پاکستان
پاکستان میں کورونا کے پونے 3 لاکھ کیسز میں سے 2 لاکھ 42ہزار سے زائد صحتیاب
دنیا بھر میں ایک کروڑ 64 لاکھ 26 ہزار سے زائد لوگوں کو متاثر اور 6 لاکھ 54 ہزار سے زائد اموات کا سبب بننے والے مہلک کورونا وائرس کے پاکستان میں اثرات کم ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
ملک میں اب تک مصدقہ کیسز کی تعداد 2 لاکھ 75 ہزار 202 ہوچکی ہے جس میں سے 5 ہزار 865 کا انتقال جبکہ 2 لاکھ 42 ہزار 436 صحتیاب ہوئے ہیں جو 88 فیصد ہے۔
آج (28 جولائی) کو ملک میں کورونا وائرس کے مزید 287 کیسز اور 10 اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ ایک ہزار 410 افراد شفایاب ہوگئے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کو 5 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس پورے عرصے میں وائرس کے پھیلاؤ میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا تاہم اب کیسز میں کمی آرہی ہے۔
26 فروری کو سامنے آنے والے پہلے کیس سے لیکر 31 مارچ تک ملک میں کورونا وائرس کے 2 ہزار کے لگ بھگ کیسز اور 26 اموات تھیں۔
جس کے بعد اپریل میں اس تعداد میں اضافہ شروع ہوا اور ایک ماہ کےعرصے میں کیسز ساڑھے 16 ہزار سے تجاوز کرگئے جبکہ اموات 385 ہوگئیں۔
مئی کا مہینہ صورتحال کی تبدیلی کا باعث بنا اور 31 روز میں کیسز کی تعداد بڑھ کر 71 ہزار اور اموات 1500 سے تجاوز کرگئیں۔
تاہم جون کا مہینہ اب تک سب سے زیادہ تشویشناک رہا اور ایک ماہ کے دوران کیسز تیزی سے بڑھتے ہوئے 2 لاکھ 12 ہزار کے مجموعی ہندسے کو عبور کرگئے جبکہ اموات بھی 4300 سے زائد ہوگئیں۔
علاوہ جولائی کے 27 روز میں کیسز کی تعداد میں 62 ہزار سے زائد کا اضافہ ہوا جبکہ 1500 سے زائد اموات رپورٹ ہوئیں۔
آج (28 جولائی) کو بھی ملک میں کیسز اور اموات کی تعداد کچھ اس طرح رہی۔
پنجاب
صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس نے مزید 206 افراد کو متاثر کیا جبکہ 9 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز پنجاب میں 2 ماہ بعد ایسا ہوا تھا کہ 24 گھنٹوں میں کوئی ہلاکت سامنے نہیں آئی تھی۔
تاہم سرکاری سطح پر فراہم کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں مزید 206 افراد کے متاثر ہونے سے مجموعی کیسز 92 ہزار 279 ہوگئی۔
اس کے علاوہ وہاں 9 اموات کے اضافہ دیکھا گیا اور یوں مجموعی اموات 2 ہزار 125 تک جا پہنچی۔
اسلام آباد
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا وائرس نے مزید 54 افراد کو متاثر کیا جبکہ ایک فرد جان کی بازی ہار گیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں ان نئے کیسز کے بعد مجموعی متاثرین کی تعداد 14 ہزار 938 تک پہنچ گئی۔
مزید برآں ایک فرد کے انتقال کرجانے سے یہ تعداد 164 سے بڑھ کر 165 ہوگئی۔
آزاد کشمیر
ملک میں کم متاثر علاقوں میں سے ایک آزاد کشمیر میں مزید 6 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔
اعداد و شمار کے مطابق آزاد کشمیر میں ان 6 افراد کے متاثر ہونے سے مجموعی کیسز کی تعداد 2040 ہوگئی۔
گلگت بلتستان
اس وقت ملک میں سب سے کم متاثر علاقے گلگت بلتستان میں کورونا کیسز کی تعداد 2 ہزار سے بڑھ گئی۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 21 افراد ایسے تھے جن میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔
یوں اب تک وہاں مجموعی کیسز کی تعداد 1989 سے بڑھ کر 2010 تک ہوگئی ہے۔
صحتیاب افراد
ملک میں کیسز میں کمی کے ساتھ صحتیاب افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
نئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں ایک ہزار 410 مریض شفایاب ہوگئے، جس کےبعد مجموعی طور پر صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 2 لاکھ 42 ہزار 436 ہوگئی۔
مجموعی صورتحال
ملک میں عالمی وبا کے کیسز، اموات اور صحتیاب افراد کی تعداد میں اضافے کے بعد اگر مجموعی صورتحال پر نظر ڈالیں تو وہ کچھ اس طرح ہے:
مصدقہ کیسز: 275202
اموات: 5865
صحتیاب: 242436
فعال کیسز: 26901
ملک میں اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر صوبے سندھ اور پنجاب ہیں، صوبہ سندھ میں کیسز ایک لاکھ 18 ہزار 824 ہیں تو وہیں پنجاب میں یہ تعداد 92 ہزار 279 کیسز تک پہنچ چکی ہے۔
صوبہ خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس سے 33 ہزار 510 افراد متاثر ہوچکے ہیں جبکہ صوبہ بلوچستان میں وبا میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد 11 ہزار 601 ہے۔
علاوہ ازیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 14 ہزار 938، آزاد کشمیر میں 2040 اور گلگت بلتستان 2010 افراد عالمی وبا کا شکار ہوچکے ہیں۔
ملک میں اموات کی صورتحال کچھ یوں ہے:
سندھ: 2162
پنجاب: 2125
خیبرپختونخوا: 1180
بلوچستان: 136
اسلام آباد: 165
آزاد کشمیر: 49
گلگت بلتستان: 48
پاکستان میں کورونا وائرس کیسز اور اموات
خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا تھا اور 25 مارچ تک کیسز کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ چکی تھی۔
تاہم اس کے بعد مذکورہ وائرس نے پاکستان میں اپنے پنجے گاڑنا شروع کردیے اور اب تک 2 لاکھ 74 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں، جبکہ اموات ساڑھے 5 ہزار سے زائد ہیں۔(ڈان نیوز)
پاکستان
حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
اسلام آباد، پاکستان نے یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد مملکت کے دفاع کے لیے ”ہر ممکن مدد” فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ‘انڈیپنڈنٹ عربیہ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔ ان کا یہ بیان ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے درمیان سامنے آیا ہے۔
پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کا رکن ہے، جس میں سعودی عرب اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔ اس اجتماعی دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دیگر ارکان متاثرہ ملک کے دفاع کے لیے آگے آئیں گے۔ تاہم، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں مسلسل شدت کے باوجود اسلام آباد اور انقرہ نے اب تک بیانات جاری کرنے کے علاوہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی، بالخصوص حرمین شریفین کی حفاظت، پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا، ”پاکستان کے لیے یہ معاملہ ناقابلِ سمجھوتہ اور قطعی ہے۔ اس مقصد کے لیے جس مدد کی ضرورت ہے، وہ فراہم کی جا رہی ہے اور آئندہ بھی فراہم کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ فوجی اتحاد اپنی مدد کی نوعیت اور اس کے پیمانے کی تفصیلات عام طور پر ظاہر نہیں کرتے۔
حوثی حملوں پر پاکستان میں ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نے کہا کہ ملک کے عوام، سیاسی قیادت اور فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”آخر کوئی بھی ذی شعور شخص سعودی عرب، مقدس مقامات پر حملہ کیوں کرے گا یا انہیں دھمکی کیوں دے گا، یا کم از کم ایسا تاثر کیوں پیدا کرے گا؟” ان کا کہنا تھا کہ اسلامی مقدس مقامات کی سلامتی کے معاملے میں کوئی شرط یا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
یہ پوچھے جانے پر کہ اگر حوثی حملے جاری رہے تو کیا اسلام آباد کی مدد صرف دفاعی نوعیت تک محدود رہے گی، چوہدری نے کہا کہ مکہ اتحاد کے تینوں ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ معاہدے کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں اور یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔
اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کا حوالہ دیتے ہوئے، جو حقِ دفاع کو تسلیم کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد اجتماعی ردعمل کے ذریعے رکن ممالک کو لاحق خطرات کی روک تھام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ”اگر یہ بازدارانہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہوتی تو تینوں ممالک کو دستیاب تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسے دوبارہ مؤثر بنانا ہوگا۔”
سعودی نائب وزیر خارجہ کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ ایران کے تعلقات کی نشاندہی کے بعد، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد نے تہران کو حملوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے، تو چوہدری نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے تہران سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان رابطوں کا بنیادی مقصد ”کشیدگی کو کم کرنا” ہے اور تمام فریقوں کے ساتھ پاکستان کی بات چیت کا محور حالات کو معمول پر لانا ہے۔
چوہدری نے خبردار کیا کہ حوثیوں یا دیگر فریقوں کو تنازع میں شامل کرکے اس کا دائرہ وسیع کرنے سے بحران حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا، ”خواہ آپ اس میں حوثیوں کو شامل کریں یا دوسرے علاقوں تک پھیلائیں، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہوگا جو خطے میں افراتفری چاہتے ہیں۔”
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
پاکستان
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
اسلام آباد، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہفتہ کو 5.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی۔ ہندوستان کے نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) نے یہ اطلاع دی۔
ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ زلزلہ 17 اکتوبر کو ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 37 منٹ پر آیا۔ زلزلے کا مرکز 27.944 ڈگری شمالی عرض البلد اور 66.532 ڈگری مشرقی طول البلد پر واقع تھا۔
زلزلے کے زمینی اثرات کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، جن میں آبادی والے علاقوں سے اس کا فاصلہ، مقامی ارضیاتی حالات اور زمین میں ارتعاش کی شدت شامل ہیں۔
زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحد کے قریب واقع ہے، جہاں ان پلیٹوں کے ٹکراؤ سے زلزلہ خیز سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔
جنوب مغربی پاکستان کا وسیع صوبہ بلوچستان زلزلے کے خطرات سے دوچار علاقوں میں شامل ہے۔ دیگر حساس علاقوں میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان شامل ہیں، جہاں فعال فالٹ لائنیں اور پیچیدہ پہاڑی سلسلے زلزلوں کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے بعض علاقے بھی زلزلہ خیز سرگرمیوں سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں ایک اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 28 طلبہ اور ایک استاد ہلاک، جبکہ 20 سے زائد دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
اسپتال کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔
یہ حادثہ جمعرات کو خیبر پختونخوا کی راجدھانی پشاور میں واقع نجی اسکول الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا۔ حادثے کے بعد راحت اور بچاؤ کی ٹیمیں ملبے میں دبے افراد کی تلاش اور زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے تمام بچوں کی عمر 13 سال یا اس سے کم ہے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زخمیوں کے علاج کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
اسلام آباد سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے کمال حیدر نے بتایا کہ گنجان آبادی والے علاقے میں اسکول واقع ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”بھاری مشینری، جو امدادی کارروائیوں میں اہم ثابت ہوسکتی تھی، جائے حادثہ تک نہیں پہنچ سکی۔ مقامی افراد اور امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور اس کے نیچے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے بالٹیوں اور دیگر برتنوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس اسکول میں تقریباً 350 طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ زخمی طلبہ کی بڑی تعداد اسپتال میں زیر علاج ہے، جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔
حکام نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ”ہمارے بچے ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور اس طرح کا ہر نقصان پورے ملک کے لیے ایک سانحہ ہے۔ میری دلی تعزیت اور دعائیں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، ”وزیر اعظم اور حکومت نے اس صورت حال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ ہمارے بچوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہنی چاہیے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
