تازہ ترین
وادی بھر میں دوبارہ پابندیاں و بندشیں سختی کیساتھ نا فذ،درجنوں گاڑیاں ضبط،کئی دکانیں سیل
شہر ودیہات میں معمولات ِ زندگی مکمل طور پر مفلوج،رابطے سڑکیں مکمل طور سیل
خبراردو:-
سرینگر:دفعہ370اور35(اے) کے خاتمے کے ایک سال پورا ہونے سے 2دن قبل وادی کشمیر میں دوبارہ سخت ترین پابندیاں اور بندشیں عائد کی گئیں،جسکے نتیجے میں شہر ودیہات میں معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں کورونا وائرس(کووڈ۔19) کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے نافذ کی گئیں۔
ادھر وادی کشمیر کے کئی علاقوں میں قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی پاداش میں 27گاڑیاں اور کئی گاڑیاں ضبط کی گئیں۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق وادی کشمیر میں سوموار کو سخت پابندیاں عائدہیں تاکہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔اس مقصد کیلئے سڑکوں پر جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں۔ان پابندیوں کا اطلاق جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے کا ایک سال پورا ہونے سے 2 روز قبل عمل میں لایا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ لوگوں کی نقل و حمل پر مکمل پابندی عائد ہے اور ضروری سروسز کو چھوڑ کر کسی کو بھی کہیں آنے جانے کی اجازت نہیں ہے۔حکام نے بازاروں کو سیل کرکے عام لوگوں کا تعاون طلب کیا ہے تاکہ لاک ڈاؤن کو کامیاب بنایا جاسکے۔ضلع مجسٹریٹوں نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کا اطلاق کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کیلئے عمل میں لایا گیا ہے۔
لاک ڈاؤن کے نتیجے میں دارالحکومت سرینگر سمیت شمال وجنوب کے سبھی10اضلاع میں دکانیں،بازار،کاروباری وتجارتی مراکز بند ہیں جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہے۔پابندیوں اور بندشوں کو سختی کیساتھ نافذ کرنے اور عالم لوگوں کی نقل وحرکت گھروں تک محدود کرنے کیلئے گلی کوچوں کیساتھ ساتھ مرکزی رابطہ سڑکوں کو خاردار تاروں سے سیل کردیا گیا ہے۔
عید کے تیسرے روز قربانی کا گوشت عزیز واقارب اور مساکین میں تقسیم کرنے میں لوگوں کو کافی ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑ ا کیوں کہ سیکیورٹی فورسز جگہ جگہ لوگوں کو واپس جانے کیلئے کہہ رہے تھے۔راستے سیل ہونے کی وجہ سے کئی رابطہ سڑکوں پر پہیہ جام کے مناظر دیکھنے کو مل رہے تھے۔وادی میں دوبارہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ سنیچر کو لیا گیا اور اس ضمن میں باضابط طور پر ایک حکمنامہ بھی صادر کیا گیا،جسکے تحت5اگست تک وادی کشمیر میں پابندیاں اور بندشیں سختی کیساتھ نافذ رہیں گی۔
کئی علاقوں میں پولیس کی گاڑیوں کے ذریعے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی تلقین کی جارہی تھی۔لاک ڈاؤن کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے،جس میں عید الاضحی کے پیش نظر کہیں 3روز تو کہیں 2روز کیلئے نرمی دی گئی،لیکن عید کے دن کسی کو گھر سے باہر قدم رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔پابندیوں اور بندشوں کے باعث لوگوں کو قربانی کے گوشت کی تقسیم کاری میں مسائل و مشکلات کا سامنا رہا جبکہ کئی مقامات پر لوگوں اور فورسز کے درمیان تلخ کلامی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں جبکہ کئی مقامات پر گوشت کی تقسیم کرنے والوں پر ڈھنڈے بھی برسائے گئے۔
وادی کشمیر کے10اضلاع بشمول دارالحکومت سرینگر میں سڑکیں سنسان اور بازار ویران ہیں۔لاک ڈاؤن کے حوالے سے نافذ پابندیاں اور بندشیں سختی کیساتھ نافذ کرنے کیلئے سیکیورٹی کے اضافہ اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ادھر شمالی کشمیر کے اوڑی میں پیر کو لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کی پاداش میں 27 گاڑیاں ضبط کی گئیں اور3 دکانوں کو سیل کردیا گیا۔ایس ڈی ایم اوڑی ریاض احمد ملک نے بتایا کہ اْنہوں نے یہ گاڑیاں بانڈی، مہورہ،چندنواڑی اور نور کھا ہ سے ایک ناکہ کے دوران ضبط کیں اور تین دکاتوں کو اوڑی چندنواڑی اور نورکھا بازار وں میں سیل کیا۔
ایس ڈی ایم نے مزید بتایا کہ انہوں نے ناکہ کے دوران بارہمولہ سے اوڑی کی طرف جانے والی درجنوں گاڑیوں کو واپس کیا۔انہوں نے بتایا کہ ڈیوٹی مجسٹریٹوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ لاک ڈاون کو سختی سے نافذ کریں۔دریں اثناء لازمی سروس سے وابستہ افراد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پر جانے کی اجازت دی جارہی تھی،تاہم اُنکے شناختی کارڈ اور مؤمنٹ پاس چیک کئے جاتے تھے۔
یاد رہے کہ5اگست 2019کو مرکزی حکومت نے پارلیمانی فیصلہ جات کے تحت جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کا خاتمہ کیا اور سابقہ ریاست کو2مرکزی زیر انتظام خطوں میں تقسیم کیا۔مین اسٹریم پارٹیوں نے اس فیصلے کو جمہوریت کا قتل اور جموں وکشمیر کیلئے یوم سیاہ ویوم سوگ قرار دیا ہے۔وادی میں 5اگست2020کو لاک ڈاؤن کیساتھ ساتھ دفعہ370اورآرٹیکل35(اے)کی تنسیخ کا ایک سال مکمل ہوگا۔واضح رہے کہ وادی کشمیر میں مسلسل لاک ڈاؤن کی وجہ سے معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کے لیے تیار رہے فوج: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے فوج کے سینئر کمانڈروں سے کہا ہے کہ وہ اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل مدتی حکمت عملی تیار کریں اور موجودہ نیز ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی تیار رہیں۔
مسٹر سنگھ نے جمعہ کو یہاں فوجی کمانڈروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق فوجی حکمت عملیوں میں تبدیلی کے لیے لچک برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اس موقع پر انہوں نے فوج کی مستقبل کی تیاری کے لیے فوجی آپریشنز کا نظریہ بھی جاری کیا۔
وزیر دفاع نے آپریشن سندور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نئی سوچ، بہتر تال میل، مضبوط ہم آہنگی اور جدید ہتھیاروں نے اس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم نے واضح پیغام دیا کہ ہندوستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
مسٹر سنگھ نے فوج میں تنظیم نو اور ڈرون سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے کی جانے والی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، اعداد و شمار کے تجزیے، سائبر سکیورٹی اور محفوظ مواصلاتی نظام جیسے شعبوں میں صلاحیت بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فضائی، سمندری، خلائی اور سائبر شعبوں میں چیلنجز بڑھنے کے باوجود زمینی جنگ اور فوج کا کردار اہم رہے گا۔ جدید جنگ میں کامیابی کے لیے متعدد شعبوں میں بیک وقت کام کرنے کی صلاحیت اور مشترکہ آپریشنز میں بہتر تال میل ضروری ہے۔
وزیر دفاع نے دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں ملک کی دفاعی پیداوار بڑھ کر ریکارڈ 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ دفاعی برآمدات تقریباً 38 ہزار کروڑ روپے کی اب تک کی بلند ترین سطح پر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری مرکزی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
سال 2025 کو اصلاحات کا سال قرار دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے اور ان کی کامیابی مؤثر نفاذ پر منحصر ہے۔ انہوں نے فوجی کمانڈروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں اصلاحات کو آگے بڑھائیں اور انہیں فوجی صلاحیت میں حقیقی بہتری کی شکل میں نافذ کریں۔ انہوں نے انسانی وسائل کے بہتر انتظام، فوج میں خواتین کی زیادہ شمولیت اور قومی سلامتی کے لیے متحدہ نقطۂ نظر اپنانے پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر وزیر دفاع نے فوجی آپریشنز کا نظریہ جاری کیا۔ یہ بدلتی ہوئی جنگی نوعیت اور مستقبل کے تنازعات کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ہندوستانی فوج کی تیاری کا ایک جامع خاکہ پیش کرتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے جریدے کا سالانہ شمارہ بھی جاری کیا اور اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں نمایاں تعاون کرنے والے ہندوستانی فوج کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
اس پروگرام میں وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنی، فوج کے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ، دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ اور دیگر سینئر افسران موجود تھے۔ فوجی کمانڈروں کی یہ کانفرنس موجودہ اقدامات کا جائزہ لینے، مستقبل کی ترجیحات طے کرنے اور ٹیکنالوجی سے لیس نیز بدلتے ہوئے حالات کے مطابق تیار فوج کی تشکیل کے لیے پالیسی کی سمت متعین کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
کیا عالمی تیل کے ذخائر امریکہ اور ایران کے درمیان نئی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں
ویانا، آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس تیل بردار جہازوں پر حملوں میں اضافے اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کو دو ڈالر سے زیادہ بڑھ کر 110.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو تقریباً پانچ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
اس سے ایک روز قبل ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایسے راستے پر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو تیل بردار جہازوں میں آگ لگ گئی، جسے اس نے غیر قانونی گزرگاہ قرار دیا۔ جمعرات کو آئی آر جی سی نے مزید سات جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم واشنگٹن نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق، نشانہ بننے والے جہازوں میں سے چار تیل منتقل کر رہے تھے اور رات کے دوران ان میں آگ لگ گئی۔
ستمبر میں حوثی باغیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، نے یمن میں باب المندب آبنائے کے قریب علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ بحیرہ احمر میں داخلے اور وہاں سے نکلنے کی ایک اہم گزرگاہ ہے اور مصر کی نہر سویز تک رسائی کا راستہ بھی ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی ہنگامی تیل ذخائر سے بڑے پیمانے پر تیل نکالا جا چکا ہے اور اب یہ ذخائر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہیں۔
الجزیرہ نے ماہرین سے یہ سوال کیا کہ اگر مکمل جنگ دوبارہ شروع ہوجائے، آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کردی جائے اور حوثیوں کے حملوں سے باب المندب کی گزرگاہ بھی متاثر ہوجائے تو دنیا کے تیل ذخائر کتنے عرصے تک کام آسکتے ہیں؟
اسٹریٹجک تیل ذخائر خام تیل اور ایندھن کے وہ ذخیرے ہیں جنہیں حکومتیں یا ان کی جانب سے کام کرنے والی کمپنیاں ہنگامی صورت حال میں استعمال کے لیے محفوظ رکھتی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے)، جو 1974 میں عرب تیل پابندی کے بعد قائم کی گئی تھی، ان ذخائر کے انتظام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایجنسی کے رکن ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی خالص تیل درآمدات کے کم از کم 90 دن کے برابر ذخائر رکھیں۔ چین اور ہندوستان اس ایجنسی کے رکن نہیں ہیں۔
اس سال ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں تیل نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔
11 مارچ کو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد، آئی ای اے کے 32 رکن ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل دستیاب کرانے پر اتفاق کیا۔ یہ مقدار 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد جاری کیے گئے تیل سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔
آئی ای اے کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ نے اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) سے 17 کروڑ 22 لاکھ بیرل جبکہ جاپان نے 7 کروڑ 98 لاکھ بیرل تیل فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق، اس کے بعد امریکہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں تیل کی مقدار گھٹ کر 28 کروڑ 30 لاکھ بیرل رہ گئی ہے، جو اکتوبر 1982 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔
امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، اس تیل کا بڑا حصہ فروخت کرنے کے بجائے قرض کے طور پر دیا گیا تھا، جسے اضافی تیل کے ساتھ واپس کرنا ہوگا۔
فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں اب کہیں کم تیل دستیاب ہے اور اس کا تمام حصہ فوری طور پر استعمال بھی نہیں کیا جا سکتا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
