تازہ ترین
حج بیت اللہ کے مراحل پوری طرح سبق آموز !

مصنف:جاوید اختر بھارتی
خبراردو:
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے یعنی مذہب اسلام کے پانچ رکن ہیں توحید، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور پانچواں رکن حج ہے اور آجکل حج کا سیزن بھی چل رہا ہے مطلب یہی وہ وقت ہے کہ دنیا کے کونے کونے سے فرزندان توحید کا حج بیت اللہ کیلئے روانگی کا سلسلہ جاری ہوجاتا ہے اور جاری رہتا ہے لیکن سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ امسال احتیاطی تدابیر کہا جائے یا بدنصیبی کہا جائے کہ معاملہ امسال کچھ اور ہے-
یعنی سعودی عرب کے علاوہ دیگر ممالک کے مسلمانوں کے لئے امسال حرم کے دروازے بند ہیں یوں تو ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کعبۃ اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اس کا طواف کرے اس لئے خوش نصیب ہے وہ مسلمان جس کو یہ سعادت حاصل ہوئی اور یہ مقدر کی بات ہے ورنہ بڑے بڑے سرمایہ کار و سرمایہ دار اس دنیا میں ہیں اور کتنے اس دنیا سے رخصت ہوگئے انہیں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ جیسی پاک و مقدس سرزمین پر جانا نصیب نہیں ہوا-
بہت سے ایسے مسلمان بھی ہیں جنہیں دیکھ کر یہ محسوس نہیں کیا جاسکتا کہ یہ وہاں تک پہنچیں گے لیکن اللہ کا کرم ایسا کہ سارے وہم وگمان کو توڑتے ہوئے ان کی قسمت وہاں تک پہنچا تی ہے اور انکے مقدر کا ستارہ روشن ہوتا ہے حج مقدس ترین عبادت ہے حج کی فضیلت یہ ہے کہ احادیث کی کتابوں میں یہ روایت ملتی ہے کہ جس نے حج کیا اور جس کا حج بارگاہ خداوندی میں قبول ہوگیا تو گویا اس کے سارے گناہ معاف ہوگئے اور وہ ایسا ہوگیا جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے یعنی گناہوں سے پاک و صاف ہوگیا اب آگے اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے آپ کو معصوم رکھتا ہے یا پھر دنیاوی رنگ میں اپنی زندگی کو رنگتا ہے-
حج کے لیے جائے تو دل میں خلوص کا ہونا ضروری ہے حج سے قبل حقوق العباد کی ادائیگی بھی ضروری ہے لین دین کا سارا معاملہ پاک وصاف کرنا ضروری ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے بھی اتنی مہلت دی ہے کہ جب وسعت ہوجائے تب حج کرنے جاؤ گھر سے پوری طرح فراغت پاجاؤ تب حج کرنے جاؤ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حج کرنے کے بعد اب اتنی ہی پاک صاف زنگی گزارنی ہے جتنی پاک صاف زندگی بندہ حج کے ایام میں گزارتا ہے-
دل میں یہ خیال ہی نہیں پیدا ہونا چاہئے کہ میرے پاس دولت تھی تو میں حج کرنے آیا یا میں نے حج کرلیا بلکہ دل میں یہی خیال رہنا چاہیے کہ بس اللہ رب العالمین کا فضل ہے کہ میں اس کے دربار میں پہنچا اور اس کے محبوب کے مقدس آستانے پر حاضری کا شرف حاصل ہوا اور جب یہ شرف حاصل ہوا تو اب ضروری ہے کہ اہل وعیال کی فکر نہ کرے، کاروبار کی فکر نہ کرے بس اللہ پر بھروسہ کرے، اللہ سے لولگائے، اللہ سے مدد طلب کرے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ سلام اللہ علیہا کا واقعہ یاد کرے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اور اپنی بیوی حضرت ہاجرہ کو جنگل و بیابان میں چھوڑ کر چل دیئے-
حضرت ہاجرہ نے بار بار آواز دی لیکن ابراہیم علیہ السلام پیچھے مڑ کر نہیں دیکھ رہے ہیں جس جگہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو چھوڑا تھا وہاں کھانے پینے کا کوئی سامان نہیں تھا پانی بھی میسر نہیں تھا جب حضرت ہاجرہ کو یقین ہوگیا کہ ابراہیم علیہ السلام پلٹنے والے نہیں ہیں تب یہ پوچھا کہ آخر ہمیں اس بیابان میں جہاں چرند و پرند بھی نہیں ہیں نہ کچھ کھانے کیلئے ہے نہ کچھ پینے کے لیے ہے آخر کس کے حوالے کس کے بھروسے پر چھوڑ کر جارہے ہیں ہماری دیکھ بھال کون کرے گا تب ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ اللہ نگہبان ہے اللہ کے بھروسے پر چھوڑ کر جارہا ہوں اتنا سننا تھا کہ ہاجرہ کو اطمینان ہوگیا اور کہا کہ تب جاؤ بیشک اللہ ہماری حفاظت کریگا یہی وہ مقام ہے جسے صفا مروہ کے نام سے جانا جاتا ہے جو اللہ کی نشانیوں میں سے ہے جہاں پانی کی تلاش میں
حضرت ہاجرہ سات مرتبہ دوڑیں یہ ادا اللہ تبارک و تعالیٰ کو اتنی پسند آئی کہ حج کے ارکان میں شامل کردیا ہر حاجی کو صفا مروہ کی سعی کرنا ہے اللہ پر توکل کا یہ صلہ ملا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے پیاس کی شدت سے ایڑیاں رگڑیں اور اللہ کے حکم سے حضرت جبریل علیہ السلام نے پر مارا اور پانی کا چشمہ جاری ہوا جسے آج ہم آب زمزم کہتے ہیں جو دنیا کا سب سے پاکیزہ پانی ہے جو شفاؤللناس ہے جس میں ہر مرض کی شفا ہے ایسی مقدس سرزمین پر جاکر کسے دنیا یاد رہے گی جہاں دن رات اللہ کی رحمتیں برستی ہیں مکہ مکرمہ وہ شہر ہے جسے اللہ نے بلدالامین کہا ہے مکہ وہ شہر ہے کہ اللہ نے جس کی قسم کھائی ہے مکہ وہ شہر ہے جسے اللہ نے ام القریٰ کا درجہ عطا فرمایا ہے یعنی ساری بستی کی ماں قرار دیا ہے مکہ وہ شہر ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے سید الکونین شہنشاہ عرب وعجم صل اللہ علیہ وسلم کی ولادت فرمائی ہے جہاں غارحرا ہے جہاں قرآن کی پہلی وحی نازل ہوئی ہے مکہ وہ شہر ہے جہاں خانہ کعبہ ہے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ایسے پاکیزہ شہر اور مقدس بستی میں پہنچیں اور اس سے بھی زیادہ خوش نصیبی کی بات ہے کہ حج بیت اللہ کیلئے حاضری کی سعادت نصیب ہوجائے ایسی پاک سرزمین پر پہنچ کر صرف عاجزی اور انکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لبىك اللھم لبیك لبىك لاشریک لك لبىك ان الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك لبيك کی صدائیں بلند کرتا رہے اور اپنے آپ کو ایک مجرم سمجھے دلوں میں تقویٰ پیدا کرے خوف خدا سے پورا جسم لرزہ براندام رہے دل میں یہ خیال رہے کہ ائے اللہ میں گنہگار و خطاکار ہوں سیاہ کارہوں تیری عدالت اور تیری بارگاہ میں آج حاضر ہوں بیشک توہی خالق ومالک ہے عزت و ذلت، زندگی اور موت سب کچھ تیرے ہی قبضہ قدرت میں ہے تو ہماری حاضری کو قبول فرمالے ہمارے دلوں کو روشن فرمادے ہمارے گناہوں کو معاف کردے ساتھ ہی ساتھ حج بیت اللہ کی جنہیں سعادت حاصل ہوئی ہے وہ اپنی آنکھوں سے اسلامی مساوات بھی دیکھیں اور اللہ کا انصاف بھی دیکھیں کہ بادشاہ اور فقیر، آقا اور غلام، عربی اور عجمی، گورے اور کالے سب کا ایک ہی لباس ہے ایک کپڑا اوڑھنا ہے اور ایک کپڑا لپیٹنا ہے یہیں سے قبر کا بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ چاہے بڑے سے بڑا امیر، حکمراں بھی جب موت کی نیند سوئے گا تو قبر میں دفن ہوگا اوپر سے مٹی ڈال دی جائے گی کسی نے آج تک یہ وصیت نہیں کی کہ میری قبر میں ٹائلس لگا دینا بہترین قسم کی قالین بچھا دینا دنیا میں چاہے کوئی کتنا ہی کسی کے ساتھ حق تلفی کرے لیکن مرنے کے بعد آخرت کی پہلی منزل قبر سے ہی انصاف شروع ہوجاتا ہے یہ اللہ کا قانون ہے اور میدان عرفات میں ایک اور سبق ملتا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور لوگ عرفات کے میدان میں اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے بھی رہتے ہیں کاش اسی طرح ہمیشہ تھامے رہتے تو آج امت مسلمہ انتشار کا شکار نہیں ہوئی ہوتی اور پوری دنیا میں ذلیل و خوار بھی نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو ایک موقع دیا ہے زندگی میں انقلاب لانے کا جہنم سے نجات پانے کا اور جنت کا حقدار بننے کا لہٰذا ہر حاجی کیلئے ضروری ہے کہ اس مقدس سرزمین سے اپنے آپ کو رب کے قرآن اور نبی کے فرمان کے سانچے میں ڈھال کر آئے اس کے بعد تا عمر ایسا ڈھلا رہے کہ لوگ اس سے متاثر ہوں اور انہیں دیکھ کر اپنے آپ کو تخیُل کی شاہراہ پر سوار ہو کر سوچیں اور غور کریں اور اپنی زندگی میں تبدیلی لائیں اور ہر حاجی اس مقدس سرزمین پر پوری امت مسلمہ کی خیر و بھلائی کی اور ملک میں امن و سلامتی کی دعا کریں اور جب مدینہ منورہ جائیں اور دربار رسالت میں حاضر ہوں تو پوری امت کا سلام پیش کریں انتہائی ادب و احترام کے ساتھ نگاہیں جھکی ہوئی رکھیں اور دل میں یہ بھی خیال رکھیں کہ ہم اس قابل تو نہیں کہ اس دربار میں پہنچیں لیکن یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کی بات ابتک بنی ہوئی ہے اپنے حالات پر نظر ڈالیں اور آنکھوں سے ندامت کے آنسو برسائیں کیونکہ جو کچھ بھی بھلا ہونا ہے وہ نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسليم کے صدقے میں ہی بھلا ہونا ہے آخر میں دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ حج بیت اللہ کیلئے جانے والے مسلمانوں کا حج رسول اکرم صل اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقے میں قبول فرمائے اللھم آمین یا رب العالمین بجاہ نبیک سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وصحبہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین –
تحریر:جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوھنہ ضلع مئو( اترپردیش)
برائے رابطہ 8299579972، javedbharti508@gmail.com
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoروس سے ٹرمپ کی رعایتوں پر ریپبلکنز دفاعی پوزیشن میں، وسط مدتی انتخابات سے قبل دباؤ بڑھ گیا
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
