پاکستان
پاکستان میں ڈھائی لاکھ کے قریب مریض صحتیاب، فعال کیسز 25 ہزار رہ گئے
پاکستان میں کورونا وائرس ہر گزرتے دن کے ساتھ بے اثر ہوتا جارہا ہے اور ملک میں 2 لاکھ 80 ہزار 461 مصدقہ کیسز میں سے 2 لاکھ 49 ہزار 397 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 5 ہزار 999 افراد کا انتقال بھی ہوا ہے۔
آج 4 اگست کی صبح تک ملک میں کورونا وائرس کے مزید 180 کیسز اور 7 اموات کا اضافہ ہوا جبکہ 524 افراد ایسے تھے جو وائرس سے صحتیاب ہوگئے۔
ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں بڑی تعداد تعداد میں کمی نے امید کی کرن پیدا کردی ہے اور اس وقت ملک میں فعال کیسز 25 ہزار سے کچھ زیادہ ہی رہ گئے ہیں۔
خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو کراچی میں رپورٹ ہوا تھا جبکہ 18 مارچ سے اس وائرس سے پہلی موت خیبرپختونخوا میں سامنے آئی تھی۔
تاہم ابتدا میں اس وائرس کا پھیلاؤ کافی حد تک کم تھا جو اپریل کے مہینے سے بڑھنا شروع ہوا اور مئی اور جون میں کیسز میں کافی تیزی دیکھی گئی جبکہ جولائی کے مہینے میں بھی مجموعی صورتحال معتدل رہی تاہم یومیہ کیسز میں کافی حد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے یومیہ کیسز اور اموات میں کمی کی ایک بڑی وجہ ٹیسٹ کا کم ہونا بھی ہے لیکن حکومتی عہدیدار اس کمی کو اپنی اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی سے بھی جوڑتے ہیں۔
اگر اگست کے ابتدائی 3 روز کی بات کریں تو اس میں عید کے باوجود کیسز اور اموات کی تعداد کافی کم نظر آئی۔
آج 4 اگست کو ملک میں کورونا وائرس کے مزید کیسز اور اموات کےبعد صورتحال کچھ اس طرح ہے۔
پنجاب
آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کورونا وائرس کے مزید 139 نئے کیسز اور 5 اموات کی تصدیق ہوئی۔
سرکاری اعداد و شمار فراہم کرنے کے لیے بنائے گئے پورٹل کے مطابق ان نئے 139 کیسز کے بعد صوبے میں مجموعی متاثرین کی تعداد 93 ہزار 336 تک پہنچ گئی۔
اس کے علاوہ 5 اموات کا اضافہ صوبے میں اموات کی تعداد کو 2 ہزار 153 تک لے گیا۔
اسلام آباد
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا وائرس مزید 19 افراد کو متاثر جبکہ 2 کی جان لے گیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 19 نئے مریض سامنے آئے اور اس طرح مجموعی کیسز کی تعداد 15 ہزار 95 ہوگئی۔
مزید برآں 2 افراد کے انتقال کے باعث دارالحکومت میں مجموعی اموات 167 تک جاپہنچیں۔
گلگت بلتستان
گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کی وبا کا پھیلاؤ دیگر علاقوں کے مقابلے میں کم ہے اور وہاں گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 18 کیسز آئے ہیں۔
ان نئے کیسز کے بعد گلگت بلتستان میں مجموعی کیسز کی تعداد 2 ہزار 198 تک پہنچ گئی۔
آزاد کشمیر
ملک کے سب سے کم متاثر علاقے آزاد کشمیر میں مزید 4 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان نئے 4 کیسز کے بعد علاقے میں مجموعی کیسز کی تعداد 2 ہزار 97 ہوگئی۔
صحتیاب افراد
پاکستان میں کورونا کیسز میں سے ایک بڑی تعداد اب تک صحتیاب ہوچکی ہے جو دیگر فعال کیسز کے لیے امید کی کرن ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 524 مریض کورونا وائرس سے شفایاب ہوئے اور یوں مجموعی طور پر اب تک صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 2 لاکھ 49 ہزار 397 تک پہنچ گئی۔
مجموعی صورتحال
ملک میں عالمی وبا کے کیسز، اموات اور صحتیاب افراد کی تعداد میں اضافے کے بعد اگر مجموعی صورتحال پر نظر ڈالیں تو وہ کچھ اس طرح ہے:
مصدقہ کیسز: 280461
اموات: 5999
صحتیاب: 249397
فعال کیسز: 25065
ملک میں اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثر صوبے سندھ اور پنجاب ہیں، صوبہ سندھ میں کیسز ایک لاکھ 21 ہزار 705 ہیں جبکہ پنجاب میں یہ تعداد 93 ہزار 336 کیسز تک پہنچ چکی ہے۔
صوبہ خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس سے 34 ہزار 253 افراد متاثر ہوچکے ہیں جبکہ صوبہ بلوچستان میں وبا میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد 11 ہزار 777 ہے۔
علاوہ ازیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 15 ہزار 95، آزاد کشمیر میں 2 ہزار 97 اور گلگت بلتستان میں 2 ہزار 198 افراد عالمی وبا کا شکار ہوچکے ہیں۔
ملک میں اموات کی صورتحال کچھ یوں ہے:
سندھ: 2226
پنجاب: 2153
خیبرپختونخوا: 1208
بلوچستان: 136
اسلام آباد: 167
گلگت بلتستان: 55
آزاد کشمیر: 54
پاکستان میں کورونا وائرس کیسز اور اموات
خیال رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا تھا اور 25 مارچ تک کیسز کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ چکی تھی۔
تاہم اس کے بعد مذکورہ وائرس نے پاکستان میں اپنے پنجے گاڑنا شروع کردیے اور اب تک 2 لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں، جبکہ اموات 5 ہزار 900 سے زائد ہیں۔
ملک میں کورونا وائرس کے پہلے کیس سے لے کر اب تک کیا صورتحال رہی اور کس روز کتنے کیسز اور اموات سامنے آئیں؟ (ڈان نیوز)
پاکستان
حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
اسلام آباد، پاکستان نے یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد مملکت کے دفاع کے لیے ”ہر ممکن مدد” فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ‘انڈیپنڈنٹ عربیہ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔ ان کا یہ بیان ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے درمیان سامنے آیا ہے۔
پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کا رکن ہے، جس میں سعودی عرب اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔ اس اجتماعی دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دیگر ارکان متاثرہ ملک کے دفاع کے لیے آگے آئیں گے۔ تاہم، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں مسلسل شدت کے باوجود اسلام آباد اور انقرہ نے اب تک بیانات جاری کرنے کے علاوہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی، بالخصوص حرمین شریفین کی حفاظت، پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا، ”پاکستان کے لیے یہ معاملہ ناقابلِ سمجھوتہ اور قطعی ہے۔ اس مقصد کے لیے جس مدد کی ضرورت ہے، وہ فراہم کی جا رہی ہے اور آئندہ بھی فراہم کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ فوجی اتحاد اپنی مدد کی نوعیت اور اس کے پیمانے کی تفصیلات عام طور پر ظاہر نہیں کرتے۔
حوثی حملوں پر پاکستان میں ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نے کہا کہ ملک کے عوام، سیاسی قیادت اور فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”آخر کوئی بھی ذی شعور شخص سعودی عرب، مقدس مقامات پر حملہ کیوں کرے گا یا انہیں دھمکی کیوں دے گا، یا کم از کم ایسا تاثر کیوں پیدا کرے گا؟” ان کا کہنا تھا کہ اسلامی مقدس مقامات کی سلامتی کے معاملے میں کوئی شرط یا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
یہ پوچھے جانے پر کہ اگر حوثی حملے جاری رہے تو کیا اسلام آباد کی مدد صرف دفاعی نوعیت تک محدود رہے گی، چوہدری نے کہا کہ مکہ اتحاد کے تینوں ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ معاہدے کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں اور یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔
اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کا حوالہ دیتے ہوئے، جو حقِ دفاع کو تسلیم کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد اجتماعی ردعمل کے ذریعے رکن ممالک کو لاحق خطرات کی روک تھام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ”اگر یہ بازدارانہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہوتی تو تینوں ممالک کو دستیاب تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسے دوبارہ مؤثر بنانا ہوگا۔”
سعودی نائب وزیر خارجہ کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ ایران کے تعلقات کی نشاندہی کے بعد، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد نے تہران کو حملوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے، تو چوہدری نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے تہران سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان رابطوں کا بنیادی مقصد ”کشیدگی کو کم کرنا” ہے اور تمام فریقوں کے ساتھ پاکستان کی بات چیت کا محور حالات کو معمول پر لانا ہے۔
چوہدری نے خبردار کیا کہ حوثیوں یا دیگر فریقوں کو تنازع میں شامل کرکے اس کا دائرہ وسیع کرنے سے بحران حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا، ”خواہ آپ اس میں حوثیوں کو شامل کریں یا دوسرے علاقوں تک پھیلائیں، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہوگا جو خطے میں افراتفری چاہتے ہیں۔”
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
پاکستان
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
اسلام آباد، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہفتہ کو 5.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی۔ ہندوستان کے نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) نے یہ اطلاع دی۔
ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ زلزلہ 17 اکتوبر کو ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 37 منٹ پر آیا۔ زلزلے کا مرکز 27.944 ڈگری شمالی عرض البلد اور 66.532 ڈگری مشرقی طول البلد پر واقع تھا۔
زلزلے کے زمینی اثرات کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، جن میں آبادی والے علاقوں سے اس کا فاصلہ، مقامی ارضیاتی حالات اور زمین میں ارتعاش کی شدت شامل ہیں۔
زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحد کے قریب واقع ہے، جہاں ان پلیٹوں کے ٹکراؤ سے زلزلہ خیز سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔
جنوب مغربی پاکستان کا وسیع صوبہ بلوچستان زلزلے کے خطرات سے دوچار علاقوں میں شامل ہے۔ دیگر حساس علاقوں میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان شامل ہیں، جہاں فعال فالٹ لائنیں اور پیچیدہ پہاڑی سلسلے زلزلوں کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے بعض علاقے بھی زلزلہ خیز سرگرمیوں سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں ایک اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 28 طلبہ اور ایک استاد ہلاک، جبکہ 20 سے زائد دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
اسپتال کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔
یہ حادثہ جمعرات کو خیبر پختونخوا کی راجدھانی پشاور میں واقع نجی اسکول الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا۔ حادثے کے بعد راحت اور بچاؤ کی ٹیمیں ملبے میں دبے افراد کی تلاش اور زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے تمام بچوں کی عمر 13 سال یا اس سے کم ہے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زخمیوں کے علاج کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
اسلام آباد سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے کمال حیدر نے بتایا کہ گنجان آبادی والے علاقے میں اسکول واقع ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”بھاری مشینری، جو امدادی کارروائیوں میں اہم ثابت ہوسکتی تھی، جائے حادثہ تک نہیں پہنچ سکی۔ مقامی افراد اور امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور اس کے نیچے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے بالٹیوں اور دیگر برتنوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس اسکول میں تقریباً 350 طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ زخمی طلبہ کی بڑی تعداد اسپتال میں زیر علاج ہے، جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔
حکام نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ”ہمارے بچے ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور اس طرح کا ہر نقصان پورے ملک کے لیے ایک سانحہ ہے۔ میری دلی تعزیت اور دعائیں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، ”وزیر اعظم اور حکومت نے اس صورت حال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ ہمارے بچوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہنی چاہیے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
