پاکستان
سابق وزیر داخلہ کے خلاف اتنے سالوں بعد ثبوت کہاں سے لائیں
پاکستان میں ایک مقامی عدالت نےسینیٹررحمان ملک کے خلاف درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکی بلاگر نے الزام عائد کيا تھا کہ پاکستان کے سابق وزير داخلہ رحمان ملک نے انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔
خبراردو:-
سنتھیا گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستانی شہ رخیوں میں ہیں۔ اس امریکی شہری کا کہنا تھا کہ 2011ء میں اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے ان کا ریپ کیا تھا۔ اسی حوالے سے سنتھیا نے ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ بھی بتایا تھا کہ انہیں رحمان ملک کی جانب سے ڈھائی ہزار ڈالر دیے گئے تھے۔
سنتھیا رچی کے الزمات کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے حق میں اور ان کے خلاف بھی مہم چلائی گئی۔ کچھ کا کہنا تھا کہ سنتھیا کے الزمات کو سنجیدگی سے لیا جائے لیکن کچھ پاکستانی صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے اسے محض الزام تراشی ٹھہرایا گیا۔
کراچی سے صحافی فہمیدہ یوسفی نے اس کیس سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا،”جب بھی کوئی خاتون کسی مرد پر ریپ کا الزام لگاتی ہے تو یہ بہت سنگین نوعیت کا الزام ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں جب خاتون کوئی ایسی بات کرتی ہے تو اس کے کردار کشی شروع کر دی جاتی ہے۔ سنتھیا کے کیس میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ امریکی شہری ہیں، وہ کئی مرتبہ پاکستان آئیں، پاکستان کی طاقت ور شخصیات کے ساتھ رابطے میں رہیں اور پھر نو سال کے بعد ان کی جانب سے رحمان ملک پر ریپ کرنے کا الزام لگایا گیا۔ اسی کے ساتھ انہوں نے پی ٹی ایم، پی ایم ایل نون اور ٹی وی چینلز پر بھی الزمات لگائے جس کی وجہ سے کچھ عوامی حلقوں میں ان کو بہت زیادہ ہمدردری حاصل نہیں ہوئی۔‘‘
اس کیس سے متعلق لاہور میں مقیم سیاسی تجزیہ کار اور وکیل یاسمین عابد علی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،”پولیس کا کہنا تھا کہ 2011ء کے اس مبینہ واقعے سے متعلق ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جو اس بات کی تصدیق کر سکے کہ یہ واقعہ پیش آیا۔ پوری دنیا میں ایک قانون ہے، جس کے تحت اگر آپ ایک شکایت کسی ایک ادارے میں لے جائیں اور وہاں آپ اپنی درخواست سے متعلق شواہد پیش نہ کر پائیں تو آپ ایک شخص کے خلاف شکایت کو بار بار مختلف فورمز پر نہیں لے جاسکتے، اس کیس میں بس یہی کہنا کافی ہو گا۔‘‘
اسلام آباد کے صحافی زاہد گشکوری کہتے ہیں،”کچھ پاکستانی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ رحمان ملک سے متعلق کیس میں کوئی ایسا ٹھوس ثبوت نہیں ملا ہے، جس کی بنیاد پر سنتھیا کے الزامات کی تصدیق کی جاسکے۔ ‘‘ زاہد کہتے ہیں کہ سنتھیا پر یہ بھی الزمات لگائے گئے کہ انہیں پاکستانی فوج یا پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہے تاہم پی ٹی آئی اور آئی ایس پی آر دونوں نے اپنے آپ کو اس کیس سے دور رکھا، ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اس کیس کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور اسی لیے یہ کیس اپنی موت آپ مرتا ہوا نظر آرہا ہے۔
تاہم خواتین کے حقوق کی علمبردار اسلام آباد کی صدف خان اس کیس کے فیصلے سے ناخوش نظر آتی ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا،”ریپ ایک بہت سنگین جرم ہے، ریپ کے متاثرین کے لیے ہمشہ یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اسی وقت قانونی راستہ اختیار کریں۔ سنتھیا سے متعلق عدالت کا حالیہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان میں قانون میں ترامیم کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی شخص کچھ سالوں بعد سامنے آتا ہے تو وہ کہاں سے ثبوت لائے؟ ایسے میں کیا لائحہ عمل اختیار کیا جانا چاہیے ؟ ہمیں اس حوالے سے بحث کرنا ہوگی۔ ‘‘
سنتھیا سے متعلق مختلف فورمز پر تین سے چار کیسز کی تحقیق جارہی ہے۔ رحمان ملک کے خلاف کیس کے علاوہ ایک کیس میں عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سنتھیا جن کا ویزا تیس اگست کو ختم ہو رہا ہے، انہیں ملک بدر کر دیا جائے۔ ایک کیس ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے پاس ہے، جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سنتھیا رچی پر بے نظیر بھٹو کے خلاف سوشل میڈیا پر تضحیک آمیز کلمات لکھنے پر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔(قومی آواز)
پاکستان
حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
اسلام آباد، پاکستان نے یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد مملکت کے دفاع کے لیے ”ہر ممکن مدد” فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ‘انڈیپنڈنٹ عربیہ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔ ان کا یہ بیان ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے درمیان سامنے آیا ہے۔
پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کا رکن ہے، جس میں سعودی عرب اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔ اس اجتماعی دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دیگر ارکان متاثرہ ملک کے دفاع کے لیے آگے آئیں گے۔ تاہم، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں مسلسل شدت کے باوجود اسلام آباد اور انقرہ نے اب تک بیانات جاری کرنے کے علاوہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی، بالخصوص حرمین شریفین کی حفاظت، پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا، ”پاکستان کے لیے یہ معاملہ ناقابلِ سمجھوتہ اور قطعی ہے۔ اس مقصد کے لیے جس مدد کی ضرورت ہے، وہ فراہم کی جا رہی ہے اور آئندہ بھی فراہم کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ فوجی اتحاد اپنی مدد کی نوعیت اور اس کے پیمانے کی تفصیلات عام طور پر ظاہر نہیں کرتے۔
حوثی حملوں پر پاکستان میں ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نے کہا کہ ملک کے عوام، سیاسی قیادت اور فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”آخر کوئی بھی ذی شعور شخص سعودی عرب، مقدس مقامات پر حملہ کیوں کرے گا یا انہیں دھمکی کیوں دے گا، یا کم از کم ایسا تاثر کیوں پیدا کرے گا؟” ان کا کہنا تھا کہ اسلامی مقدس مقامات کی سلامتی کے معاملے میں کوئی شرط یا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
یہ پوچھے جانے پر کہ اگر حوثی حملے جاری رہے تو کیا اسلام آباد کی مدد صرف دفاعی نوعیت تک محدود رہے گی، چوہدری نے کہا کہ مکہ اتحاد کے تینوں ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ معاہدے کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں اور یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔
اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کا حوالہ دیتے ہوئے، جو حقِ دفاع کو تسلیم کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد اجتماعی ردعمل کے ذریعے رکن ممالک کو لاحق خطرات کی روک تھام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ”اگر یہ بازدارانہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہوتی تو تینوں ممالک کو دستیاب تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسے دوبارہ مؤثر بنانا ہوگا۔”
سعودی نائب وزیر خارجہ کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ ایران کے تعلقات کی نشاندہی کے بعد، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد نے تہران کو حملوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے، تو چوہدری نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے تہران سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان رابطوں کا بنیادی مقصد ”کشیدگی کو کم کرنا” ہے اور تمام فریقوں کے ساتھ پاکستان کی بات چیت کا محور حالات کو معمول پر لانا ہے۔
چوہدری نے خبردار کیا کہ حوثیوں یا دیگر فریقوں کو تنازع میں شامل کرکے اس کا دائرہ وسیع کرنے سے بحران حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا، ”خواہ آپ اس میں حوثیوں کو شامل کریں یا دوسرے علاقوں تک پھیلائیں، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہوگا جو خطے میں افراتفری چاہتے ہیں۔”
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
پاکستان
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
اسلام آباد، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہفتہ کو 5.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی۔ ہندوستان کے نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) نے یہ اطلاع دی۔
ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ زلزلہ 17 اکتوبر کو ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 37 منٹ پر آیا۔ زلزلے کا مرکز 27.944 ڈگری شمالی عرض البلد اور 66.532 ڈگری مشرقی طول البلد پر واقع تھا۔
زلزلے کے زمینی اثرات کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، جن میں آبادی والے علاقوں سے اس کا فاصلہ، مقامی ارضیاتی حالات اور زمین میں ارتعاش کی شدت شامل ہیں۔
زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحد کے قریب واقع ہے، جہاں ان پلیٹوں کے ٹکراؤ سے زلزلہ خیز سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔
جنوب مغربی پاکستان کا وسیع صوبہ بلوچستان زلزلے کے خطرات سے دوچار علاقوں میں شامل ہے۔ دیگر حساس علاقوں میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان شامل ہیں، جہاں فعال فالٹ لائنیں اور پیچیدہ پہاڑی سلسلے زلزلوں کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے بعض علاقے بھی زلزلہ خیز سرگرمیوں سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں ایک اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 28 طلبہ اور ایک استاد ہلاک، جبکہ 20 سے زائد دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
اسپتال کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔
یہ حادثہ جمعرات کو خیبر پختونخوا کی راجدھانی پشاور میں واقع نجی اسکول الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا۔ حادثے کے بعد راحت اور بچاؤ کی ٹیمیں ملبے میں دبے افراد کی تلاش اور زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے تمام بچوں کی عمر 13 سال یا اس سے کم ہے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زخمیوں کے علاج کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
اسلام آباد سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے کمال حیدر نے بتایا کہ گنجان آبادی والے علاقے میں اسکول واقع ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”بھاری مشینری، جو امدادی کارروائیوں میں اہم ثابت ہوسکتی تھی، جائے حادثہ تک نہیں پہنچ سکی۔ مقامی افراد اور امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور اس کے نیچے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے بالٹیوں اور دیگر برتنوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس اسکول میں تقریباً 350 طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ زخمی طلبہ کی بڑی تعداد اسپتال میں زیر علاج ہے، جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔
حکام نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ”ہمارے بچے ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور اس طرح کا ہر نقصان پورے ملک کے لیے ایک سانحہ ہے۔ میری دلی تعزیت اور دعائیں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، ”وزیر اعظم اور حکومت نے اس صورت حال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ ہمارے بچوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہنی چاہیے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
