہ اننت ناگ میں قانونی طور پر منظور کیا گیا ہے۔ اور گرفتار خاتون سنگین فوجداری مقدمے میں ملوث ہے۔بیان میں کہا گیا کہ گرفتار شدہ خاتون کی تصویر جس میں وہ خودکار ہتھیاروں کا مجموعہ بنا رہی ہے اور اپنے بیٹے کے پاس کھڑی کر رہی ہے جو اس وقت ایک سرگرم دہشت گرد تھا یہ سب کچھ بولتا ہے۔
انہوں نے بتایا بندق اٹھا کر بیٹے کے ساتھ تصویر کھینچا جرم کی ابتدا ہے جبکہ خاتون اس کے علاوہ متعدد غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔انہوں نے بتایا خاتون نوجوانوں کو جنگجوکے صف میں شامل کرنے کے لئے راغب کر تھی جس دوران انہوں نے دو نوجوانوں کوجنگجوکے ساتھ شمولیت کروا کر انہیں اسلحہ بھی فراہم کیا ہے اور دیگر طرح کا مدد بھی کیا ہے۔ پولیس نے بتایا مزکورہ گرفتار خاتون کو اس لئے گرفتار نہیں کیا گیا ہے کہ وہ ایک خاتون ہے یا سابق جنگجوؤں کی والدہ ہے بلکہ اسکی گرفتاری کے وجوہات غیر قانونی سرگرمیاں ہیں۔
پولیس کا کہنا تھا کہ پولیس کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ لوگوں کی حفاظت کے لئے مجرموں کو گرفتار کرے جو اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔پولیس نے بتایا جو بھی شخص خاتون کی گرفتاری کو چلیج کرنا چہتا ہے وہ عدالت کا رخ کر سکتا ہے۔بہت ساری سوشل میڈیا پوسٹس شیئر کی گئی ہیں اور شیئر کی گئی ہیں جنہوں نے اس معاملے کے حقائق کو گھما کر رکھ دیا ہے تاکہ امن و سکون کی خلل پیدا ہوسکے۔پولیس نے معاملے کا نوٹس لیا ہے اور جو بھی ذرائع سے دوسروں کو بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس دوران انسپکٹرجنرل آف پولیس وجے کمار نے اپنے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ جموں و کشمیر پولیس نے بناء ثبوت کے جنگلی کے کنبے کو نشانہ نہیں بنایا ہے انہوں نے بتایاسرگم جنگجوؤں کی بہن عباس شیخ اور سابق جنگجوتوصیف کی والدہ کو20جون 2018کوایک کیس زیر آیف آئی آر نمبر30/2018 کے تحت گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے جو نوجوانوں کو جنگجوصف میں شامل کرنے میں ملوث ہیں۔
ہندوستان
چین کے تئیں نرمی اور بڑھتے معاشی انحصار پر جواب دیں مودی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے چین کے ساتھ سرحد پر کشیدگی، بڑھتے تجارتی خسارے اور معاشی انحصار پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر ان سے واضح جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم کی جانب سے چین کو مسلسل رعایتیں دینے کا سلسلہ جاری ہے، تو دوسری طرف ہندوستان اور چین کی سرحد پر حالیہ جھڑپوں کے دوران انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کی کارکردگی کی اس کے ڈائریکٹر جنرل نے ستائش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ اروناچل پردیش کے تاکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ ریاست کے واچا اور دمائی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق، لداخ کی طرح ایک بار پھر گشت کے بعض مقامات ہندوستان کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے چین کی جانب سے اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کرنے اور وہاں 60 ہزار میگاواٹ کا ڈیم بنانے کے منصوبے پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ماحولیات اور آبی سلامتی کو بڑا خطرہ لاحق ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 112 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جب کہ گزشتہ سال یہ 99 ارب ڈالر تھا۔ اس کے نتیجے میں کئی صنعتوں کے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانہ درجے کے کاروباری ادارے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ‘میک اِن انڈیا’ اب ‘چین سے درآمد’ میں تبدیل ہوچکا ہے اور بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملک کی معاشی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہے۔
مسٹر رمیش نے 19 جون 2020 کو چین کے حوالے سے وزیر اعظم کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان آج بھی اس بیان کی قیمت چکا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کا یہ بیان 20 ہندوستانی جوانوں کی شہادت کے بعد سامنے آیا تھا۔
کانگریس لیڈر نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کے اس انکشاف کا بھی ذکر کیا، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ لداخ میں چینی دراندازی کے دوران انہیں صرف یہ ہدایت ملی تھی کہ ”جو مناسب سمجھو، وہ کرو۔” انہوں نے کہا کہ 4 جولائی 2025 کو نائب آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی فوجی کارروائی میں چین کے وسیع کردار کا انکشاف کیا تھا، جب کہ گزشتہ 25 اگست کو سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے عوامی طور پر ان انکشافات کی تردید کی تھی۔ مسٹر رمیش نے اس واقعے کے بعد جنرل چوہان کی جانب سے آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریے سے وابستہ ایک اہم تھنک ٹینک کی سربراہی سنبھالنے کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ سرحد پر کشیدگی کے باوجود چین کے تئیں نرمی اور معاشی محاذ پر بڑھتا ہوا انحصار کس طرح کی قوم پرستی ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ ملک کو کھوکھلے دعووں کی نہیں، بلکہ قومی سلامتی کے معاملے پر واضح جواب کی ضرورت ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری میں نہیں، یورپی عوام روس سے لڑنا نہیں چاہتے:پوتن
ماسکو، روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ روس یورپ کے ساتھ کسی بھی جنگ کی تیاری نہیں کر رہا ہے اور اگر یورپ میں جاری سیاسی سرگرمیوں پر نظر ڈالی جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ وہاں کے لوگ روس سے لڑنا نہیں چاہتے۔
مسٹر پوتن نے روسی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ مغربی ممالک کے رہنما مسلسل ‘روسی خطرے’ اور روس کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم کی تیاریوں کی بات کررہے ہیں۔ تاہم، امید ہے کہ اب یہ بات واضح ہوچکی ہوگی کہ روس کو شکست دینا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا، ”یہ بات سب کے سامنے واضح ہوچکی ہے کہ جنگ کے میدان میں روس کو شکست دینا ناممکن ہے اور اسے حکمت عملی کے اعتبار سے بھی شکست دینا غیر حقیقی ہے۔”
روسی صدر کے مطابق، یورپی سیاست دانوں کی جانب سے روس کے خلاف جنگ کی تیاریوں سے متعلق دیے جانے والے بیانات کسی طرح کی سیاسی ذہنی اختلال کی علامت ہیں۔
مسٹر پوتن نے کہا، ”میرا خیال ہے کہ جن لوگوں نے پوری تاریخ میں روس کو حکمت عملی کے اعتبار سے شکست دینے کی کوشش کی ہے اور بدقسمتی سے آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں، وہ جدید دنیا کی حقیقتوں کو سمجھتے ہیں اور سمجھیں گے کہ روس کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنا ہی بہتر ہے۔ یہ ان کے اپنے عوام کے مفاد میں ہے۔”
یو این آئی/اسپوتنک
ہندوستان
جرمنی کے ایک مطالعاتی و تحقیقی ادارے میں ہندوستان کے لیے خصوصی مرکز قائم
نئی دہلی، جرمنی میں بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے اور تحقیق کرنے والے برلن کے خودمختار ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز (ڈی جی اے پی) میں ہندوستان سے متعلق ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
‘انڈیا سینٹر’ کے نام سے قائم اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا ریشے نے شرکت کی۔ مسٹر گوئل اس وقت جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ڈی جی اے پی میں ہندوستان کے لیے قائم کیا گیا یہ مرکز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا، ”ہماری ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتیں ہمارے بلند حوصلہ اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس شراکت داری کو مزید رفتار دینے کا کام کرے گا۔”
اس موقع پر مسٹر گوئل نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ باہمی خوشحالی اور ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
یو این آئی۔ ایم جے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
