تازہ ترین
وادی میں اَن لاک ۔ 2 کے دوران لاک ڈاؤن ۔ 2شروع
کووڈ ۔ 19کا برق رفتار پھیلاو
دارالحکومت سرینگر سمیت کئی اضلاع میں بندشیں اور پابندیاں سختی کے ساتھ دوبارہ نافذ
خبراردو:-
سرینگر:عالمگیر وبا ’کورونا وائرس‘ (کووڈ ۔ 19) کے برق رفتار پھیلاءو کے پیش نظر جموں وکشمیر انتظامیہ نے سوموار کو دارالحکومت سرینگر سمیت شمال وجنوب کے کئی اضلاع میں سختی کیساتھ دوبارہ بندشیں اور پابندیاں عائد کیں ،جسکے نتیجے میں سڑکیں سنسان اور بازار ویران نظر آئے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندوستان بھر میں اس وقت اَن لاک ۔ 2جاری ہے جبکہ وادی کشمیر میں لاک ڈاون ۔ 2شروع ہوگیا ۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق کورونا وائرس مثبت معاملات میں غیر متوقع اور اچانک اضافے کے پیش نظر سوموار کو وادی کشمیر کے کئی اضلاع میں دوبارہ کورونا لاک ڈاءون کے تحت سخت ترین بندشیں اور پابندیاں عائد کیں ۔ سرینگر:دار الحکومت سرینگر کے88زونز (علاقوں ) کی نشاندہی کی گئی ہے اور یہاں لوگوں کی آزاد نقل وحرکت روکنے کےلئے سخت ترین بندشیں عائد کی گئیں ۔ اس مقصد کے لئے موٹی سلاخوں سے ریڈ زونز کو مکمل طور پر سیل کیا گیا ۔
تاہم پورے میں شہر میں سوموار کو سنا ٹا چھایا رہا کیونکہ تجارتی مرکز لالچوک کو اتوار کی شام کو ہی سیکیورٹی فورسز نے مکمل طور پر سیل کیا تھا جبکہ شہرخاص کے مصروف ترین بازار وں کو بھی پوری طرح سے سیل کیا گیا ۔ شہر کے کئی علاقوں میں پولیس کی جپسیوں پر نصب لاءوڈ اسپیکروں کے ذریعے پابندیوں اور بندشوں کو نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا اور عوام سے تعاءون دینے کی اپیل کرتے ہوئے غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ آنے کی تلقین کی گئی ۔ حکام کا کہنا ہے کہ بندشیں اور پابندیاں عائد کرنے کا بنیادی مقصد کورونا کے برق رفتار پھیلاءو کو روکنا اور اسکی زنجینئر کو توڑ نا ہے ۔
سرینگر میں لازمی سروس کے بغیر ہر طرح کی نقل وحرکت پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔ شہر میں سوموار کو سڑکیں سنسان اور بازار مکمل طور پر ویران نظر آئے ۔ ہر طرح کے دکان ،کاروباری و تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کیساتھ ساتھ نجی گاڑیوں کی نقل وحرکت بھی مسدود رہی ۔ شہر میں ایمر جنسی کی صورت میں کئی ایک افراد کو ہی گھر سے باہر قدم رکھتے ہوا دیکھا گیا ۔ لوگوں کی نقل وحرکت روکنے کےلئے جہاں خاردار تاروں کا استعمال کیا جارہا ہے ،وہیں موٹی سلاخوں کو بھی بروئے کار لاکر علاقوں کو سیل کرنے کا عمل مسلسل جاری ہے ۔ شہر خاص میں کئی ایک مقامات پر ماسک نہ پہنے پر کئی نوجوانوں کو ’ اٹھک بیٹھک ‘بھی کی سزا بھی دی گئی ۔ گا ندربل:ضلع انتظامیہ گاندربل نے عوام سے کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے تعاون طلب کرتے ہوئے سبھی دکانوں اور تجارتی مراکز کو دو دنوں کیلئے بند رکھنے کے احکامات صادر کئے ہیں ۔ حکام کے مطابق ضلع مجسٹریٹ گاندربل شفقت اقبال نے ضلع بھر میں کل 13اورآج 14 جولائی کو دفعہ144 نافذ رکھنے کے احکامات صادر کئے ہیں ۔
یہ احکامات کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے جاری کئے گئے ہیں ، تاہم پابندیوں کا اطلاق ایمرجنسی سروسز پر نہیں ہوگا ۔ ضلع انتظامیہ نے پولیس حکام پر زور دیا ہے کہ وہ پابندیوں کے احکامات کو سختی سے نافذ کریں ۔ بڈگام :وسطی ضلع بڈگام میں بھی سوموار کو دفعہ144کے تحت پابندیاں وبندشیں عائد رہیں ۔ حکام کا کہنا ہے کہ ضلعے میں کووڈ ۔ 19کے پھیلاءو کو روکنے کےلئے احتیاطی اقدامات کے تحت بندشیں عائد کی گئیں ۔ بڈگام میں پولیس نے لاءوڈ اسپیکروں کے بندشیں عائد کرنے کا اعلان کیا ۔
دکانداروں کو اپنی دکانیں بند کرنے کےلئے کہا گیا ۔ حکام کا کہناتھا کہ موجودہ صورتحال باعث تشویش ہے جسکے پیش نظر احتیاطی تدابیر اپنا نا لازمی ہے ۔ کپوارہ اور بارہمولہ:شمالی ضلع کپوارہ میں پہلے ہی تین روزہ لاک ڈاءون کا اعلان انتظامیہ کی جانب سے کیاگیا ہے ۔ ضلعترقیاتی کمشنر کپوارہ ،انشل گارگ نے ضلعے میں تین روز لاک ڈاءون کا اعلان سنیچر کو کیا اور آرڈر بھی جار ی کیا ۔ انہوں نے ایک حکمنا مہ زیر نمبر ;68677547808347;2020;47;01;47;1241-47 صادر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ضلعے میں گزشتہ کئی روز سے کورونا پازیٹیوکیسز میں کافی تیزی سے اضافہ ہوا جبکہ کئی پازیٹیو کیسز، کنٹین منٹ زونز (ریڈ زونز ) سے باہر بھی سامنے آئے ہیں جن میں قصبہ کپوارہ اور ہندوارہ کے علاقے شامل ہیں ۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہندوارہ نے ایک آرڈر زیر نمبر;6568687247;20;47;12818بتاریخ11جولائی2020جاری کیا جس میں انہوں نے بھی پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کی تھی ۔ بارہمولہ میں پہلے ہی کورونا وائرس کے پھیلاءوسے پیدا صورتحال سے نمٹنے کیلئے پورے ضلع میں شادی کی بڑی تقریبات پر پابندی عائد کی ہے ۔ یہ احکامات دیگر تقریبات پر بھی نافذ ہونگے ۔ یہ فیصلہ ضلع میں کورونا کے بڑھتے کیسوں کی وجہ سے لیا گیا ہے ۔
معلوم ہوا ہے کہ بارہمولہ میونسپل کونسل کے صدر کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ بارہمولہ میں کورونا کے پھیلاءو کی وجہ سے لوگوں میں تشویش پائی جارہی ہے، اس لئے پابندیاں عائدکرنا ضروری بن گیا ہے ۔ بانڈی پورہ :بانڈی پورہ ضلعے کے کئی علاقوں میں دفعہ144کے تحت بندشیں اور پابندیاں عائد رہیں ۔ جنوبی کشمیر کے4اضلاع:جنوبی کشمیر کے پلوامہ ،کولگام ،شوپیان اور اننت ناگ میں پابندیاں اور بندشیں دوبارہ عائد کی گئیں ۔ سوسوموار کو پوری واد ی میں دوبارہ کورونا لاک ڈاءون کے تحت نافذ کی گئی بندشوں کے باعث معمو لات زندگی مکمل طور پر مفلوج ہوکر رہ گئے ۔ شہر ودیہات کی سڑکیں سنسان اور بازار ویران نظر آرہے ہیں ۔
ہر طرف پولیس اور فورسز اہلکار نظر آرہے ہیں ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر میں مثبت کیسوں کی تعداد10ہزار سے زیادہ ہے جبکہ ہلاکتیں 200کے قریب پہنچ چکی ہے ۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
